Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند السراج

Musnad Siraj

by Muhammad Bin Ishaq Bin Ibraheem Al Siraj Al Saqfi Nishpuri

1,577 Hadith109 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 967

967 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بن سعيد قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بن مهْدي قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ بِلالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ. _________ = عَن إِسْمَاعِيل بِهِ، وَأخرجه أَحْمد (ج3 ص113) عَن إِسْمَاعِيل بِهِ. [963] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه أَبُو يعلى رقم: 3850 وَالنَّسَائِيّ فِي الْكُبْرَى كَمَا فِي الْأَطْرَاف (ج1 ص214) من طَرِيق يزِيد بن هَارُون بِهِ، لكنه لم أَجِدهُ فِي الْكُبْرَى، وَالله أعلم. [964] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه أَبُو يعلي رقم: 3789 من طَرِيق الْمُعْتَمِر بِهِ، وَتَابعه أَبُو خَالِد عِنْد ابْن أبي شيبَة (ج1 ص318) وَيحيى وَمُحَمّد بن عبد الله عِنْد أَحْمد (ج3 ص182، 189) وخَالِد بن الْحَارِث عَن الْبَزَّار كَمَا فِي الْكَشْف (ج1 ص193) . [965] إِسْنَاده ضَعِيف، لِأَن أَسْبَاط بن نصر صَدُوق كثير الْخَطَأ يغرب كَمَا فِي التَّقْرِيب (ص33) وَقَالَ السَّاجِي، لَا يُتَابع عَلَيْهَا عَن سماك. [966] فِي إِسْنَاده شريك وَهُوَ مُدَلّس وَقد عنعنه، أخرجه الطَّبَرَانِيّ (ج2 ص229) من طَرِيق زَكَرِيَّا بن يحيى ثَنَا شريك بِهِ. [967] إِسْنَاده حسن، أخرجه أَبُو داؤد (ج1 ص157) عَن مُوسَى بن إِسْمَاعِيل، وَالطَّبَرَانِيّ (ج2 ص232) من طَرِيق سُلَيْمَان بن حَرْب كِلَاهُمَا عَن حَمَّاد بِهِ.

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان اس وقت دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بن سعيد قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بن مهْدي قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 967

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 968

968 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ بِلالُ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ لَا يُقِيمُ، فَإِذَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ.

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے پھر تھوڑا سا ٹھہر جاتے‘ اقامت نہیں کہتے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریف لاتے دیکھ لیتے تو اقامت کہتے۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 968

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 969

969 - أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ فِيمَا كَتَبَ بِهِ إِلَى قثنا مُحَمَّدُ بن سعيد أَن عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ بِلالُ يُؤَذِّنُ بِصَلاةِ الظُّهْرِ حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ فَإِنْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ وَإِلا مَكَثَ حَتَّى يَخْرُجَ.

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز کے لیے اس وقت اذان دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا تو اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آتے تو اقامت کہتے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے تک رُکے رہتے۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← بِهِ إِلَى قثنا مُحَمَّدُ بن سعيد أَن عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ فِيمَا

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 969

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 970

970 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ ثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ سَوَّلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ أَوْ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ كَذَا قَالَ يَحْيَى.

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 970

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 971

971 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بن سعيد قثنا أَبُو عَامِرٍ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ شُعْبَةُ: حَدَّثَنِي ثَلاثَ مَرَّاتٍ رَفَعَهُ مَرَّةً وَلَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ قَالَ: وَقْتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطُ الشَّفَقُ، وَالْعِشَاءُ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَالصُّبْحُ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ.

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک عصر نہ آئے اور عصر کا وقت سورج کے زرد ہونے تک ہے اور مغرب کا وقت شفق کے غائب ہونے تک ہے اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے اور صبح کا وقت طلوعِ آفتاب تک ہے۔

ثَلاثَ مَرَّاتٍ رَفَعَهُ مَرَّةً وَلَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بن سعيد قثنا أَبُو عَامِرٍ شُعْبَةُ

