Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 1, 1448 AH · Oct 11, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 347

أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ الزَّاهِدُ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَيْهَقِيُّ قِرَاءَةً بِمدينَةِ تَبْرِيزَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، أنا الشَّيْخُ وَالِدِي رَحِمَهُ اللَّهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَفْرَسُ النَّاسِ ثَلَاثَةُ الْمَلِكُ حِينَ تَفَرَّسَ فِي يُوسُفَ، وَالْقَوْمُ فِيهِ زَاهِدُونَ، وَابْنَةُ شُعَيْبٌ فِي مُوسَى فَقَالَتْ لِأَبيهَا: {يَا أَبَتِ اسْتأَجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مِنَ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمينُ} [القصص: 26] وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ تَفَرَّسَ فِي عُمَرَ فَاسْتَخْلَفهُ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ [ص:360] سُفْيَانَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ

شیخ امام زاہد ابو علی اسماعیل بن احمد بیہقی جب آپ پر شہرتبریز میں عصر کی نماز کے بعد پڑھا گیا تو آپ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں شیخ میرے والد رحمہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہا۔ اور ہمیں ابو طاہر الفقیہ نے خبر دی کہا ابو بکر محمد بن حسین القطان نے خبر دی کہا ابراہیم بن حرث نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن ابو بکیر نے ہم سے بیان کیا کہا اسرائیل نے ہم سے بیان کیا وہ ابو اسحاق سے وہ ابو عبیدہ سے راوی آپ نے کہا : حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: لوگوں میں فہم وفراست والے لوگ تین ہیں:(1) وہ بادشاہ جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فہم فراست سے کام لیا جبکہ اس بارے میں قوم کنارہ کش تھی(2) حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنے باپ سے کہا: یٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِزُہُ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ (القصص:26) ترجمہ: اے میرے باپ ان کو نو کر رکھلو بیشک بہتر نوکر وہ جو طاقتور امانتدار ہو۔(3) حضرت ابو بکر صدیق جب آپ نے فہم وفراست سے کام لیا تو حضرت عمر کو خلیفہ بنادیا۔ ایک جماعت نے اسے سفیان بن ابو اسحاق سے روایت کیا وہ ابو الاحوص سے وہ حضرت عبداللہ سے راوی۔ ابو عبدالرحمٰن السلمی نے ہمیں خبر دی کہا ابو عبداللہ محمد بن موسیٰ الکعبی نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن ایوب نے ہم سے بیان کہا محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا پس آپ نے یہی بات ذکر کی۔

أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← الشيخ والدي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them · Hadith 347

