مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 198
198 - حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَتَأَخَّرُ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ مِنْ أَجْلِ فُلانٍ يُطِيلُ بِنَا فِيهَا، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ أَشَدُّ غَضَبًا وَفِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، ثمَّ قَالَ: يأيها النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ من صلى النَّاس فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ.
حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں نماز فجر میں لیٹ ہو جاتا ہوں‘ ایک وجہ سے اس لئے کہ وہ ہمیں نماز لمبی پڑھاتے ہیں‘ پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن سے زیادہ غضبناک اور نصیحت فرمانے میں نہیں دیکھا‘ پھر فرمایا: اے لوگو! بے شک تم میں نفرت پھیلانے والے ہیں‘ جو لوگوں کو نماز پڑھائے اُسے چاہیے کہ مختصر پڑھائے اس لئے کہ نمازیوں میں کمزور اور بوڑھے اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔
أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ فَقَالَ: ← عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنٌ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← محمد بن يزيد الواسطي ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 198
