مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ · حديث 179
179 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ثَنَا سُفْيَانُ ثَنَا عَمْرٌو قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيَؤُمُّهُمْ فَأَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ، ثُمَّ رَجَعَ مُعَاذٌ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ "فَتَنَحَّى" (1) رَجُلٌ فَصَلَّى نَاحِيَةً ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالُوا لَهُ: مَالَكَ يَا فُلانُ! أَنَافَقْتَ؟ قَالَ: مَا نَافَقْتُ، وَلآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلأُخْبِرَنَّهُ، فَذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ الله أَن معَاذ يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا، وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ الْبَارِحَةَ، ثُمَّ جَاءَ لِيَؤُمَّنَا فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، وَإِنَّمَا نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ، اقْرَأْ سُورَةَ كَذَا وَسُورَةَ كَذَا. فَقُلْتُ لِعَمْرٍو: إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ يَقُولُ: (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ) فَقَالَ: هُوَ نَحْوُ هَذَا.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے‘ پھر واپس اپنی قوم کے پاس آ کر ان کی امامت کراتے تھے‘ پس ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کو مؤخر کر دیا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ واپس آئے اور اپنی قوم کی امامت کی اور سورۃ البقرہ شروع کر دی تو ایک شخص جماعت سے علٰیحدہ ہوگیا اور اس نے ایک کونے میں اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا۔ دوسرے نمازیوں نے اس سے کہا: تجھے کیا ہوگیا‘ اے فلاں شخص ! کیا تُو منافق ہوگیا ہے ۔اس نے کہا نہیں! میں منافق نہیں ہوں اور میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اس بات کی خبر دوں گا۔ پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور جا کر عرض کیا: یا رسول اللہ ! بے شک حضرت معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں‘ پھر واپس آکر ہماری امامت کراتے ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ رات نمازِ عشاء کو مؤخر کر دیا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے آ کر ہماری امامت کرائی اور سورۃ البقرہ کو شروع کر دیا اور ہم دن بھر اونٹوں پر پانی لا دکر لاتے ہیں اور ہم اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! کیا تم فتنہ پرور ہو! یہ یہ سورتیں پڑھا کرو۔ راوی ایوب کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا کہ بے شک ابوالزبیر کہتے ہیں:’’ سبـح اسـم ربك الأعـلٰـي والسماء والطارق‘‘ تو فرمایا: وہ اس جیسی ہی سورتیں ہیں۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 179
