Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند السراج

Musnad Siraj

by Muhammad Bin Ishaq Bin Ibraheem Al Siraj Al Saqfi Nishpuri

1,577 Hadith109 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1369

1369 - حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: شَغَلَ الْمُشْرِكُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَصَلاهُمَا بَعْدَ مَا غَرُبَتِ الشَّمْسُ.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازِ ظہر اور نمازِ عصر سے مشغول رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں نمازوں کو سورج غروب ہونے کے بعد پڑھا۔

صَلاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَصَلاهُمَا بَعْدَ مَا غَرُبَتِ الشَّمْسُ. ← شَغَلَ الْمُشْرِكُونَ النَّبِيَّ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو الْأَشْعَثِ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1369

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1370

1370 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ثَنَا جَرِيرٌ ح، وَحَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَبُو بَكْرٍ قثنا الْوَضَّاحُ يَعْنِي أَبَا عُوَانَةَ جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَن أبي صَالح عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطِّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، وَيُفْطِرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلا يُصَلِّي صَلاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَت: فَقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمَّا قَوْلُهَا: يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، فَإِنَّهَا تقْرَأ سورتين كَذَا، وَإِنَّمَا هُوَ سورتي، وَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهَا، وَقَالَ: لَوْ كَانَتْ سُورَةٌ وَاحِدَةٌ لَكَفَتِ النَّاسَ، وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفْطِرُنِي، فَإِنَّهَا "تَنْطَلِقُ" (1) تَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌ لَا أَصْبِرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ: فَلا تَصُومَنَّ امْرَأَةٌ إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا. وَأما قَوْلهَا: فغني صلا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَلِكَ لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ. قَالَ: فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ.

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئی‘ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے‘ اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ ! میرا شوہر صفوان بن معطل مجھے مارتا ہے‘ جب میں نماز پڑھتی ہوں اور جب میں روزہ رکھتی ہوں‘ افطار کرا دیتا ہے اور صبح کی نماز نہیں پڑھتا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ صفوان اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی تھا تو جو اس عورت نے کہا اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان سے پوچھا تو کہنے لگا : یا رسول اللہ ! اس نے جو کہا کہ مجھے نماز پڑھنے پا مرتا ہے‘ اس لئے کہ یہ دو سورتیں یوں پڑھتی ہے‘ حالانکہ میں نے اس کو اس سے منع کیا ہے اور فرمایا: اگر ایک سورت ہو تو لوگوں کو کافی ہے اور اس کا روزہ افطار کرانے کا کہنا‘ وہ اس لئے کہ یہ لگاتار روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے اور میں نوجوان مرد ہوں‘ صبر نہیں کر سکتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فر مایا: کوئی عورت بغیر شوہر کی اجازت کے روزہ نہ رکھے اور اس عورت کا کہنا کہ میں نماز نہیں پڑھتی یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے اور ہم گھر والے سورج طلوع ہونے تک بھی نماز نہیں پڑھ سکتے تو ارشاد فرمایا: جب میں بیدار ہو جاؤں تو نماز پڑھ لو۔

جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ: ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَبُو بَكْرٍ قثنا الْوَضَّاحُ يَعْنِي أَبَا عُوَانَةَ جَمِيعًا ← وَحَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1370

