مسند السراج · جُزْءٌ: فِيهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السَّرَّاجِ ‹ بَابٌ فِي صَلاةِ الْخَوْفِ · حديث 1576
1576 - حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ثَنَا حَيْوَةُ ثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلوة الْخَوْفِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ، فَقَالَ مَرْوَانُ: مَتَى؟ قَالَ: عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلاةِ الْعَصْرِ وَقَامَتْ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مِمَّا يَلِي الْعَدُوَّ وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ _________ [1574] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه النَّسَائِيّ رقم: 1534 من طَرِيق يحيى بن سعيد، وَأحمد (ج1 ص358) عَن عبد الرَّحْمَن، وَأَيْضًا (ج1 ص232) وَابْن أبي شيبَة (ج2 ص461) عَن وَكِيع ثَلَاثَتهمْ عَن سُفْيَان بِهِ. انْظُر مَا بعده رقم: 1575. [1575] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه عبد الرَّزَّاق (ج2 ص511) . [1576] إِسْنَاده صَحِيح، أخرجه أَبُو داؤد (ج1 ص480) عَن الْحسن بن عَليّ، والطَّحَاوِي (ج1 ص216) عَن عَليّ بن شيبَة، وَالْبَيْهَقِيّ (ج3 ص264) من طَرِيق مُحَمَّد بن أَحْمد الْقرشِي وَمُحَمّد بن أبي بكر، وَابْن خُزَيْمَة (ج2 ص301) عَن مُحَمَّد بن يحيى كلهم عَن أبي عبد الرَّحْمَن الْمُقْرِئ بِهِ، وَرَوَاهُ أَحْمد (ج1 ص320) عَن الْمُقْرِئ بِهِ، وَذكره البُخَارِيّ (ج2 ص593) مُعَلّقا.
مروان بن حکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! مروان نے کہا: کیا؟ فرمایا: غزوۂ نجد کے سال۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عصر کے لئے کھڑے ہوئے اور ایک گروہ کھڑا ہوا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں تھا اور ان کی پیٹھ قبلہ کی طرف تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور جو دشمن سے لڑ رہے تھے سب نے تکبیر کہی‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکوع کیا اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اُنہوں نے رکوع کیا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل تھے اُنہوں نے سجدہ کیا اور جو دشمن کے مقابلے میں تھے وہ کھڑے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ساتھ والے کھڑے ہوئے اور یہ دشمن کے مقابلے میں جا کر ان سے لڑنے لگے اور جو گروہ دشمن کے مقابلے میں تھا وہ آگے آ گئے‘ اُنہوں نے رکوع اور سجدہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے جیسے تھے پھر وہ کھڑے ہوئے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا رکوع (دوسری رکعت کا) کیا۔ اس گروہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا‘ ساتھ ہی سجدہ بھی کیا پھر وہ گروہ آگے آیا جو دشمن کے مقابلے میں تھا‘ اُنہوں نے رکوع کیا اور سجدہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے جیسے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سب نے سلام پھیر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہو گئیں اور دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کی دو دو رکعتیں ہو گئیں۔
أَبُو الْأَسْوَدِ، ← حَيْوَةُ، ← أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،
Musnad Siraj · Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj › Chapter · Hadith 1576
