مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَا يَقْطَعُ صَلاةَ الْمَرْءِ مِنَ الْبَهَائِمِ وَغَيْرِهِ · حديث 431
431 - حَدَّثَنَا أَبُو عَوْفٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بن مَرْزُوق ثناعبد الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبي عُرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: سَأَلت أباذر عَمَّا يَقْطَعُ الصَّلاةَ؟ فَقَالَ: إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَكَ كَآخِرَةِ الرحل، الْمَرْأَة والحماء وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ! مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَصْفَرِ من الْأَبْيَض؟ فال: با ابْنَ أَخِي! سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ: إِنَّ الْكَلْبَ الأَسْوَدَ شَيْطَانٌ.
حضرت عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھا جو کہ نماز کو منقطع کر دیتی ہیں تو فرمایا کہ جب تمہارے سامنے پالان کی آخری لکڑی کی طرح کوئی چیز نہ ہو تو عورت اور گدھا اور سیاہ کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ میں نے کہا: اے ابوذر! زرد رنگ کے کتے اور سفید رنگ کے کتے کے مقابل سیاہ کتے کی کیا وجہ ہے؟ تو فرمایا: اے بھتیجے! میں نے تمہاری طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک سیاہ کتا شیطان ہے۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← أَبُو عَوْفٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بن مَرْزُوق ثناعبد الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 431
