مسند السراج · الْجُزْءُ الْعَاشِرُ مِنْ حَدِيثِ السَّرَّاجِ مِنْ أَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلاةِ الْوُسْطَى هِيَ صَلاةُ الْعَصْرِ · حديث 1096
1096 - حَدَّثَنَا أَبُو كريب قثنا وَكِيعٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ عَم رإلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَسُبُّ الْكُفَّارَ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا صَلَّيْتُ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَنَا وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُ، فَنَزَلَ بَطْحَانَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صلى الْعَصْر بعد مَا غرب الشَّمْسُ ثُمَّ قَالَ صَلَّى الْمَغْرِبَ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ خندق کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس حال میں کہ کفار‘ قریش کو بُرا بھلا کہہ رہے تھے اور عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ! میں نے نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب ہو گیا ہے‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے بھی نہیں پڑھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطحان میں اُترے تو وضو کیا پھر غروبِ آفتاب کے بعد عصر کی نماز پڑھی پھر مغرب کی نماز پڑھی۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيِّ بْنِ مُبَارَکٍ ← أَبُو كريب قثنا وَكِيعٌ
Hadith 1096
