Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند السراج

Musnad Siraj

by Muhammad Bin Ishaq Bin Ibraheem Al Siraj Al Saqfi Nishpuri

1,577 Hadith109 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 955

955 - حَدثنَا قُتَيْبَة (1) قثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيز أخر العصور شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: أَمَا أَنَّ جِبْرِيلَ قِدْ نَزَلَ فَصَلَّى أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ! فَقَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ يَحْسِبُ بَأَصَابِعِهِ خَمْسُ صَلَوَاتٍ.

ابن شہاب سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے نمازِ عصر کو مؤخر کر دیا تو ان سے حضرت عروہ بن زبیر نے کہا کہ بے شک جبریل نازل ہوئے اور اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز پڑھی‘ تو ان سے عمر بن عبدالعزیز نے کہا: میں جانتا ہوں‘ اے عروہ ! تم کیا کہہ رہے ہو؟ تو حضرت عروہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابومسعود کو کہتے سنا کہ میں نے ابومسعود کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: جبریل نازل ہوئے تو اُنہوں نے میری امامت کرائی‘ پس میں نے جبریل کے ساتھ نماز پڑھی‘ پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی‘ پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی‘ پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی‘ پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی‘وہ اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کو گن رہے تھے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا مَسْعُودٍ، ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ← له عمر اعلم مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ ← لَهُ عُرْوَةُ أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلَّی أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيز أخر العصور شَيْئًا ← قُتَيْبَة قثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 955

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 956

956 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَخَّرَ الصَّلاةَ مَرَّةً، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةٍ أَخَّرَ الصَّلاةَ مَرَّةً فَقَالَ لَهُ أَبُو مَسْعُودٍ: أَمَا وَاللَّهِ يَا مُغِيرَةُ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى النَّاسُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، فَصَلَّى النَّاسُ مَعَهُ، حَتَّى عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: انْظُرْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةَ، إِنَّ جِبْرِيلُ هُوَ سَنَّ الصَّلاةَ؟ فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ، فَمَا زَالَ عُمَرُ يَعْتَلِمُ (1) وَقْتَ الصَّلاةِ بِعَلامَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.

حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس تھے کہ ایک مرتبہ اُنہوں نے نماز کو مؤخر کر دیا تو ان سے عروہ نے کہا: مجھے بشیر بن ابومسعود نے حدیث بیان کی کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نماز کو مؤخر کر دیا تو ان سے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! اے مغیرہ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جبریل نازل ہوئے اور اُنہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تو لوگوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی‘ پھر جبریل نازل ہوئے اور نماز پڑھی تو لوگوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی‘ یہاں تک کہ پانچ نمازوں کو گنا۔ تو ان سے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا غور کرو‘ اے عروہ! کیا کہہ رہے ہو کہ جبریل نے نماز کو جاری کیا ؟ حضرت عروہ نے ان سے کہا: مجھ سے اسی طرح بشیر بن ابی مسعود نے حدیث بیان کی۔ پس حضرت عمر بن عبدالعزیز ہمیشہ علامت سے نماز کے وقت کو جانتے رہے یہاں تک کہ دنیا سے کوچ کیا۔

بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ← لَهُ عُرْوَةُ: ← كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَخَّرَ الصَّلاةَ مَرَّةً، ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 956

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 957

957 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن يحيى قثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بن سعد قثنا ابْن أَخِي شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: مَسَّى الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ يَوْمًا بِصَلاةِ الْعَصْرِ، وَهُوَ أَمِيرُ الْكُوفَةِ يَوْمَئِذٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى وَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا أُمِرْتُ، فَقَال عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةَ أَنَّ جِبْرِيلَ لَهُوَ أَقَامَ الصَّلاةَ؟ قَالَ عُرْوَةُ: كَذِلَكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُنِي عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ يَظْهَرَ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا. _________ (1) فِي الْمسند: يتَعَلَّم، وَفِي عبد الرَّزَّاق: يعلم. [957] فِي إِسْنَاده ابْن أخي الزُّهْرِيّ مُحَمَّد بن عبد الله بن مُسلم صَدُوق لَهُ أَوْهَام كَمَا فِي التَّقْرِيب (ص456) وَفِي حَدِيثه عَن عَمه كَلَام، انْظُر التَّهْذِيب (ج9 ص279، 280) لكنه لم ينْفَرد بِهِ.

