Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 80

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا [ص:133] كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ فَانْطلَقْنَا حُجَّاجًا أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَلَمَّا قَدِمْنَا قُلْنَا: لَوْ لَقِينَا بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فِي الْقَدَرِ؟ قَالَ: فَوَافَقْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فِي الْمَسْجِدِ فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبي أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ قَالَ يَحْيَى: فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي يَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ ظَهَرَ قَبْلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَعْرِفُونَ الْعِلْمَ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ وَإِنَّمَا الْأَمْرُ أُنُفٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَإِذَا لَقِيتُمْ أُولَئِكَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مِنِّي بُرَآءُ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ كَانَ لِأَحَدِهِمْ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا نَعْرِفُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخْذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ السَّبِيلَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: صَدَقْتَ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ [ص:134] الْإِيمَانِ مَا الْإِيمَانُ؟ فَقَالَ: الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، فَقَالَ: صَدَقْتَ، فَقَالَ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ مَا الْإِحْسَانُ؟ فَقَال: الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ فَحَدِّثْنِي عَنِ السَّاعَةِ مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا؟ قَال: أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاةِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ، ثُمَّ انْطَلَقَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عُمَرُ مَا تُدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلمُ، قَالَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ

ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نے خبر دی کہا ہم سے عیسیٰ بن عبداللہ الطیالسی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عبدالرحمٰن المقری نے بیان کیا کہا ہم سے کہمس بن حسن نے بیان کیا کہا میں نے عبد اللہ بن بریدہ کو بیان کرتے ہوئے سناوہ یحییٰ بن یعمر سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: سب سے پہلا شخص جس نے تقدیر کے متعلق(بری) بات کی وہ بصرہ میں معبد جہنی تھا چنانچہ میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حج کرنے کے لیے گئے جب وہاں پہنچے تو ہم نے کہا اگر ہم رسول اللہ سلیم کے بعض صحابہ سے ملاقات کریں تو ہم ان سے سوال کریں گے کہ وہ تقدیر کے متعلق باتیں کرنے والی اس قوم کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومسجد میں پالیا تو میں اور میرا دوست انہیں ملے ہم میں سے ایک ان کی دائیں جانب تھا اور دوسرا ان کی بائیں جانب۔ یحییٰ نے کہا: میں نے یہ گمان کیا کہ میرا دوست کلام کو میرے سپرد کر دے(یعنی مجھے گفتگو کر نے کا موقع دے) تو میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن ! ہمارے ہاں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم پہچانتے ہیں وہ گمان کرتے ہیں کہ تقدیر کچھ نہیں اور بلاشبہ یہ نیا معاملہ ہے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم جب ان سے ملاقات کرو گے تو انہیں خبر دے دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں اور اس ذات کی قسم جس کیساتھ عبداللہ بن عمر حلف اٹھاتا ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابرسونا ہو پھر وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس خرچ کردہ کو قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ وہ اس کی تمام اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لائیں۔ پھر فرمایا: مجھ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک انتہائی سفید کپڑوں ، انتہائی سیاہ بالوں والا آدمی آیا اس پر کوئی آثار سفر دکھائی نہیں دیتے تھے اور ہم اسے پہچانتے بھی نہ تھے حتٰی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا چنانچہ اس نے اپنے گھٹنے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں کیساتھ ملا لیے اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے پھر کہا : یامحمد !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مجھے اسلام کے متعلق خبر دیجئے کہ اسلام کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں اور تو نماز قائم کر ، زکوٰۃ ادا کر ، رمضان کے روزے رکھ اور اگر تو راستے کی طاقت رکھتا ہے تو بیت اللہ کا حج کر ! اس آدمی نے کہا: آپ نے سچ کہا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے کہا: اے محمد!(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مجھے ایمان کے متعلق خبر دیجئے کہ ایمان کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ، اس کے فرشتوں ،اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، قیامت کے دن اور ہر قسم کی اچھی وبری تقدیر پر ایمان لائے تو اس نے کہا آپ نے سچ کہا پھر اس نے کہا : مجھے احسان کے متعلق خبر دیجئے کہ احسان کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت ایسے کر گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو(کم از کم اتنی کیفیت ہونی چاہیئے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔اس نے کہا: مجھے قیامت کے متعلق بتائیے کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس سے سوال کیا گیا ہے(یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) وہ سوال کرنے والے(یعنی جبریل) سے زیادہ نہیں جانتا(یعنی جتنا تجھے علم ہے کہ وقت قیامت کسی کو بتانا نہیں مجھے بھی اتنا علم ہے کہ وقت قیامت کسی کو نہیں بتانا) تو اس نے کہا: مجھے اس کی نشانیوں کی خبر دیجئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لونڈی اپنے مالک کو جنے گی ، اور تو ننگے پاؤں، ننگے بدن بکریاں چرانے والوں کو دیکھے گا کہ وہ محلات پر فخر کریں گے۔ پھر وہ آدمی چلا گیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں تھوڑی دیر ٹھہرا رہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے فرمایا : اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ سائل کون ہے؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول(عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔

یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← کهمس بن الحسن ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← عيسى بن عبد الله الطيالسي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو الحسن بن بشران

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 80

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 81

وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو سِنَانٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَابْنُ يَعْمَرَ جَالِسَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي سُؤَالِ الرَّجُلِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْإِيمَانِ، وَقَالَ فِي جَوَابِهِ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ وَالْحِسَابِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَ

علی بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں اسماعیل بن محمد الصفار نے خبر دی کہا ہم سے محمد بن اسحاق الصغانی نے بیان کیا کہا ہم سے یعلی بن عبید نے بیان کیا کہا ہم سے ابو سنان نے بیان کیا وہ علقمہ ابن مرثد سے وہ ابن بریدہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے کہا : میں اور ابن یعمر مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے پس آپ نے آدمی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایمان کے متعلق سوال کے بارے میں حدیث ذکر کی اور اس کے جواب میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایمان لائے اللہ پر ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، قیامت ، حساب ، جنت ، دوزخ اور اچھی بری تقدیر پر کہ وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے۔

فِي جَوَابِهِ ← الإيمان ← الْحَدِيثَ فِي سُؤَالِ الرَّجُلِ رَسُولَ اللَّهِ ← وَابْنُ يَعْمَرَ جَالِسَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ ← كُنْتُ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبُو سِنَانٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 81

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 82

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ وَأَخْبَرَنَا أَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُؤَدِّبُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّهْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُونَهُ فِي الْقَدَرِ قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرٍ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: 48]

ابو الحسین محمد بن محمد بن الفضل القطان نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں عبداللہ بن جعفر نے خبر دی کہا ہم سے یعقوب بن سفیان نے بیان کیا کہا ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف چلے ، چنانچہ فرمایا: ابو ذر بن ابی الحسین بن ابی القاسم مذکر نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو عبداللہ محمد بن عبدالله اصبہانی زاہد نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم مؤدب نے بیان کیا کہا ہم سے حسین بن حفص نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا وہ زیاد بن اسماعیل سہمی سے وہ محمد بن عباد محزومی سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور تقدیر کے متعلق جھگڑنے لگے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : تو یہ آیت نازل ہوئی : ترجمہ: بے شک مجرم گمراہ اور دیوانے ہیں جس دن آگ میں اپنے چہروں پر گھسیٹے جائیں گے اور فرمایا جائے گا چکھو دوزخ کی آگ! بے شک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی ہے۔ (القمر:49:47)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيُّ، ← زياد بن إسماعيل السهمي ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أبو عبد الله محمد بن إبراهيم المؤدب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ الزَّاهِدُ ← أَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 82

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 83

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ [ص:136] حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ أَوِ الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ

ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو النضر فقیہ نے مجھے خبر دی کہا ہم سے محمد بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالاعلی بن حماد النرسی نے بیان کیا کہا میں نے امام مالک بن انس پر پڑھا وہ زیاد بن سعد سے وہ عمرو بن مسلم سے وہ طاؤس سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو پایا وہ کہتے تھے ہر چیز تقدیر کیساتھ ہے، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز تقدیر سے ہے حتٰی کہ عاجزی اور عقلمندی بھی۔

وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← أدركت ناسا من أصحاب رسول الله يقولون كل شيء بقدر ← طَاوْسٍ ← عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← على مالك بن أنس ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 83

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 84

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدٌ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدُ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيَوَةُ، ثنا أَبُو هَانِئٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَدَّرَ اللَّهُ الْمَقَادِيرَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفِ سَنَةٍ

تقدیر کب مقرر کی گئی؟ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں بکر بن محمد صیرفی نے مرو میں خبر دی دی کہا ہم سے عبدالصمد بن فضل نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن یزید المقرئ نے بیان کیا کہا ہم سے حیوۃ نے بیان کیا کہا ہم سے ابو ہانی نے بیان کیا کہ انہوں نے ابو عبدالرحمٰن الحبلی سے سنا انہوں نے کہا میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے تقد یروں کو مقدر فرمایا۔

«قَدَّرَ اللَّهُ الْمَقَادِيرَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← مُحَمَّدٌ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 84

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 85

وَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ الْهُذَلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ قَالَ: قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لَابْنِهِ: يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الْإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ الْقَلَمَ فَقَالَ لَهُ اكْتُبْ قَالَ رَبِّ وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَلَيْسَ مِنِّي

حقیقت ایمان کیسے حاصل ہو؟ حسین بن محمد بن علی الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر بن داسہ نے خبر دی کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے جعفر بن مسافر ہذلی نے بیان کیا کہا ہم سے بھی بن حسان نے بیان کیا کہا ہم سے ولید بن رباح نے بیان کیا وہ ابراہیم بن ابی عبلہ سے وہ ابو حفصہ سے راوی کہا حضرت عبادہ بن الصامت نے اپنے بیٹے سے فرمایا : اے بیٹے ہرگز تو ایمان کی حقیقت کا ذائقہ نہیں ہائے گا جب تک کہ تو یہ نہ جان لے کہ جو تجھے پہنچا ہے وہ تجھ سے خطا ہونے والا نہیں تھا اور جو تجھ سے خطا ہوا وہ تجھے پہنچنے والا نہیں تھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ جل ثناؤہ نے(نورمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد) سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا تو اسے کہا لکھ! اس نے کہا: اے رب! کیا لکھوں ؟ فرمایا: قیام قیامت تک ہونے والی ہر چیز کی تقدیر لکھ! فرمایا: اے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اس کے برخلاف عقیدے پر مرا وہ مجھ سے نہیں ہے۔

أبي حفصة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ الْهُذَلِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← الحسين بن محمد بن علي الروذباري،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 85

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 86

أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللَّهُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فِي جِنَازَةٍ فَقَال: مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَلَا نَتَّكِلُ؟ قَالَ: اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، ثُمَّ قَرَأَ {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} [الليل: 6] قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَقَوْلُهُ «فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ» يُرِيدُ أَنَّهُ مُيَسَّرٌ فِي أَيَّامِ حَيَاتِهِ لِلْعَمَلِ الَّذِي سَبَقَ لَهُ الْقَدَرُ بِهِ قَبْلَ وُجُودِهِ وَكَوْنِهِ، وَأَمَرَ بِالْعَمَلِ الَّذِي هُوَ أَمَارَةٌ لَهُ لِيَكُونَ رَاجِيًا خَائِفًا

ابو الفتح محمد بن احمد بن ابی الفوارس حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ نے بغداد میں مجھے خبر دی کہا ہمیں ابو بکر محمد بن عبداللہالشافعی نے خبر دی کہا ہم سے اسحاق بن حسن نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا وہ اعمش سے وہ سعد بن عبیدہ سے وہ ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : ہم جنت البقیع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بھی ہے اس کا ٹھکانہ جہنم سے یا جنت سے لکھا ہوا ہے، صحابہ کرام نے عرض کی : یارسول اللہ ! کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کریں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کیے جاؤ! پس ہر ایک کے لیے وہی آسان کیا جائے گا جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے پھر حضورا کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی، فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی، وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی، وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی، فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْـعُسْرٰی (الیل:5 تا 10) ترجمہ: تو وہ جس نے دیا اور پرہیز گاری کی ،اور سب سے اچھی کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کر دیں گے ، اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا اور سب سے اچھی کو جھٹلایا تو ہم بہت جلد اسے دشواری مہیا کریں گے۔ شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان:’’ ہر ایک کے لیے آسان کیا جائے گا‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں اس کے لیے عمل کرنا آسان ہو جائے گا جس کی طرف اس کے وجود تخلیق سے پہلے تقدیر نے سبقت کی اور عمل کرنے کا حکم دیا کیونکہ یہ اس کی نشانی ہے تاکہ بندہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھنے والا بھی ہو اور خوف رکھنے والا بھی۔

مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الجَنَّةِ، ← مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا قَدْ ← كنا مع رسول الله في بقيع الغرقد في جنازة ← عَلِيٍّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ ببغداد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 86

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 87

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ثنا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ [ص:138] فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِأَرْبَعٍ: اكْتُبْ رِزْقَهُ، وَعَمَلَهُ، وَأَجَلَهُ، وَشَقِيٌ هُوَ أَمْ سَعِيدٌ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا

علی بن محمد بن عبد اللہ بن بشران نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نے خبر دی کہا ہم سے سعدان بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا وہ زید بن وہب سے وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صادق ومصدوق ہیں :” تم میں سے ہر ایک کی خلقت کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع کیا جاتا ہے پھر وہ جما ہوا خون ہوتا ہے اسی کی مثل(دنوں میں) پھر وہ لوتھڑا ہوتا ہے اسی کی مثل(دنوں میں) پھر اس کی طرف فرشتہ بھیجا جاتا ہے تو وہ اس میں روح پھونکتا ہے پھر اسے چار چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے کہ اس کا رزق، اس کا عمل ، اس کی موت یہ بد بخت ہو گا یا سعادت مند لکھ! اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم میں سے کوئی جہنمیوں والے عمل کرتا رہتا ہے حتٰی کہ اس کے اور جہنم کے مابین ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پس اس پر لکھا ہوا غالب آتا ہے تو اس کا خاتمہ جنتیوں والے عمل کیساتھ ہوتا ہے پس وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور تم میں سے کوئی جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے حتٰی کہ اس کے اور جنت کے مابین ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر لکھا ہوا غلبہ کرتا ہے تو اس کا خاتمہ جہنمیوں کے عمل کیساتھ ہوتا ہے تو وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 87

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 88

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فَقَالَ مُوسَى: أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَخَطَّ لَكَ التَّوْرَاةَ أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي، قَالَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرَوَاهُ أَيْضًا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو محمد عبد اللہ بن یوسف اصبہانی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد البصری نے خبر دی کہا ہم سے حسن بن محمد زعفرانی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیاوہ عمرو سے وہ طاؤس سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہا السلام کا مناظرہ ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ ہمارے باپ ہیں ، آپ نے ہمیں نامراد کر دیا اور آپ نے ہمیں جنت سے نکال دیا تو آپ کو حضرت آدم علیہ السلام نے کہا: اے موسیٰ !اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنے کلام کے ساتھ چن لیا اور تیرے لیے تو رات لکھی کیا تو مجھے ایسے امر پر ملامت کرتا ہے جسے میری تخلیق سے پہلے مجھ پر مقدر کر دیا گیا تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس حضرت آدم، حضرت موسیٰ(علیہ السلام) پر غالب آگئے۔ امام بیہقی رحمہ للہ تعالیٰ نے فرمایا : اس کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← طَاوْسٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 88

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 89

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَوْتِ إِملَاءً، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ [ص:139]، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو السَّرِيِّ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَامُ طُبِعَ كَافِرًا وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا

ابو عبداللہ محمد بن فضل بن نظیف مصری نے ہمیں مکہ میں خبر دی کہا ہم سے بیان کیا ابو بکر احمد بن محمد بن ابی الموت نے املا کرواتے ہوئے کہا ہم سے بیان کیا علی بن عبدالعزیز نے کہا ہم سے قعنبی نے بیان کیا۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف گئے چنانچہ فرمایا: اور ہمیں ابو عبداللہ الحافظ نے خبر دی کہا ہم سے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن احمد صفار نے بیان کیا کہا ہم سے ابو السری موسیٰ بن حسن نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ رقبہ بن مسقلہ سے وہ ابو اسحاق سے وہ سعید بن جبیر سے وہ حضرت ابن عباس سے وہ حضرت ابی بن کعب(رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وولڑکا جسے حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا وہ کافر پیدا کیا گیا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے والدین پر سرکشی و کفر کیساتھ غلبہ پالیتا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو السَّرِيِّ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ، ← الْقَعْنَبِيُّ [ص:139]، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَوْتِ إِمْلَاءً، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 89

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 90

أَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَكِيلُ الْمُحَمَّدَابَاذِيُّ، أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السَّعِيدُ مَنْ سَعِدَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ: وَالشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ

سعادت مند کون؟ ابو الخیر جامع بن احمد الوکیل المحمد آبادی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے خبر دی کہا ہم سے عثمان بن سعید الدارمی نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا وہ ہشام بن حسان سے وہ ابن سیرین سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعادت مند وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں سعادت مند ہوا۔ بد بخت کون؟ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اسے یحییٰ بن عبداللہ التمیمی نے اپنے باپ سے روایت کیا وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ : بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت ہوا۔

النَّبِيِّ وَزَادَ فِيهِ: وَالشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ، ← السَّعِيدُ مَنْ سَعِدَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ ← أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَكِيلُ الْمُحَمَّدَابَاذِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 90

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 91

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، وَكَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، وَهَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَال: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا غُلَّامُ أَوْ يَا [ص:140] بُنَيَّ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ؟ فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: «احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إِلَيْهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ قَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ فَلَوْ أَنَّ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ جَمِيعًا أَرَادُوا أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَقْضِهِ اللَّهُ لَكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، وَإِنْ أَرَادُوا أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَقْضِهِ اللَّهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ فَاعْمَلْ لِلَّهِ بِالشُّكْرِ فِي الْيَقِينِ، وَاعْلمْ أَنَّ الصَّبْرَ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرٌ كَثِيرٌ، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» قَالَ الْأُسْتَاذُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ «جَفَّتِ الصُّحُفُ ورُفِعَتِ الْأَقْلَامُ» وَلهَذَا الْحَدِيثِ شَوَاهِدُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَحَدِيثُ «السَّعِيدُ مَنْ سَعِدَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ لَا» يُخَالِفُ الْأَحَادِيثَ الْوَارِدَةَ فِي الْمَقَادِيرِ، وَجَرَيَانِ الْقَلَمِ بِمَا يَكُونُ فَإِنَّهُ إِنَّمَا يَسْعَدُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ مَنْ جَرَى الْقَلَمُ بِسَعَادَتِهِ وَإِنَّمَا جَرَى الْقَلَمُ بِسَعَادَةِ مَنْ كَانَ فِي عِلْمِ اللَّهِ وَفِي تَقْدِيرِهِ سَعَادَتُهُ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خاص کلمات سکھائے : ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار السکری نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا ہمیں اسماعیل بن محمد صفار نے خبر دی کہا ہم سے عباس بن عبد اللہ الترقفی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عبدالرحمٰن المقریٔ نے بیان کیا کہا ہم سے نافع بن یزید، ابن لہیعہ، کہمس بن حسن اور حجاج بن یحییٰ نے بیان کیا وہ قیس بن حجاج سے وہ حنش سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ردیف تھا(یعنی سواری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے لڑ کے ! یا فرمایا: اے بیٹے ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰٰ تجھے نفع دے ؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں(ضرور سکھائیے!) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ تواللہ کو یادرکھ وہ تجھے یادر کھے گا تو اللہ کو یا در کھ! تو تو اسے اپنے سامنے پائے گا ،خوشحالی میں تو اسے پہچان وہ سختی میں تجھے پہچانے گا جب تو سوال کرے تو اللہ سے سوال کرنا، اور جب تو مدد طلب کرے تو اللہ سے مدد طلب کرنا ، بلاشبہ جو کچھ ہونے والا ہے اس کیساتھ قلم خشک ہو گیا پس اگر ساری کی ساری مخلوق تجھے کسی چیز کا نفع پہنچانے کا ارادہ کر لیں جس کا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے فیصلہ نہیں کیا تو وہ اس پر قادر نہ ہوں گے اور اگر وہ کسی چیز کیساتھ تجھے ضرر پہنچانے کا ارادہ کریں جس کا اللہ تعالیٰ نے تیرے او پر فیصلہ نہیں کیا تو وہ اس پر قادر نہ ہوں گے پس تو اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کر شکر کیساتھ یقین میں اور جان لے کہ اس چیز پر صبر کرنا جسے تم ناپسند کرتے ہو یہ بہت بڑی بھلائی ہے اور مدد صبر کیساتھ اور کشادگی سختی کے ساتھ ہے اور تنگی کیساتھ آسانی ہے‘‘۔قَالَ الْاُسْتَاذُ رَحِمَہُ اللہُ: وَرَوَاہُ اللیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ جَفَّتِ الصُّحُفُ ورُفِعَتِ الْاَقْلَامُاستاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اسے لیث بن سعد نے قیس بن حجاج سے روایت کیا اور اپنی حدیث میں فرمایا: ”قلمیں اٹھالیں گئیں اور صحیفے خشک ہو گئے‘‘۔ اور اس حدیث کے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کئی شواہد ہیں۔ اور یہ حدیث’’ سعادت مند وہ ہے جو اپنے ماں کے پیٹ میں سعادت مند ہوا‘‘ تقدیر کے متعلق اور ہر ہونے والے امر کے متعلق قلم کے جاری ہونے والی احادیث کے مخالف نہیں ہے کیونکہ ماں کے پیٹ میں سعادت مند وہی ہوتا ہے جس کی سعادت مندی کیساتھ قلم جاری ہو چکا ہے اور اس شخص کی سعادت مندی کا قلم جاری ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ کے علم وتقدیر میں جس کیلئے سعادت مندی ہے۔

كنت رديف رسول الله ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← حنش ← قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← کهمس بن الحسن ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 91

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him