Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند السراج

Musnad Siraj

by Muhammad Bin Ishaq Bin Ibraheem Al Siraj Al Saqfi Nishpuri

1,577 Hadith109 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الْمُصَلِّي إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ مَتَى يَرْفَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ أَوْ بَعْدِهِ · حديث 95

95 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن بكير قثنا اللَّيْثُ قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کی سیدھ میں اُٹھاتے اور تکبیر کہتے اور جب رکوع کرنے کا ارادہ فرماتے تو اسی طرح کرتے اور جب رکوع سے اُٹھتے تو اسی طرح کرتے۔

سَالِمٌ، أَنَّ عَبْد اللَّه بْنَ عُمَرَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن بكير قثنا اللَّيْثُ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 95

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الْمُصَلِّي إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ مَتَى يَرْفَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ أَوْ بَعْدِهِ · حديث 96

96 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بن هَانِئ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عبد الحكم قثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ عَنْ خَالِدِ ابْنِ يَزِيدَ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ كَتَبَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا كَبَّرَ لِلصَّلاةِ يَجْعَلُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَلَمْ يَكُنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي سُجُودِهِ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کی سیدھ میں کر لیتے اور جب اپنے سرانور کو اُٹھاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔

أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← إِلَيْهِ يَذْكُرُ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← خَالِدِ ابْنِ يَزِيدَ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 96

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الْمُصَلِّي إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ مَتَى يَرْفَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ أَوْ بَعْدِهِ · حديث 97

97 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ بَين (1) الرَّكْعَتَيْنِ كبرو رفع يَدَيْهِ.

محارب بن دثار نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو اُٹھاتے جب بھی رکوع کرتے اور جب بھی رکوع سے سر اُٹھاتے میں نے ان سے کہا کہ یہ کیا ہے؟تو اُنہوں نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعتوں کے درمیان کھڑے ہوتے تھے‘تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اُٹھاتے۔

مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 97

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الْمُصَلِّي إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ مَتَى يَرْفَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ أَوْ بَعْدِهِ · حديث 98

98 - حَدثنَا داؤد بن رشيد قثنا هُشَيْمٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ، وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلا يُجَاوِزُ بِهِمَا أُذُنَيْهِ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو اُٹھاتے تھے جب نماز شروع فرماتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر مبارک اُٹھاتے اور ہاتھوں کو اپنے کانوں سے متجاوز نہیں کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← داؤد بن رشيد قثنا هُشَيْمٌ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 98

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الْمُصَلِّي إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ مَتَى يَرْفَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ أَوْ بَعْدِهِ · حديث 99

99 - حَدثنَا داؤد بْنُ رَشِيدٍ ثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: أَنَا الْفَضْلُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مختلف سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ مِثْلَہُ۔ ← سَالِمٍ ← الفضل بن عطية ← هُشَيْمٌ ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 99

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الْمُصَلِّي إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ مَتَى يَرْفَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ أَوْ بَعْدِهِ · حديث 100

100 - حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ السَّكُونِيّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ثَنَا الْحَسَنُ ابْن الْحُرِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ (1) أَبُوهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ مِنَ الأَنَصْارِ، وَأَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا الصَّلاةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أُعَلِّمُكُمُ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: كَيْفَ؟ قَالَ: اتَّبَعْتُ ذَلِكَ مِنْ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الله عَلَيْهِ وَسلم، قَالُوا: فَأَرِنَا، قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي وَهُمْ يَنْظُرُونَ، فَبَدَأَ فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ نَحْوَ الْمَنْكِبَيْنِ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَيْضًا، ثُمَّ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ غَيْرُ مقنع وَلَا مصوبة، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ كَبَّرَ فَجَلَسَ وَتَوَرَّكَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الأُخْرَى، فَكَبَّرَ كَذَلِكَ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ فَكَبَّرَ ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ سَلامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِمَالِهِ أَيْضًا سَلامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.