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی مدینہ شریف پر امارت کے وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو فرمایا کہ ایک دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز میں شام کر دی‘ اس وقت وہ کوفہ کے امیر تھے تو ان کے پاس حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ آئے تو فرمایا: اے مغیرہ! یہ کیا ہے؟ خبردار! اللہ کی قسم ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جبریل نازل ہوئے اور اُنہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر جبریل نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر جبریل نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر جبریل نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی‘ پھر فرمایا: اسی طرح مجھے حکم دیا گیا ہے تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: غور کرو‘ اے عروہ! کیا کہہ رہے ہو؟ کیا جبریل نے نماز قائم کی؟ حضرت عروہ نے فرمایا : اسی طرح مجھے بشیر بن ابی مسعود نے از والد خود حدیث بیان کی اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے درآں حالیکہ دھوپ ان کے صحن میں ہوتی تھی اور سایہ ان کے صحن میں ظاہر نہ ہوتا تھا۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ ← عَمِّہٖ ← مُحَمَّدُ بن يحيى قثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بن سعد قثنا ابْن أَخِي شِهَابٍ

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 957

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 958

958 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِع، وحَدثني مطرفبن عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ، بِهَذَا أُمِرْتُ، فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ: اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةَ؟ إِنَّ جِبْرِيلَ هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلاةِ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عُرْوَةُ: وَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ يَظْهَرَ.

ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے ایک دن نماز میں تاخیر کر دی تو ان کے پاس حضرت عروہ بن زبیر آئے اور بتایا کہ ایک دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نماز میں تاخیر کر دی‘ اس وقت وہ کوفہ میں تھے تو ان کے پاس حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ آئے اور فرمایا: اے مغیرہ! یہ کیا ہے؟ کیا آپ جانتے نہیں کہ حضرت جبریل نازل ہوئے تو نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی‘ پھر جبریل نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی‘ پھر جبریل نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی‘ پھر جبریل نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی‘ پھر جبریل نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی‘ پھر فرمایا : اسی طرح مجھے حکم دیا گیا ہے‘ اس پر حضرت عمر بن عبد العزیز نے حضرت عروہ سے فرمایا: جانتے ہو کیا بیان کر رہے ہو؟ کہ جبریل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نماز کا وقت قائم کیا ؟ تو حضرت عروہ نے فرمایا: حضرت بشیر بن ابومسعود اپنے باپ کے حوالے سے اسی طرح حدیث بیان کرتے تھے۔حضرت عروہ نے فرمایا: مجھے اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اس حال میں کہ دھوپ ان کے صحن میں ہوتی تھی‘ یہ ظاہر ہونے سے پہلے۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ← وفيما ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 958

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 959

959 - حَدثنَا مُحَمَّد مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ثَنَا اصبغ من الْفَرَجِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ:

ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔

أَبِيهِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ: ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← اصبغ من الْفَرَجِ ← مُحَمَّد مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 959

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 960

960 - حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ حَتَّى عَدَّ الصَّلَوَاتَ الْخَمْسَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: اتَّقِ اللَّهَ وَانْظُرْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةَ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي بِهِ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس جبریل آئے اور میری امامت کرائی تو میں نے اس کے ساتھ نماز پڑھی یہاں تک کہ اُنہوں نے پانچ نمازیں شمار کیں تو ان سے عمر بن عبد العزیز نے کہا: اللہ سے ڈرو اور غور کرو‘ اے عروہ! کیا کہہ رہے ہو؟ فرمایا: مجھے بشیر بن ابی مسعود نے از والد خود از نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خبر دی۔

أَبِيهِ ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 960

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 961

961 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمْزَة الزبيرِي قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْن أُسَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ (1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَصَلَّى بِي الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَاءَنِي فَصَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْمَغْرِبَ حِينَ غَرُبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَاءَنِي فصلى بَين الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ جَاءَنِي فَصَلَّى بِي الصُّبْحَ حِيَن طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ جَاءَنِي مِنَ الْغَدِ فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْمَغْرِبَ حِينَ غَرُبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ صَلَّى بِي الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ صَلاةُ النَّبِيِّينَ مِنْ قَبْلِكَ يَا مُحَمَّدُ فَالْزَمْ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس جبریل آئے ور مجھے ظہر کی نماز پڑھائی‘ اس وقت جب سورج ڈھل گیا‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے عصر کی نماز پڑھائی‘ جب ہر شے کا سایہ ایک مثل ہو گیا پھر جب سورج غروب ہو گیا تو مجھے مغرب کی نماز پڑھائی‘ پھر جب شفق (یعنی سرخی) غائب ہو گئی تو مجھے نمازِ عشاء پڑھائی پھر جب فجر طلوع ہو گئی تو مجھے صبح کی نماز پڑھائی پھر اگلے دن میرے پاس آئے اور مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر شے کا سایہ ایک مثل ہو گیا تھا پھر مجھے عصر کی نماز پڑھائی جب ہر شے کا سایہ دو مثل ہو گیا پھر مجھے مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہو گیا پھر مجھے عشاء کی نماز پڑھائی‘ جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا‘ پھر مجھے صبح کی نماز پڑھائی‘ جب اجالا ہو گیا تھا پھر کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ آپ سے پہلے نبیوں کی نماز ہے‘ اسے لازم کرلو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْن أُسَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمْزَة الزبيرِي قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 961