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 348

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو صَادقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرُلِّسِيُّ , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ , ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ كَنْتُمْ تَصِفُونَ مِنِّي شِدَّةً وَغِلْظَةً وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ عَبْدَهُ وَخَادِمَهُ وَكَانَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تبَارَكَ وَتَعَالَى {بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} وَكُنْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ إِلَّا أَنْ يَغْمِدَنِي أَوْ يَنْهَانِي عَنْ أَمْرٍ فَأَكُفَّ وَإِلَّا أَقَمْتُ عَلَى النَّاسِ لِمَكَانِ لِينِهِ فَلَمْ أَزَلْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ وَهُوَ عنِّي رَاضٍ، فَالْحمدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ كَثِيرًا وَأَنَا بِهِ أَسْعَدُ، ثُمَّ قُمْتُ ذَلِكَ الْمَقَامِ مَعَ أَبِي بَكْرٍ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ، وَكَانَ مَنْ قَدْ عَلِمْتُمْ فِي كَرَمِهِ وَدَعَتِهِ وَلِينِهِ فَكُنْتُ خَادَمَهُ كَالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ عَلَى النَّاسِ بَيْنَ يَدَيْهِ أَخْلِطُ شِدَّتِي بلِينِهِ إِلَّا أَنْ يَتَقَدَّمَ إِلَيَّ فَأَكُفَّ وَإِلَّا خَدَمْتُ فَلَمْ أَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ وَهُوَ عنِي رَاضٍ، فَالْحمدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ كَثِيرًا وَأَنَا بِهِ أَسْعَدُ ثُمَّ صَارَ أَمْرُكُمْ إِلَيَّ الْيَوْمِ وَأَنَا أَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَقُولُ قَائِلٌ: كَانَ يَشْددُ عَلَيْنَا وَالْأَمْرُ إِلَى غَيْرِهِ فَكَيْفَ بِهِ إِذَا صَارَ إِلَيْهِ؟ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ قَدْ عَرَفْتمونِي وَقَدْ عَرَفْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَرَفْتُ وَمَا أَصْبَحْتُ نَادِمًا عَلَى شَيْءٍ يَكُونُ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ سَأَلْتُهُ، وَاعْلَمُوا أَنَّ شِدَّتِي الَّتِي كَنْتُمْ تَرَوْنَ مِنِّي قَدْ زَادَتْ أَضعَافًا - إِذْ كَانَ الْأَمْرُ إِلَيَّ - عَلَى الظَّالْمِ وَالْمُعتدِي وَالْأَخْذِ لِلْمُسْلِمِينَ لِضعيفِهِمْ مِنْ قَوِّيِهِمْ، وَإِنِي بَعْدَ شِدَّتِي تِلْكَ وَاضِعٌ [ص:361] خَدِيَّ بِالْأَرْضِ بأَهْلِ الْكَفَافِ وَالْكَفِّ مِنْكُمْ وَالتَّسْليمِ، وَإِنِي لَا أُبَالِي كَانَ بيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ فِي أَحْسَابِكُمْ أَنْ أَمْشِيَ مَعَهُ إِلَى مِنْ أَحْبَبْتُمْ مِنْكُمْ فَيَنْظُرَ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَاتَّقُوا اللَّهَ عِبَادَ اللَّهِ وَأَعِينُونِي عَلَى أَنفُسِكُمْ بِكَفِّهَا عنِّي، وَأَعِينُونِي عَلَى نَفْسِي بِالْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَإِحْضَارِ النَّصِيحَةِ فِيمَا وَلَّانِي اللَّهُ، ثُمَّ نَزَلَ. قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: فَوَاللَّهِ، لَقَدْ وَفَى بِمَا قَالَ، وَزَادَ فِي مَوْضِعٍ: الشدَّةَ عَلَى أَهْلِ الرِّيبَةِ وَالظَّلَمَةِ، وَالرِّفْقِ بأَهْلِ الْحَقِّ مَنْ كَانُوا

