Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند السراج

Musnad Siraj

by Muhammad Bin Ishaq Bin Ibraheem Al Siraj Al Saqfi Nishpuri

1,577 Hadith109 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1362

1362 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَنَّادٍ قثنا أَبُو سَلَمَةَ قثنا حَمَّادٌ ثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عبد الرَّحْمَن - وصابه عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ - أَنَّهُ حَدَّثَ الْقَوْمَ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ وَفِي الْقَوْمِ عمرَان بن حصن فَقَالَ عِمْرَانُ: مَنِ الْفَتَى؟ قَالَ: امْرِؤٌ مِنَ الأَنْصَارِ، وَقَالَ عِمْرَانُ: الْقَوْمُ أَعْلَمُ بِحَدِيثِهِمْ، فَانْظُرْ كَيْفَ يُحَدِّثُ فَإِنِّي سَابِعُ سَبْعَةٍ لَيْلَةَ إِذْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَحْفَظُ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرِي، فَحَدَّثَنَيِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ قثنا أَبُو قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُدْرِكُونَ الْمَاءَ فِي غَدٍ تَعْطَشُوا، فَانْطَلَقَ سُرْعَانُ النَّاسِ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ، وَلَزِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَعَمْتُهُ فَادَّعَمْ، ثُمَّ نَعَسَ أَيْضًا، قَالَ: فَدَعَمْتُهُ فَادَّعَمْ، ثُمَّ مَالَ أُخْرَى حَتَّى كَادَ أَنْ يَنْجَفِلَ فَاسْتَيْقَظَ فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ فَقُلْتُ: أَبُو قَتَادَة، قَالَ مذكم كَانَ مَسِيرُكَ هَذَا؟ فَقُلْتُ: مُنْذُ اللَّيْلَةِ، فَقَالَ: حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ رَسُولَهُ، فَمَالَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ولت مَعَهُ، فَقَالَ: انْظُرْ (1) فَقُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ، هَذَانِ (2) رَاكِبَانِ، هَؤُلاءِ ثَلاثَةٌ حَتَّى صِرْنَا سَبْعَةً، فَقَالَ: احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلاتَنَا يَعْنِي صَلاةَ الْفَجْرِ، فَضَرَبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلا حَرُّ الشَّمْسِ، فَقَامُوا فَسَارَ هُنَيْهَةً ثُمَّ نَزَلُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ مَعَكُمْ مَاءٌ؟ فَقُلْتُ: مَعِي مِيضَأَةٌ فِيهَا مَاءٌ قَلِيلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتِ بهَا يأبا قَتَادَةَ! فَإِنَّ لَهَا نَبَأٌ، وَأَذَّنَ بِلَال وَصلى رَكْعَتَيْنِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ، ثُمَّ رَكِبُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدْ فَرَّطْنَا فِي صَلاتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَقُولُونَ؟ إِنْ كَانَ شَيْءٌ من أَمر ديناكم فَشَأْنُكُمْ بِهِ فَأَنْتُمْ أعلم بِأَمْر ديناكم، وَإِنْ كَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْنَا: قَدْ فَرَّطْنَا فِي أَمْرِ صَلاتِنَا، فَقَالَ ك إِنَّهُ لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا سَهَى أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا، وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْتَ: بِالأَمْسِ إِنَّكُمْ لَا تُدْرِكُونَ الْمَاءَ مِنَ الْغَدِ تَعْطَشُوا (1) ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصْبَحَ النَّاسُ وَقَدْ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ، فَقَالُوا: (2) إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُدْرِكُونَ الْمَاءَ مِنَ غَدٍ فَعَطِشُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاءِ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالا: (3) يَا أَيهَا الناء أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرُ يرشدوا، ثَلَاثًا، فملا اشْتَدَّتِ الظَّهِيرَةُ وَعَطَشَ النَّاسُ أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَشُّوا إِلَيْهِ وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكْنَا انْقَطَعَتِ الأَعْنَاقُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا هَلَكَ عَلَيْكُمْ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ النَّاسُ، فَقَالَ: يَا أَبَا قَتَادَةَ! هَلُمَّ الْمِيضَأَةُ؟ فَأَتَيْتُهُ بِهَا ثُمَّ قَالَ: أَحْلُلُ غُمْرِي، قَدَحٌ مَعَهُ، فَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيَّ وَأَسْقِي النَّاسَ، فَرَكِبَ (1) النَّاسَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَأَكَبُّوا عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ أَحْسِنُوا مِلأكُمْ فَإِنَّ كُلُّكُمْ سَيُرْوَى، وَجَعَلَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيب عَلِيَّ، وَأَسْقِي النَّاسَ حَتَّى صَدَرُوا، فَقَالَ: اشْرَبْ، قُلْتُ: بَلِ اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: اشْرَبْ، فَقُلْتُ: بَلِ اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: سَاقِي الْقَوْمَ آخِرُهُمْ، فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَقِيَ فِي الميضأة نَحْو مِمَّا كَانَ فِيهَا، وَالْقَوْم يَوْمئِذٍ زهاً سَبْعمِائة (2) .

