Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي مُرْتَكِبِي الْكَبَائِرِ · حديث 148

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، (ح) . وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ فَقَالَ: بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْآيَةَ، وَقَالَ [ص:187]: فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ

ہمیں ابو طاہر محمد بن محمد فقیہ نے خبر دی کہا ہمیں ابو حامد احمد بن محمد بن یحییٰ بن بلال نے خبر دی کہا ہم سے یحییٰ بن ربیع المکی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا پھر مصنف دوسری سند کی طرف پلٹے اور کہا ہمیں ابو زکریا بن ابو اسحاق اور ابو بکر بن حسن نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا: ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے خبر دی کہا ہمیں ربیع بن سلیمان نے خبر دی کہا ہمیں امام شافعی نے خبر دی کہا ہمیں سفیان بن عیینہ نے خبر دی وہ زہری سے وہ ابو ادریس سے وہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا : ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم مجھ سے اس امر پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نہ چوری کرو اور نہ زنا کرو‘‘ اور ان پر آیت تلاوت کی اور فرمایا : ” تم میں سے جو اس عہد کو پورا کرے گا اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے اور جو اس میں سے کسی چیز کو پہنچا پھر اس کے بدلے اسے سزا دی گئی تو یہ اس کا کفارہ ہو گا اور جو اس میں سے کسی چیز کو پہنچا پھر اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تو وہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے اگر چاہے تو بخش دے چاہے تو عذاب دے‘‘۔

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي مَجْلِسٍ، ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر بن الحسن ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلاَلٍ ← أبو طاهر محمد بن محمد الفقيه

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of those committing major commands · Hadith 148

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي مُرْتَكِبِي الْكَبَائِرِ · حديث 149

أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ،: أَنَّ رَجُلًا، مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمَخْدِجِيَّ سَمِعَ رَجُلًا، بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، قَالَ الْمَخْدِجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ، فَقَالَ عُبَادَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «صَلَوَاتٌ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ فَمَنْ جَاءَ بِهَا لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهَا شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ أَدْخلَهُ الْجَنَّةَ»

ہمیں ابو احمد عبداللہ بن محمد بن حسن مہرجانی نے خبر دی کہا ہمیں ابو بکر محمد بن جعفر المزکی نے خبر دی کہا ہم سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے مالک نے بیان کیا وہ یحییٰ بن سعید سے وہ محمد بن یحییٰ بن حیان سے وہ ابن محیریز سے روایت کرتے ہیں کہ بنو کنانہ کا ایک آدمی جسے مخدجی کے نام سے بلایا جاتا تھا اس نے شام کے ایک آدمی جس کو ابو محمد کے نام سے بلایا جاتا تھا کو کہتے ہوئے سنا: کہ وتر واجب ہے ،مخدجی نے کہا : میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا میں ان کی طرف متوجہ ہوا دراں حالانکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد کی طرف جا رہے تھے میں نے اس بات کی آپ کو خبر دی جسے ابو محمد نے کہا تھا تو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ابو محمد نے جھوٹ بولا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’ کچھ نمازیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بندوں پر فرض کیا جس نے ان کو ادا کیا اور ان کے حق کو ہلکا سمجھتے ہوئے ان میں سے کچھ بھی ضائع نہ کیا اس کا اللہ تعالیٰ کے ہاں عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے اور جوان کی ادائیگی نہ کرے اس کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عہد نہیں اگر چاہے تو عذاب دے چاہے تو جنت میں داخل کر دے‘‘۔

ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of those committing major commands · Hadith 149

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي مُرْتَكِبِي الْكَبَائِرِ · حديث 150

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:188] فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ قَالَ: «مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ»

دو واجب کرنے والیاں : ابو محمد جناح بن نذیر بن جناح نے کوفہ میں ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر محمد ابن علی بن دحیم نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن اسحاق قاضی نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا وہ اعمش سے وہ ابو سفیان سے وہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ایک آدمی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) دو واجب کرنے والی چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا : ” جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کیساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کیساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا تھا تو وہ دوزخ میں داخل ہو گا‘‘۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ [ص:188] فَقَالَ: ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ بِالْكُوفَةِ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of those committing major commands · Hadith 150

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي مُرْتَكِبِي الْكَبَائِرِ · حديث 151