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 971

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 972

972 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ، فَصَلَّى لَهُ صَلاةَ الصُّبْحِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ صَلَّى لَهُ الظّهْر حِين زاعت الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى لَهُ الْعَصْرَ حِينَ رَأَى الظِّلَّ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرُبَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ شَفَقُ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَهُ الْغَدُ صَلَّى (1) لَهُ الصُّبْحَ فَأَسْفَرَ بِهَا قَلِيلًا، ثمَّ صلى الله لَهُ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى لَهُ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى لَهُ الْمَغْرِبَ بِوَقْتٍ وَاحِدٍ حِينَ غَرُبَتِ الشَّمْسُ، وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى لَهُ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ: الصَّلاةُ مَا بَيْنَ صَلاتِكَ أَمْسُ وَصَلاتِكَ الْيَوْمُ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ جبریل ہے تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لئے آئے ہیں‘ پس جبریل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز اس وقت پڑھائی جب فجر طلوع ہوگئی‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا‘ پھر جبریل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت سایہ ایک مثْ تھا‘ پھر مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہو گیا اور روزہ دار کا روزہ افطار کرنا جائز ہو گیا‘ پھر عشاء کی نماز پڑھائی جب رات کی سرخی زائل ہو گئی۔ پھر جبریل اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز پڑھائی جب کچھ اُجالا ہو گیا تھا پھر ظہر کی نماز پڑھائی جب سایہ ایک مثل تھا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز پڑھائی جب سایہ دو مثل ہو گیا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز ایک ہی وقت پر پڑھائی‘ جب سورج غروب ہو گیا اور روزہ دار کا روزہ افطار کرنا جائز ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء کی نماز پڑھائی جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا‘ پھر فرمایا: نماز کا وقت آپ کی کل کی نماز اور آج کی نماز کے درمیان ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ،

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 972

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 973

973 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدثنِي أَبُو قثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ فَغَلَسَ بِهَا فَصَلَّى الْغَدَاةَ فَأَسْفَرَ بِهَا قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلاةِ الْغَدَاةِ؟ الصَّلاةُ فِيمَا بَيْنَ صَلاتِي أَمْسُ وَصَلاتِي الْيَوْمُ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی اور اگلے دن صبح کی نماز پڑھی تو کچھ اجالے میں پڑھی پھر فرمایا: صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ صبح کی نماز کا وقت میری کل کی نماز اور آج کی نماز کے درمیان ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← أَبُو قثنا مُحَمَّدُ بْنُ ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى،

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 973

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 974

974 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ عَنِ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ ابْن مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ فَقَالَ: صَلِّي مَعنا هذَيْن، فلماذا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءٌ نَقِيَّةُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَذَّنَ الظُّهْرَ فَأَبْرَدَ بِهَا فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ؟ فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَقْتُ صَلاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ.

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے نماز کا وقت پوچھا تو فرمایا تم دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھ کر دیکھ لو‘ جب آفتاب نصف النہار سے ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا‘ اُنہوں نے اذان دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو اُنہوں نے ظہر کی اقامت کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی اقامت کا حکم دیا‘ اُنہوں نے اقامت کہی اس کے بعد ابھی سورج بلند اور سفید تھا پھر غروبِ آفتاب کے بعد مغرب کی اقامت کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کی اقامت کا حکم دیا تو اُنہوں نے شفق غائب ہونے کے بعدا قامت کہی‘ پھر طلوعِ فجر کے بعدا قامت کہی‘ جب دوسرا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو حضرت بلال نے ظہر کی اذان کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر خوب ٹھنڈے وقت میں پڑھی اور عصر کی نماز پہلے دن سے مؤخر کر کے عصر کی نماز پڑھی جس وقت سورج بلند تھا اور مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی اور تہائی رات کے بعد عشاء کی نماز پڑھی اور سفیدی پھیل جانے کے بعد فجر کی نماز پڑھی‘ پھر فرمایا: وہ شخص کہاں ہے جو نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھ رہا تھا ؟ اس شخص نے عرض کیا: حاضر ہوں! یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: جو اوقات تم نے دیکھے ان کے درمیان تمہاری نمازوں کا وقت ہے۔

وَقْتِ الصَّلاةِ. ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← علقمة ابن مَرْثَدٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ،

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 974

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 975

975 - حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ، وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بن أَيُّوب قثنا أَبُو نُعَيْمٍ ثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَتَى سَائِلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا فَأَمَرَ بِلالًا فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ يَقُولُ: انْتَصَفَ النَّهَارُ أَوْ لَمْ، وَكَانَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حِينَ انْصَرَفَ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ، ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أخر الْمغرب حى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ فَقَالَ: الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ.