حضرت عباس بن سہل ساعدی سے روایت ہے کہ وہ ایک ایسی مجلس میں تھے کہ جس میں ان کے والد بھی تھے اور ان کے والد صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور اس مجلس میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوسعید اور حضرت ابوحمید انصار میں سے بھی تھے۔ اُنہوں نے مجلس میں نماز کے بارے میں گفتگو کی تو ابوحمید نے کہا کہ میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو جاننے والا ہوں۔اُنہوں نے کہا کہ وہ کیسے؟اس پر ابوحمید نے کہا:میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیکھا ہے‘اُنہوں نے کہا:نہیں!دکھاؤ۔ تو ابوحمید نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے کہ دوسرے ان کو دیکھے رہے ہیں‘اُنہوں نے نماز شروع کی تو تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کی سیدھ تک بلند کیا‘پھر رکوع کے لئے تکبیر کہی تو اسی طرح دونوں ہاتھوں کو بلند کیا پھر پیٹھ کو بالکل سیدھا کر کے اپنے ہاتھوں کو گھٹوں پر جمایا‘پھر رکوع سے سر اُٹھایا اور پڑھا:سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد اور اپنے ہاتھوں کو بلند کر دیا پھر اللہ اکبر کہہ کر سجدے میں چلے گئے اور آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں اور دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کے اگلے سرے کے بل سجدہ کیا اور پھر تکبیر کہہ کر بیٹھ گئے اس طرح کہ ایک پاؤں کو بچھا دیا اور دوسرے کو کھڑا کیا پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا پھر تکبیر کہہ کر کھڑے ہو گئے‘سرین کے بل بیٹھے نہیں ہیں پھر اسی طرح دوسری رکعت کو ادا کیا اور اسی طرح تکبیر کہی پھر دو رکعتوں کے بعد بیٹھ گئے یہاں تک کہ جب قیام کا ارادہ کیا تو تکبیر کہی اور آخری دو رکعتیں پڑھیں‘پھر سلام پھیرا‘دائیں طرف سلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر سلام پھیرا اور اسی طرح بائیں طرف بھی سلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر سلام پھیرا۔

فَأَرِنَا، ← اتَّبَعْتُ ذَلِكَ مِنْ رَسُول الله الله عَلَيْهِ وَسلم، ← کَيْفَ ← أعلمكم بصلاة رسول الله ← أَبُو حُمَيْدٍ: ← أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ مِنَ الأَنَصْارِ، وَأَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا الصَّلاةَ، ← أَبُو أُسَيْدٍ ← کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ ← عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ ← عِيسَى بن عبد الله بن مَالك ← الحسن ابن الْحُرِّ- ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبِي ← أَبُو هَمَّامٍ السَّكُونِيُّ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 100

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الْمُصَلِّي إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ مَتَى يَرْفَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ أَوْ بَعْدِهِ · حديث 101

101 - حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ قَالَ: حَدثنِي أبي قثنا أَبُو خَيْثَمَة قثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى هَذَا الْحَدِيثَ هَكَذَا أَوْ نَحْوَهُ، حَدَّثَنِي عِيسَى أَنَّ مِمَّا حَدَّثَهُ أَيْضًا فِي الْمَجْلِسِ فِي التَّشَهُّدِ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يُشِيرُ فِي الدُّعَاءِ بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ.

حسن بن حر کہتے ہیں: مجھ سے عیسٰی نے اسی طرح یا اس کی مثل حدیث بیان کی۔

عِيسَى أَنَّ مِمَّا ← عِيسَى هَذَا الْحَدِيثَ هَكَذَا أَوْ نَحْوَهُ، ← أبي قثنا أَبُو خَيْثَمَة قثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ← أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 101

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الْمُصَلِّي إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ مَتَى يَرْفَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ أَوْ بَعْدِهِ · حديث 102

102 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالا: ثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بن عَمْرو نَا فُلَيْجٌ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ: اجْتَمَعَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَأَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ فَذَكَرُوا صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ ك أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، ثُمَّ رَفَعَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا، وَقَالَ: بِيَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ، وَلَمْ يُصِبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يَقْنَعْهُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَوْضِعَهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَمْكَنَ جَبْهَتَهُ وَأَنْفَهُ وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قبلته، وَوضع يَدَيْهِ الْيُسْرَى عَلى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَيَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ. آخِرُ الْجُزْءِ الأَوَّلِ مِنْ أَجْزَاءِ الْخَفَّافِ _________ [102] إِسْنَاده حسن، أخرجه الْبَيْهَقِيّ (ج2 ص73) من طَرِيق أبي الْعَبَّاس السراج بِهِ وَأخرجه البُخَارِيّ فِي جُزْء رفع الْيَدَيْنِ (ص37) عَن عبد الله بن مُحَمَّد، وَابْن حبَان (ج3 ص174) عَن أَحْمد بن حَنْبَل، وَمن طَرِيق الْبَيْهَقِيّ فِي الْمعرفَة (ج1 ص544) والطَّحَاوِي (ج1 ص153) عَن ابْن مَرْزُوق كلهم عَن أبي عَامر عبد الْملك بن عَمْرو بِهِ. وَرَوَاهُ ابْن خُزَيْمَة (ج1 ص298) من طَرِيق أبي داؤد عَن فليح بِهِ، وَقَالَ: سَمِعت مُحَمَّد بن يحيى يَقُول: من سمع هَذَا الحَدِيث ثمَّ لم يرفع يَدَيْهِ يَعْنِي إِذا ركع وَإِذا رفع رَأسه من الرُّكُوع فَصلَاته نَاقِصَة. رَاجع المرعاة (ج3 ص70) .