حضرت ثابت‘ عبدالرحمٰن سے اور ان کے ساتھی عبداللہ بن رباح انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے جامع مسجد میں لوگوں کو حدیث بیان کی اور لوگوں میں عمران بن حصین بھی تھے۔ عمران نے کہا: یہ کون نوجوان ہے؟ کہا: انصاری شخص ہے۔ عمران نے کہا: لوگ ان کی حدیث سے زیادہ جانتے ہیں‘ دیکھو! یہ کیسے حدیث بیان کرتا ہے‘ میں اس رات ساتواں تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ عمران نے کہا: میں اپنے علاوہ کسی اور کو اس حدیث کا زیادہ یاد کرنے والا نہیں سمجھتا۔ پس مجھے عبداللہ بن رباح نے حدیث بیان کی اُنہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت ابوقتادہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو فرمایا: بے شک تم کل پانی نہیں پاؤ گے‘ پیاسے رہو گے‘ پس سب سے آگے کے لوگ چلے۔ ابوقتادہ نے کہا: اور میں اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹا رہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آنے لگی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو گئے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی اونگھ آئی‘ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ جھکے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑیں‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا: کون ہے؟ میں نے عرض کیا ابوقتادہ فرمایا: تم کب سے میرے ساتھ اس طرح چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: ساری رات سے۔ فرمایا: اللہ تعالٰی تیری اس طرح حفاظت کرے جس طرح تُو نے اس کے رسول کی حفاظت کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف ہو گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرف ہو گیا۔ فرمایا: دیکھو! میں نے عرض کیا: یہ ایک سوار ہے‘ یہ دو سوار ہیں‘ یہ تین ہیں یہاں تک کہ ہم سات ہو گئے۔ فرمایا: تم ہماری نماز کا معنی نمازِ فجر کا ( جاگ کر ) خیال رکھنا‘ پس وہ سو گئے‘ ان کو سورج کی گرمی (یعنی دھوپ ) نے جگایا ‘پھر کھڑے ہوئے اور تھوڑا سا چلے‘ پھر ٹھہر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا میرے پاس وضو والا برتن ہے‘ اس میں تھوڑا سا پانی ہے‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے آؤ! اے ابوقتادہ ! بے شک اس میں عجیب خبر ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں فجر کی (سنت فجر) پڑھیں پھر فجر کی نماز پڑھائی پھر وہ سوار ہوئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے: ہم نے نماز قضاء کر دی‘ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا کہہ رہے ہو؟ اگر دنیا کی بات کر رہے ہو تو یہ تمہارا معاملہ ہے‘ تم اس کو جانتے ہو‘ اگر دینی معاملہ ہے تو میری طرف رجوع کرو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم نے نماز کے معاملے میں تقصیر کی ہے۔ فرمایا: نیند میں کوئی تقصیر نہیں ہے‘ تقصیر اس وقت ہے جب کوئی جاگتے ہوئے نماز نہ پڑھے‘ جب تم میں سے کوئی نماز بھول جائے تو جب اس کو یاد آئے نماز پڑھ لے اور اگلے دن وقت پر پڑھے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! گزشتہ کل آپ نے فرمایا تھا کہ آئندہ کل تم پانی نہیں پاؤ گئے‘ پیاسے رہو گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے صبح کے وقت اپنے نبی کو نہیں دیکھا۔ اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کل پانی نہیں پاؤ گے۔ پس وہ پیاسے رہے اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کے ساتھ تھے اور قوم میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ ان دونوں حضرات نے کہا: اے لوگوا ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) بہتر رہو گے۔ تین مرتبہ کہا‘ جب گرمی شدید ہوئی اور لوگ پیاسے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شکایت کی اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ہلاک ہو گئے‘ گردنیں کٹ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر ہلاکت نہیں! پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُترے اور لوگ اُترے اور فرمایا: اے ابوقتادہ وضو کا برتن لے آؤ! پس میں برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا‘ پھر فرمایا: میرا پیالہ لے آؤ‘ پھر مجھ پر پانی انڈیلنا شروع کیا اور لوگوں کو پانی پلایا اور لوگ ایک دوسرے پر سوار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اطمینان کے ساتھ پانی پیو‘ تم سب سیر ہو جاؤ گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر پانی انڈیلنا شروع کیا اور لوگوں کو پانی پلایا یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئے‘ پھر ( مجھ سے ) فرمایا: پیو! میں نے عرض کیا: بلکہ آپ ( پہلے) پئیں یا رسول اللہ ! فرمایا: تم پیو! میں نے عرض کیا: بلکہ آپ پئیں! یا رسول اللہ! فرمایا : لوگوں کو پلانے والا سب سے آخر میں پئے۔ پس میں نے پیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا‘ اس وقت پانی وضو کے برتن میں باقی بچ گیا‘ جتنا پہلے تھا حالانکہ اس دن لوگ تقریباً سات سو تھے۔

