مسند السراج · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ · حديث 35
35 - حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَأَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ قَالَ: أَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَيْسَ يُنَادَى لَهُنَّ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَا بِلالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ میں آئے تو جمع ہوتے نماز کا انتظار کرتے رہتے اور نمازوں کے لئے ندا نہیں دی جاتی تھی‘پس ایک دن اُنہوں نے اس بارے میں گفتگو کی تو کچھ نے کہا کہ نصاریٰ کے ناقوس کی مثل ناقوس بنالو اور کچھ نے کہا:(نہیں!)بلکہ بوقِ یہود کی طرح بوق کو اختیار کرو‘اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:تم کسی شخص کو کیوں نہیں بھیجتے جو نمازوں کے لیے صدا لگائے‘تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے بلال!کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے ندا دو۔
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَأَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ
Musnad Siraj · The first book of prayer › Chapter · Hadith 35