عباس بن سہل کہتے ہیں کہ حضرت محمد بن مسلم اور حضرت ابوحمید اور حضرت ابواسید اور سہل بن سعد اکٹھے ہوئےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا تو ابوحمید نے کہا: میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا علم رکھتا ہوں‘ اس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ اکبر کہتے ہوئے ہاتھوں کو اُٹھایا‘ پھر جب رکوع میں جانے کے لئے تکبیر کہی تو دونوں ہاتھوں کو اُٹھایا پھر رکوع میں دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر یوں رکھا گویا کہ ان کو پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا اور ان کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھا‘ نہ تو سر کو جھکایا ہوا تھا اور نہ ہی اُٹھایا ہوا تھا بلکہ کمر اور سر مبارک بالکل سیدھے تھے‘ پھر دونوں ہاتھوں کو اُٹھایا اور سیدھے کھڑے ہو گئے کہ ہر عضو اپنی ہیئت پر آ گیا پھر سجدہ کیا تو پیشانی مبارک اور ناک کو جمایا اور دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے ہٹا دیا اور ہتھیلیوں کو کندھوں کی سیدھ میں رکھا یہاں تک کہ سجدہ کو مکمل کیا پھر بائیں پاؤں مبارک کو بچھا کر بیٹھ گئے اور دائیں کو قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑا کر دیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھا اور دائیں ہاتھ کو دائیں گھٹنے پر رکھا اور اس کی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔

أعلمكم بصلاة رسول الله ← أَبُو حُمَيْدٍ ك ← سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو أُسَيْدٍ ← أَبُو حُمَيْدٍ: ← اجْتَمَعَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ← عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ ← فُلَيْجٌ ← أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 102

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ مُسْنَدِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ · حديث 103

103 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الإِمَامُ الْعَالِمُ شِهَابُ الدِّينِ أَبُو بَكْرٍ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن عمر الصفارة قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فِي شَعْبَانَ سنة ثَمَان وسِتمِائَة بِنَيْسَابُورَ، قِيلَ لَهُ أَخْبَرَكُمْ أَبُو بَكْرٍ وَجِيهُ بْنُ طَاهِرٍ الشَّحَّامِيُّ بِقِرَاءَةِ الإِمَامِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الأَنْصَارِيِّ الْمَغْرِبِيِّ سَنَةَ تِسْعٍ وَثَلاثِينَ وَخَمْسِمِائَةٍ أَنَا أَبُو الْقَاسِم عبد اللكريم بْنُ هَوَازِنَ الْقُشَيْرِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْرَفِيُّ وَالْحَاكِمُ وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الإِسْمَاعِيلِيُّ قَالُوا: أَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْخَفَّافُ النَّيْسَابُورِيُّ ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّرَّاجُ الثَّقَفِيُّ ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ القَعْقَاعِ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا أَبُو عُوَانَةَ ثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ وَلا رَآهُمْ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، أُرْسَلِتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبَ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَالَكُمْ؟ فَقَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَين خبر الْمسَاء وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبَ، فَقَالُوا: مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلا مِنْ شَيْءٍ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ؟ فَانْصَرِفُوا فَانْطَلقُوا يضْربُونَ مشارك الأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا مَا هَذَا الِّذِي حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَين خبر الْمسَاء؟ فَانْصَرَفَ النَّفَرُ الَّذِينَ يَتَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِنَخْلَةٍ عَامِدًا إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاةَ الْفَجْرِ فَلَمَّا سمعُوا الْقُرْآن استعموا، وَقَالُوا: هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَهُنَاكَ حِينَ رَجِعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا: (يَا قَومنَا إِنَّا سعنا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ) (الْجِنّ: 1) إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ) إِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ.