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ مِنْ أَصْلِ الْإِيمَانِ، الْكَفُّ عَمَّنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا نُكَفِّرُهُ بِذَنْبٍ، وَلَا نُخْرِجُهُ مِنَ الْإِسْلَامِ بِعَمَلٍ، وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِي الدَّجَّالَ لَا يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ، وَالْإِيمَانُ بِالْأَقْدَارِ» . قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَلِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ شَوَاهِدُ ذَكَرْنَاهَا فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ وَفِي كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ وَعَلَى هَذَا دَرَجَ مَنْ مَضَى مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَأَتْبَاعِهِمْ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي كِتَابِ وَصِيَّتِهِ: وَجَعَلَ الْآخِرَةَ دَارَ قَرَارٍ وَجَزَاءٍ بِمَا عَمِلَ فِي الدُّنيَا مِنْ خَيْرٍ أَوْ شَرٍّ إِنْ لَمْ يُعْفِهِ جَلَّ ثَنَاؤُهُ، وَإِلَى مِثْلِ هَذَا ذَهَبَ فُقَهَاءُ الْأَمْصَارِ وَقَالُوا فِي آيَاتِ الْوَعِيدِ: إِنَّ ذَلِكَ جَزَاؤُهُ، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْ جَزَائِهِ فِيمَا دُونَ الشِّرْكِ فَعَلَ

تین چیزیں اصل ایمان سے ہیں : ہمیں ابو عبداللہ الحافظ نے خبر دی کہا ہمیں ابو بکر بن اسحاق نے خبر دی کہا بشر بن موسیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا وہ جعفر بن برقان سے وہ یزید بن ابی شیبہ سے وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” تین چیزیں اصل ایمان سے ہیں : جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس سے ہاتھ روک لینا ہم کسی گناہ کی وجہ سے کسی کو کافر قرار نہیں دیتے اور نہ ہی کسی عمل کی وجہ سے اسلام سے خارج کرتے ہیں اور جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا جہاد جاری ہے یہاں تک کہ میرا آخری امتی دجال سے قتال کرے گا کسی ظالم کا ظلم اسے باطل کر سکتا ہے نہ کسی عادل کا عدل اور تقدیر پر ایمان لانا‘‘۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان احادیث کے کئی اور شواہد ہیں جنہیں ہم نے کتاب الایمان اور کتاب البعث والنشور میں ذکر کیا ہے اور صحابہ و تابعین اور ان کے اتباع اہل السنہ میں سے اسی عقیدے پر گزرے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کتاب الوصیۃ میں فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آخرت کو دار قرار بنایا اور دنیا میں جو خیر وشر میں عمل کیا اس کا وہ بدلہ دے گا اگر اللہ تعالیٰ جل ثناؤہ اسے معاف نہ کرے اسی بات کی طرف تمام شہروں کے فقہاء کرام گئے ہیں اور انہوں نے آیات وعید کے متعلق کہا : یہ اس کا بدلہ ہے اگر چاہے تو اللہ تعالیٰ ان کے بدلے سے معاف کرنا چاہے شرک کے علاو و تو وہ کرے گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of those committing major commands · Hadith 151

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي مُرْتَكِبِي الْكَبَائِرِ · حديث 152

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، فِي [ص:189] قَوْلِهِ {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: 93] قَالَ هِيَ جَزَاؤُهُ، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنْ جَزَائِهِ فَعَلَ

ہمیں ابو علی روذ باری نے خبر دی کہا ہمیں ابو بکر بن داسہ نے خبر دی کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا وہ سلیمان تیمی سے وہ ابو مجلز سے روایت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق : وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہَ جَھَنَّمُ (النساء:93) ترجمہ: اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے۔ فرمایا: یہ اس کی جزاء ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کی جزاء سے درگزر کرنا چاہے تو وہ کر سکتا ہے۔

جَزَائِهِ فَعَلَ. ← هي جزاؤه فإن شاء الله أن يتجاوز ← أَبِي مِجْلَزٍ، فِي [ص:189] قَوْلِهِ {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of those committing major commands · Hadith 152

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي مُرْتَكِبِي الْكَبَائِرِ · حديث 153

أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِيُّ، فِي آخَرِينَ قَالُوا، أنا أَبُو عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ ثنا الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: 93] حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ قَالَ: فَغَضِبَ مُحَمَّدٌ وَقَالَ: أَيْنَ أَنْتَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرِكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48] قُمْ عَنِّي، اخْرُجْ عَنِّي، قَالَ: فَأُخْرِجَ

امام ابن سیرین کا ایک بدعتی کومجلس سے نکالنا : ہمیں ابو القاسم عبدالرحمٰن بن احمد بن علی بن حمدان الفارسی اور دوسرے لوگوں نے خبر دی کہا ابو عمرو السلمی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو مسلم انصاری نے خبر دی کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا کیا ہم محمد بن سیرین کے پاس تھے کہ ایک آدمی نے آپ سے کہا اللہ نے فرمایا: وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآوُّہَ جَھَنَّمُ خَالِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّلَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا (النساء:93) ترجمہ: اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے تیار رکھا بڑا عذاب۔ راوی نے کہا امام محمد بن سیرین غصے میں آ گئے اور فرمایا: تو اس آیت سے کہا چلا گیا (یعنی اس آیت کو تو نے کیوں چھوڑ دیا): اِنَّ لَایَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ (النساء:48) ترجمہ: بے شک اللہ اسے نہیں بخشا کہ اس کیساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔اٹھ ! میرے پاس سے نکل جا!۔

فَأُخْرِجَ ← هَذِهِ الْآيَةِ قُمْ عَنِّي، اخْرُجْ عَنِّي، ← أَيْنَ أَنْتَ؟ ← فَغَضِبَ مُحَمَّدٌ ← لَهُ رَجُلٌ حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ ← كُنَّا عِنْدَ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← الْأَنْصَارِيُّ، ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَبُو عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، ← أبو القاسم عبد الرحمن بن علي بن حمدان الفارسي في آخرين

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of those committing major commands · Hadith 153

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي مُرْتَكِبِي الْكَبَائِرِ · حديث 154

وَرَوَى حَرْبُ بْنُ سُرَيْجٍ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَازِلْنَا نُمْسِكُ، عَنِ الِاسْتِغْفَارِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ حَتَّى سَمِعْنَا مِنْ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ» وَأَنَّهُ قَالَ «إِنِّي ادَّخَرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قَالَ: فَأَمْسَكْنَا عَنْ كَثِيرٍ مِمَّا كَانَ فِي أَنْفُسِنَا وَنَطَقْنَا بِهِ وَرَجَوْنَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا حَرْبُ بْنُ سُرَيْجٍ الْمِنْقَرِيُّ فَذَكَرَهُ وَرَوَى فِيهِ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَا يَكُونُ شَاهِدًا لِرِوَايَةِ حَرْبٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

حرب بن سریج المنقری نے روایت کی کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا وہ نافع سے وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : ہمیشہ ہم اہل کبائر کے لیے استغفار کیا کرتے تھے حتٰی کہ ہم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ :اللہ لا یغفر ان یشرک بہ... الایہ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’میں نے دعا کو بچا کر رکھا ہے اپنی امت کے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے کی شفاعت کے لیے قیامت کے دن‘‘۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں : پھر ہم بہت سی باتوں سے رک گئے جو ہمارے جانوں میں تھی اور جن کی ہم نے گفتگو کی اور ہم نے اس(باری تعالیٰ) سے امید رکھی۔ ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے اسماعیل بن اسحاق نے بیان کیا کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا کہا ہم سے حرب بن سریج المنقری نے بیان کیا۔ پھر یہی حدیث ذکر کی۔ اور اس بارے میں مقاتل بن حیان سے روایت کی گئی وہ نافع سے وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں اور مقاتل بن حیان بکر بن عبداللہ سے وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہی مفہوم جو حرب کی روایت کا شاہد ہے۔ واللہ اعلم !

مِنْ، نَبِيِّنَا ← الِاسْتِغْفَارِ، لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ، حَتَّى ← مَازِلْنَا نُمْسِكُ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← وَرَوَى حَرْبُ بْنُ سُرَيْجٍ الْمِنْقَرِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of those committing major commands · Hadith 154

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي مُرْتَكِبِي الْكَبَائِرِ · حديث 155

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ: يَا بُنَيَّ ارْجُ اللَّهَ رَجَاءً لَا تَأْمَنُ فِيهِ مَكْرَهُ، وَخَفِ اللَّهَ مَخَافَةً لَا تَيْأَسُ فِيهَا مِنْ رَحْمَتِهِ. قَالَ: يَا أَبَتَاهُ، وَكَيْفَ أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ وَإِنَّمَا لِي قَلْبٌ وَاحِدٌ؟ قَالَ: الْمُؤْمِنُ كَذَا لَهُ قَلْبَانِ قَ‍لْبٌ يَرْجُو بِهِ، وَقَلْبٌ يَخَافُ بِهِ

حضرت حکیم لقمان رحمۃ اللہ علیہ کی اپنے بیٹے کو نصیحت : ابو محمد حسن بن علی بن المؤمل نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو عثمان عمرو بن عبداللہ البصری نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبدالوہاب نے بیان کیا کہا ہمیں جعفر بن عون نے خبر دی کہا ہمیں مسعودی نے خبر دی وہ عون بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا: اے بیٹے ! اللہ تعالیٰ سے کامل امید رکھ !(کیونکہ) اس بارے میں اس کی خفیہ تدبیر سے امن نہیں اور اللہ تعالیٰ کا کامل خوف رکھ! اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ، بیٹے نے کہا: اے ابا جان ! میں اس کی طاقت کیسے رکھ سکتا ہوں میرا تو ایک ہی دل ہے فرمایا: مومن کے اسی طرح دو دل ہوتے ہیں ایک دل سے وہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہے اور دوسرے سے وہ اس سے خوف رکھتا۔

عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of those committing major commands · Hadith 155

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him