عبد الرَّحْمَن وصابه عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ ← ثَابِتٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَنَّادٍ قثنا أَبُو سَلَمَةَ قثنا حَمَّادٌ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1362

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1363

1363 - حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ أَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنُ جَنَّادٍ وَجَعْفَرِ بْنِ هِشَامٍ قَالا: ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ثَنَا حَمَّادٌ أَنَا حُمَيْدٌ عَنْ بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الله عَن عبد اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَلَكِنَّهُ زَادَ فِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَرَّسَ بِلَيْلٍ تَوَسَّدَ لِينَةً (3) وَإِذَا عَرَّسَ عِنْدَ الصُّبْحِ نَصَبَ سَاعِدَهُ نَصْبًا وَعَمَدَهَا إِلَى الأَرْضِ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ. _________ (1) وَفِي حَدِيث السراج فَذكر. (2) فِي الْمسند: ثلثمِائة. (3) هَكَذَا فِي حَدِيث السراج (ص123) وَفِي المراجع يَمِينه، وَفِي هَامِش حَدِيث السراج: لَعَلَّه يَمِينه وَقد تصحف وَقد سَمِعت الْحَافِظ عبد الْغَنِيّ رَحمَه الله يَقُول لينَة يَعْنِي شَيْئا لينًا. قلت: وَفِي التَّاج (ج9 ص338) : واللينة بِالْفَتْح كالسورة يتوسد بهَا، قَالَ ابْن سيدة: أرى ذَلِك للينها وثارتها وَمِنْه الحَدِيث إِذا عرس بلَيْل توسد لينَة ألخ وَهَكَذَا فِي لِسَان الْعَرَب (ج17 ص280) وَالله أعلم. [1363] فِي إِسْنَاده ابْن جناد كَمَا مر آنِفا قبله، لكنه لم ينْفَرد بِهِ، أخرجه أَحْمد (ج5 ص298) وَابْن خُزَيْمَة (ج4 ص148) وَالْبَيْهَقِيّ (ج5 ص256) وَالتِّرْمِذِيّ فِي الشَّمَائِل فِي بَاب مَا جَاءَ فِي صفة نوم رَسُول اله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كلهم من طَرِيق حَمَّاد بِهِ، وَقَالَ الْبَيْهَقِيّ: رَوَاهُ مُسلم فِي الصَّحِيح عَن إِسْحَاق بن رَاهْوَيْةِ عَن سُلَيْمَان بن حَرْب عَن حَمَّاد بن سَلمَة وَهَكَذَا عزاهُ لمُسلم الْمزي فِي تحفة الْأَشْرَاف (ج9 ص245) والنابلسي فِي الذَّخَائِر (ج3 ص208) لَكِن لم أَجِدهُ فِي المطبوعة، وَالله أعلم.