ضياء الدين المقدسی نے کہا: ہمیں خبر دی شیخ امام عالم شہاب الدین ابوبکر قاسم بن عبداللہ بن عمر بن الصفارہ نے‘ ان کے سامنے قرأت ہوئی اور میں سن رہا تھا‘ شعبان 608 ہجری کو نیشاپور میں‘ ان سے کہا گیا کہ تم کو خبر دی ابوبکر وجیہ بن طاہر الشحامی نے امام حسن بن علی بن حسن انصاری مغربی کے قرأت کرنے سے 539 ہجری کو‘ ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیری نے اور ابوبکر یعقوب بن احمد الصیرفی نے اور حاکم نے اور ابوالحسین احمد بن عبدالرحیم اسماعیل نے‘ ان سب نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابوالحسین احمد بن محمد بن احمد بن عمر الخفاف نیشا پوری نے‘ ہمیں حدیث بیان کی ابوالعباس محمد بن اسحاق بن ابراہیم السراج الثقفی نے‘ ہمیں حدیث بیان کی جعفر بن محمد بن قعقاع نے‘ ہمیں حدیث بیان کی ابوعوانہ نے‘ ہمیں حدیث بیان کی ابوبشر نے‘ ہمیں حدیث بیان کی حضرت سعید بن جبیر نے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں پر قرأت نہیں کی اور نہ ہی انہیں دیکھا‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند ساتھیوں کو لے کر بازار ِعکاظ کی طرف جا رہے تھے جبکہ شیاطین کو آسمانی خبروں سے روک دیا گیا تھا اور ان پر شعلے ڈالے جاتے تھے‘ شیاطین اپنی قوم کی طرف آئےاور کہا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں آسانی خبروں سے روک دیا گیا ہے اور ہم پر شعلے برسائے جاتے ہیں‘ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان کوئی نئی چیز حائل ہوئی ہوگی‘ پس مشرق و مغرب کو چھان مارو اور دیکھو کہ ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان کیا چیز حائل ہوئی ہے ‘ تو وہ مشرق اور مغرب کو چھان مارنے کے لئے چلے کہ کون سی چیز ان کے اور آسمانی خبروں کے درمیابی حائل ہوئی ہے؟ تلاش کرنے والوں میں سے کچھ تہامہ کی طرف لوٹے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازارِ عکاظ جاتے ہوئے نخلہ کے مقام پر اپنے بعض صحابہ کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے‘ جب ان جنوں نے قرآن سنا تو ان پر کان دھرے اور کہا کہ خدا کی قسم! یہی ہے جو ہمارے اور آسانی خبروں کے درمیان حائل ہوا ہے۔ پس اس جگہ سے جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے تو اپنی قوم سے کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا جو ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے‘ پس ہم اس پر ایمان لے آئے‘ پس اللہ تعالٰی نے یہ آیتیں نازل فرما دیں:’’(ترجمہ:) تم فرماؤ مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے میرا پڑھنا کان لگا کر سنا............ آیت کے آخر تک (الجن:۱)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنوں کی بات وحی کے ذریعے بتادی گئی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ القَعْقَاعِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّرَّاجُ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْخَفَّافُ النَّيْسَابُورِيُّ ← الْحَاكِمُ وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ أَحْمَدَ الصيرفي، ← أَبُو الْقَاسِم عبد اللكريم بْنُ هَوَازِنَ الْقُشَيْرِيُّ ← جِيهُ بْنُ طَاهِرٍ الشَّحَّامِيُّ بِقِرَاءَةِ الإِمَامِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الأَنْصَارِيِّ الْمَغْرِبِيِّ ← أَسْمَعُ فِي شَعْبَانَ ← الشَّيْخُ الإِمَامُ الْعَالِمُ شِهَابُ الدِّينِ أَبُو بَكْرٍ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن عمر الصفارة

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 103

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ مُسْنَدِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ · حديث 104

104 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ثَنَا داؤد بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ قَيْسٍ قَالَ: هَلْ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنّ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ هَل شهد أحكم مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ فَقَالَ: لَا، وَكَنَّا مَعَهُ لَيْلَةً فَفَقَدْنَاهُ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ حِرَاءٍ وَقَالَ: إِنَّهُ أَتَانِي دَاعِيَ الْجِنِّ فَذَهَبَ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْقُرْآنَ، فَانْطَلَقَ بِنَا حَتَّى أَرَانَا آثَارَهُمْ وَنِيرَانَهُمْ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الزَّادِ، فَقَالَ: لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي يَد أحدكُم أَو فر مَا يكون لَحْمًا، وَكَانَ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تستنجوا بهما فإنهها طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ.

