Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند السراج

Musnad Siraj

by Muhammad Bin Ishaq Bin Ibraheem Al Siraj Al Saqfi Nishpuri

1,577 Hadith109 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 186

186 - حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَ مُعَاذٍ مِنْ شِدَّةِ مَا يُطِيلُ بِنَا، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ! أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ (الشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى) ؟، وَأَشْبَاهِهَا.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ان کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ ! خدا کی قسم! میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا‘ ان کے شدت کے ساتھ قرأت کو لمبا کرنے کی وجہ سے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا لیا اور فرمایا: اے معاذ! کیا تمہارا فتنہ پھیلانے کا ارادہ ہے !تم’’والشمس وضحها‘والليل اذا یغشی‘‘اور اس جیسی سورتوں سے کہاں ہوتے ہو‘ یعنی ان کو کیوں نہیں پڑھتے۔

أَتَى رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ فقَالَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 186

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 187

187 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ قَالا: ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُحَارِبٍ وَأَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَدَخَلَ فَصَلَّى خَلْفَ مُعَاذٍ فَطَوَّلَ بِهِمْ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى نَاضِحِهِ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلاةَ قِيلَ لَهُ إِنَّ فُلانًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ مُعَاذٌ: لَوْ أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَمِلْتُ عَلَى نَاضِحٍ لِي مِنَ النَّهَارِ فَجِئْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي الصَّلاةِ، فَطَوَّلَ فَصَلَّيْتُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ وَانْطَلَقت إِلَى ناضجي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَتَّانًا يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانًا يَا مُعَاذٌ.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص اس وقت آیا کہ نماز کے لئے اقامت ہو چکی تھی تو اس نے آ کر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی‘ پس حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے ان پر نماز کو لمبا کر دیا‘ اس پر وہ شخص پیچھے سے ہٹ گیا اور مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ کر اپنے اونٹ پر پانی بھر کر لانے کے لئے چلا گیا۔ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو ان کو بتایا گیا کہ فلاں شخص نے یوں کہا ہے‘ تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں صبح جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤں گا‘ پس اُنہوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتا دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا کہ تُو نے ایسا کیوں کیا ہے؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں سارا دن اونٹ پر پانی بھر کر لاتا ہوں‘ میں مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آیا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں نے نماز پڑھنی شروع کر دی‘ اُنہوں نے قرأت لمبی کی تو میں نے مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی اور اپنے اونٹ پر پانی بھرنے چلا گیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! کیا تم فتنہ پرور ہو! اے معاذ! کیا تم فتنہ پرور ہو۔

جَابِرٍ ← مُحَارِبٍ وَأَبِي صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أبو كريب محمد بن العلاء ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 187

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 188

188 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عبد الحكم الوراث ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دَثَّارٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ صَلاةً فَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ عَلِيُّ بْنُ فُضَيْلٍ، فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى) ؟.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی‘ پھر اسی طرح حدیث بیان کی اور علی بن فضیل نے اس حدیث پر یہ بھی زیادہ کیا کہ تم ”سبح اسم ربك الاعلٰى‘والشمس وضحها‘والليل اذا یغشی ‘‘سے کہاں ہوتے ہو‘ یعنی یہ سورتیں کیوں نہیں پڑھتے۔

