مسند السراج · الْجُزْء الثَّانِي من الثَّانِي بأجزاء الْخفاف ‹ بَابٌ فِي إِبَاحَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ · حديث 800
800 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالا: ثَنَا أَبُو أُسَامَة قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتِ امْرَأَةُ عُمَرَ تَشْهَدُ صَلاةَ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي جَمَاعَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقِيلَ لَهَا: لِمَ تَخْرُجِينَ وَقَدْ تَعْلَمِينَ أَنَّ عُمَرَ يَكْرَهُ ذَلِكَ وَيَغَارُ قَالَتْ: فَمَا يَمْنَعُهُ أَنْ ينهاني؟ قَالُوا: يمعنه قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ایک اہلیہ محترمہ مسجد میں جماعت کے اندر صبح اور عشاء کی نماز میں حاضر ہوئیں۔ ان سے کہا گیا کہ آپ یہ جانتے ہوئے کیوں باہر نکلتی ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے ناپسند کرتے ہیں اور غیرت کھاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مجھے منع کرنے سے انہیں کیا چیز روکتی ہے؟ کہا کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد روکتا ہے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے روکا نہ کرو۔
ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أبو أسامة قثنا عبيد الله بن عمر ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
Musnad Siraj · The second part of the second part with the pumice parts › Chapter · Hadith 800