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عبدو خادم ہیں: الحافظ ابو عبداللہ ابو بکر احمد بن حسن اور ابوصادق محمد بن ابو الفوارس نے ہمیں خبر دی سب نے کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن سلیمان البرلسی نے ہم سے بیان کیا کہا عبداللہ بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن ایوب نے ہم سے بیان کیا وہ ابن حرملہ سے وہ حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر پر آپ نے خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء پڑھی پھر فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تم جنگ میں مجھ سے زیادہ شدت وسختی سے صف بندی کرتے ہو یہ اس وجہ سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ رہا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عہد اور خادم تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں پر رؤوف ورحیم ہیں ، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سونتی ہوئی تلوار کی طرح تھا مگر کسی امر کی وجہ سے میری آنکھیں بند کر دی جاتیں یا مجھے منع کر دیا جاتا تو میں رک جاتا ورنہ میں لوگوں میں ان کی نرم جگہ کھڑا ہوتا ہمیشہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ اسی طریقے پر رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سے راضی تھے اس پر اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد وشکر ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نائب سب سے سعادت منع آدمی بنا پھر میں اسی مقام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق کیساتھ کھڑا ہوا اور تم آپ کے کرم ، دفاع اور نرمی کو جانتے ہو چنانچہ میں آپ کا خادم رہا آپ کے سامنے لوگوں پرسونتی ہوئی تلوار کی طرح ، میں اپنی شدت ان کی نرمی سے ملا دیتا مگر پہلے سے کوئی مجھے حکم ہوتا تو میں رک جا تا ورنہ میں خدمت میں مشغول رہتا، میں ہمیشہ اسی طریقے پر رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی وفات دے دی اور آپ مجھ سے راضی تھے۔ اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد اور شکر ہے۔ اور میں آپ کی وجہ سے سعادت مند ہوں پھر تمہارا معاملہ آج کے دن میری طرف پہنچ گیا میں جانتا ہوں کہ کوئی کہنے والا کہے گا: ہم پرسختی برتی گئی اور امر خلافت کسی دوسرے کے پاس ہونا چاہیے تو پھر کیا حال ہو گا اس کیساتھ جب معاملہ اس تک پہنچے گا۔ جان لو! تم مجھے پہچان چکے ہو اور تم نے میرا تجربہ کرلیا ہے اللہ تعالیٰٰ کا شکر ہے کہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی پہچانتا ہے جو پہچانا اور میں کسی بھی ہونے والی چیز پر نادم نہیں ہوا میں ہی زیادہ پسند کرتا تھا کہ کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرے مگر میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ چکا ہوں جان لو! جو تم میری شدت دیکھتے ہو وہ کئی گنا زیادہ ہو جائے گی جب مجھ تک معاملہ کسی ظالم یا حد سے تجاوز کرنے والا کا پہنچے گا اور کمزور مسلمانوں کو قوی مسلمانوں سے حق لینا ہو گا میں اس شدت کے بعد اپنا رخسارز مین پر رکھ دوں گا اہل ظلم سے اور تم باز رہو اور میری بات تسلیم کرو، میں کوئی پرواہ نہیں کروں گا اس کو جو میرے اور تمہارے حسبوں میں سے کسی کے درمیان ہو کہ میں اس کے ساتھ چلوں جہاں تک تم پسند کرو پھر وہ معاملہ دیکھ لے جو میرے اور اس کے درمیان ہے، پس اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو! اور اپنے آپ کو مجھ سے روک کر خود پر میری مدد کرو اور میری جان پر میری مد دکرو نیکی کے حکم دینے ، برائی سے روکنے اور ان امور میں خیر خواہی چاہنے کیساتھ جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھے والی بنایا ہے۔ پھر آپ منبر سے اتر آئے۔ حضرت ابن مسیب نے فرمایا: آپ نے جوفرمایا وہ پورا کیا اور ایک مقام میں یہ اضافہ کیا: مشکوک اور ظالموں پر سختی ہو گی اور اہل حق جو بھی ہوں ان پر نرمی ہو گی۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنُ حَرْمَلَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← إبراهيمُ بنُ سليمانَ البُرلُّسيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو صادق محمد بن أبي الفوارس ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them · Hadith 348

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 349

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافُسِيُّ وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ بَيَّاعِ السَّابِرِي، عَنْ قَيْسٍ الخَارَفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، وَثَلَّثَ عُمَرُ ثُمَّ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ فَهُوَ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. وَكذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ وَقَالَ فِيهِ: يَعْفُو اللَّهُ عَمَّنْ يَشَاءُ

ابو علی حسین بن محمد الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو محمد عبداللہ بن عمر بن شوذب الواسطی نے ہم سے بیان کیا کہا شعیب بن ایوب نے ہم سے بیان کیا کہا یعلی بن عبدالطنافسی اور ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا وہ سفیان سے وہ قاسم بن کثیر سابری بیچنے والے سے وہ قیس حارثی سے آپ نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس منبر پر فرماتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے آئے دوسرے نمبر پر حضرت ابو بکر تیسرے پر عمر پھر ہمیں فتنہ پہنچا جواللہ تعالیٰ نے چاہا۔ ایسے ہی عبد خیر نے حضرت علی سے روایت کیا اور اس میں فرمایا: اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے معاف فرماتا ہے۔

عَلِيًّا ← قَيْسٌ الْخَارِفِيُّ، ← الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ بَيَّاعِ السَّابِرِي، ← سُفْيَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافُسِيُّ وَأَبُو نُعَيْمٍ، ← شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو محمد عبد الله بن عمر بن شوذب الواسطي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them · Hadith 349

