Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 94

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ {قَالَ أَتعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ} [الصافات: 95] قَالَ: الْأَصْنَامُ {وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا [ص:143] تَعْمَلُونَ} [الصافات: 96] قَالَ: خَلَقَكُمْ وَخَلَقَ مَا تَعْمَلُونَ بِأَيْدِيكُمْ قُلْنَا: وَلِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: {وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} [الأنعام: 101] فَامْتَدَحَ بِالْقَوْلَيْنِ جَمِيعًا، فَكَمَا لَا يَخْرُجُ شَيْءٌ مِنْ عِلْمِهِ لَا يَخْرُجُ شَيْءٌ غَيْرُهُ مِنْ خَلْقِهِ، وَلِأَنَّهُ قَالَ: {وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ} [الملك: 14] فَأَخْبَرَ أَنَّ قَوْلَهُمْ وَسِرَّهُمْ وَجَهْرَهُمْ خَلَقَهُ وَهُوَ بِجَمِيعِ ذَلِكَ عَلِيمٌ. وَقَالَ: {وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى} [النجم: 43] كَمَا قَالَ: {وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا} [النجم: 44] فَكَمَا كَانَ مُمِيتًا مُحْيِيًا بِأَنْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ كَانَ مُضْحِكًا مُبْكِيًا بِأَنْ خَلَقَ الضَّحِكَ وَالْبُكَاءَ، وَقَدْ يَضْحَكُ الْكَافِرُ سُرُورًا بِقَتْلِ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مِنْهُ كُفْرٌ، وَقَدْ يَبْكِي حُزْنًا بِظُهُورِ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مِنْهُ كُفْرٌ، فَثَبَتَ أَنَّ الْأَفْعَالَ كُلَّهَا خَيْرَهَا وَشَرَّهَا صَادِرَةٌ عَنْ خَلْقِهِ وَإِحْدَاثِهِ إِيَّاهَا؛ وَلِأَنَّهُ قَالَ: {فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى} [الأنفال: 17] وَقَالَ: {أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} [الواقعة: 64] فَسَلَبَ عَنْهُمْ فِعْلَ الْقَتْلِ وَالرَّمْيِ وَالزَّرْعِ مَعَ مُبَاشَرَتِهِمْ إِيَّاهُ، وَأَثْبَتَ فِعْلَهَا لِنَفْسِهِ لِيَدُلَّ بِذَلِكَ عَلَى أَنَّ الْمَعْنَى الْمُؤَثِّرَ فِي وُجُودِهَا بَعْدَ عَدَمِهَا هُوَ إِيجَادُهُ وَخَلْقُهُ، وَإِنَّمَا وُجِدَتْ مِنْ عِبَادِهِ مُبَاشَرَةُ تِلْكَ الْأَفْعَالِ بِقُدْرَةٍ حَادِثَةٍ أَحْدَثَهَا خَالِقُنَا عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَرَادَ فَهِيَ مِنَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ خَلْقٌ عَلَى مَعْنَى أَنَّهُ هُوَ الَّذِي اخْتَرَعَهَا بِقُدْرَتِهِ الْقَدِيمَةِ وَهِيَ مِنْ عِبَادِهِ [ص:144] كَسْبٌ عَلَى مَعْنَى تَعَلُّقِ قُدْرَةٍ حَادِثَةٍ بِمُبَاشَرَتِهِمُ الَّتِي هِيَ أَكْسَابُهُمْ وَوُقُوعُ هَذِهِ الْأَفْعَالِ أَوْ بَعْضِهَا عَلَى وُجُوهٍ تُخَالِفُ قَصْدَ مُكْتَسِبِهَا يَدُلُّ عَلَى مُوقِعٍ أَوْقَعَهَا عَلَى مَا أَرَادَ غَيْرِ مُكْتَسِبِهَا وَهُوَ اللَّهُ ربُّنَا خَلَقَنَا، وَخَلَقَ أَفْعَالَنَا لَا شَرِيكَ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ. وَكَانَ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ يُعَبِّرُ عَنْ هَذَا بِعِبَارَةٍ حَسَنَةٍ، فَيَقُولُ فِعْلُ الْقَادِرِ الْقَدِيمِ خَلْقٌ وَفِعْلُ الْقَادِرِ الْمُحْدَثِ كَسْبٌ فَتَعَالَى الْقَدِيمُ عَنِ الْكَسْبِ وَجَلَّ وَصَغُرَ الْمُحْدَثُ عَنِ الْخَلْقِ وَذَلَّ، وَقَدْ أَثْبَتَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ كَسْبَ الْعِبَادِ وَخَلْقَهُ كَسْبَهُمْ بِمَا ذَكَرْنَا مِنَ الْآيَاتِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ، وَفِي كِتَابِ الْقَدَرِ مِمَّا لَمْ نَذْكُرْهُ هَاهُنَا، وَبِمِثْلِ ذَلِكَ جَاءَتِ السُّنَّةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبیداللہ بن منادی نے بیان کیا کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا وہ قتادہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان :اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ (الصافات: 95) ترجمہ: کیا اپنے ہاتھ کے تراشوں کو پوجتے ہو۔ کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے کہا : اس سے مراد بت ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ کے بارے میں فرمایا: اس یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اور جو تم اپنے ہاتھوں سے عمل کرتے ہواسے پیدا فرمایا۔ ہم نے کہا ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ (انعام:101) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں(یعنی تخلیق وعلم) کی اکٹھے مدح فرمائی لہٰذا جیسے اس کے علم سے کوئی چیز خارج نہیں ایسے ہی اس کے علاوہ کوئی چیز اس کی تخلیق سے خارج نہیں۔ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے وہ تو دلوں کو جانتا ہے کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا۔ (الملک:14،13) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ لوگوں کی گفتگو اور ان کا پوشیدہ اور ظاہر اس(اللہ عزوجل) نے اسے پیدا فرمایا ہے وہ ان تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا۔ (النجم:43) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: اور یہ کہ وہی ہے جس نے مارا اور زندہ کیا۔ (النجم:44) جیسا وہ موت و زندگی دینے والا ہے کہ اس نے موت وحیات کو پیدا فرمایا ایسے ہی وہ ہنسانے اور رلانے والا ہے کہ ہنسنا اور رونا اس نے پیدا کیا اور کبھی وہ مسلمانوں کے قتل کے ذریعے کافر کوخوش کر کے ہنساتا ہے اور حالانکہ وہ اس سے کافر اور کبھی مسلمانوں کے غلبہ کے ذریعے انہیں غمگین کر کے رلاتا ہے اور وہ اس سے کافر ہوا، لہٰذا ثابت ہو گیا کہ تمام کے تمام افعال خیرو شر جوصادر ہونے والے ہیں وہ اسی کی تخلیق وایجاد سے ہیں۔ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے یہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔ (الانفال:17) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: کیا تم اس کھیتی کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں۔ (الواقعۃ :64) پس اللہ تعالیٰ نے ان سے فعل قتل ، رمی اور زرع کو اپنی طرف منسوب کیا باوجود یکہ یہ کام کر نے والے لوگ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا فعل اپنے لیے ثابت فرمایا تاکہ یہ اس بات پر دلیل ہو جائے کہ ان کے عدم کے بعد وجود میں معنی مؤثر وہ اللہ تعالیٰ کی ایجاد و تخلیق ہے اور یہ فعل بندوں کی طرف سے پایا گیا کیونکہ وہ ان افعال کے مباشر(سرانجام دینے والے) ہیں ایسی قدرت کیساتھ جو پیدا ہوئی تھی جیسے ہمارے خالق اللہ تعالیٰ عزوجل نے پیدا کیا اس کے مطابق جس کا بندے نے ارادہ کیا پس یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے تخلیق ہے اس معنی پر کہ اسی نے اپنی قدرت قدیمہ کیساتھ اسے پیدا فرمایا اور یہ بندوں کی طرف سے کسب ہے اس معنی کے اعتبار سے کہ اس کا تعلق ہے ایسی قدرت کیساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے فعل سر انجام دیتے وقت پیدا کیا تھا ان کا یہ فعل سر انجام دینا ہی ان کا کسب ہے۔ ان افعال کا واقع ہونا یا بعض کا کسب کرنے والے کے ارادے کے مخالف صورتوں میں واقع ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں کسب کر نے والے کے علاوہ کے ارادے کے مطابق واقع کیا گیا ہے وہ اللہ ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے جس نے ہمیں پیدا کیا اور ہمارے افعال کو پیدا کیا مخلوق میں کوئی بھی چیز اس کی شریک نہیں(اس نے اپنے ارادے کے مطابق یہ فعل سرانجام دیا) اللہ تمام جہانوں کا پروردگار برکت والا ہے۔ امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان اسی بات کو ایک حسین عبارت میں تعبیر کرتے ہوئے کہتے تھے : قادر قدیم(اللہ تعالیٰ) کافعل خلق(تخلیق) ہے اور حادث قادر کا فعل کسب ہے پس قدیم ،کسب سے بہت بلند و بالا ہے اور حادث خلق سے بہت چھوٹا اور ذلیل ہے۔ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بندوں کے کسب کو ثابت کیا اور ان کے کسب کو پیدا کیا ان آیات میں جو ہم نے اس مقام پر ذکر کی ہیں اور کتاب القدر میں ذکر کیں ان میں سے کچھ کو ہم نے یہاں ذکرنہیں کیا اسی کی مثل کیساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنت مروی ہیں۔

قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ ← شَيْبَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 94

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 95

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِميُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ اللَّهَ يَصْنَعُ كُلَّ صَانِعٍ وَصَنْعَتُهُ»

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو النضر الفقیہ نے خبر دی کہا ہم سے عثمان بن سعید الدارمی نے بیان کیا کہا ہم سے علی بن المدینی نے بیان کیا کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا کہا ہم سے ابو ما لک اشجعی نے بیان کیا وہ ربعی بن خراش سے وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کا پیدا کرنے والا ہے۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 95

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 96

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، ح وأنا أَبُو عَبْدُ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْخَيْرُ وَالشَّرُّ خَلِيقَتَانِ يُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ خَلِيقَتَانِ يُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيَعِدُ أَهْلَهُ الْخَيْرَ وَيُمَنِّيهِ، وَأَمَّا الْمُنْكَرُ [ص:145] فَيَقُولُ إِلَيْكُمْ، وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُ إِلَّا لُزُومًا»

خیر وشر اللہ تعالیٰ کی دو مخلوق ہیں: ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں عبداللہ بن جعفر اصبہانی نے خبر دی کہا ہم سے یونس بن حبیب نے بیان کیا کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف گئے چنانچہ کہا: ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر بن اسحاق نے خبر دی کہا ہمیں محمد بن عیسیٰ بن السکن الواسطی نے خبر دی کہا ہم سے قواریری نے بیان کیا کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا وہ قتادہ سے وہ حسن سے وہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”خیر وشر دونوں پیدا کی گئی ہیں قیامت کے دن ان دونوں کولوگوں کے لیے کھڑا کیا جائے گا‘‘۔ امام ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ بھلائی اور برائی یہ دونوں پیدا کی گئی ہیں قیامت کے دن لوگوں کے لیے ان دونوں کے لیے کھڑا کیا جائے پس نیکی اپنے ساتھی کے لیے خیر(جنت) تیار ومقدر کرے گی اور برائی کہے گی: تم مجھ سے دور رہو اور وہ اس کیساتھ چمٹی رہے گی‘‘۔

الْخَيْرُ وَالشَّرُّ خَلِيقَتَانِ يُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ ← أبي موسى أن نبي الله ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 96

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 97

أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الدَّامَغَانِيُّ نَزِيلُ بَيْهَقَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ الْجُرْجَانِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الرَّهَاوِيِّ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْكَلَاعِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا خَلَقْتُ الْخَيْرَ وَقَدَّرْتُهُ فَطُوبَى لِمَنْ خَلَقْتُهُ لِلخَيْرِ وَخَلَقْتُ الْخَيْرَ لَهُ وَأَجْرَيْتُ الْخَيْرَ عَلَى يَدَيْهِ أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا خَلَقْتُ الشَّرَّ وَقَدَّرْتُهُ فَوَيْلٌ لِمَنْ خَلَقْتُ الشَّرَّ لَهُ وَخَلَقْتُهُ لِلشَّرِّ وَأَجْرَيْتُ الشَّرَّ عَلَى يَدَيْهِ " وَأَمَّا مَا رُوِيَ فِي حَدِيثِ دُعَاءِ الِاسْتِفْتَاحِ: الْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ «فَإِنَّمَا مَعْنَاهُ الْإِرْشَادُ إِلَى اسْتِعْمَالِ الْأَدَبِ فِي الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَدْحِ لَهُ بِأَنْ يُضَافَ إِلَيْهِ مَحَاسِنُ الْأُمُورِ دُونَ مَسَاوِيهَا، وَلَمْ يَقْصِدْ بِهِ إِدْخَالَ شَيْءٍ فِي قُدْرَتِهِ وَنَفْيِ ضِدِّهِ عَنْهُ، فَقَدْ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ» وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ «وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ» وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ " وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ يَهْدِي قَوْمًا دُونَ قَوْمٍ وَيَعْصِمَ قَوْمًا دُونَ قَوْمٍ آخَرِينَ وَمَنْ لَمْ يَهْدِهِ وَلَمْ يَعْصِمْهُ فَقَدْ خَذَلَهُ وَمَنْ خَذَلَهُ لَمْ يُرِدْ بِهِ خَيْرًا، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {أُولَئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ} [المائدة: 41] وَكَانَ النَّضْرُ بْنُ

ابو منصور احمد بن محمد بن منصور الدامغانی ساکن بیہق نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو بکر اسماعیلی جرجانی نے بیان کیا کہا مجھے حسن بن سفیان نے خبر دی کہا ہم سے ابو عمار نے بیان کیا کہا ہم سے فضل بن موسیٰ نے بیان کیا وہ ابو فروہ رہاوی سے وہ ابو یحییٰ کلاعی سے وہ حضرت ابو امامہ الباہلی سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے : میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں نے خیر کو پیدا کیا اور اسے مقدر کیا اس کے لیے خوشخبری ہو جس کو میں نے خیر کے لیے پیدا کیا اور جس کے لیے میں نے خیر پیدا کی اور میں نے خیر کو اس کے ہاتھوں پر جاری کر دیا ، میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں میں نے شر کو پیدا کیا اور میں نے اسے مقدر کیا پس ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس کے لیے میں نے شر پیدا کی اور میں نے جسے شر کے لیے پیدا کیا اور میں نے جس کے ہاتھوں پر شر جاری کیا۔ خیر وشر کی نسبت کس کی طرف کی جائے : رہا معاملہ اس حدیث کا جو دعاء استفتاح کی حدیث میں روایت کی گئی ہے :”خیر تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے‘‘ اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تعریف میں ادب استعمال کرنے کی راہنمائی کرنا اور مدح سرائی کرنا کہ اچھے امور کی نسبت اس کی طرف کی جائے نہ کہ ان کے ذلیل وحقیر امور اور اس سے اس کی قدرت میں کسی چیز کا داخل کرنا یا اس کے مخالف کی اس سے نفی کرنا مقصود نہیں ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا: ’’ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو ہدایت دے‘‘ اور دوسری حدیث میں فرمایا: ’’معصوم وہ ہے جسے اللہ نے معصوم بنایا‘‘ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک قوم کو ہدایت دیتا ہے نہ کہ دوسری قوم کو اور وہ جسے ہدایت نہ دے اور محفوظ نہ رکھے تو بلاشبہ اس نے اسے رسوا کر دیا اس کیساتھ بھلائی کا ارادہ نہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَمْیُرِدِ اللہُ اَنْ یُّطَھِّرَ قُلُوْبَھُمْ(المائدہ:41) ترجمہ: وہ ہیں کہ اللہ نے ان کا دل پاک کرنا نہ چاہا(انہیں دنیا میں رسوائی ہے اور انہیں آخرت میں بڑا عذاب)۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← أبي يحيى الكلاعي ← أبي فروة الرهاوي ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ الْجُرْجَانِيُّ، ← أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الدَّامَغَانِيُّ نَزِيلُ بَيْهَقَ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 97

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 98

شُمَيْلٍ يَقُولُ: مَعْنَاهُ الشَّرُّ لَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْكَ

اور نضر بن شمیل کہا کرتے تھے کہ شر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

مَعْنَاهُ الشَّرُّ لَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْكَ ← شُمَيْلٍ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 98

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 99

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: «وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ» تَفْسِيرُهُ: وَالشَّرُّ لَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْكَ

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا میں نے عباس بن محمد الدوری کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے ہوئے سنا کہ نضر بن شمیل نے کہا: ”شر تیری طرف نہیں ہے‘‘ اس کی تفسیر یہ ہے کہ شر کے ذریعے تیرا قرب حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: «وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ» تَفْسِيرُهُ: وَالشَّرُّ لَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْكَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 99

