مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ · حديث 119
119 - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ السَّكُونِيُّ ثَنَا هُشَيْمٌ ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ شكوا سَعْدا إىل عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرُوا صَلاتَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ، فَذَكَرَ لَهُ مَا عابوا من أمبر صَلاتِهِ فَقَالَ: إِنِّي لأُصَلِّي بِهِمْ صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْهَا، إِنِّي لأَرْكُدُ بِهِمْ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأُخَفِّفُ بِهِمْ فِي الأُخْرَيَيْنِ، فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاقَ.
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہلِ کوفہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے نماز پڑھنے کی شکایت کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے اہلِ کوفہ کی شکایت کا ذکر کیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ان کو اس طرح نماز پڑھاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے تھے‘ میں پہلی دو رکعتوں میں زیادہ قیام کرتا ہوں اور آخری دو رکعتوں میں اس سے کم۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد سے کہا: اے ابواسحاق ! تم سے مجھے یہی حسنِ ظن تھا۔
جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← أَبُو هَمَّامٍ السَّكُونِيُّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 119
