مسند السراج · الْجُزْءُ التَّاسِعُ مِنْ أَجْزَاءِ أَبِي الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيِّ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ مِنَ الآثَارِ · حديث 957
957 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن يحيى قثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بن سعد قثنا ابْن أَخِي شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: مَسَّى الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ يَوْمًا بِصَلاةِ الْعَصْرِ، وَهُوَ أَمِيرُ الْكُوفَةِ يَوْمَئِذٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى وَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا أُمِرْتُ، فَقَال عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةَ أَنَّ جِبْرِيلَ لَهُوَ أَقَامَ الصَّلاةَ؟ قَالَ عُرْوَةُ: كَذِلَكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُنِي عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ يَظْهَرَ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا. _________ (1) فِي الْمسند: يتَعَلَّم، وَفِي عبد الرَّزَّاق: يعلم. [957] فِي إِسْنَاده ابْن أخي الزُّهْرِيّ مُحَمَّد بن عبد الله بن مُسلم صَدُوق لَهُ أَوْهَام كَمَا فِي التَّقْرِيب (ص456) وَفِي حَدِيثه عَن عَمه كَلَام، انْظُر التَّهْذِيب (ج9 ص279، 280) لكنه لم ينْفَرد بِهِ.
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی مدینہ شریف پر امارت کے وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو فرمایا کہ ایک دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز میں شام کر دی‘ اس وقت وہ کوفہ کے امیر تھے تو ان کے پاس حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ آئے تو فرمایا: اے مغیرہ! یہ کیا ہے؟ خبردار! اللہ کی قسم ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جبریل نازل ہوئے اور اُنہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر جبریل نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر جبریل نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر جبریل نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی‘ پھر فرمایا: اسی طرح مجھے حکم دیا گیا ہے تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: غور کرو‘ اے عروہ! کیا کہہ رہے ہو؟ کیا جبریل نے نماز قائم کی؟ حضرت عروہ نے فرمایا : اسی طرح مجھے بشیر بن ابی مسعود نے از والد خود حدیث بیان کی اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے درآں حالیکہ دھوپ ان کے صحن میں ہوتی تھی اور سایہ ان کے صحن میں ظاہر نہ ہوتا تھا۔
عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ ← عَمِّہٖ ← مُحَمَّدُ بن يحيى قثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بن سعد قثنا ابْن أَخِي شِهَابٍ
Musnad Siraj · The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri › Chapter · Hadith 957