جَابِرٍ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عبد الحكم الوراث

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 188

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 189

189 - حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِي نَخْلَهُ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ فِي الْقَوْمِ فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ "تَجَوَّزَ" (1) فِي صَلاتِهِ وَلَحَقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلاةَ قِيلَ لَهُ: أَن حَرَامًا دَاخل الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَآكَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِي صَلاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ أَيَتَعَجَّلُ الصَّلاةَ مِنْ أَجْلِ سَقْيِ نَخْلِهِ، فَجَاءَ حرَام إِلَى الني صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ عِنْدَهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَدْتُ أَسْقِي نَخْلًا لِي، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لأُصَلِّي مَعَ الْقَوْم، فلماطول تَجَوَّزْتُ فِي صَلاتِي وَلَحَقْتُ بِنَخْلِي أَسْقِيهِ، فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ، فَأَقْبَلَ نَبِي الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَلَى مُعَاذٍ، فَقَالَ: أَفَاتِنٌ أَنْتَ؟ لَا تُطَوِّلْ بِهِمْ، اقْرَأْ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا) وَنَحْوِهَا.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کونماز پڑھا رہے تھے کہ حضرت حرام داخل ہوئے‘ حالانکہ وہ اس وقت اپنے باغ کو پانی دینے کا ارادہ رکھتے تھے‘ پس حضرت حرام مسجد میں آئے تاکہ قوم کے ساتھ نماز پڑھیں تو جب اُنہوں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو لمبی قرأت کرتے دیکھا تو اُنہوں نے اپنی نماز پڑھ لی اور باغ کو پانی دینے چلے گئے‘ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل فرمائی تو ان کو بتایا گیا کہ حضرت حرام مسجد میں نماز پڑھنے آئے تھے‘ جب اُنہوں نے آپ کو لمبی قرأت کرتے پایا تو اپنی نماز پڑھ کر باغ کو پانی دینے چلے گئے ہیں‘ تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ منافق ہے‘ کیا باغ کو پانی دینے کے لئے نماز پڑھنے میں جلدی کرتا ہے ۔ حضرت حرام‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے‘ اُس وقت حضرت معاذ بھی اِدھر ہی تھے۔عرض کی یا نبی اللہ! میں نے اپنے باغ کو پانی دینے کا ارادہ کیا اور مسجد میں آیا تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لوں‘ جب حضرت معاذ نے قرأت لمبی کی تو میں نے اپنی نماز پڑھ لی اور پھر اپنے باغ کو پانی دینے چلا گیا۔ تو حضرت معاذ نے گمان کیا کہ میں منافق ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم فتنہ پھیلانے والے ہو؟ ان کو لمبی نماز نہ پڑھایا کرو: ”سبح اسم ربك الاعلٰى‘‘اور ’’والشمس وضحٰها‘‘اور اس طرح کی سورتیں پڑھا کرو۔

أَنَسٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 189

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 190

190 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْقِنْطَرِيُّ ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذٍ: يَا مُعَاذُ! قَالَ: لَبَّيْكَ، قَالَ: يَا مُعَاذُ!.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے معاذ! اُنہوں نے عرض کی: لبیک ( میں حاضر ہوں ) فرمایا: اے معاذ!

أَنَسٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْقِنْطَرِيُّ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 190

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 191

191 - حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالا: ثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ مُعَاذً صَلَّى بِأَصْحَابِهِ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ بِالْبَقَرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَتَّانًا؟ أَفَتَّانًا؟ زَادَ يَعْقُوبُ: أَمَا قَرَأْتَ بـ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا) ؟، وَنَحْوِهَا.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھائی اور اس میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم فتنہ پھیلانے والے ہو؟ کیا تم فتنہ پھیلانے والے ہو؟ یعقوب نے یہ بھی اضافہ کیا کہ (محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”سبح اسم ربك الاعلٰى‘والشمس وضحها‘‘ اور اس طرح کی سورتیں کیوں نہیں پڑھتے۔

بـ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا) وَنَحْوِهَا. ← رَسُولُ اللَّهِ أَفَتَّانًا؟ أَفَتَّانًا؟ زَادَ يَعْقُوبُ: أَمَا ← جَابِرٍ أَنَّ مُعَاذً صَلَّى بِأَصْحَابِهِ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ بِالْبَقَرَةِ، ← مُحَارِبٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 191

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 192

192 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيم الدَّوْرَقِي وعبدي اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دَثَّارِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَار مر بِنَا ضحين لَهُ، وَمُعَاذٌ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَصَلَّى الرَّجُلُ ثمَّ ذهب "يُصَلِّي الْمغرب فَافْتتحَ سُورَة الْبَقَرَة، فصلى الرجل ثُمَّ ذَهَبَ" (1) فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ؟ أَوَلا قَرَأْتَ بـ (سَبِّحِ "اسْمَ" (2) رَبِّكَ الأَعْلَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا) ؟، وَنَحْوِهِمَا.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص اپنے دو پانی بھر کر لانے والے اونٹوں سمیت گزرا‘ اُس وقت حضرت معاذ رضی اللہ عنہ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور سورۃ البقرہ شروع کی تھی‘ پس اس شخص نے اپنی علٰیحد ہ نماز پڑھی اور چلا گیا۔ یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو فرمایا: اے معاذ! کیا تم فتنہ پھیلانے والے ہو تم نے ”سبح اسم ربك الاعلٰى‘والشمس وضحها‘‘ اوران جیسی سورتیں کیوں نہیں پڑھیں؟

