Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ بَيَانِ صِفَةِ الذَّاتِ وَصِفَةِ الْفِعْلِ · حديث 18

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، إِجَازَةً، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا اللَّخْمِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ: الِاسْمُ غَيْرُ الْمُسَمَّى فَاشْهَدْ عَلَيْهِ بِالزَّنْدَقَةِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ

الاكرم : جس کے مقابلے میں کوئی کریم نہیں نہ اس کا کوئی ہم مثل ہے اور کبھی اکرم کریم کے معنی میں بھی آتا ہے۔ المدبر: وہ امور کی تدبیر انجام کو جاننے والا ہے اور ان کی تقدیر کومقدر کرنے والا ہے اور انہیں ان کی انتہاء تک چلانے والا ہے، وہ اپنی حکمت سے امور کی تدبیر کرتا ہے اور اپنی مشیت کے مطابق انہیں پھیرتا ہے۔ ذوالمعارج: معارج کا معنی ہے : درجہ، سیدہ درجے ہیں جن کی طرف فرشتے عروج کرتے ہیں۔ ذو الطول ذو الفضل: اس کا معنی ہے :وہ بخشش فضل والا ہے اور ذو حرف نسبت ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان:ذوالجلال والاکرام۔ الجمیل: خوبصورتی واحسان والا۔۔ الرفیع: بھی یہ رافع(بلند کرنے والا) کے معنی میں ہوتا ہے وہ جس کے چاہتا ہے درجات بلند کرتا ہے پس یہ اس وقت اس کی صفات فعلیہ میں سے ہو گا۔ اور کبھی اس کا معنی ہوتا ہے : مرتبے میں اس سے بلند کوئی نہیں ، وہی تمام مدح وثناء کے درجات کی وجہ سے اس کا مستحق ہے یعنی اصناف مدح وثناء کا مستحق ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا اس کا مستحق نہیں ہے۔ اس وقت یہ صفات ذاتیہ میں سے ہو گا۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان اسماء کے معانی کے متعلق ہمارے ذکر کردہ معانی کے علاوہ بھی کہا گیا ہے جن میں سے بعض ہم نے اپنی کتاب ’’الاسماء والصفات‘‘ میں اور بعض ’’الجامع‘‘ میں ذکر کیئے ہیں۔ ان اسماء کے معانی کی وہ وجوہ جو ہم نے(اسی کتاب میں) ذکر کی ہیں وہ تمام کی تمام صحیح ہیں اور ہمار رب جل جالہ وتقدست اسماءہ ان تمام کیساتھ متصف ہے ،اس کے اچھے نام اور بلند صفات میں مخلوق میں اس کے کوئی مشابہ نہیں اور بادشاہت میں اس کا کوئی شریک نہیں(جیسا کہ خود اس نے اعلان فرمایا ہے) : ترجمہ: اس جیسا کوئی نہیں اور وہی سنتاد یکھتا ہے۔

الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ ← الشيخ وقد ← الِاسْمُ غَيْرُ الْمُسَمَّى فَاشْهَدْ عَلَيْهِ بِالزَّنْدَقَةِ ← الرَجُلِ ← «إِذَا ← الشَّافِعِیُّ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا اللَّخْمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ إِجَازَةً ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter for self-description, adjective, verb · Hadith 18

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ بَيَانِ صِفَةِ الذَّاتِ وَصِفَةِ الْفِعْلِ · حديث 19

لَا يُقَالُ فِي أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى: إِنَّهَا أَغْيَارٌ، قَدْ نَقَلْنَا كَلَامَهُ فيهَا فِي موَاضِعَ، وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ. وَمَنْ قَالَ بِهَذَا احتَجَّ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى} [مريم: 7] ، فَأَخْبَرَ أَنَّ اسْمَهُ يَحْيَى، ثُمَّ قَالَ: {يَا يَحْيَى} [مريم: 12] ، فَخَاطَبَ اسْمَهُ، فَعُلِمَ أَنَّ الْمُخَاطَبَ يَحْيَى، وَهُوَ اسْمُهُ وَاسمُهُ هُوَ، وَكَذَلِكَ قَالَ: {مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءً} [يوسف: 40] ، وَأَرَادَ الْمُسَمَّيَاتِ، وَقَالَ: {تَبَارَكَ اسْمُ ربِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ} [الرحمن: 78] ، كَمَا قَالَ: {تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ} [الفرقان: 1] ، وَكَمَا قَالَ: {تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ} [الملك: 1] وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ» ، كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّعَاءِ بَعْدَ السَّلَامِ: «تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ، وَقَالَ فِي دُعَاءِ الْقُنُوتِ: «تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» . قَالَ أَبُو مَنْصُورٍ الْأَزْهَرِيُّ: مَعْنَى تَبَارَكَ: تَعَالَى وَتَعَظَّمَ. وَقِيلَ: هُوَ تَفَاعَلَ مِنَ الْبرَكَةِ، وَهِيَ الْكَثْرَةُ وَالِاتِّسَاعُ

ابو عبدالرحمٰن السلمی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں حسن بن رشیق نے اجازت دیتے ہوئے خبر دی کہا ہم سے بیان کیا سعید بن احمد بن زکریا اللخمی نے کہا ہم سے یونس بن عبد الاعلیٰ نے بیان کیا، کہا: میں نے امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ سے سنا: آپ فرماتے تھے کہ جب تو کسی آدمی کو یہ کہتا ہوا سنے کہ اسم مسمی کا غیر ہے تو، تو اس کے زندیق ہونے کی گواہی دے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب ’’الایمان‘‘ میں فرمایا جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء کے بارے میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ غیر ہیں۔ اور ہم نے اس کے متعلق ان کا کلام متعدد مقامات میں ذکر کیا ہے۔اور توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ جس نے یہ قول کیا اس نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے دلیل پکڑی: ترجمہ: ایک لڑکے کی جن کا نام یحیی ہے۔ (مريم:7) پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کا نام یحیی ہے پھر فرمایا: یا یحیی!اے یحیی پس اللہ تعالیٰ نے ان کے نام کیساتھ ان سے خطاب فرمایا لہٰذا معلوم ہو گیا کہ جس سے خطاب کیا گیا ہے وہ یحیی ہیں ، وہ اپنا اسم ہیں اور ان کا اسم بھی وہی ہیں۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نِرے نام۔ (يوسف علیہ السلام : 4)اور اس سے مسمیات کا ارادہ کیا اور فرمایا: ترجمہ: بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا۔ (الرحمن:78) جیسا کہ اس نے فرمایا: ترجمہ: بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن۔ (الفرقان:1) اور جیسا کہ اس نے فرمایا: ترجمہ: بڑی برکت والا ہے وہ جس کے قبضہ میں سارا ملک۔ (الملك: 1) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کی گئی پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی گئی کہا: اے اللہ تو پاک ہے تیری ہی حمد ہے اور تیرا نام برکت والا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرنے کے بعد دعا میں فرمایا : تو برکت والا ہے اے جلال واکرام والے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعائے قنوت میں فرمایا : اے ہمارے رب تو برکت والا ہے اور تو بلند و بالا ہے۔ ابو منصور ازہری نے کہا: تبارک کا معنی ہے : تو بلند و بالا اور عظمت والا ہے۔ بعض نے کہا: یہ برکۃ سے باب تفاعل ہے جس کا معنی ہے کثرت و وسعت دینا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ» كَمَا ← وَرُوِيَ ← وكما ← كَمَا ← وَأَرَادَ الْمُسَمَّيَاتِ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter for self-description, adjective, verb · Hadith 19

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ بَيَانِ صِفَةِ الذَّاتِ وَصِفَةِ الْفِعْلِ · حديث 20

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَغَوِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْكَابُلِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ [ص:74] اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُهُ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ فِرَاشَهُ فلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ؛ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ، وَلْيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ " غَيْرَ أَنَّ مَالِكًا لَمْ يَقُلْ: «فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ» . وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ وَحُذَيْفَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ: «اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا، وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ» . كَمَا قَالَ فِي رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ الصَّبَاحِ: «اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نمُوتُ»

سوتے وقت کاعمل : ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی ، کہا: ہمیں عبداللہ بن اسحاق بن ابراہیم البغوی نے خبر دی ، کہا: ہم سے محمد بن عباس الکاملی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ الاویسی نے بیان کیا، کہا: ہم سے امام مالک بن انس وغیرہ نے بیان کیا ، وہ سعید مقبری سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بستر کی طرف آئے تو اس کے کپڑے کے کنارے سے اسے تین مرتبہ جھاڑے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے جانے کے بعد اس کے پیچھے اس بستر پر کیا ہوا اور اسے یہ کہنا چاہئے : باسمك ربی وضعت جنبی ، وبك أرفعہ ، إن أمسكت تفسی فاغفرلھا ، وإن أرسلتھا فاحفظھا بما تحفظ بہ عبادك الصالحین۔ اے رب ! میں تیرے نام سے اپنا پہلو رکھتا ہوں اور تیرے نام کیساتھ ہی اسے اٹھاتا ہوں اگر تو میری جان روکے تو اسے بخش دے اور اگر اسے چھوڑے تو ، تو اس کی اس کیساتھ حفاظت فرمانا جس سے تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔ امام مالک کی روایت میں :فانہ لا یدری خلفہ علیہ کے الفاظ نہیں ہیں۔ سوتے وقت کی دعا: اور ہم نے حضرت ابو ذراور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث روایت کی کہ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب لیٹتے تو کہتے: اے اللہ! میں تیرے نام سے زندہ ہوں اور تیرے نام سے مرتا ہوں۔ صبح کے وقت کی دعا: جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں صبح کے وقت دعا میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: اے اللہ! تجھی ہی سے ہم نے صبح کی اور تجھ ہی سے ہم نے شام کی، تجھ ہی سے ہم زندہ ہیں اور تجھ ہی سے ہم مریں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مالكُ بنُ أنسٍ وغيرُه، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ [ص:74] اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْكَابُلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَغَوِيُّ، بِبَغْدَادَ، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter for self-description, adjective, verb · Hadith 20

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ بَيَانِ صِفَةِ الذَّاتِ وَصِفَةِ الْفِعْلِ · حديث 21

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَذْكُرُ عَنْ [ص:75] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَاءَهُ وَهُوَ يُوعِكُ، فَقَالَ: أُرْقِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ كُلِّ حَسَدِ حَاسِدٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ، وَاسْمُ اللَّهِ يَشْفِيكَ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَلَوْ كَانَ اسْمُهُ غَيْرَهُ، أَوْ لَا هُوَ الْمُسَمَّى لَكَانَ الْقَائِلُ إِذَا قَالَ: عَبَدْتُ اللَّهَ وَاللَّهُ اسْمُهُ أَنْ يَكُونَ عَبَدَ اسْمَهُ، إِمَّا غَيْرُهُ، أَوْ مَا لَا يُقَالُ: إِنَّهُ هُوَ، وَذَلِكَ مُحَالٌ، وَقَوْلُهُ: «إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا» ، مَعْنَاهُ تَسْمِيَاتُ الْعِبَادِ لِلَّهِ؛ لِأَنَّهُ فِي نَفْسِهِ وَاحِدٌ، قَالَ الشَّاعِرُ: [البحر الطويل] إِلَى الْحَوْلِ ثُمَّ اسْمُ السَّلَامِ عَلَيْكُمَا قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: أَرَادَ ثُمَّ السَّلَامُ عَلَيْكُمَا؛ لِأَنَّ اسْمَ السَّلَامِ هُوَ السَّلَامُ

حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دم کیا : ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے حسن بن علی بن عفان نے بیان کیا کہا ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ثابت بن ثوبان نے بیان کیا کہا مجھ سے عمیر بن ہانی نے بیان کیا کہا میں نے جنادہ بن امیہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سناوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم سے ذکر کر رہے تھے کہ حضرت جبریل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے جب کہ آپ بیماری کی حالت میں تھے تو حضرت جبریل نے کہا: میں آپ کو دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو آپ کو تکلیف دیتی ہے اور ہر حاسد کے حسد سے اور ہر نظر سے اور اللہ کا نام آپ کو شفادے گا۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر اس کا اسم غیر مسمی ہو اور عین مسمی نہ ہو تو کہنے والا جب کہتا ہے :عبداللہ! اللہ تو ذات باری تعالیٰ کا اسم ہے ،تو کے اسم کاعبد اس کے غیر کا عبد ہو جائے گا اور اس وقت یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ اس کا بندہ ہے جبکہ ایسا ہونا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ننانوے اسماء ہونے کا مفہوم : اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان :’’اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسماء ہیں‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ بندوں کا اللہ تعالیٰ کے لیےنام رکھنے کے اعتبار سے ننانوے نام ہیں کیونکہ وہ فی نفسہ ایک ہے(نہ کہ ننانوے)۔شاعر نے کہا: ایک سال تک تمہارا انتظار کروں گا پھرتم دونوں پر سلام کا اسم ہو۔ ابو عبید نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ پھر تم دونوں پر سلام ہو کیونکہ سلام کا اسم وہ سلام ہی ہے۔

عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يَذْكُرُ ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter for self-description, adjective, verb · Hadith 21

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him