الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 350
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ , أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ , ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى , ثنا شِهَابٌ يَعْنِي ابْنَ خِرَاشٍ ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ضَرَبَ عَلْقَمَةُ هَذَا الْمِنْبَرِ وَقَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذكُرَهُ ثُمَّ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ نَاسًا يُفَضِّلونَنِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَلَوْ كُنْتُ تقَدَّمْتُ فِي ذَلِكَ لَعَاقَبْتُ فِيهِ وَلَكِنْ أَكْرَهُ الْعُقُوبَةَ قَبْلَ التَّقَدُّمِ، وَمَنْ قَالَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ مُفْترٍ، عَلَيْهِ مَا عَلَى [ص:362] الْمُفْتَرِي، إِنَّ خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَحْدَثْنَا بَعْدَهُمَا أَحْدَاثًا يَفْعلُ اللَّهُ فِيهَا، أَظُنُّهُ قَالَ: مَا أَحَبَّ. وَلِهَذَا شَوَاهِدُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرْنَاهَا فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ
علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن عبید الصفار نے ہمیں خبر دی کہا محمد ابن الفضل بن جابر نے ہم سے بیان کیا کہا حکم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے شہاب ابن خراش نے بیان کیا کہا ہم سے حجاج بن دینار نے بیان کیا وہ ابو معشر سے وہ حضرت ابراہیم نخعی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ اس منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: حضرت علی نے منبر پر خطبہ دیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور جو اللہ تعالیٰ آپ سے بیان کروانا چاہتا تھا آپ نے ذکر کیا پھر فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ لوگ مجھے حضرت ابو بکر وعمر پر فضیلت دیتے ہیں اگر میں اس میں آگے بڑھتا تو یقیناً مجھے عقاب ہوتا لیکن میں آگے بڑھنے سے پہلے عقوبت کو ناپسند کرتا ہوں اور جس نے اس بارے میں کچھ بھی کہا وہ بہتان باندھنے والا ہے اس کی وہی سزا ہے جو بہتان لگانے والے کی ہے۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد افضل حضرت ابو بکر وعمر ہیں اور ہم نے ان دونوں کے بعد ایسی چیز میں ایجاد کیں جن کے متعلق اللہ وہ کرتا ہے راوی نے کہا میرا خیال ہے آپ نے فرمایا۔جنہیں میں پسند نہیں کرتا۔ اس کے کئی شواہد ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جنہیں ہم نے کتاب الفضائل میں ذکر کیا ہے۔
إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ← شِهَابٌ يَعْنِي ابْنَ خِرَاشٍ ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Hadith 350