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1371

1371 - حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُغِيرَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبَنَّانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ قثنا أَبُو قَتَادَةَ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَسِيرُونَ عَشِيَّتَكُمْ هَذِهِ وَلَيْلَتَكُمْ فَتَأْتُونَ الْمَاءَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَانْطَلَقَ النَّاسُ لَا يَلْوِي أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى أَحَدٍ، وَجَعَلْتُ أَسِيرُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَعَسَ فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا تَهَوَّرَ اللَّيْلُ مَالَ مَيْلَةً فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ حَتَّى اعْتَدَلَ، حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ السَّحَرِ مَالَ مَيْلَةً أُخْرَى هِيَ أَشَدُّ مِنَ الأُولَيَيْنِ فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ، فَقَالَ: من هَذَا؟ فقت: أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ: حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّكَ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالشَّمْسُ عَلَى ظَهْرِهِ حَتَّى إِذَا انْبَسَطَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ (2) فَدَعَا بِمِيضَأَةٍ كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأْنَا وُضُوءًا دُونَ وُضُوءٍ وَبَقِي فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: احْفَظْ لَنَا مِيضَأَتَكَ هَذِهِ فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ، ثُمَّ نُودِي بِالصَّلاةِ فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثمَّ صلى افجر، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْنَا، فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَهْمِسُ إِلَى بَعْضٍ، مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْنَا فِي تَفْرِيطِنَا فِي صَلَاتنَا؟ فَقَالَ: أمالكم فِيَّ أُسْوَةٌ؟ أَنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ أَنْ لَا يُصَلِّي الصَّلاةُ حَتَّى يَجِئَ وَقْتُ الأُخْرَى، فَمَنْ غَفِلَ فَلْيُصَلِّ حِينَ يَنْتَبِهُ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ فَلْيُصَلِّهَا فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ أَتَيْنَا النَّاسَ حِينَ حَمِيَ الشَّمْسُ أَوْ قَالَ: تَعَالَى النَّهَارُ، وَجَاءَ النَّاسُ وُهُمْ عِطَاشٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكْنَا عَطِشْنَا، فَقَالَ: اطْلُبَوا لِي غِمْرِي يَعْنِي قَدَحَهُ، ثُمَّ دَعَا بِالْمِيضَأَةِ فَجَعَلَ يَصُبُّ وَيَقُولُ: اشْرَبُوا، فَلَمْ يَعْدُ النَّاسُ أَنْ رَأَوْا ذَلِكَ تَكَابُّوا عَلَيْهَا، فَقَالَ: أَحْسِنُوا الْمِلأَ فَكُلُّكُمْ سَيُرْوَى، فَجَعَلَ يَصُبُّ وَأَنَا أَسْقِيهِمْ حَتَّى مَا بَقِيَ غَيْرِي وَغَيْرِهِ، ثُمَّ صَبَّ فَقَالَ: اشْرَبْ، فَقُلْتُ: أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: أَلا سَاقِيَ الْقَوْمِ أَخِرُهُمْ، فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ: انْظُرْ أَيُّهَا الْفَتَى! كَيْفَ تُحَدِّثُ، فَإِنِّي كنت أحد لركب تِلْكَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَحَدِّثْ فَأَنْتَ أَعْلَمُ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ فَحَدِّثْ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِكُمْ فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: شَهِدْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَمَا شَعَرْتُ أَنَّ أَحَدًا حَفِظَهُ كَمَا حَفِظْتَهُ.

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس دوپہر سے لے کر رات تک سفر کرو گے اور صبح ان شاء اللہ پانی پر پہنچو گے‘ لوگ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے بغیر سفر کرتے رہے‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو سفر کرتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آنے لگی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگائے بغیر سہارا دیا‘ پھر چلے یہاں تک کہ جب رات ڈھل گئی‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا سا مائل ہوئے تو میں نے جگائے بغیر سہارا دیا‘ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ سحری کے قریب دوبارہ جھکے اور یہ جھکنا پہلی دونوں بار سے زیادہ تھا تو میں نے اُٹھائے بغیر سہارا دیا‘ تو فرمایا: کون ہے؟ میں نے عرض کی : ابوقتادہ فرمایا اللہ تعالٰی تیری اسی طرح حفاظت کرے جس طرح تُو نے اپنے نبی کی حفاظت کی‘ اس آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہیں ہوئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیدار ہوئے اس حال میں کہ دھوپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر تھی یہاں تک کہ جب سورج بلند ہو گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُترے اور وضو کا برتن منگوایا جو کہ میرے پاس تھا اور اس میں تھوڑا سا پانی تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام اوقات کی نسبت کم پانی سے وضو کیا اور اس میں تھوڑ اسا پانی بچ گیا اور فرمایا: ہمارے لئے اپنے وضو کے برتن کو سنبھال کر رکھو عنقریب اس میں ایک خبر ظاہر ہو گی‘ پھر نماز کے لئے اذان دی گئی تو ہم نے فجر سے پہلے دو رکعتیں (سنت) پڑھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز (قضاء) پڑھائی‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوئے اور ہم سے ہر شخص دوسرے سے سرگوشی کرنے لگا کہ ہم نے جو نماز میں تقصیر کی ہے‘ اس کا کیا کفارہ ہو گا؟ فرمایا: کیا تمہارے لئے میری زندگی میں نمونہ نہیں۔ نیند میں تقصیر نہیں ہے‘ تقصیر تو یہ ہے کہ آدمی ( جاگتے ہوئے) نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے۔ پس جو نماز سے غافل ہو جائے تو جب بیدار ہو‘ نماز پڑھ لے اور اگلے دن نماز کو وقت پر پڑھے‘ پھر ہم لوگوں کے پاس اس وقت آئے جب سورج چڑھ چکا تھا‘ یا کہا کہ دن بلند ہو گیا تھا اور لوگ اس حال میں آئے کہ وہ پیاسے تھے‘ اُنہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم تو اپنی پیاس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے‘ فرمایا: میرا پیالہ لے آؤ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا برتن منگوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی انڈیلنا شروع کر دیا اور فرمانے لگے: تم سارے پیو! لوگوں نے جب اس برتن کو دیکھا تو اس پر ٹوٹ پڑے‘ فرمایا: اطمینان سے پیو! تم سارے سیراب ہو جاؤ گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی ڈالنا شروع کیا اور میں ان سب کو پالا رہا تھا حتٰی کہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہ بچا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی انڈیلا اور فرمایا: پیو! میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پئیں! فرمایا: آگاہ رہو کہ قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پئے۔ پس میں نے پیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا۔ عمران بن حصین نے کہا: اے نوجوان !غور کرو کیسے حدیث بیان کر رہے ہو‘ بے شک میں ان سات سواروں میں سے ایک تھا۔ ابوقتادہ نے کہا: آپ حدیث بیان کریں کہ آپ زیادہ جانتے ہیں۔ حضرت عمران نے کہا: آپ کون سے قبیلے سے ہیں؟ میں نے کہا: انصار سے۔ تو فرمایا: تم بیان کرو کہ تم اپنی حدیثوں کو زیادہ جانتے ہو تو میں نے حدیث بیان کی۔ اس پر حضرت عمران نے کہا: میں بھی اس رات موجود تھا لیکن تم نے جس طرح اس واقعہ کو یاد رکھا ہے‘ میں نہیں سمجھتا کہ کسی اور نے بھی اسی طرح یاد رکھا ہوگا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ قثنا أَبُو قَتَادَةَ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُغِيرَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1371

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1372

1372 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قثنا ثَابِتُ الْبَنَّانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ أَنَّهُ حَدَّثَ بِحَدِيثِ الْمِيضَأَةِ فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ فَإِنِّي سَابِعُ سَبْعَةٍ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَقُلْتُ: فَحَدِّثْ فَأَنْتَ أَعْلَمُ، فَقَالَ: مِمَّنِ الْفَتَى؟ فَقُلْتُ امْرِؤٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: الْقَوْمُ أَعْلَمُ بِحَدِيثِهِمْ، فَقَالَ: ثَنَا أَبُو قَتَادَةَ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

حضرت عبد اللہ بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے وضو کے برتن والی حدیث بیان کی تو حضرت عمران بن حصین نے فرمایا: غور کرو! کیسے حدیث بیان کر رہے ہو‘ بے شک میں اس رات سات سواروں میں سے ساتواں تھا۔ میں نے عرض کیا: آپ بیان کریں‘ آپ زیادہ جانتے ہیں! تو حضرت عمران نے فرمایا: نوجوان کس قبیلے سے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں انصار سے ہوں‘ تو فرمایا: وہ لوگ (یعنی تم انصار ) اپنی حدیثوں کو زیادہ جانتے ہو۔ پس اُنہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک دوپہر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا‘ آگے اس کی مثل ذکر کی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قثنا ثَابِتُ الْبَنَّانِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1372

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1373

1373 - حَدَّثَنَا بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنا عبد الزراق ثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ وَيَقُصُّ مِنْهُ نَحْوَهُ.

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم ایک لشکر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے‘ آگے اسی طرح حدیث ذکر کی ہے۔

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي جَيْشٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ وَيَقُصُّ مِنْهُ نَحْوَهُ. ← أَبِي قَتَادَةَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عبد الزراق ← بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1373

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1374

1374 - حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قثنا ثَابِتٌ الْبَنَّانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: امْرِؤٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: حَدِّثْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِحَدِيثِكُمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ: حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِنَحْوِهِ بِطُولِهِ عَلَى مَا ذَكَرْنَا، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَأَذَّنَ بِلالٌ ثُمَّ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سِرْنَا قَلِيلًا ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّيْنَا الْفَجْرَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَشَرِبْتُ ثُمَّ شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَقِيَ فِي الْمِيضَاةِ مِثْلُ مَا كَانَ فِيهَا، قِيلَ: كَمْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ؟ فَقَالَ: زها ثلثمِائة. وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ازْدَهِرْ بِهَا لَعَلَّهَا يَكُونُ لَهَا نَبَأٌ.