شعی کہتے ہیں کہ میں نے علقمہ بن قیس سے پوچھا: کیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن ( جنات سے ملاقات کی رات ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؟ علقمہ نے کہا: میں نے یہ بات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھی تھی کہ کیا آپ میں سے کوئی لیلۃ الجن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ؟ اُنہوں نے فرمایا نہیں ! لیکن ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے‘ اچھانک آپ نگاہوں سے اوجھل ہوگئے‘ وہ رات ہم نے سخت بے چینی میں گزاری۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ آپ غار حراء کی جانب سے آ رہے ہیں اور فرمایا: میرے پاس جنات کی طرف سے ایک نمائندہ آیا تھا‘ میں اس کے ساتھ گیا اور جنات کے سامنے قرآن پڑھا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے ساتھ لے گئے اور ہمیں جنات کے آثار اور ان کی آگ کے آثار دکھائے۔ جنات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی خوراک کے بارے میں پوچھا تو ارشاد فرمایا: ہر وہ جانور جس کو اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا‘ اس کی ہڈی تمہاری خوراک ہے‘ تمہارے پاس آتے ہی وہ گوشت سے پُر ہو جائے گی اور ہر اونٹ کی مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کیا کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں جنوں کی خوراک ہے۔

الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 104

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ مُسْنَدِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ · حديث 105

105 - حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَة ثَنَا داؤد بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وَحَدَّثَنَا مُجَاهِدُ ابْن مُوسَى وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ علية ثَنَا داؤد عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَة، قَالَ: قَالَت لابْنِ مَسْعُودٍ: هَلْ صَحِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟ قَالَ: مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ، وَلَقَدْ فَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْنَا: أُغْتِيلَ اسْتُطِيرَ مَا فَعَلَ؟ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَلَمَّا كَانَ وَجْهُ السَّحَرِ أَوْ وَجْهُ الصُّبْحِ إِذَا أَنَا بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ‍‍! فَذَكَرُوا الَّذِي كَانُوا فِيهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ أَتَانِي دَاعِيَ الْجِنِّ فَأَتَيْتُهُمْ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ، فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارُ نِيرَانِهِمْ، قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَسَأَلُوهُ الزَّادَ، وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ، فَقَالَ: كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرُ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرَةٍ أَوْ رَوَثٍ عَلَفًا لِدَوَابِّكُمْ، فَلا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ.

حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا تم میں سے کوئی لیلۃ الجن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ؟ تو حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا لیکن مکہ میں ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اوجھل ہو گئے تو ہم نے سوچا کہ کسی نے آپ کو شہید کر دیا ہے‘ یا آپ کو جن لے گئے ہیں‘ کیا بنے گا ؟ وہ رات ہم نے سخت بے چینی سے گزاری جب صبح ہوئی تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حراء کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں۔ ہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! پھر جو بیتی تھی وہ سنا دی‘ تو ارشاد فرمایا: میرے پاس جنات کی طرف سے ایک نمائندہ آیا تھا‘ میں جنوں کے پاس چلا گیا اور ان کے سامنے قرآن پڑھا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے ساتھ لے گئے اور جنات کے آثار اور ان کی آگ کے آثار دکھائے۔ شعبی کہتے ہیں کہ جنات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی خوراک کےبارے میں پوچھااور وہ تمام جن جزیرہ کے تھے‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ جانور جس کو اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا اُس کی ہڈی تمہاری خوراک ہے‘ تمہارے پاس آتے ہی وہ گوشت سے پُر ہو جائے گی اور ہر مینگنی یالید تمہارے جانوروں کا چارہ ہے‘ پھر ارشاد فرمایا: ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہیں۔

عَلْقَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُجَاهِدُ ابْن مُوسَى وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 105

مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ مُسْنَدِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ · حديث 106

106 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ مِسْعَرٌ عَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَنْ أَذِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُوكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَذِنَتْهُ بهم سَمُرَة فأقربه أَبُو أُسَامَةَ، وَقَالَ: نَعَمْ.

معن کے والد نے مسروق سے پوچھا کہ جس رات جنات نے قرآن سنا‘ اُس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نے خبر دی تھی ۔مسروق نے کہا: مجھے تمہارے باپ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتلایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوکیکر کے درخت نے خبر دی تھی ۔ابواسامہ نے اس کا اقرار کیا اور کہا: جی ہاں !

نَعَمْ ← أَبُوكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَذِنَتْهُ بهم سَمُرَة فأقربه أَبُو أُسَامَةَ، ← سَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَنْ أَذِنَ النَّبِيُّ بِالْجِنِّ، ← أَبِي ← مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ مِسْعَرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 106

chevron_left Previous
1…567…42
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter
2. The first book of prayer
    8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter
3. The fourth part of the Musnad of Abu al-Abbas al-Sarraj
    34. Chapter35. Chapter36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
4. The second part of the second part with the pumice parts
    45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter
5. The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri
    52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter
6. The tenth part of the hadith of As-Sarraj from Juzu 'al-Qusayri
    62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter
7. Part of the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq Abraham, the educational siren, may God have mercy on him, is part of the Haddi
    74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
8. The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
9. Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter