مسند السراج · الْجُزْءِ الثَّانِي عَشْرَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ بِأَجْزَاءِ الْقُشَيْرِيِّ وَغَيْرِهِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا · حديث 1362
1362 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَنَّادٍ قثنا أَبُو سَلَمَةَ قثنا حَمَّادٌ ثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عبد الرَّحْمَن - وصابه عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ - أَنَّهُ حَدَّثَ الْقَوْمَ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ وَفِي الْقَوْمِ عمرَان بن حصن فَقَالَ عِمْرَانُ: مَنِ الْفَتَى؟ قَالَ: امْرِؤٌ مِنَ الأَنْصَارِ، وَقَالَ عِمْرَانُ: الْقَوْمُ أَعْلَمُ بِحَدِيثِهِمْ، فَانْظُرْ كَيْفَ يُحَدِّثُ فَإِنِّي سَابِعُ سَبْعَةٍ لَيْلَةَ إِذْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَحْفَظُ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرِي، فَحَدَّثَنَيِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ قثنا أَبُو قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُدْرِكُونَ الْمَاءَ فِي غَدٍ تَعْطَشُوا، فَانْطَلَقَ سُرْعَانُ النَّاسِ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ، وَلَزِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَعَمْتُهُ فَادَّعَمْ، ثُمَّ نَعَسَ أَيْضًا، قَالَ: فَدَعَمْتُهُ فَادَّعَمْ، ثُمَّ مَالَ أُخْرَى حَتَّى كَادَ أَنْ يَنْجَفِلَ فَاسْتَيْقَظَ فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ فَقُلْتُ: أَبُو قَتَادَة، قَالَ مذكم كَانَ مَسِيرُكَ هَذَا؟ فَقُلْتُ: مُنْذُ اللَّيْلَةِ، فَقَالَ: حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ رَسُولَهُ، فَمَالَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ولت مَعَهُ، فَقَالَ: انْظُرْ (1) فَقُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ، هَذَانِ (2) رَاكِبَانِ، هَؤُلاءِ ثَلاثَةٌ حَتَّى صِرْنَا سَبْعَةً، فَقَالَ: احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلاتَنَا يَعْنِي صَلاةَ الْفَجْرِ، فَضَرَبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلا حَرُّ الشَّمْسِ، فَقَامُوا فَسَارَ هُنَيْهَةً ثُمَّ نَزَلُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ مَعَكُمْ مَاءٌ؟ فَقُلْتُ: مَعِي مِيضَأَةٌ فِيهَا مَاءٌ قَلِيلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتِ بهَا يأبا قَتَادَةَ! فَإِنَّ لَهَا نَبَأٌ، وَأَذَّنَ بِلَال وَصلى رَكْعَتَيْنِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ، ثُمَّ رَكِبُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدْ فَرَّطْنَا فِي صَلاتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَقُولُونَ؟ إِنْ كَانَ شَيْءٌ من أَمر ديناكم فَشَأْنُكُمْ بِهِ فَأَنْتُمْ أعلم بِأَمْر ديناكم، وَإِنْ كَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْنَا: قَدْ فَرَّطْنَا فِي أَمْرِ صَلاتِنَا، فَقَالَ ك إِنَّهُ لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا سَهَى أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا، وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْتَ: بِالأَمْسِ إِنَّكُمْ لَا تُدْرِكُونَ الْمَاءَ مِنَ الْغَدِ تَعْطَشُوا (1) ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصْبَحَ النَّاسُ وَقَدْ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ، فَقَالُوا: (2) إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُدْرِكُونَ الْمَاءَ مِنَ غَدٍ فَعَطِشُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاءِ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالا: (3) يَا أَيهَا الناء أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرُ يرشدوا، ثَلَاثًا، فملا اشْتَدَّتِ الظَّهِيرَةُ وَعَطَشَ النَّاسُ أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَشُّوا إِلَيْهِ وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكْنَا انْقَطَعَتِ الأَعْنَاقُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا هَلَكَ عَلَيْكُمْ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ النَّاسُ، فَقَالَ: يَا أَبَا قَتَادَةَ! هَلُمَّ الْمِيضَأَةُ؟ فَأَتَيْتُهُ بِهَا ثُمَّ قَالَ: أَحْلُلُ غُمْرِي، قَدَحٌ مَعَهُ، فَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيَّ وَأَسْقِي النَّاسَ، فَرَكِبَ (1) النَّاسَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَأَكَبُّوا عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ أَحْسِنُوا مِلأكُمْ فَإِنَّ كُلُّكُمْ سَيُرْوَى، وَجَعَلَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيب عَلِيَّ، وَأَسْقِي النَّاسَ حَتَّى صَدَرُوا، فَقَالَ: اشْرَبْ، قُلْتُ: بَلِ اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: اشْرَبْ، فَقُلْتُ: بَلِ اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: سَاقِي الْقَوْمَ آخِرُهُمْ، فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَقِيَ فِي الميضأة نَحْو مِمَّا كَانَ فِيهَا، وَالْقَوْم يَوْمئِذٍ زهاً سَبْعمِائة (2) .
