مسند السراج · الْجُزْءُ الْعَاشِرُ مِنْ حَدِيثِ السَّرَّاجِ مِنْ أَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِ عِشَاءِ الآخِرَةِ · حديث 1121
1121 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ وَالْمَاءُ يَقْطِرُ عَنْ رَأْسِهِ وَيَمْسَحُهُ عَنْ شِقِّهِ وَهُوَ يَقُولُ: وَلَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هَذِهِ السَّاعَة فَقَالَ أخرهما: إِنه قَالَ: إِنَّهُ لَلْوَقْتُ لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کو مؤخر فرمایا یہاں تک کہ جتنا اللہ نے چاہا رات کا حصہ گزر گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! عورتیں اور بچے سو گئے‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اس حال میں کہ پانی کے قطرے سرانور سے گر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے کے ٹکڑے سے ان کو صاف کر رہے تھے اور فرمایا: اگر مجھے اُمت پر تکلیف کا خوف نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ عشاء کی نماز اس وقت پڑھیں۔ دوسرے نے کہا کہ آپ نے فرمایا: یہ اس کا وقت ہے اگر مجھے اُمت پر تکلیف کا خوف نہ ہوتا۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَطَاءٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،
Musnad Siraj · The tenth part of the hadith of As-Sarraj from Juzu 'al-Qusayri › Chapter · Hadith 1121