حضرت ابوقتادہ کی یہ روایت دوسری سند سے بھی ہے مگر اتنا اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو آرام فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سرانور کے نیچے کھجور کا تکیہ رکھ کر آرام فرماتے اور جب صبح صادق کے وقت آرام فرماتے تو اپنی کلائی مبارک کو سیدھا زمین پر رکھتے اور سر انور کو اس کی ہتھیلی پر رکھتے۔

النَّبِيِّ مِثْلَهُ، وَلَكِنَّهُ زَادَ فِيهِ: ← أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← بَكْرٌ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنُ جَنَّادٍ وَجَعْفَرِ بْنِ هِشَامٍ ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1363

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1364

1364 - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا أَبُو عُوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَسِيَ صَلَوةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نماز کو بھول جائے تو جب نماز یاد آئے‘ پڑھ لے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1364

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1365

1365 - حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ قثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ثَنَا حَجَّاجٌ الأَحْوَلُ قثنا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن الرِّجَال يَرْقُدُ عَنِ الصَّلاةِ أَوْ يَغْفَلُ عَنْهَا، فَقَالَ: كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيهَا إِذَا ذَكَرَهَا.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو نماز سے سو جائے یا نماز سے غافل ہو جائے‘ فرمایا: اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب نماز یاد آ جائے تو اس کو پڑھ لے۔

الصَّلاةِ أَوْ يَغْفَلُ عَنْهَا، فَقَالَ: كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيهَا إِذَا ذَكَرَهَا. ← الرِّجَال يَرْقُدُ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← حَجَّاجٌ الأَحْوَلُ قثنا قَتَادَةُ ← أَبُو الأَشْعَثِ قثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1365

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1366

1366 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَامَ عَنْ صَلاةٍ أَوْ نَسِيَهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص نماز سے سو جائے یا نماز کو بھول جائے تو جب نماز یاد آئے‘ پڑھ لے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1366

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1367

1367 - حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَسِيَ صَلاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلا ذَلِكَ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی نماز کو بھول جائے یا سو جائے تو جب یاد آئے‘ پڑھ لے‘ اس کا یہی کفارہ ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو هَمَّامٍ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1367

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1368

1368 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرٍ ثَنَا مُسْلِمٌ ثَنَا هَمَّامٌ قثنا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ نَسِيَ صَلاةً بِمِثْلِهِ سَوَاءٌ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نماز کو بھول جائے‘ آگے اس کی مثل ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هَمَّامٌ قثنا قَتَادَةُ ← مُّسْلِمٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرٍ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1368

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1369

1369 - حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: شَغَلَ الْمُشْرِكُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَصَلاهُمَا بَعْدَ مَا غَرُبَتِ الشَّمْسُ.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازِ ظہر اور نمازِ عصر سے مشغول رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں نمازوں کو سورج غروب ہونے کے بعد پڑھا۔

صَلاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَصَلاهُمَا بَعْدَ مَا غَرُبَتِ الشَّمْسُ. ← شَغَلَ الْمُشْرِكُونَ النَّبِيَّ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو الْأَشْعَثِ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1369

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1370

1370 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ثَنَا جَرِيرٌ ح، وَحَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَبُو بَكْرٍ قثنا الْوَضَّاحُ يَعْنِي أَبَا عُوَانَةَ جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَن أبي صَالح عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطِّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، وَيُفْطِرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلا يُصَلِّي صَلاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَت: فَقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمَّا قَوْلُهَا: يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، فَإِنَّهَا تقْرَأ سورتين كَذَا، وَإِنَّمَا هُوَ سورتي، وَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهَا، وَقَالَ: لَوْ كَانَتْ سُورَةٌ وَاحِدَةٌ لَكَفَتِ النَّاسَ، وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفْطِرُنِي، فَإِنَّهَا "تَنْطَلِقُ" (1) تَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌ لَا أَصْبِرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ: فَلا تَصُومَنَّ امْرَأَةٌ إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا. وَأما قَوْلهَا: فغني صلا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَلِكَ لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ. قَالَ: فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ.