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيم الدَّوْرَقِي وعبدي اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 192

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 193

193 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ جَوَابٍ ثَنَا عَمَّارُ بْنُ زُرَيْقٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دَثَّارٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَامَ مُعَاذٌ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فَجَاءَ فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَطَوَّلَ بِهِ مُعَاذٌ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَزَادَ فِيهِ: فَقَالَ الأَعْمَشُ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أَحُدٍ لَقِيَ ذَلِكَ الْفَتَى مُعَاذًا فَقَالَ: زَعَمْتَ أَنِّي مُنَافِقٌ، تَقَدَّمْ، فَقَالَ مُعَاذٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبْتُ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ایک انصاری نوجوان مسجد میں داخل ہوا۔ پس حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز کو طویل کر دیا۔ آگے اسی طرح اس کے طول کی حدیث کو بیان کیا۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ اعمش نے کہا کہ مجھے ابوصالح نے حدیث بیان کی کہ وہی نوجوان اُحد کے دن حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو ملا اور کہا کہ تم نے گمان کیا ہے کہ میں منافق ہوں‘ پھر وہ اُحد کی لڑائی میں آگے بڑھے اور وہ نوجوان شہید ہو گیا تو اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ سے فرمایا کہ میرے خصم اور تیرے خصم نے کیا کیا؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ نے سچ فرمایا اور میں نے غلط کہا ہے‘ وہ نوجوان لڑا ہے یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔

جَابِرٍ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← الْاَعْمَشِ ← عمار بن زريق ← الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 193

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 194

194 - حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دَثَّارٍ عَنْ جَابِرِ ابْن عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَمَّنَا مُعَاذٌ فِي الْمَغْرِبِ فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ قَدْ شَدَّ نَاضِحَيْنِ لَهُ بِالْبَابِ فَصَلَّى ثُمَّ خَرَجَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَفَتَّانًا يَا مُعَاذُ أَفَلا بـ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا) ؟.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز میں ہماری امامت کی تو سورۃ البقرہ کو شروع کر دیا‘ تو ایک دیہاتی آیا جس نے اپنے دو پانی بھر کر لانے والے اونٹ دروازے پر باندھے تھے‘ اس نے اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو فرمایا: اے معاذ! کیا تم فتنہ پھیلانے والے ہو؟ کیا ”سبح اسم ربك الاعلٰى‘‘اور ’’والشمس وضحها‘‘ سورتیں نہیں تھیں؟

جَابِرِ ابن عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 194

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 195

195 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ثَنَا أَبُو النَّضْرِ هِشَامُ بْنُ الْقَاسِمِ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: أَقْبَلَ رَجُلٌ بِنَاضِحَيْنِ لَهُ وَقَدْ جَنَحَ اللَّيْلُ فَوَافَقَ مُعَاذًا يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَتَرَكَهُمَا وَأَقْبَلَ إِلَى مُعَاذٍ فَصَلَّى مَعَهُ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ أَوِ النِّسَاءَ فَصَلَّى الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْهُ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَاتِنٌ أَنْتَ؟ ثَلاثًا. أَوْ قَالَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ ثَلاثًا، فَلَوْلا صَلَّيْتَ بـ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى) ؟، فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَاءَكَ ذُو الْحَاجَةِ وَالضَّعِيفِ، قَالَ: أَحْسَبُهُ.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا اُس کے پاس دو پانی بھر کر لانے والے اونٹ تھے اور اس وقت رات کافی ہو چکی تھی تو اُس نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو نمازِ مغرب پڑھاتے پایا تو اُس نے اپنے دونوں اونٹوں کو چھوڑا اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھنے لگ گیا‘ حضرت معاذ نے سورۃ البقرہ یا سورۃ النساء شروع کر دی تو اُس شخص نے اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا‘ پھر اس کو خبر پہنچی کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو اس سے تکلیف ہوئی ہے تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: (اے معاذ!) کیا تم فتنہ پھیلانے والے ہو؟ تم نے ”سبح اسم ربك الاعلٰى‘والشمس وضحٰها‘والليل اذا یغشی‘‘کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَارِبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو النَّضْرِ هِشَامُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 195