حضرت عبداللہ بن رباح انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا تم کون ہو؟ میں نے کہا: انصار سے ہوں‘ فرمایا: بیان کرو تم اپنی حدیثوں کو زیادہ جانتے ہو۔ پس عبداللہ بن رباح نے فرمایا کہ ہمیں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے‘ فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے‘ پھر اسی طرح گزشتہ کی طرح لمبی حدیث ذکر کی‘ اس میں یہ بیان کیا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان پڑھی پھر ہم نے دو رکعتیں پڑھیں‘ پھر ہم تھوڑا سا چلے‘ پھر ٹھہر گئے اور ہم نے فجر کی نماز پڑھی۔ اور حدیث میں حضرت ابوقتادہ نے کہا: پس میں نے پیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا‘ درآں حالیکہ وضو کے برتن میں اتنا پانی بچ گیا جتنا تھا‘ ان سے کہا گیا: تم کتنے تھے؟ تو فرمایا تقریباً تین سو۔ اور حدیث میں کہا: اس کو سنبھال کر رکھو یقیناً اس میں عجیب خبر ہو گی۔

إِنِّي لَجَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قثنا ثَابِتٌ الْبَنَّانِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1374

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1375

1375 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَنَا مَرْوَانُ عَنْ عَوْفٍ قَالَ: ثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعَطَارِدِيُّ قثنا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا سِرْنَا لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ اللَّيْلَةِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَاقِعَةَ، وَلا وَقْعَةَ عِنْدَ الْمُسَافِرِ أَحْلَى مِنْهَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ، وَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلانٌ ثُمَّ فُلانٌ ثُمَّ فُلانٌ فَسَمَّاهُمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الرَّابِعُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَسْتَيْقِظُ لأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ فَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، وَكَانَ رجلا جليداً أجوف جَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ شَكَا النَّاسُ إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ، قَالَ: لَا ضَيْرَ. أَوْ قَالَ عَوْفٌ: لَا يَضِيرُ، فَارْتَحَلُوا فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ نَزَلَ فَنُودِي بِالصَّلاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا سَلَّمَ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مَعَهُ لَمْ يُصَلِّ فِي النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ل: مَالَكَ يَا فُلانُ لَمْ تُصَلِّ فِي النَّاسِ؟ فَقَالَ: أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلا مَاءٌ، قَالَ: عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ.

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم ایک رات کو چلے یہاں تک کہ ہم رات کے آخری حصے میں لپٹ گئے اور اس وقت مسافر کو کوئی بھی چیز آرام سے زیادہ پیاری نہیں تھی‘ پھر ہمیں دھوپ کی گرمی کے علاوہ کسی چیز نے بیدار نہیں کیا اور سب سے پہلے فلاں پھر فلاں بیدار ہوئے۔ ابورجاء نے ان کے نام بتائے تھے جبکہ عوف بھول گئے اور چوتھے نمبر پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سو جاتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں جگاتے تھے حتٰی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بیدار ہو جاتے اس لئے کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند کی حالت میں کیا کچھ درپیش آتا۔ پس جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور لوگوں کی یہ حالت دیکھی اور آپ رضی اللہ عنہ بلند آواز اور قوی شخص تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا شروع کر دیا۔ آپ کی آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو لوگوں نے اپنی اس حالت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں! یا عوف نے کہا کہ کوئی حرج نہیں۔ یہاں سے کوچ کرو‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دور تک چلے پھر ٹھہر گئے اور نماز کے لئے اذان دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ایک ایسا شخص تھا جس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے فلاں ! تجھے کیا ہوا ہے کہ تُو نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جنبی ہو گیا تھا اور پانی نہیں ہے فرمایا مٹی کو لازم پکڑو (یعنی تیمّم کرلو ) تمہارے لئے کافی ہے۔

أَبُو رَجَاءٍ الْعَطَارِدِيُّ قثنا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ← عَوْفٌ، ← مَرْوَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1375

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter
2. The first book of prayer
    8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter
3. The fourth part of the Musnad of Abu al-Abbas al-Sarraj
    34. Chapter35. Chapter36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
4. The second part of the second part with the pumice parts
    45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter
5. The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri
    52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter
6. The tenth part of the hadith of As-Sarraj from Juzu 'al-Qusayri
    62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter
7. Part of the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq Abraham, the educational siren, may God have mercy on him, is part of the Haddi
    74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
8. The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
9. Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter