Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 242

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرْزَةَ , ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ، يُحَدِّثُ طَاوُسًا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَا تَغْزُو؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ [ص:248] الزَّكَاةِ وَالْحَجِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ "

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: ابو محمد جناح بن نذیر بن جناح نے کوفہ میں ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن حازم بن ابو غرزہ نے ہم سے بیان کیا کہا عبداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہا حنظلہ بن ابو سفیان نے ہمیں خبر دی کہا میں نے عکرمہ بن خالد سے سنا وہ طاؤس سے حدیث بیان کر رہے تھے فرمایا کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آیا اس نے کہا اے ابو عبدالرحمٰن آپ جہاد نہیں کرتے تو آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← إِنِّي ← يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَا تَغْزُو؟ ← جاء رجل إلى ابن عمر ← طَاوُسًا ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 242

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 243

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، إِمْلَاءً بِبَغْدَادَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِيُّ , ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِيُّ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ , عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ , ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَبْدِيُّ , سَمِعْتُ ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ: «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُصَلِّي الْخَمْسَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، وَتُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا اثْنَتَانِ فَلَا أُطِيقُهُمَا، أَمَّا الزَّكَاةُ فَمَا لِي إِلَّا عَشْرٌ ذُودٌ هُنَّ رَسَلُ أَهْلِي وَحَمُولَتُهنَّ، وَأَمَّا الْجِهَادُ فَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ وَلَّى فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ فَأَخَافُ إِذَا حَضَرَنِي قِتَالٌ كَرِهْتُ وَجَشِعَتْ نَفْسِي، قَالَ: فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ يَدَهُ ثُمَّ حَرَّكهَا ثُمَّ قَالَ: «لَا صَدَقَةَ وَلَا جِهَادَ فَبِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟» قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُبَايِعُكَ فَبَايِعْنِي عَلَيْهِنَّ كُلِّهِنَّ

ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن محمد الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن سلیمان نے بغداد میں املاء کرواتے ہوئے ہمیں خبر دی کہا ہلال بن العلاء نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن جعفر الرقی نے بیان کیا کہا عبیداللہ بن عمرو الرقی نے ہم سے بیان کیا وہ زید بن ابو انیسہ سے وہ جبلہ ابن سحیم سے کہا ہم سے ابو المثنی العبدی نے بیان کیا کہا میں نے حضرت ابن الخصاصیہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس لیے آیا تاکہ اسلام پر آپ کی بیعت کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر یہ شرط لگائی :’’ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، تو پانچ نمازیں پڑھے ، رمضان کے روزے رکھے ،زکوٰۃ ادا کرے، بیت اللہ کا حج کرے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرے‘‘۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دو کی میں طاقت نہیں رکھتا(1) زکوٰۃ ادا کرنا کیونکہ میرے پاس صرف دس اونٹ ہیں جو میرے گھر والوں کی سواری اور بار برداری کے کام آتے ہیں(2) جہاد اس لیے کہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ جو میدان جنگ سے پیٹھ پھیرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے ساتھ لوٹتا ہے تو مجھے خوف ہے جب میں جنگ میں حاضر ہوں اور میں(موت کو) ناپسند کروں اور میرا نفس ڈر جائے کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ واپس لے لیا پھر اسے حرکت دی پھر فرمایا: ’’جب نہ صدقہ ہے نہ جہادتو کس عمل کے سبب جنت میں داخل ہو گا ؟‘‘ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں آپ سے بیعت کرتا ہوں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب امور پر میری بیعت کر لی۔

ابن الخصاصية ← أبو المثنى العبدى ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد الحافظ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 243

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 244

أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ , ثنا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي الرَّبَالِيَّ , ثنا بَهْزُ بْنَ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ , ثنا شُعْبَةُ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَبُوهُ، عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَقَالَ الْقَوْمُ: مَا لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُ [ص:249] أَرَبٌ مَا لَهُ» فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ ذَرْهَا» قَالَ: كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلتِهِ "

جنت میں داخل کرنے والا عمل : ابو الفتح ہلال بن محمد بن جعفر الحفار نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا حسین بن یحییٰ بن عباس القطان نے ہمیں خبر دی کہا حفص بن عمرو الربالی نے ہم سے بیان کیا کہا بہت بن اسد العمی نے ہم سے بیان کیا کہا شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن عثمان بن عبد اللہ بن موہب اور ان کے باپ عثمان بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا ان دونوں نے موسیٰ بن طلحہ کو بیان کرتے ہوئے سناوہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے ایسے عمل کی خبر دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے !لوگوں نے کہا اسے کیا ہو گیا ہے؟ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے چھوڑ دوا سے کیا حاجت درپیش ہے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کیساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، نماز قائم کر ، زکوٰۃ دے اور صلہ رحمی کر اللہ تجھے یہ عطا فرما دے گا‘‘۔ راوی نے کہا گویا کہ وہ اپنی سواری پر ہی تھا۔

أبي أيوب الأنصاري أن رجلا ← أَبُوهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَی بْنَ طَلْحَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← شُعْبَةُ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ ← حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي الرَّبَالِيَّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 244

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 245

حَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلُّوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ , ثنا أَبُو الْوَلِيدِ , ثنا شُعْبَةُ , قَالَ الْوَلِيدُ بْنِ الْعَيْزَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي صَاحِبُ، هَذِهِ الدَّارِ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . قَالَ وَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي

اللہ تعالیٰ کا سب سے پسندیدہ عمل: السید ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد العلوی نے ہم سے بیان کیا کہا ابو بکر محمد بن احمد بن دلویہ نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن اسماعیل البخاری نے ہم سے بیان کیا کہا ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہا ولید بن عیزار نے مجھے خبر دی کہا میں نے ابو عمرو شیبانی کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس گھر والے نے خبر دی اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا۔ آپ نے کہا میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب ہے؟ فرمایا: ”اپنے وقت میں نماز پڑھنا‘‘۔ میں نے کہا : پھر کونسا؟ فرمایا: ’’والدین کے ساتھ نیکی کرنا‘‘۔ میں نے کہا: پھر کون سا ؟ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا‘‘۔ ابو عمرو شیبانی نے کہا یہ باتیں آپ نے مجھے بتائیں اور کہا اگر میں اس سے زیادہ پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ بتائے۔

وَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي ← الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ← «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟، ← «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟، ← سَأَلْتُ النَّبِيَّ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللَّهِ ← صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَی دَارِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ← الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن دلويه ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 245

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 246

أَخْبرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ [ص:250] اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكبَائِرِ فَقَالَ: «الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ»

کبیرہ گناہ کون کون سے ہیں؟ انار ابو بکر محمد بن حسن بن فورک رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر نے ہمیں خبر دی کہا یونس بن حبیب نے ہم سے بیان کیا کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ عبداللہ بن ابو بکر سے وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک ٹھہرانا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، جان کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا فرمایا جھوٹی بات کہنا‘‘۔

قول الزور ← الكبائر فقال الإشراك بالله وعقوق الوالدين وقتل النفس وشهادة الزور أو ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ [ص:250] اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 246

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 247

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي الْغَيْثِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ»

سات ہلاک کرنے والے گناہ : الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا الربیع بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہا عبد اللہ بن وہب نے ہم سے بیان کیا کہا سلیمان بن بلال نے ہمیں خبر دی وہ ثور بن یزید سے وہ ابو الغیث سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو‘‘۔ عرض کی گئی: یارسول اللہ ! وہ چیزیں کیا ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، جادو کرنا، اللہ کی حرام کردہ جان کوقتل کرنا مگرحق کی وجہ سے، سود کھانا ، مال یتیم کھانا ،میدان جنگ سے پیٹھ دکھا کر بھاگنا اور پاک دامن بے خبر مؤمنہ عورتوں پر تہمت لگانا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْغَيْثِ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 247

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 248

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ , ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أنا مَعْمَرٌ , عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَسْرِقُ سَارِقٌ وَهُوَ حِينَ يَسْرِقُ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي زَانٍ وَهُوَ حِينَ يَزْنِي مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْحُدُودَ أَحَدُكُمْ - يَعْنِي الْخَمْرَ - وَهُوَ حِينَ يَشْرَبُهَا مُؤْمِنٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَنْتَهِبُ أَحَدُكُمْ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَغِلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغِلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ [ص:251] فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاكُمْ» قَالَ الشَّيْخُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّ هَذِهِ الْأَفعَالَ لَيْسَتْ مِنْ أَفْعَالِ مَنْ يَكُونُ مُؤْمِنًا مُسْتَكْمِلَ الْإِيمَانِ، وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَقُولُ: مِنَ اللَّهِ الْقَوْلُ وَعَلَى الرَّسُولِ الْبلَاغُ وَعَلَيْنَا التَّسْلِيمُ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانُوا يُجْرُونَ الْأَحَادِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا جَاءَتْ تَعْظِيمًا لِحُرُمَاتِ اللَّهِ وَلَا يَعُدُّونَ الذُّنُوبَ شِرْكًا وَلَا كُفْرًا

الفقیہ ابو طاہر نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر محمد بن حسین القطان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن یوسف السلمی نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہا معمر نے ہمیں خبر دی وہ ہمام بن منبہ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ کوئی چور حالت ایمان میں چوری نہیں کرتا ،کوئی زانی حالت ایمان میں زنانہیں کرتا، ہم میں سے کوئی شراب حالت ایمان میں نہیں پیتا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ واختیار میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اعلی چیز۔ جس کی طرف مؤمن نظریں اٹھا کر دیکھتے ہیں حالت ایمان میں نہیں لوٹتا اور تم میں سے کوئی خیانت حالت ایمان میں نہیں کرتا پس تم ان چیزوں سے بچو بچو!‘‘۔ امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ان افعال سے مراد یہ ہے کہ کامل ایمان والے مومن کے یہ افعال نہیں ہوتے۔ امام زہری رحمہ اللہ تعالیٰ فرمایا کرتے تھے:اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمان ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہنچانا اور ہم پر تسلیم کرنا لازم ہے۔ زہری فرماتے ہیں : علماءرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی احادیث کو ایسے ہی رکھتے تھے جیسے وہ آئی ہیں(اس میں تاویل نہیں کرتے تھے) اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم کے پیش نظر اور وہ گناہوں کو شرک و کفر شمار نہیں کرتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 248

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 249

أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، يَعْنِي ابْنَ خَلَّادٍ النَّصِيبِيَّ , ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ , (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيِّ بْنُ الصَّوَّافِ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ , ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَلَا أَيُّ شَهْرٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟» قَالُوا: شَهْرُنَا هَذَا، قَالَ: «أَيُّ بَلَدٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟» قَالُوا: بَلَدُنَا هَذَا، قَالَ: «أَتَعْلَمُونَ أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ؟» قَالُوا: يَوْمُنَا هَذَا، قَالَ: «فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي [ص:252] بلَدِكُمْ هَذَا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ - ثلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يُجِيبُونَهُ - أَلَا نَعَمْ»

ابو الفتح محمد بن احمد بن ابو الفوارس الحافظ نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا احمد بن یوسف ابن خلاد نصیبی نے ہمیں خبر دی کہا حارث بن محمد نے ہم سے بیان کیا یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف منتقل ہوئے اور کہا۔ ابو علی الصواف نے ہمیں خبر دی کہ محمد بن یحییٰ المروزی نے ہم سے بیان کیا کہا عاصم بن علی نے ہم سے بیان کیا کہا عاصم بن محمد نے ہم سے بیان کیا وہ واقد بن محمد سے راوی کہا میں نے اپنے باپ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعے پر ارشاد فرمایا: ”خبردار! کس مہینے کی حرمت تم سب سے بڑی جانتے ہو؟‘‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اس مہینے کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” کس شہر کی حرمت تم سب سے بڑی جانتے ہو؟‘‘ عرض کی : اس شہر کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیاتم جانتے ہو کہ سب سے بڑا دن کون سا ہے؟‘‘ عرض کی : یہ دن ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں اس طرح حرام کر دیں ہیں مگر اس کے حق کیساتھ جیسے تمہارے اس دن کی حرمت ہے تمہارے اس شہر میں، خبر دار کیا تم تک یہ بات پہنچ گئی‘‘ تین بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ہر ایک نے جواب دیا: جی ہاں۔

عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ← أَبِي وَهُوَ ← واقد بن محمد ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ← وأخبرنا أبو علي بن الصواف ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، يَعْنِي ابْنَ خَلَّادٍ النَّصِيبِيَّ ← أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ ببغداد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 249

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 250

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ , أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ , ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ , ثنا جَرِيرٌ , أَخْبَرَنَا سُهَيْلٌ، (ح) . وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ , أنا الشَّافِعِيُّ , أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ , عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ، الدِّينُ النَّصِيحَةُ، الدِّينُ النَّصِيحَةُ، لِلَّهِ وَلكِتَابِهِ وَلنَبِيِّهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمينَ وَعَامَّتِهِمْ»

دین خیر خواہی کا نام ہے: الفقیہ ابو طاہر نے ہمیں خبر دی کہا حاجب بن احمد نے ہمیں خبر دی کہا عبدالرحیم ابن منذر نے ہم سے بیان کیا کہا جریر نے ہم سے بیان کیا کہا سہیل نے ہمیں خبر دی۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف منتقل ہوئے اور کہا: الحافظ ابو عبداللہ نے دوسرے لوگوں میں ہمیں خبر دی سب نے کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ربیع بن سلیمان نے ہمیں خبر دی کہا امام شافعی نے ہمیں خبر دی کہا ابن عیینہ نے ہمیں خبر دی وہ سہیل بن ابو صالح سے وہ عطاء بن یزید اللیثی سے وہ حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” دین خیر خواہی کا نام ہے ، دین خیر خواہی کا نام ہے اور دین خیر خواہی کا نام ہے اللہ تعالیٰ ، اس کی کتاب اس کے نبی، مسلمانوں کے اماموں اور عام لوگوں کے لیے‘‘۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ ← سُهَيْلٍ، ← جَرِيرٌ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 250

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 251

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ , أنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ , أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ الْهَمْدَانِيُّ , حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ , عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلبَةَ الْخُشَنِيَّ فَقُلْتُ: كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ الْآيَةِ؟ قَالَ: أَيَّةُ آيَةٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَوْلُهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا [ص:253]، سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ وَرَأَيْتَ أَمْرًا لَا يُدَانُ لَكَ بِهِ فَعَلَيْكَ نَفْسَكَ وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَوَامِّ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكَ أَيَّامًا الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ كَأَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَأَمَّا مَا يَنُوبُ الْعِبَادَ مِنْ فُرُوعِ الْفرَائِضِ وَمَا يَخُصُّ مِنَ الْأَحْكَامِ وَغَيْرِهَا فَمَا لَيْسَ فِيهِ نَصُّ كِتَابٍ وَلَا فِي أَكْثَرِهِ نَصُّ سُنَّةٍ، وَإِنْ كَانَتْ فِي شَيْءٍ مِنْهُ سُنَّةٌ فَإِنَّمَا هِيَ مِنْ أَخْبَارِ الْخَاصَّةِ وَمَا كَانَ مِنْهُ يَحْتَمِلُ التَّأْوِيلَ وَيَسْتَدْرِكُ قِيَاسًا فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: هَذِهِ دَرَجَةٌ مِنَ الْعِلْمِ لَيْسَ يَبْلُغُهَا الْعَامَّةُ، وَإِذَا قَامَ بِهَا مِنْ خَاصَّتِهِمْ مَنْ فِيهِ الْكِفَايَةُ لَمْ يَخْرُجْ غَيْرُهُ مِمَّنْ تَرَكَهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، وَاحْتَجَّ فِي ذَلِكَ بِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِروا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ} [التوبة: 122] وَجَعَلَ مِثَالَ ذَلِكَ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالصَّلَاةَ عَلَى الْجِنَازَةِ وَدَفْنِهَا وَرَدِّ السَّلَامِ وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ فَرَائِضِ الْكِفَايَاتِ. وَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ، عَنِ الشَّافِعِيِّ فَذَكَرهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِذَا عَرَفَ الْعَبْدُ مَا تُعُبِّدَ بِهِ فَحَقَّ عَلَيْهِ أَنْ يَطْلُبَ [ص:254] مُوَافَقَةَ الْأَمْرِ فِيمَا تَعَبَّدَهُ بِهِ وَيُخْلِصُ لَهُ النِّيَّةَ فِيمَا يَعْملُهُ مَنَ الْعِبَادَاتِ وَيَدَعُهُ مِنَ الْمُنْكَرَاتِ حَتَّى يَكُونَ مُطِيعًا لِلْأَمْرِ مُمْتَثِلًا، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ} [البينة: 5] وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لَكلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»

الحافظ ابو عبداللہ نے دوسرے لوگوں میں ہمیں خبر دی سب نے کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا عباس بن ولید بن مزید نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن شعیب نے ہمیں خبر دی کہا عتبہ بن ابو الحکم الہمدانی نے ہمیں خبر دی کہا عمرو بن جاریہ اللخمی نے مجھ سے بیان کیا وہ ابوامام الشعبانی سے راوی آپ نے کہا کہ میں حضرت ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو میں نے کہا: آپ اس آیت سے کیا مراد لیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : کون سی آیت؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ (المائدہ:105) ترجمہ: اے ایمان والو تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا، جب کہ تم راہ پر ہو۔ آپ نے فرمایا: میں نے اس آیت کے متعلق خبر رکھنے والے سے سوال کیا میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’بلکہ تم نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخیل کی اطاعت کی جاتی ہے، خواہشات کی پیروی کی جاتی ہے ، دنیا کوترجیح دی جاتی ہے ، ہر رائے والا اپنی رائے پر فخر کرنے لگے اور تو ایسے امور دیکھے جنہیں روکنے کی تم میں طاقت نہیں تو اس وقت تو اپنے آپ کو بچانا اور عوام کے امر کو چھوڑ دینا کیونکہ تیرے بعد ایسے دن آئیں گے جن میں صبر کرنا انگارے کو مٹھی میں لینے کی طرح ہو گا اس وقت عمل کرنے والے کے لیے اسی کی مثل عمل کرنے والے پچاس آدمیوں کا اجر ہو گا‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فرائض کی فروعات میں سے بعض لوگ بعض کے نائب ہوتے ہیں اور احکام وغیرہ میں سے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہوجاتے ہیں جن کے بارے میں قرآن کی نص ہے ندان کے اکثریت کے متعلق سنت کی نص ہے اگرچہ ان میں سے بعض کے متعلق سنت آئی ہے تو یہ اخبار خاصہ ہیں ان میں سے کچھ تاویل کا احتمال اور قیاس کا استدراک رکھتی ہیں تو امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:علم کے اس درجے تک عام لوگ نہیں پہنچ سکتے جب اس کیساتھ لوگوں کے خاص لوگ کھڑے ہو جائیں جو ان کے لیے کافی ہوں تو ان میں سے دوسرے لوگ جنہوں نے اس امر کو ترک کیا تو اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ان پر کوئی جرح نہیں ہو گی اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے دلیل لی: ترجمہ: اور مسلمانوں سے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آ کر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں(التوبۃ:122) ۔ اور آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ ، نماز جناز ہ ،د فن میت ،سلام کا جواب دینا اور دیگر فرائض کفایہ کو اسی کی مثل قرار دیا۔یہ انہی باتوں میں سے ہے جن کی الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس نے بیان کیا کہا ہمیں ربیع نے خبر دی وہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں پھر یہی بات ذکر کی۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب بندے نے پہچان لیا کہ کس چیز کے ساتھ وہ عبادت کرے گا تو اس پر لازم ہے کہ وہ ان امور کی توفیق طلب کرے جن کیساتھ وہ عبادت کرے گا اور عبادات کے جن امور پر عمل کرے اس کے لیے نیت خالص کر لے اور ناپسندیدہ امور کو چھوڑ دے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے امر کا مطیع وفرمانبردار ہو جائے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے : وَمَآ اُمِرُوْٓ اِلّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ (البينة :5) ترجمہ: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نے اسی پر عقید ہ لاتے۔اعمال کا مدار نیت پر ہے: نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اعمال کا مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی تو جس نے ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہی ہے اور جس نے ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے کی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی‘‘۔

أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ ← عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ ← عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ الْهَمْدَانِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 251

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 252

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» فَذَكَرَهُ

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا یحییٰ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن ابراہیم نے ہمیں اس کی خبر دی کہ انہوں نے علقمہ بن وقاص سے سنا یہ کہتے ہوئے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اعمال کا مدار نیت پر ہے‘‘۔پھر یہ حدیث ذکر کی۔

«إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» فَذَكَرَهُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ← أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 252

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him