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 196

196 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَمُحَمَّدُ بن عَمْرو زنيج الرَّازِيُّ قَالا: ثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: مَا تَقُولُ فِي الصَّلاةِ؟ قَالَ: أَتَشَهَّدُ وَأَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أسئلك الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا وَاللَّهِ مَا نُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ اُس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں اور یہ دعا مانگتا ہوں: اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘ اللہ کی قسم! آپ کا نماز میں آہستہ دعا مانگنا اور حضرت معاذ کا آہستہ دعا مانگنا‘ نماز میں ہم اس کو نہیں پہچانتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم جنت کے گرد بھی اللہ سے دخولِ جنت کی دعا مانگیں گے اور اس کی پناہ مانگیں گے آگ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَمُحَمَّدُ بن عَمْرو زنيج الرَّازِيُّ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 196

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 197

197 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَرْسَانِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عبد الله يُقَال: بَيْننَا فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ قَرَّبَ عَلَفَ نَاضِحِهِ، أَقَامَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ صَلاةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ فَتَرَكَ الْفَتَى عَلَفَهُ، فَقَامَ، فَتَوَلَّى وَحَضَرَ الصَّلاةَ، وَافْتَتَحَ مُعَاذٌ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَصَلَّى الْفَتَى وَتَرَكَ مُعَاذًا، وَانْصَرَفَ إِلَى نَاضِحِهِ وَعَلَفِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ مُعَاذٌ أَخَذَ الْفَتَى فَفَسَّقَهُ وَنَفَّقَهُ، ثُمَّ قَالَ: لآتِيَنَّ رَسُول الله عَلَيْهِ وَسلم فَلأُخْبِرَنَّهُ خَبَرَكَ، فَقَالَ الْفَتَى: أَنَا وَاللَّهِ لأُبَيِّنَهُ، فَأُخْبِرُهُ خَبَرَكَ، فَأَصْبَحَا فَاجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مُعَاذٌ شَأْنَهُ، فَقَالَ الْفَتَى: إِنَّا أَهْلُ عَمَلٍ وَشُغْلٍ فَيُطَوِّلُ عَلَيْنَا مُعَاذٌ، فَيَسْتَفْتِحُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُعَاذٌ أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا، إِذَا أَمَمْتَ بِالنَّاسِ فَاقْرَأْ بـ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، واقرأ بِاسْمِ رَبِّكَ، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَالضُّحَى) وَهَذَا النَّحْوِ.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک انصاری نوجوان اپنے پانی بھر کر لانے والے اونٹ کو چارہ کھلانے کے قریب ہوا کہ اتنے میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز کی جماعت کھڑی کر دی‘ اُس نوجوان نے چارے کو چھوڑ دیا اور کھڑا ہوا اور نماز میں شامل ہو گیا۔ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے سورۃ البقرہ کی قرأت شروع کر دی‘ اس نوجوان نے اپنی نماز پڑھی اور حضرت معاذ کے پیچھے سے ہٹ گیا اور جا کر اپنے اونٹ کو چارہ کھلانے لگا۔ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو اُس نوجوان کو پکڑا اور اس کو فاسق اور منافق کہا‘ پھر کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کروں گا اور تیرے بارے بتاؤں گا۔وہ نو جوان اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ دونوں صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے تو حضرت معاذ نے اس کا واقعہ خدمتِ اقدس میں عرض کیا‘ نوجوان نے کہا کہ میں کام کاج کرنے والا ہوں‘ حضرت معاذ نے ہمیں نماز لمبی پڑھائی ہے‘ سورۃ البقرہ کی قرأت شروع کر دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! کیا تم فتنہ پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہو؟ جب تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو ”سبح اسم ربك الاعلٰى‘‘ اور ’’اقـرأ باسم ربك‘‘اور ’’والليل اذا یغشی‘‘ اور ’’والضحی‘‘ اور اس جیسی سورتیں پڑھا کرو۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 197

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter
2. The first book of prayer
    8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter
3. The fourth part of the Musnad of Abu al-Abbas al-Sarraj
    34. Chapter35. Chapter36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
4. The second part of the second part with the pumice parts
    45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter
5. The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri
    52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter
6. The tenth part of the hadith of As-Sarraj from Juzu 'al-Qusayri
    62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter
7. Part of the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq Abraham, the educational siren, may God have mercy on him, is part of the Haddi
    74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
8. The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
9. Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter