الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 80
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا [ص:133] كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ فَانْطلَقْنَا حُجَّاجًا أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَلَمَّا قَدِمْنَا قُلْنَا: لَوْ لَقِينَا بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فِي الْقَدَرِ؟ قَالَ: فَوَافَقْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فِي الْمَسْجِدِ فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبي أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ قَالَ يَحْيَى: فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي يَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ ظَهَرَ قَبْلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَعْرِفُونَ الْعِلْمَ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ وَإِنَّمَا الْأَمْرُ أُنُفٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَإِذَا لَقِيتُمْ أُولَئِكَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مِنِّي بُرَآءُ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ كَانَ لِأَحَدِهِمْ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا نَعْرِفُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخْذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ السَّبِيلَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: صَدَقْتَ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ [ص:134] الْإِيمَانِ مَا الْإِيمَانُ؟ فَقَالَ: الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، فَقَالَ: صَدَقْتَ، فَقَالَ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ مَا الْإِحْسَانُ؟ فَقَال: الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ فَحَدِّثْنِي عَنِ السَّاعَةِ مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا؟ قَال: أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاةِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ، ثُمَّ انْطَلَقَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عُمَرُ مَا تُدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلمُ، قَالَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ
ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نے خبر دی کہا ہم سے عیسیٰ بن عبداللہ الطیالسی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عبدالرحمٰن المقری نے بیان کیا کہا ہم سے کہمس بن حسن نے بیان کیا کہا میں نے عبد اللہ بن بریدہ کو بیان کرتے ہوئے سناوہ یحییٰ بن یعمر سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: سب سے پہلا شخص جس نے تقدیر کے متعلق(بری) بات کی وہ بصرہ میں معبد جہنی تھا چنانچہ میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حج کرنے کے لیے گئے جب وہاں پہنچے تو ہم نے کہا اگر ہم رسول اللہ سلیم کے بعض صحابہ سے ملاقات کریں تو ہم ان سے سوال کریں گے کہ وہ تقدیر کے متعلق باتیں کرنے والی اس قوم کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومسجد میں پالیا تو میں اور میرا دوست انہیں ملے ہم میں سے ایک ان کی دائیں جانب تھا اور دوسرا ان کی بائیں جانب۔ یحییٰ نے کہا: میں نے یہ گمان کیا کہ میرا دوست کلام کو میرے سپرد کر دے(یعنی مجھے گفتگو کر نے کا موقع دے) تو میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن ! ہمارے ہاں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم پہچانتے ہیں وہ گمان کرتے ہیں کہ تقدیر کچھ نہیں اور بلاشبہ یہ نیا معاملہ ہے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم جب ان سے ملاقات کرو گے تو انہیں خبر دے دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں اور اس ذات کی قسم جس کیساتھ عبداللہ بن عمر حلف اٹھاتا ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابرسونا ہو پھر وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس خرچ کردہ کو قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ وہ اس کی تمام اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لائیں۔ پھر فرمایا: مجھ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک انتہائی سفید کپڑوں ، انتہائی سیاہ بالوں والا آدمی آیا اس پر کوئی آثار سفر دکھائی نہیں دیتے تھے اور ہم اسے پہچانتے بھی نہ تھے حتٰی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا چنانچہ اس نے اپنے گھٹنے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں کیساتھ ملا لیے اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے پھر کہا : یامحمد !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مجھے اسلام کے متعلق خبر دیجئے کہ اسلام کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں اور تو نماز قائم کر ، زکوٰۃ ادا کر ، رمضان کے روزے رکھ اور اگر تو راستے کی طاقت رکھتا ہے تو بیت اللہ کا حج کر ! اس آدمی نے کہا: آپ نے سچ کہا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے کہا: اے محمد!(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مجھے ایمان کے متعلق خبر دیجئے کہ ایمان کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ، اس کے فرشتوں ،اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، قیامت کے دن اور ہر قسم کی اچھی وبری تقدیر پر ایمان لائے تو اس نے کہا آپ نے سچ کہا پھر اس نے کہا : مجھے احسان کے متعلق خبر دیجئے کہ احسان کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت ایسے کر گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو(کم از کم اتنی کیفیت ہونی چاہیئے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔اس نے کہا: مجھے قیامت کے متعلق بتائیے کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس سے سوال کیا گیا ہے(یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) وہ سوال کرنے والے(یعنی جبریل) سے زیادہ نہیں جانتا(یعنی جتنا تجھے علم ہے کہ وقت قیامت کسی کو بتانا نہیں مجھے بھی اتنا علم ہے کہ وقت قیامت کسی کو نہیں بتانا) تو اس نے کہا: مجھے اس کی نشانیوں کی خبر دیجئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لونڈی اپنے مالک کو جنے گی ، اور تو ننگے پاؤں، ننگے بدن بکریاں چرانے والوں کو دیکھے گا کہ وہ محلات پر فخر کریں گے۔ پھر وہ آدمی چلا گیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں تھوڑی دیر ٹھہرا رہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے فرمایا : اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ سائل کون ہے؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول(عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔
یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← کهمس بن الحسن ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← عيسى بن عبد الله الطيالسي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو الحسن بن بشران
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 80
