مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 275
275 - حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ أَبُوهُ نَازِلًا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُصَلِّي صَلاةً، لَيْسَتْ بِالطَّوِيلَةِ وَلا بِالْخَفِيفَةِ، قُلْتُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي؟ قَالَ: وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ صَلاتِي؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ إِلا خَيْرًا، أَحْبَبْت أَن أسئلك، قَالَ: نَعَمْ وَأَوْجَزُ مِنْ هَذَا.
حضرت ابوخالد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایسی نماز پڑھتے دیکھا کہ جو نہ طویل تھی اور نہ خفیف تھی۔ میں نے کہا: کیا اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے؟ اُنہوں نے کہا: کیا میری نماز میں سے کسی چیز کا انکار کر تے ہو؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم !نہیں ! آپ کی نماز اچھی ہے‘ میں نے پسند کیا کہ آپ سے سوال کروں‘ تو جواب دیا کہ جی ہاں ! ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ایسی ہی تھی) بلکہ اس سے بھی مختصر۔
أَبِيهِ وَكَانَ أَبُوهُ نَازِلًا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 275