حضرت ثابت‘ عبدالرحمٰن سے اور ان کے ساتھی عبداللہ بن رباح انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے جامع مسجد میں لوگوں کو حدیث بیان کی اور لوگوں میں عمران بن حصین بھی تھے۔ عمران نے کہا: یہ کون نوجوان ہے؟ کہا: انصاری شخص ہے۔ عمران نے کہا: لوگ ان کی حدیث سے زیادہ جانتے ہیں‘ دیکھو! یہ کیسے حدیث بیان کرتا ہے‘ میں اس رات ساتواں تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ عمران نے کہا: میں اپنے علاوہ کسی اور کو اس حدیث کا زیادہ یاد کرنے والا نہیں سمجھتا۔ پس مجھے عبداللہ بن رباح نے حدیث بیان کی اُنہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت ابوقتادہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو فرمایا: بے شک تم کل پانی نہیں پاؤ گے‘ پیاسے رہو گے‘ پس سب سے آگے کے لوگ چلے۔ ابوقتادہ نے کہا: اور میں اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹا رہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آنے لگی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو گئے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی اونگھ آئی‘ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ جھکے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑیں‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا: کون ہے؟ میں نے عرض کیا ابوقتادہ فرمایا: تم کب سے میرے ساتھ اس طرح چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: ساری رات سے۔ فرمایا: اللہ تعالٰی تیری اس طرح حفاظت کرے جس طرح تُو نے اس کے رسول کی حفاظت کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف ہو گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرف ہو گیا۔ فرمایا: دیکھو! میں نے عرض کیا: یہ ایک سوار ہے‘ یہ دو سوار ہیں‘ یہ تین ہیں یہاں تک کہ ہم سات ہو گئے۔ فرمایا: تم ہماری نماز کا معنی نمازِ فجر کا ( جاگ کر ) خیال رکھنا‘ پس وہ سو گئے‘ ان کو سورج کی گرمی (یعنی دھوپ ) نے جگایا ‘پھر کھڑے ہوئے اور تھوڑا سا چلے‘ پھر ٹھہر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا میرے پاس وضو والا برتن ہے‘ اس میں تھوڑا سا پانی ہے‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے آؤ! اے ابوقتادہ ! بے شک اس میں عجیب خبر ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں فجر کی (سنت فجر) پڑھیں پھر فجر کی نماز پڑھائی پھر وہ سوار ہوئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے: ہم نے نماز قضاء کر دی‘ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا کہہ رہے ہو؟ اگر دنیا کی بات کر رہے ہو تو یہ تمہارا معاملہ ہے‘ تم اس کو جانتے ہو‘ اگر دینی معاملہ ہے تو میری طرف رجوع کرو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم نے نماز کے معاملے میں تقصیر کی ہے۔ فرمایا: نیند میں کوئی تقصیر نہیں ہے‘ تقصیر اس وقت ہے جب کوئی جاگتے ہوئے نماز نہ پڑھے‘ جب تم میں سے کوئی نماز بھول جائے تو جب اس کو یاد آئے نماز پڑھ لے اور اگلے دن وقت پر پڑھے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! گزشتہ کل آپ نے فرمایا تھا کہ آئندہ کل تم پانی نہیں پاؤ گئے‘ پیاسے رہو گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے صبح کے وقت اپنے نبی کو نہیں دیکھا۔ اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کل پانی نہیں پاؤ گے۔ پس وہ پیاسے رہے اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کے ساتھ تھے اور قوم میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ ان دونوں حضرات نے کہا: اے لوگوا ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) بہتر رہو گے۔ تین مرتبہ کہا‘ جب گرمی شدید ہوئی اور لوگ پیاسے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شکایت کی اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ہلاک ہو گئے‘ گردنیں کٹ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر ہلاکت نہیں! پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُترے اور لوگ اُترے اور فرمایا: اے ابوقتادہ وضو کا برتن لے آؤ! پس میں برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا‘ پھر فرمایا: میرا پیالہ لے آؤ‘ پھر مجھ پر پانی انڈیلنا شروع کیا اور لوگوں کو پانی پلایا اور لوگ ایک دوسرے پر سوار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اطمینان کے ساتھ پانی پیو‘ تم سب سیر ہو جاؤ گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر پانی انڈیلنا شروع کیا اور لوگوں کو پانی پلایا یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئے‘ پھر ( مجھ سے ) فرمایا: پیو! میں نے عرض کیا: بلکہ آپ ( پہلے) پئیں یا رسول اللہ ! فرمایا: تم پیو! میں نے عرض کیا: بلکہ آپ پئیں! یا رسول اللہ! فرمایا : لوگوں کو پلانے والا سب سے آخر میں پئے۔ پس میں نے پیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا‘ اس وقت پانی وضو کے برتن میں باقی بچ گیا‘ جتنا پہلے تھا حالانکہ اس دن لوگ تقریباً سات سو تھے۔
عبد الرَّحْمَن وصابه عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ ← ثَابِتٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَنَّادٍ قثنا أَبُو سَلَمَةَ قثنا حَمَّادٌ
Musnad Siraj · The twelfth volume of the hadith of Abu al-Abbas as-Sarraj on Juz 'al-Qushayri and others › Chapter · Hadith 1362
