الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 94
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ {قَالَ أَتعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ} [الصافات: 95] قَالَ: الْأَصْنَامُ {وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا [ص:143] تَعْمَلُونَ} [الصافات: 96] قَالَ: خَلَقَكُمْ وَخَلَقَ مَا تَعْمَلُونَ بِأَيْدِيكُمْ قُلْنَا: وَلِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: {وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} [الأنعام: 101] فَامْتَدَحَ بِالْقَوْلَيْنِ جَمِيعًا، فَكَمَا لَا يَخْرُجُ شَيْءٌ مِنْ عِلْمِهِ لَا يَخْرُجُ شَيْءٌ غَيْرُهُ مِنْ خَلْقِهِ، وَلِأَنَّهُ قَالَ: {وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ} [الملك: 14] فَأَخْبَرَ أَنَّ قَوْلَهُمْ وَسِرَّهُمْ وَجَهْرَهُمْ خَلَقَهُ وَهُوَ بِجَمِيعِ ذَلِكَ عَلِيمٌ. وَقَالَ: {وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى} [النجم: 43] كَمَا قَالَ: {وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا} [النجم: 44] فَكَمَا كَانَ مُمِيتًا مُحْيِيًا بِأَنْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ كَانَ مُضْحِكًا مُبْكِيًا بِأَنْ خَلَقَ الضَّحِكَ وَالْبُكَاءَ، وَقَدْ يَضْحَكُ الْكَافِرُ سُرُورًا بِقَتْلِ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مِنْهُ كُفْرٌ، وَقَدْ يَبْكِي حُزْنًا بِظُهُورِ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مِنْهُ كُفْرٌ، فَثَبَتَ أَنَّ الْأَفْعَالَ كُلَّهَا خَيْرَهَا وَشَرَّهَا صَادِرَةٌ عَنْ خَلْقِهِ وَإِحْدَاثِهِ إِيَّاهَا؛ وَلِأَنَّهُ قَالَ: {فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى} [الأنفال: 17] وَقَالَ: {أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} [الواقعة: 64] فَسَلَبَ عَنْهُمْ فِعْلَ الْقَتْلِ وَالرَّمْيِ وَالزَّرْعِ مَعَ مُبَاشَرَتِهِمْ إِيَّاهُ، وَأَثْبَتَ فِعْلَهَا لِنَفْسِهِ لِيَدُلَّ بِذَلِكَ عَلَى أَنَّ الْمَعْنَى الْمُؤَثِّرَ فِي وُجُودِهَا بَعْدَ عَدَمِهَا هُوَ إِيجَادُهُ وَخَلْقُهُ، وَإِنَّمَا وُجِدَتْ مِنْ عِبَادِهِ مُبَاشَرَةُ تِلْكَ الْأَفْعَالِ بِقُدْرَةٍ حَادِثَةٍ أَحْدَثَهَا خَالِقُنَا عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَرَادَ فَهِيَ مِنَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ خَلْقٌ عَلَى مَعْنَى أَنَّهُ هُوَ الَّذِي اخْتَرَعَهَا بِقُدْرَتِهِ الْقَدِيمَةِ وَهِيَ مِنْ عِبَادِهِ [ص:144] كَسْبٌ عَلَى مَعْنَى تَعَلُّقِ قُدْرَةٍ حَادِثَةٍ بِمُبَاشَرَتِهِمُ الَّتِي هِيَ أَكْسَابُهُمْ وَوُقُوعُ هَذِهِ الْأَفْعَالِ أَوْ بَعْضِهَا عَلَى وُجُوهٍ تُخَالِفُ قَصْدَ مُكْتَسِبِهَا يَدُلُّ عَلَى مُوقِعٍ أَوْقَعَهَا عَلَى مَا أَرَادَ غَيْرِ مُكْتَسِبِهَا وَهُوَ اللَّهُ ربُّنَا خَلَقَنَا، وَخَلَقَ أَفْعَالَنَا لَا شَرِيكَ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ. وَكَانَ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ يُعَبِّرُ عَنْ هَذَا بِعِبَارَةٍ حَسَنَةٍ، فَيَقُولُ فِعْلُ الْقَادِرِ الْقَدِيمِ خَلْقٌ وَفِعْلُ الْقَادِرِ الْمُحْدَثِ كَسْبٌ فَتَعَالَى الْقَدِيمُ عَنِ الْكَسْبِ وَجَلَّ وَصَغُرَ الْمُحْدَثُ عَنِ الْخَلْقِ وَذَلَّ، وَقَدْ أَثْبَتَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ كَسْبَ الْعِبَادِ وَخَلْقَهُ كَسْبَهُمْ بِمَا ذَكَرْنَا مِنَ الْآيَاتِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ، وَفِي كِتَابِ الْقَدَرِ مِمَّا لَمْ نَذْكُرْهُ هَاهُنَا، وَبِمِثْلِ ذَلِكَ جَاءَتِ السُّنَّةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبیداللہ بن منادی نے بیان کیا کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا وہ قتادہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان :اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ (الصافات: 95) ترجمہ: کیا اپنے ہاتھ کے تراشوں کو پوجتے ہو۔ کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے کہا : اس سے مراد بت ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ کے بارے میں فرمایا: اس یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اور جو تم اپنے ہاتھوں سے عمل کرتے ہواسے پیدا فرمایا۔ ہم نے کہا ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ (انعام:101) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں(یعنی تخلیق وعلم) کی اکٹھے مدح فرمائی لہٰذا جیسے اس کے علم سے کوئی چیز خارج نہیں ایسے ہی اس کے علاوہ کوئی چیز اس کی تخلیق سے خارج نہیں۔ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے وہ تو دلوں کو جانتا ہے کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا۔ (الملک:14،13) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ لوگوں کی گفتگو اور ان کا پوشیدہ اور ظاہر اس(اللہ عزوجل) نے اسے پیدا فرمایا ہے وہ ان تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا۔ (النجم:43) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: اور یہ کہ وہی ہے جس نے مارا اور زندہ کیا۔ (النجم:44) جیسا وہ موت و زندگی دینے والا ہے کہ اس نے موت وحیات کو پیدا فرمایا ایسے ہی وہ ہنسانے اور رلانے والا ہے کہ ہنسنا اور رونا اس نے پیدا کیا اور کبھی وہ مسلمانوں کے قتل کے ذریعے کافر کوخوش کر کے ہنساتا ہے اور حالانکہ وہ اس سے کافر اور کبھی مسلمانوں کے غلبہ کے ذریعے انہیں غمگین کر کے رلاتا ہے اور وہ اس سے کافر ہوا، لہٰذا ثابت ہو گیا کہ تمام کے تمام افعال خیرو شر جوصادر ہونے والے ہیں وہ اسی کی تخلیق وایجاد سے ہیں۔ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے یہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔ (الانفال:17) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: کیا تم اس کھیتی کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں۔ (الواقعۃ :64) پس اللہ تعالیٰ نے ان سے فعل قتل ، رمی اور زرع کو اپنی طرف منسوب کیا باوجود یکہ یہ کام کر نے والے لوگ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا فعل اپنے لیے ثابت فرمایا تاکہ یہ اس بات پر دلیل ہو جائے کہ ان کے عدم کے بعد وجود میں معنی مؤثر وہ اللہ تعالیٰ کی ایجاد و تخلیق ہے اور یہ فعل بندوں کی طرف سے پایا گیا کیونکہ وہ ان افعال کے مباشر(سرانجام دینے والے) ہیں ایسی قدرت کیساتھ جو پیدا ہوئی تھی جیسے ہمارے خالق اللہ تعالیٰ عزوجل نے پیدا کیا اس کے مطابق جس کا بندے نے ارادہ کیا پس یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے تخلیق ہے اس معنی پر کہ اسی نے اپنی قدرت قدیمہ کیساتھ اسے پیدا فرمایا اور یہ بندوں کی طرف سے کسب ہے اس معنی کے اعتبار سے کہ اس کا تعلق ہے ایسی قدرت کیساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے فعل سر انجام دیتے وقت پیدا کیا تھا ان کا یہ فعل سر انجام دینا ہی ان کا کسب ہے۔ ان افعال کا واقع ہونا یا بعض کا کسب کرنے والے کے ارادے کے مخالف صورتوں میں واقع ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں کسب کر نے والے کے علاوہ کے ارادے کے مطابق واقع کیا گیا ہے وہ اللہ ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے جس نے ہمیں پیدا کیا اور ہمارے افعال کو پیدا کیا مخلوق میں کوئی بھی چیز اس کی شریک نہیں(اس نے اپنے ارادے کے مطابق یہ فعل سرانجام دیا) اللہ تمام جہانوں کا پروردگار برکت والا ہے۔ امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان اسی بات کو ایک حسین عبارت میں تعبیر کرتے ہوئے کہتے تھے : قادر قدیم(اللہ تعالیٰ) کافعل خلق(تخلیق) ہے اور حادث قادر کا فعل کسب ہے پس قدیم ،کسب سے بہت بلند و بالا ہے اور حادث خلق سے بہت چھوٹا اور ذلیل ہے۔ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بندوں کے کسب کو ثابت کیا اور ان کے کسب کو پیدا کیا ان آیات میں جو ہم نے اس مقام پر ذکر کی ہیں اور کتاب القدر میں ذکر کیں ان میں سے کچھ کو ہم نے یہاں ذکرنہیں کیا اسی کی مثل کیساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنت مروی ہیں۔
قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ ← شَيْبَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 94