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 350

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ , أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ , ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى , ثنا شِهَابٌ يَعْنِي ابْنَ خِرَاشٍ ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ضَرَبَ عَلْقَمَةُ هَذَا الْمِنْبَرِ وَقَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذكُرَهُ ثُمَّ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ نَاسًا يُفَضِّلونَنِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَلَوْ كُنْتُ تقَدَّمْتُ فِي ذَلِكَ لَعَاقَبْتُ فِيهِ وَلَكِنْ أَكْرَهُ الْعُقُوبَةَ قَبْلَ التَّقَدُّمِ، وَمَنْ قَالَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ مُفْترٍ، عَلَيْهِ مَا عَلَى [ص:362] الْمُفْتَرِي، إِنَّ خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَحْدَثْنَا بَعْدَهُمَا أَحْدَاثًا يَفْعلُ اللَّهُ فِيهَا، أَظُنُّهُ قَالَ: مَا أَحَبَّ. وَلِهَذَا شَوَاهِدُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرْنَاهَا فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ

علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن عبید الصفار نے ہمیں خبر دی کہا محمد ابن الفضل بن جابر نے ہم سے بیان کیا کہا حکم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے شہاب ابن خراش نے بیان کیا کہا ہم سے حجاج بن دینار نے بیان کیا وہ ابو معشر سے وہ حضرت ابراہیم نخعی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ اس منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: حضرت علی نے منبر پر خطبہ دیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور جو اللہ تعالیٰ آپ سے بیان کروانا چاہتا تھا آپ نے ذکر کیا پھر فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ لوگ مجھے حضرت ابو بکر وعمر پر فضیلت دیتے ہیں اگر میں اس میں آگے بڑھتا تو یقیناً مجھے عقاب ہوتا لیکن میں آگے بڑھنے سے پہلے عقوبت کو ناپسند کرتا ہوں اور جس نے اس بارے میں کچھ بھی کہا وہ بہتان باندھنے والا ہے اس کی وہی سزا ہے جو بہتان لگانے والے کی ہے۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد افضل حضرت ابو بکر وعمر ہیں اور ہم نے ان دونوں کے بعد ایسی چیز میں ایجاد کیں جن کے متعلق اللہ وہ کرتا ہے راوی نے کہا میرا خیال ہے آپ نے فرمایا۔جنہیں میں پسند نہیں کرتا۔ اس کے کئی شواہد ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جنہیں ہم نے کتاب الفضائل میں ذکر کیا ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ← شِهَابٌ يَعْنِي ابْنَ خِرَاشٍ ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them · Hadith 350

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 351

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوٍ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ , أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ , أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: لَمَّا وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعونَ وَيُصلُّونَ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ أَخَذَ بِمَنْكِبِي فَالْتفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ منكَ وَإِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكِ إِنْ كَنْتُ أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَإِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَهُمَا، وَرَوَاهُ أَيْضًا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ مُخْتَصَرًا

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس قاسم بن قاسم السیاری نے مرد میں ہمیں خبر دی کہا ابو الموجہ نے ہم سے بیان کیا کہا عبدان نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن مبارک نے ہمیں خبر دی وہ عمر و بن سعید سے وہ ابن ابوملیکہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ(شہادت کے بعد) تختے پر رکھے گئے تو لوگوں نے آپ کو گھیر لیا وہ آپ کے لیے دعا ورحمت کرنے لگے تو میرے دماغ کو صرف ایک آدمی نے متاثر کیا جس نے میرا کندھا پکڑا اچانک میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! اے عمر تو نے کسی کو اپنے پیچھے نہیں چھوڑا جو مجھے زیادہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو تیرے عمل کی طرح بنا ڈالے اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کیساتھ ملا دے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کرتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے :”میں، ابو بکرو عمر گئے‘‘اور’’ میں ابو بکر وعمر نکلے‘‘اور’’ میں ابو بکر وعمر داخل ہوئے‘‘ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان دونوں کیساتھ ملادے گا۔ اسے حضرت جعفر بن محمد بن علی نے اپنے باپ سے وہ جابر سے وہ حضرت علی سے مختصراً روایت کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أبو العباس القاسم بن القاسم السياري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them · Hadith 351

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 352

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الدَّامَغَانِيُّ، ثنا أَبُو مُصَعَبٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ هَاشِمِيًّا أَفْقَهَ مِنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ يَقُولُ وَهُوَ يَسْأَلُ: كَيْفَ كَانَتْ مَنْزِلَةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَبْرِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْزِلتُهُمَا مِنْهُ السَّاعَةَ وَرَوَاهُ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَقَالَ فِي الْجَوَابِ: كَمَنْزِلَتِهِمَا مِنْهُ السَّاعَةَ، هُمَا ضَجِيعَاهُ

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر محمد بن صالح بن ہانی نے ہم سے بیان کیا کہا ابو العباس احمد بن خالد دامغانی نے ہم سے بیان کیا کہا ابو مصعب زہری نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالعزیز بن ابو حازم نے ہم سے بیان کیا وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: میں نے حضرت علی بن حسین سے بڑا کسی ہاشمی کو فقیہ نہیں دیکھا میں نے حضرت علی بن حسین کو فرماتے ہوئے سنا جب کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حضرت ابو بکرو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مقام ومرتبہ کیا تھا ؟ آپ نے اپنے ہاتھ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس وقت جو مقام ومرتبہ ان کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ہے وہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں تھا۔ اسے یعقوب بن محمد زہری نے عبدالعزیز سے روایت کیا اس روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اس گھڑی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ان کا مرتبہ ہے ایسا ہی تھا کہ وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں لیٹے ہوئے ہیں۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الدَّامَغَانِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them · Hadith 352

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 353

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ , ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ , ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ , أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ , عَنْ عَامِرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ حِينَ طُعِنَ فَقُلْتُ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَسْلَمْتَ حِينَ كَفَرَ النَّاسُ وَجَاهَدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَذَلَهُ النَّاسُ وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ وَلَمْ يَخْتَلِفْ فِي خلَافتِكَ اثنَانِ، وَقُتِلْتَ شَهِيدًا، فَقَالَ: أَعِدْ عَلَيَّ، فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ: وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَوْ أَنَّ لِي مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ صَفْرَاءَ وَبَيْضاءَ لَافْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ هوْلِ الْمَطْلَعِ، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَوُلِّيتَ فَعَدَلْتَ. وَقَالَ فِيهِ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ مَصَّرَ بِكَ أَمْصَارَ وَدَفَعَ بِكَ النِّفَاقَ وَأَفْشَى بِكَ الرِّزْقَ، وَقَالَ فِيهِ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ مَرَّةً عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَرَّةً عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ: لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، وَصَحِبْتَ الْمُسْلِمِينَ فَأَحْسَنْتَ صُحبَتَهُمْ، وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ

محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا حسن بن یعقوب العدل نے ہمیں خبر دی کہا یحییٰ بن ابو طالب نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالوہاب بن عطا نے ہم سے بیان کیا کہا داؤد بن ابو ہند نے ہمیں خبر دی وہ عامر سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کیا گیا تو میں آپ کے پاس آیا اور کہا: اے امیر المؤمنین آپ کو جنت کی خوشخبری ہو ، آپ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب لوگوں نے کفر کیا ، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ جہاد کیا جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسوا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے اس حال میں گئے کہ وہ آپ سے راضی تھے اور آپ کی خلافت میں دو بندوں کا بھی اختلاف نہیں ہوا اور آپ شہید قتل ہونے والے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: یہ بات دوبارہ کہو تو میں نے دوبارہ یہ بات کہی تو آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں زمین پر جو زرد وسفید(خزانہ) ہے اگر وہ میرا ہوتا تو میں موت کی سختیوں کے بدلے میں اسے فدیہ میں دے دیتا۔ عامر کے علاوہ راوی نے حضرت ابن عباس سے اس روایت میں یہ اضافہ کیا: آپ والی بنے تو آپ نے عدل کیا۔ سماک حنفی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی اس میں آپ نے فرمایا: اے امیر المؤمنین آپ کو خوشخبری ہو! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے کئی شہر بسائے ، آپ کے سبب نفاق دور کیا ، آپ کے ذریعے رزق پھیلایا۔ابن ابی ملیکہ نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس سے اور ایک بار مسور بن مخرمہ سے راوی کہا کہ حضرت ابن عباس نے آپ سے فرمایا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختیار کی آپ صحبت میں اچھے رہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے جدا ہوئے جبکہ وہ آپ سے راضی تھے آپ مسلمانوں کیساتھ رہے تو ان کی صحبت میں آپ اچھے رہے اگر آپ ان سے جدا ہورہے ہیں تو وہ آپ یقیناً اس حال میں جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے راضی ہوں گے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them · Hadith 353

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him