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 962

962 - حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ السَّكُونِيُّ ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتُ الصَّلاةِ. _________ (1) فِي الأَصْل: مُحَمَّد بن عمَارَة. [961] إِسْنَاده ضَعِيف، لِأَن مُحَمَّد بن عمار بن سعد مَسْتُور كَمَا فِي التَّقْرِيب (ص463) وَأخرجه الْبَزَّار كَمَا فِي كشف الأستار (ج1 ص187) - وَذكر عَنهُ الزَّيْلَعِيّ (ج1 ص224) - وَالدَّارقطني (ج1 ص261) من طَرِيق أبي نعيم فضل بن دُكَيْن عَن عمر بن عبد الرَّحْمَن بِهِ، وَقَالَ الْبَزَّار: مُحَمَّد بن عمار لَا نعلم روى عَنهُ إِلَّا عمر هَذَا وَقَالَ الهيثمي فِي الْمجمع (ج1 ص303) : فِيهِ عمر بن عبد الرَّحْمَن بن أسيد بن عبد الرَّحْمَن بن زيد بن الْخطاب، ذكره ابْن أبي حَاتِم (ج3 ق1 ص121) وَقَالَ: سمع مِنْهُ أَبُو نعيم وَعبد الله بن نَافِع، سَمِعت أبي يَقُول ذَلِك، وَشَيخ الْبَزَّار إِبْرَاهِيم بن نصر لم أجد من تَرْجمهُ وَبَقِيَّة رِجَاله موثقون، قلت: لم ينْفَرد بِهِ إِبْرَاهِيم، وَأما عمر بن عبد الرَّحْمَن فَذكره البُخَارِيّ فِي تَارِيخه (ج3 ق2 ص174) أَيْضا وَسكت عَنهُ، فالإسناد ضَعِيف، وَله طَرِيق أُخْرَى، رَاجع رقم: 972، 973. [962] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه النَّسَائِيّ رقم: 545، وَفِي الْكُبْرَى أَيْضا (ج1 ص477) عَن عَليّ بن حجر =

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں سوال کیا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو هَمَّامٍ السَّكُونِيُّ

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 962

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 963

963 - وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَزِيَادَةُ بْنُ أَيُّوبَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالُوا: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا۔

وَقْتِ الصَّلاةِ. ← أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَزِيَادَةُ بْنُ أَيُّوبَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 963

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 964

964 - وَثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ ثَنَا الْمُعْتَمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَألَهَ عَنْ وَقْتِ صَلاةِ الْغَدَاةِ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَمَرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَأَقَامَ الصَّلاةَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَا فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ أَخَّرَ حَتَّى أَسْفَرَ ثُمَّ أَمَرَ، فَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَصَلَّى لَنَا وَقَالَ: أَيْن السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا تو جب اگلا دن آیا تو جب فجر طلوع ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جب اس سے اگلا دن آیا تو جب اُجالا ہو گیا پھر حکم دیا تو نماز کے لئے اقامت کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور فرمایا: نماز کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دونوں کے درمیان وقت ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدًا، ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو الْأَشْعَثِ،

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 964

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 965

965 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَأَبُو عَوْفٍ قَالا: ثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ ثَنَا أَسْبَاطٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلاةَ يُخَفِّفُ نَحْوَ صَلاتِكُمْ، وَلَكِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الظّهْر حيت تَزُولُ الشَّمْسُ.

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری نماز کی طرح تخفیف فرماتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← أَسْبَاطٍ ← عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَأَبُو عَوْفٍ

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 965

مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 966

966 - حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى أَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ بِلالُ يُؤَذِّنُ الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتْ، وَكَانَ رُبَّمَا أَخَّرَ الإِقَامَةَ وَلا يُؤَخِّرُ الْأَذَان عَن وَقت.

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا اور کبھی اقامت کو مؤخر فرماتے اور اذان کو وقت سے مؤخر نہیں کرتے تھے۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أبو يحيى

Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 966

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter
2. The first book of prayer
    8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter
3. The fourth part of the Musnad of Abu al-Abbas al-Sarraj
    34. Chapter35. Chapter36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
4. The second part of the second part with the pumice parts
    45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter
5. The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri
    52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter
6. The tenth part of the hadith of As-Sarraj from Juzu 'al-Qusayri
    62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter
7. Part of the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq Abraham, the educational siren, may God have mercy on him, is part of the Haddi
    74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
8. The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
9. Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter