الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ بَيَانِ صِفَةِ الذَّاتِ وَصِفَةِ الْفِعْلِ · حديث 18
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، إِجَازَةً، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا اللَّخْمِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ: الِاسْمُ غَيْرُ الْمُسَمَّى فَاشْهَدْ عَلَيْهِ بِالزَّنْدَقَةِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ
الاكرم : جس کے مقابلے میں کوئی کریم نہیں نہ اس کا کوئی ہم مثل ہے اور کبھی اکرم کریم کے معنی میں بھی آتا ہے۔ المدبر: وہ امور کی تدبیر انجام کو جاننے والا ہے اور ان کی تقدیر کومقدر کرنے والا ہے اور انہیں ان کی انتہاء تک چلانے والا ہے، وہ اپنی حکمت سے امور کی تدبیر کرتا ہے اور اپنی مشیت کے مطابق انہیں پھیرتا ہے۔ ذوالمعارج: معارج کا معنی ہے : درجہ، سیدہ درجے ہیں جن کی طرف فرشتے عروج کرتے ہیں۔ ذو الطول ذو الفضل: اس کا معنی ہے :وہ بخشش فضل والا ہے اور ذو حرف نسبت ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان:ذوالجلال والاکرام۔ الجمیل: خوبصورتی واحسان والا۔۔ الرفیع: بھی یہ رافع(بلند کرنے والا) کے معنی میں ہوتا ہے وہ جس کے چاہتا ہے درجات بلند کرتا ہے پس یہ اس وقت اس کی صفات فعلیہ میں سے ہو گا۔ اور کبھی اس کا معنی ہوتا ہے : مرتبے میں اس سے بلند کوئی نہیں ، وہی تمام مدح وثناء کے درجات کی وجہ سے اس کا مستحق ہے یعنی اصناف مدح وثناء کا مستحق ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا اس کا مستحق نہیں ہے۔ اس وقت یہ صفات ذاتیہ میں سے ہو گا۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان اسماء کے معانی کے متعلق ہمارے ذکر کردہ معانی کے علاوہ بھی کہا گیا ہے جن میں سے بعض ہم نے اپنی کتاب ’’الاسماء والصفات‘‘ میں اور بعض ’’الجامع‘‘ میں ذکر کیئے ہیں۔ ان اسماء کے معانی کی وہ وجوہ جو ہم نے(اسی کتاب میں) ذکر کی ہیں وہ تمام کی تمام صحیح ہیں اور ہمار رب جل جالہ وتقدست اسماءہ ان تمام کیساتھ متصف ہے ،اس کے اچھے نام اور بلند صفات میں مخلوق میں اس کے کوئی مشابہ نہیں اور بادشاہت میں اس کا کوئی شریک نہیں(جیسا کہ خود اس نے اعلان فرمایا ہے) : ترجمہ: اس جیسا کوئی نہیں اور وہی سنتاد یکھتا ہے۔
الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ ← الشيخ وقد ← الِاسْمُ غَيْرُ الْمُسَمَّى فَاشْهَدْ عَلَيْهِ بِالزَّنْدَقَةِ ← الرَجُلِ ← «إِذَا ← الشَّافِعِیُّ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا اللَّخْمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ إِجَازَةً ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter for self-description, adjective, verb · Hadith 18