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئی‘ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے‘ اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ ! میرا شوہر صفوان بن معطل مجھے مارتا ہے‘ جب میں نماز پڑھتی ہوں اور جب میں روزہ رکھتی ہوں‘ افطار کرا دیتا ہے اور صبح کی نماز نہیں پڑھتا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ صفوان اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی تھا تو جو اس عورت نے کہا اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان سے پوچھا تو کہنے لگا : یا رسول اللہ ! اس نے جو کہا کہ مجھے نماز پڑھنے پا مرتا ہے‘ اس لئے کہ یہ دو سورتیں یوں پڑھتی ہے‘ حالانکہ میں نے اس کو اس سے منع کیا ہے اور فرمایا: اگر ایک سورت ہو تو لوگوں کو کافی ہے اور اس کا روزہ افطار کرانے کا کہنا‘ وہ اس لئے کہ یہ لگاتار روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے اور میں نوجوان مرد ہوں‘ صبر نہیں کر سکتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فر مایا: کوئی عورت بغیر شوہر کی اجازت کے روزہ نہ رکھے اور اس عورت کا کہنا کہ میں نماز نہیں پڑھتی یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے اور ہم گھر والے سورج طلوع ہونے تک بھی نماز نہیں پڑھ سکتے تو ارشاد فرمایا: جب میں بیدار ہو جاؤں تو نماز پڑھ لو۔

جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ: ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَبُو بَكْرٍ قثنا الْوَضَّاحُ يَعْنِي أَبَا عُوَانَةَ جَمِيعًا ← وَحَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1370

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1371

1371 - حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُغِيرَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبَنَّانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ قثنا أَبُو قَتَادَةَ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَسِيرُونَ عَشِيَّتَكُمْ هَذِهِ وَلَيْلَتَكُمْ فَتَأْتُونَ الْمَاءَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَانْطَلَقَ النَّاسُ لَا يَلْوِي أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى أَحَدٍ، وَجَعَلْتُ أَسِيرُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَعَسَ فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا تَهَوَّرَ اللَّيْلُ مَالَ مَيْلَةً فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ حَتَّى اعْتَدَلَ، حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ السَّحَرِ مَالَ مَيْلَةً أُخْرَى هِيَ أَشَدُّ مِنَ الأُولَيَيْنِ فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ، فَقَالَ: من هَذَا؟ فقت: أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ: حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّكَ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالشَّمْسُ عَلَى ظَهْرِهِ حَتَّى إِذَا انْبَسَطَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ (2) فَدَعَا بِمِيضَأَةٍ كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأْنَا وُضُوءًا دُونَ وُضُوءٍ وَبَقِي فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: احْفَظْ لَنَا مِيضَأَتَكَ هَذِهِ فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ، ثُمَّ نُودِي بِالصَّلاةِ فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثمَّ صلى افجر، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْنَا، فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَهْمِسُ إِلَى بَعْضٍ، مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْنَا فِي تَفْرِيطِنَا فِي صَلَاتنَا؟ فَقَالَ: أمالكم فِيَّ أُسْوَةٌ؟ أَنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ أَنْ لَا يُصَلِّي الصَّلاةُ حَتَّى يَجِئَ وَقْتُ الأُخْرَى، فَمَنْ غَفِلَ فَلْيُصَلِّ حِينَ يَنْتَبِهُ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ فَلْيُصَلِّهَا فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ أَتَيْنَا النَّاسَ حِينَ حَمِيَ الشَّمْسُ أَوْ قَالَ: تَعَالَى النَّهَارُ، وَجَاءَ النَّاسُ وُهُمْ عِطَاشٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكْنَا عَطِشْنَا، فَقَالَ: اطْلُبَوا لِي غِمْرِي يَعْنِي قَدَحَهُ، ثُمَّ دَعَا بِالْمِيضَأَةِ فَجَعَلَ يَصُبُّ وَيَقُولُ: اشْرَبُوا، فَلَمْ يَعْدُ النَّاسُ أَنْ رَأَوْا ذَلِكَ تَكَابُّوا عَلَيْهَا، فَقَالَ: أَحْسِنُوا الْمِلأَ فَكُلُّكُمْ سَيُرْوَى، فَجَعَلَ يَصُبُّ وَأَنَا أَسْقِيهِمْ حَتَّى مَا بَقِيَ غَيْرِي وَغَيْرِهِ، ثُمَّ صَبَّ فَقَالَ: اشْرَبْ، فَقُلْتُ: أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: أَلا سَاقِيَ الْقَوْمِ أَخِرُهُمْ، فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ: انْظُرْ أَيُّهَا الْفَتَى! كَيْفَ تُحَدِّثُ، فَإِنِّي كنت أحد لركب تِلْكَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَحَدِّثْ فَأَنْتَ أَعْلَمُ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ فَحَدِّثْ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِكُمْ فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: شَهِدْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَمَا شَعَرْتُ أَنَّ أَحَدًا حَفِظَهُ كَمَا حَفِظْتَهُ.

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس دوپہر سے لے کر رات تک سفر کرو گے اور صبح ان شاء اللہ پانی پر پہنچو گے‘ لوگ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے بغیر سفر کرتے رہے‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو سفر کرتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آنے لگی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگائے بغیر سہارا دیا‘ پھر چلے یہاں تک کہ جب رات ڈھل گئی‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا سا مائل ہوئے تو میں نے جگائے بغیر سہارا دیا‘ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ سحری کے قریب دوبارہ جھکے اور یہ جھکنا پہلی دونوں بار سے زیادہ تھا تو میں نے اُٹھائے بغیر سہارا دیا‘ تو فرمایا: کون ہے؟ میں نے عرض کی : ابوقتادہ فرمایا اللہ تعالٰی تیری اسی طرح حفاظت کرے جس طرح تُو نے اپنے نبی کی حفاظت کی‘ اس آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہیں ہوئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیدار ہوئے اس حال میں کہ دھوپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر تھی یہاں تک کہ جب سورج بلند ہو گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُترے اور وضو کا برتن منگوایا جو کہ میرے پاس تھا اور اس میں تھوڑا سا پانی تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام اوقات کی نسبت کم پانی سے وضو کیا اور اس میں تھوڑ اسا پانی بچ گیا اور فرمایا: ہمارے لئے اپنے وضو کے برتن کو سنبھال کر رکھو عنقریب اس میں ایک خبر ظاہر ہو گی‘ پھر نماز کے لئے اذان دی گئی تو ہم نے فجر سے پہلے دو رکعتیں (سنت) پڑھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز (قضاء) پڑھائی‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوئے اور ہم سے ہر شخص دوسرے سے سرگوشی کرنے لگا کہ ہم نے جو نماز میں تقصیر کی ہے‘ اس کا کیا کفارہ ہو گا؟ فرمایا: کیا تمہارے لئے میری زندگی میں نمونہ نہیں۔ نیند میں تقصیر نہیں ہے‘ تقصیر تو یہ ہے کہ آدمی ( جاگتے ہوئے) نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے۔ پس جو نماز سے غافل ہو جائے تو جب بیدار ہو‘ نماز پڑھ لے اور اگلے دن نماز کو وقت پر پڑھے‘ پھر ہم لوگوں کے پاس اس وقت آئے جب سورج چڑھ چکا تھا‘ یا کہا کہ دن بلند ہو گیا تھا اور لوگ اس حال میں آئے کہ وہ پیاسے تھے‘ اُنہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم تو اپنی پیاس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے‘ فرمایا: میرا پیالہ لے آؤ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا برتن منگوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی انڈیلنا شروع کر دیا اور فرمانے لگے: تم سارے پیو! لوگوں نے جب اس برتن کو دیکھا تو اس پر ٹوٹ پڑے‘ فرمایا: اطمینان سے پیو! تم سارے سیراب ہو جاؤ گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی ڈالنا شروع کیا اور میں ان سب کو پالا رہا تھا حتٰی کہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہ بچا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی انڈیلا اور فرمایا: پیو! میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پئیں! فرمایا: آگاہ رہو کہ قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پئے۔ پس میں نے پیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا۔ عمران بن حصین نے کہا: اے نوجوان !غور کرو کیسے حدیث بیان کر رہے ہو‘ بے شک میں ان سات سواروں میں سے ایک تھا۔ ابوقتادہ نے کہا: آپ حدیث بیان کریں کہ آپ زیادہ جانتے ہیں۔ حضرت عمران نے کہا: آپ کون سے قبیلے سے ہیں؟ میں نے کہا: انصار سے۔ تو فرمایا: تم بیان کرو کہ تم اپنی حدیثوں کو زیادہ جانتے ہو تو میں نے حدیث بیان کی۔ اس پر حضرت عمران نے کہا: میں بھی اس رات موجود تھا لیکن تم نے جس طرح اس واقعہ کو یاد رکھا ہے‘ میں نہیں سمجھتا کہ کسی اور نے بھی اسی طرح یاد رکھا ہوگا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ قثنا أَبُو قَتَادَةَ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُغِيرَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1371

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1372

1372 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قثنا ثَابِتُ الْبَنَّانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ أَنَّهُ حَدَّثَ بِحَدِيثِ الْمِيضَأَةِ فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ فَإِنِّي سَابِعُ سَبْعَةٍ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَقُلْتُ: فَحَدِّثْ فَأَنْتَ أَعْلَمُ، فَقَالَ: مِمَّنِ الْفَتَى؟ فَقُلْتُ امْرِؤٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: الْقَوْمُ أَعْلَمُ بِحَدِيثِهِمْ، فَقَالَ: ثَنَا أَبُو قَتَادَةَ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

حضرت عبد اللہ بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے وضو کے برتن والی حدیث بیان کی تو حضرت عمران بن حصین نے فرمایا: غور کرو! کیسے حدیث بیان کر رہے ہو‘ بے شک میں اس رات سات سواروں میں سے ساتواں تھا۔ میں نے عرض کیا: آپ بیان کریں‘ آپ زیادہ جانتے ہیں! تو حضرت عمران نے فرمایا: نوجوان کس قبیلے سے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں انصار سے ہوں‘ تو فرمایا: وہ لوگ (یعنی تم انصار ) اپنی حدیثوں کو زیادہ جانتے ہو۔ پس اُنہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک دوپہر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا‘ آگے اس کی مثل ذکر کی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قثنا ثَابِتُ الْبَنَّانِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1372

مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1373

1373 - حَدَّثَنَا بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنا عبد الزراق ثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ وَيَقُصُّ مِنْهُ نَحْوَهُ.

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم ایک لشکر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے‘ آگے اسی طرح حدیث ذکر کی ہے۔

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي جَيْشٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ وَيَقُصُّ مِنْهُ نَحْوَهُ. ← أَبِي قَتَادَةَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عبد الزراق ← بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1373

chevron_left Previous
12345…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter
2. The first book of prayer
    8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter
3. The fourth part of the Musnad of Abu al-Abbas al-Sarraj
    34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter
4. The second part of the second part with the pumice parts
    45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter
5. The ninth part of parts of Abu al-Qasim al-Qusayri
    52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter
6. The tenth part of the hadith of As-Sarraj from Juzu 'al-Qusayri
    62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter
7. Part of the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq Abraham, the educational siren, may God have mercy on him, is part of the Haddi
    74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
8. The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter
9. Part: It contains the hadith of Abu al-Abbas Muhammad ibn Ishaq al-Sarraj
    96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter