مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ أَمْرِ الْمُصَلِّي بِأَنْ يَضَعَ سُتَرَةً بَيْنَ يَدَيْهِ إِذَا صَلَّى · حديث 383
383 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ إِبْرَاهِيمَ ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ أَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: خُلَّتَانِ لَا يختصهما رج مُسلم إِلَّا أدخلتا الْجَنَّةَ فَهُمَا يَسِيرٌ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ، يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاة عشرا وَبِحَمْدِهِ عَشْرًا وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا. قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بَيْدِهِ فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي (1) الْمِيزَانِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ کوئی مسلمان شخص ان کے ساتھ خاص نہیں ہوتا مگر وہ دونوں اسے جنت میں داخل کر دیتی ہیں‘ یہ دونوں آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں‘ (وہ یہ ہیں ) کہ نمازی ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ اور دس مرتبہ المد الله اور دس مرتبہ اللہ اکبر۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تسبیحات کو ہاتھوں پر شمار کرتے دیکھا تو یہ تسبیحات ( دن بھر کی) زبان پر تو ایک سو پچاس ہیں مگر میزان عمل میں ایک ہزار پانچ سوہیں‘ آگے حدیث کو ذکر کیا۔
عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ إِبْرَاهِيمَ
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 383