حضرت ابوموسٰی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے وقت کے بارے میں پوچھا‘ اس کو کوئی جواب نہیں دیا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی‘ جب فجر طلوع ہو گئی اس وقت ( اندھیرے کی وجہ سے) لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں رہے تھے پھر سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر پڑھائی‘ کہنے والا کہتا تھا: نصف النہار ہو چکا ہے اور آپ اس کو خوب جانتے تھے پھر ابھی سورج بلند تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی پھر سورج غروب ہونے کے بعد مغرب پڑھائی پھر شفق غائب ہونے کے بعد عشاء کی نماز پڑھائی‘ پھر دوسرے دن فجر کی نماز اس قدر دیر سے پڑھائی کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد کہنے والے کہتے تھے کہ سورج نکل چکا ہے یا نکلنے والا ہے‘ پھر ظہر کو مؤخر فرمایا یہاں تک کہ وہ عصر کے قریب ہو گئی‘ پھر عصر کو اتنا تاخیر سے پڑھایا کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد کہنے والے کہتے تھے کہ سورج پیلا پڑ گیا‘ پھر مغرب کی نماز اس قدر دیر سے پڑھائی کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہو گئی پھر عشاء کی نماز تہائی رات کے قریب پڑھائی‘ پھر سائل کو بلا کر فرمایا: ان دو وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔

أَبِيهِ ← أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي مُوسَی ← بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ← زِيَادُ بن أَيُّوب قثنا أَبُو نُعَيْمٍ ← بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أبو يحيى

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 975

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 976

976 - حَدَّثَنَا أَبُو همام قثنا إِسْمَعِيل بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ، وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالا: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الْفَجْرُ فَأَمَرَ بِلالًا فَأَذَّنَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ أَخَّرَ حَتَّى أَسْفَرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلاةَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ؟ فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَيْنَ هَذَا وَهَذَا وَقْتُ. _________ [975] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه مُسلم (ج1 ص223) من طَرِيق عبد الله بن نمير ووكيع كِلَاهُمَا عَن بدر بن عُثْمَان بِهِ، وَحَدِيث عبيد الله بن مُوسَى وَأبي نعيم عِنْد أبي عوَانَة (ج1 ص375) . [976] إِسْنَاده صَحِيح، وَهُوَ مُكَرر رقم: 962، 963.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کے وقت کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو اُنہوں نے اذان دی جب فجر طلوع ہو گئی‘ پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر جب اگلا دن آیا یہاں تک کہ اُجالا ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو نماز قائم کی جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: سائل کہاں ہے؟ تو وہ شخص کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اور اس کے درمیان فجر کا وقت ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ← حُمَيْدٍ ← أَبُو همام قثنا إِسْمَعِيل بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 976

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 977

977 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا معمر بن الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی جب سورج ڈھل گیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← معمر بن الزُّهْرِيِّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 977

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 978

978 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ هِلالِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غزَاة فحسبه الْمُشْرِكُونَ عَنْ صَلاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ حَتَّى مَسَّى بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ امْلأْ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا حَبَسُونَا عَنِ الصَّلاةِ الْوُسْطَى.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ کے لئے نکلے تو مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر اور عصر کی نماز سے روک رکھا یہاں تک کہ شام ہو گئی (یعنی سورج غروب ہو گیا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے جیسے اُنہوں نے ہمیں درمیانی نماز سے روکے رکھا۔

الصَّلَاة الْوُسْطَى، ← رَسُولُ اللَّهِ اللَّهُمَّ امْلأْ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا حَبَسُونَا ← صَلاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ حَتَّى مَسَّى بِهَا ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ فِي غزَاة فحسبه الْمُشْرِكُونَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*،

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 978

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter
2. The first book of prayer
    8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter
3. The fourth part of the Musnad of Abu al-Abbas al-Sarraj
    34. Chapter35. Chapter36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
4. The second part of the second part with the pumice parts
    45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter
5. The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri
    52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter
6. The tenth part of the hadith of As-Sarraj from Juzu 'al-Qusayri
    62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter
7. Part of the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq Abraham, the educational siren, may God have mercy on him, is part of the Haddi
    74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
8. The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
9. Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter