مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ · حديث 120
120 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن الصَّباح أَن جَرِيرٌ، وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بن أَيُّوب بثنا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالُوا: لَا يُحْسِنُ أَنْ يُصَلِّي، فَذَكَرَ عُمَرُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَمَّا صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ، قَدْ كُنْتُ أَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاقٍ، قَالَ: فَبَعَثَ بِهِ مَنْ يَسْأَلُ عَنْهُ، قَالَ: فَطِيفَ بِهِ فِي مَسَاجِدِ الْكُوفَةِ، فَلَمْ يُقَلْ لَهُ إِلا خَيْرًا حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَسْجِدِ بَنِي عَبْسٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ أَبُو سِعْدَةَ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لَا يَنْفِرُ فِي السَّرِيَّةِ، وَلا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ، وَلا يَعْدِلُ فِي الرَّعِيَّةِ، فَغَضِبَ سَعْدٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَاذِبًا فَأَطِلْ عُمْرَهُ، وَأَشِدَّ فَقْرَهُ، وَاعْرِضْ عَلَيْهِ الْفِتَنَ. قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: فَرَأَيْتُهُ شَيْخًا كَبِيرًا مَا يَجِدُ شَيْئًا، يُسْأَلُ كَيْفَ أَنْتَ أَبَا سِعْدَةٍ؟ فَيَقُولُ: شَيْخٌ كَبِيرٌ مَفْتُونٌ أَصَابَتْهُ دَعْوَةُ سَعْدٍ.
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہلِ کوفہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی کہ وہ ہمیں نماز صحیح نہیں پڑھاتے ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد سے اس شکایت کا ذکر کیا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ان کو اس طرح نماز پڑھاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے تھے‘ میں پہلی دو رکعتوں میں قیام زیادہ کرتا ہوں اور آخری دو رکعتوں میں کم ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابواسحاق مجھے تم سے یہی حسنِ ظن تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھنے کے لئے کسی کو ( کوفہ ) بھیجا تو وہ کوفہ کی ساری مسجدوں میں پھرا تو کسی نے بھی حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں تعریف کے علاوہ کچھ نہ کہا یہاں تک کہ وہ قاصد بنی عبس کی مسجد میں آیا تو وہاں کے ایک شخص نے کہا جس کو ابوسعدہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد شکر میں شرکت نہیں کرتے اور تقسیم کرنے میں برابری نہیں کرتے اور رعایا کے ساتھ انصاف نہیں کرتے ۔ اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ غضبناک ہو گئے اور فرمایا : اے اللہ ! اگر یہ شخص جھوٹا ہے تو اس کی عمر دراز کر‘ اور تنگدستی سخت کر اور اس پر فتنے اُتار ۔عبدالملک کہتے ہیں کہ میں نے اس شخص ابوسعدہ کو دیکھا کہ وہ بہت بوڑھا ہو چکا ہے کہ اسے کچھ سمجھ نہیں پڑتا‘ جب اس سے سوال کیا جاتا اس کے بعد تیرے ساتھ کیا بنا ؟ کہتا تھا: بہت بوڑھا فتنوں میں ڈالا ہوا‘ اس کو حضرت سعد کی بد دعا لگ گئی۔
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ،
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 120