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 100

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، (ح) . وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا حَمَّادٌ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، ثنا مُطَرِّفٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا [ص:147] خُلِقَ لَهُ " وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ: «اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ» أَوْ كَمَا قَالَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: فَأَعْلَمَهُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْعِلْمَ السَّابِقَ فِي أَمْرِهِمْ وَاقِعٌ عَلَى مَعْنَى تَدْبِيرِ الرُّبُوبِيَّةِ وَأَنَّ ذَلِكَ لَا يُبْطِلُ تَكْلِيفَهُمُ الْعَمَلَ بِحَقِّ الْعُبُودِيَّةِ، إِلَّا أَنَّهُ أَخْبَرَ أَنَّ كُلًّا مِنَ الْخَلْقِ مُيَسَّرٌ لِمَا دُبِّرَ لَهُ فِي الْغَيْبِ فَيَسُوقُهُ الْعَمَلُ إِلَى مَا كُتِبَ لَهُ مِنْ سَعَادَةٍ أَوْ شَقَاوَةٍ فَيُثَابُ وَيُعَاقَبُ عَلَى سَبِيلِ الْمُجَازَاةِ، فَمَعْنَى الْعَمَلِ التَّعْرِيضُ لِلثَّوَابِ وَالْعِقَابِ وَبِهِ وَقَعَتِ الْحُجَّةُ وَعَلَيْهِ دَارَتِ الْمُعَامَلَةُ، وَكَانَ الشَّيْخُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ: أَعْمَالُنَا أَعْلَامُ الثَّوَابِ وَالْعِقَابِ. قُلْنَا: وَلَيْسَ لِقَائِلٍ أَنْ يَقُولَ إِذَا خَلَقَ كَسْبَهُ وَيَسَّرَهُ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ثُمَّ عَاقَبَهُ عَلَيْهِ كَانَ ذَلِكَ مِنْهُ ظُلْمًا، كَمَا لَيْسَ لَهُ أَنْ يَقُولَ: إِذَا مَكَّنَهُ مِنْهُ وَعَلِمَ أَنَّهُ لَا يَتَأَتَّى مِنْهُ غَيْرُهُ ثُمَّ عَاقَبَهُ كَانَ ذَلِكَ مِنْهُ ظُلْمًا؛ لِأَنَّ الظُّلْمَ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ مُجَاوَزَةُ الْحَدِّ وَالَّذِي هُوَ خَالِقُنَا وَخَالِقُ أَكسَابِنَا لَا آمِرَ فَوْقَهُ وَلَا حَادَّ دُونَهُ وَكُلُّ مَنْ سِوَاهُ خَلْقُهُ وَمِلْكُهُ فَهُوَ يَفْعَلُ فِي مُلْكِهِ مَا يَشَاءُ لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ

ابو الحسن بن فضل القطان اور دوسرے لوگوں نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں اسماعیل بن محمد صفار نے خبر دی کہا ہم سے حسن بن عرفہ نے بیان کیا کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا وہ یزید سے وہ مطرف بن عبداللہ بن الشخير سے روایت کرتے ہیں۔ امام بیہقی یہاں سے دوسری سند کی طرف گئے اور کہا: ہمیں ابو عبداللہ الحافظ نے خبر دی کہا ہم سے ابو بکر بن اسحاق نے بیان کیا کہا ہمیں اسماعیل بن قتیبہ نے خبر دی کہا ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا کہا ہمیں حما د نے خبر دی وہ یزید الرشک سے راوی، کہا ہم سے مطرف نے بیان کیا وہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : عرض کی گئی : یارسول اللہ ! کیا اہل جنت کو جہنمیوں میں سے جان لیا گیا ؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، عرض کی گئی : پھر عمل کرنے والوں کا عمل کس لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک کے لیے وہی آسان کیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ اور ابن علیہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لیے وہی آسان کیا جائے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ یا جیسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ حدیث کی تشریح امام خطابی کی زبانی: امام ابو سلیمان رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کے بارے میں مجھ تک ان سے جو کچھ پہنچا ہے اس میں فرمایا: حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کاعلم سابق ان کے امر میں ربوبیت کی تدبیر کے معنی پر واقع ہے اور یہ بات انہیں عمل کا مکلف بنانے کو باطل نہیں کرتی عبودیت کے حق کی وجہ سے مگر اس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ مخلوق میں جو کچھ بھی ہے وہ آسان کیا گیا ہے جب اس کی تدبیر پردہ غیب میں کی گئی ہے پس اس کا عمل اسی کی طرف چلتا ہے جو اس کے لیے سعادت مندی یا بد بختی لکھی جا چکی ہے لہٰذا بطریق مکافات عمل اسے ثواب یا عذاب دیا جائے گا پس عمل کا معنی ہے ثواب وعقاب کے لیے پیش ہونا۔اسی کیساتھ حجت واقع ہو گئی اور اسی پر معاملہ کا دارو مدار ہے۔ شیخ ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان رحمہ اللہ تعالیٰ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے اعمال ثواب وعقاب کے نشانات ہیں۔ امام بیہقی کی تنبیہ: امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ہم نے کہا:کسی کہنے والے کے لیے یہ کہا جائز نہیں ہے کہ : جب اللہ تعالیٰ نے اس کا کسب پیدا کیا اور اس کے لیے اہل جہنم کے عمل کو آسان کیا پھر اس پر اسے عذاب دیا میں تو اسکی طرف سے ظلم ہوا(معاذ اللہ) جیسے یہ بھی اس کے لیے کہنا جائز نہیں کہ جب عمل پر قدرت اسی کی طرف سے حاصل ہوئی اور اس نے جانا کہ اس بندے سے اس کے علاوہ فعل سرزد نہیں ہو گا پھر اسے اس پر عذاب دے دیا تو یہ اس کی طرف سے ظلم ہوا(معاذ اللہ)(یہ کہنا اس لیے جائز نہیں) کیونکہ کلام عرب میں ظلم کہتے ہیں حد سے تجاوز کرنے کو اور جو ہمارا خالق ہے اور ہمارے اکساب کا خالق ہے نہ اس سے اوپر کوئی حکم دینے والا ہے اور نہ ہی اس کے نیچے کوئی قوت والا ہے اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ اس کی خلقت و بادشاہی ہے وہ اپنے بادشاہت میں جو چاہتا ہے کرتا ہے وہ جو کچھ کرتا ہے اس کے متعلق پوچھا نہیں جائے گا اور لوگوں سے پوچھا جائے گا۔

قِيلَ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفٍ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← حَمَّادٌ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← يَزِيدُ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، فِي آخَرِينَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 100

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 101

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمِشٍ الْفَقِيهُ الزِّيَادِيُّ، أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِيُّ [ص:148]، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، (ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدَّيْلِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ مِنْ قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَهُ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ؟ فَقُلْتُ: بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَقَالَ أَفَلَا يَكُونُ ظُلْمًا؟ قَالَ فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَزَعًا شَدِيدًا وَقُلْتُ: كُلُّ شَيْءٍ خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْكُ يَدِهِ فَلَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَقَالَ لِي: يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ بِمَا سَأَلْتُكَ عَنْهُ إِلَّا لِأُحْرِزَ عَقْلَكَ، إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فَيهِمْ مِنْ قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَهُ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَتَتَ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةُ؟ فَقَالَ: لَا، بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فَيهِمْ، قَالَ: فَفِيمَ نَعْمَلُ إِذًا؟ قَالَ: مَنْ كَانَ اللَّهُ خَلَقَهُ لِوَاحِدَةٍ مِنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ يَسَّرَهُ لَهَا، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ {وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا} [الشمس: 7]

ابو طاہر محمد بن محمد بن محمش الزیادی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو طاہرمحمد بن حسن محمد آبادی نے خبر دی کہا ہم سے ابو قلابہ نے بیان کیا کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا۔ یہاں سے مصنف دوسری سند کی طرف گئے اور کہا: ہمیں محمد بن عبداللہ الحافظ نے خبر دی کہا ہمیں محمد بن یعقوب الشیبانی نے خبر دی کہا ہم سے محمد بن شاذان نے بیان کیا کہا ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہمیں عثمان بن عمر نے خبر دی کہا ہمیں عزرہ بن ثابت نے خبر دی وہ یحییٰ بن عقیل سے وہ یحییٰ بن یعمر سے وہ ابو الاسود الد یلی سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ مجھے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تیرا کیا خیال ہے آج لوگ جو عمل کرتے ہیں اور اس میں مشقتیں اٹھاتے ہیں یہ ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ ان پر کر دیا گیا اور ان پر تقدیر پہلے سے گزر چکی یا آئندہ جن امور سے وہ ملیں گے یعنی کریں گے یہ ان امور میں سے ہے جن کے ساتھ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ان پر حجت ثابت ہو گئی ؟ میں نے کہا: بلکہ یہ ایسی چیز ہے جس کا ان پر فیصلہ ہو گیا اور تقدیر ان پر جاری ہو گئی ، راوی نے کہا : آپ نے فرمایا: تو کیا یہ ظلم نہیں ہو گا ؟ ابو الاسودالدیلی کہتے ہیں : میں اس بات سے بہت زیادہ ڈر گیا اور میں نے کہا: ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور ملکیت اسی کے دست قدرت میں ہے اس کے فعل کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور لوگوں سے ان کے افعال کے متعلق پوچھا جائے گا تو حضرت عمران بن حصین نے مجھے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے اس کے متعلق سوال کرنے سے میرا ارادہ صرف یہ تھا تاکہ میں تیری عقل پرکھوں ،قبیلہ مزینہ کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے کہا: یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ کا کیا خیال ہے آج لوگ جو عمل کرتے ہیں اور اس میں مشقتیں اٹھاتے ہیں یہ ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ ان پر کر دیا گیا اور ان پر تقدیر پہلے سے گزر چکی یا آئندہ جن امور سے وہ ملیں گے یعنی کریں گے یہ ان امور میں سے جس کیساتھ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ان پر حجت ثابت ہو گئی؟ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ یہ ایسی چیز ہے جس کا ان پر فیصلہ ہو گیا اور تقدیر ان کے بارے میں جاری ہو گئی تو اس نے کہا: پھر ہم عمل کیوں کریں ؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس شخص کے لیے(جنت و دوزخ) دو مقاموں میں سے کسی ایک کے لیے پیدا کیا وہ اس کے لیے اس مقام کی آسانی پیدا کر دیتا ہے اور اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں آئی ہے : اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: اور قسم جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا پھر اس کی بدکاری اور پرہیز گاری دل میں ڈالی۔ (الشمس:8،7) ۔

أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← محمد بن يعقوب الشيباني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ ← أبو طاهر محمد بن محمد بن محمش الفقيه الزيادي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 101

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 102

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو سِنَانٍ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ خَالِدٍ الْحِمْصِيَّ، يُحَدِّثُنَا عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ فَأَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ، وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ هَلَاكُ دِينِي أَوْ أَمْرِي، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنَّ لَكَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ وَإِنَّكَ إِنْ مِتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ وَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ أَخِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَتَسْأَلُهُ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ لِي: لَا عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَتَسْأَلُهُ، فَأَتَيَتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ: ائْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَلْهُ، فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، فَذَكَرَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: تَابَعَهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فَرَوَاهُ فِي جَامِعِهِ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ هَذَا وَرَوَاهُ أَيْضًا كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ فِي أَوَّلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ حُذَيْفَةَ

چار صحابہ کا تقدیر کے متعلق فیصلہ: ابو الحسین علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو علی اسماعیل بن محمد صفار نے خبر دی کہا ہم سے حسن بن مکرم نے بیان کیا کہا ہم سے اسحاق بن سلیمان رازی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو سنان الشیبانی نے بیان کیا کہا میں نے وہب بن خالد الحمصی کو کہتے ہوئے سنا وہ ابن الدیلمی سے روایت کرتے ہیں کہا: میرے دل میں تقدیر کے متعلق کچھ بات بیٹھ گئی تو میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا :اے ابو منذر! میرے دل میں تقدیر کے متعلق ایسی بات آ گئی ہے جس سے مجھے خوف ہوا کہ کہیں اس میں میرا دین ہلاک ہو جائے یا کہا میرا معاملہ ہلاک ہو جائے تو آپ نے فرمایا: اے بھتیجے! بے شک اللہ عزوجل اگر تمام آسمان والوں اور تمام زمین والوں کو عذاب دے تو وہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں ہو گا اور اگر ان پر رحم فرمائے تو اس کی رحمت ان کے لیے ان کے اعمال سے بہتر ہے اور اگر تیرے لیے احد پہاڑ جتنا ہوتا ہوا سے تو اللہ کی راہ میں خرچ کر دے وہ تجھ سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ تو تقدیر پر ایمان نہ لائے اور تو جان لے کہ جو کچھ تجھے پہنچا ہے وہ تجھ سے خطا ہونے والا نہیں تھا اور جو تجھ سے خطا ہوا وہ تجھ تک پہنچنے والا نہ تھا اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر تو اس کے علاوہ عقیدہ پر مرا تو جہنم میں داخل ہو گا اور تجھ پر کوئی حرج نہیں کہ تو میرے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جائے اور ان سے اس کے بارے میں سوال کرے(راوی کہتے ہیں) میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا چنانچہ میں نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے بھی اسی کی مثل فرمایا اور مجھے فرمایا: تجھ پرکوئی حرج نہیں کہ تو حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جائے اور ان سے اس کے بارے میں سوال کرے کہتے ہیں پس میں ان کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے بھی اسی کی مثل جواب دیا اور فرمایا : تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا کر ان سے پوچھ تو میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پھر آپ نے اسی کی مثل ذکر کیا۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سفیان ثوری نے اس کی متابعت کی چنانچہ اپنے جامع میں ابو سنان سے اسے ا روایت کیا اور اسے کثیر بن مرہ نے بھی ابن الدیلمی سے روایت کیا مگر اس کے شروع میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اضافہ ہے اور آپ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔

ابن الديلمي ← وهب بن خالد الحمصي يحدثنا ← أبو سنان سعيد بن سنان الشيباني ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ← أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 102

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 103

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّغَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ لِأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَدِدْتُ أَنِّي أَجِدُ مَنْ أُخَاصِمُ إِلَيْهِ رَبِّي، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَنَا فَقَالَ عَمْرٌو: أَيُقَدِّرُ عَلَيَّ شَيْئًا وَيُعَذِّبُنِي عَلَيْهِ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ [ص:150]: نَعَمْ، قَالَ: لِمَ، قَالَ: لِأَنَّهُ لَا يَظْلِمُكَ، فَقَالَ: صَدَقْتَ

ہمیں ابو عبداللہ الحافظ نے خبر دی کہا ہمیں محمد بن علی بن عبدالحمید الصغانی نے خبر دی کہا ہم سے اسحاق بن ابراہیم الدبری نے بیان کیا کہا ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی وہ معمر سے روایت کرتے ہیں کہا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : میں چاہتا ہوں کہ میں ایک ایسے آدمی کو پاؤں جو میرے رب سے میرے لیے مخاصمت کرے حضرت ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا: میں ہوں، حضرت عمرو بن العاص نے فرمایا: کیا مجھ پر کوئی چیز مقدر کی جائے وہ اس پر مجھے عذاب دے گا ؟ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہاں حضرت عمرو نے کہا کیوں؟ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا : کیونکہ وہ تم پر ظلم نہیں کرے گا تو حضرت عمرو نے کہا آپ نے سچ کہا۔

صَدَقْتَ ← لِأَنَّهُ لَا يَظْلِمُكَ ← لِمَ ← أَبُو مُوسَى [ص:150]: نَعَمْ، ← عَمْرٌو: أَيُقَدِّرُ عَلَيَّ شَيْئًا وَيُعَذِّبُنِي عَلَيْهِ؟ ← أَبُو مُوسَى، ← لِأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَدِدْتُ أَنِّي أَجِدُ مَنْ أُخَاصِمُ إِلَيْهِ رَبِّي، ← بَلَغَنِي أَنَّ عَمْرَو بن الْعَاصِ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 103

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 104

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ: لَمْ أُخَاصِمْ بِعَقْلِي كُلِّهِ مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ غَيْرَ أَصْحَابِ الْقَدَرِ، قُلُتْ أَخْبِرْنِي عَنِ الظُّلْمِ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ مَا هُوَ؟ قَالَ: أَنْ يَأَخُذَ الرَّجُلُ مَا لَيْسَ لَهُ، قُلْتُ: فَإِنَّ اللَّهَ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ قَالَ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ: الظُّلْمُ عِنْدَ الْعَرَبِ هُوَ فِعْلُ مَا لَيْسَ لِلْفَاعِلِ فِعْلُهُ وَلَيْسَ مِنْ شَيْءٍ يَفْعَلُهُ اللَّهُ إِلَّا وَلَهُ فِعْلُهُ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ فَاعِلٌ بِالْأَطْفَالِ وَالْمَجَانِينَ وَالْبَهَائِمِ مَا شَاءَ مِنْ أَنْوَاعِ الْبَلَاءِ، فَقَالَ: {أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا} [نوح: 25] فَأَغْرَقَهُمْ صَغِيرَهُمْ وَكَبِيرَهُمْ، وَقَالَ: {وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ} [الذاريات: 41] وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ الْوَارِدَةِ فِي تَعْذِيبِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْأَطْفَالِ وَالْمَجَانِينَ بِأَنْوَاعِ الْبَلَاءِ

حضرت ایاس بن معاویہ کا قدریوں کو لاجواب کرنا : ابو عبدالله الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا شیخ ابو بکر احمد بن اسحاق بن ایوب نے خبر دی کہا ہمیں اسمعیل بن اسحاق نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا وہ حبیب بن الشہید سے راوی کہا میں نے ایاس بن معاویہ کو کہتے ہوئے سنا: میں نے اپنی تمام عقل سے بدعتیوں سے مناظرہ نہیں کیا سوائے قدریوں کے میں نے(قدریوں سے) کہا مجھے ظلم کے متعلق بتایئے کہ کلام عرب میں وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: آدمی وہ چیز لے لے جو اسکی نہ ہو تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی تو ہر شے ہے۔ شیخ ابو بکر البیہقی نے فرمایا: اہل عرب کے نزدیک ظلم ایسا فعل ہے جو فاعل کے لیے اس کا فعل نہ ہو اور جو بھی چیز اللہ تعالیٰ کرتا ہے وہ اس کا فعل ہے کیا تو نے دیکھا کہ وہ بچوں ، پاگلوں اور چوپائیوں پر جو چاہے مختلف قسم کی بلیات کا فاعل ہے؟ چنانچہ اس نے فرمایا: ترجمہ:(اپنی کیسی ہی خطاؤں پر) ڈبوئے گئے پھر آگ میں داخل کیے گئے (تو انہوں نے اللہ کے مقابل اپنی کوئی مددگار نہ پایا) ۔ (سیدنا نوح علیہ اسلام:25) اس نے ان کے چھوٹے بڑے سب کو غرق کر دیا۔ اور فرمایا: ترجمہ: اور عاد میں جب ہم نے ان پر خشک آندھی بھیجی۔ (الذاريات:41) اور ان کے علاوہ دوسری آیات جو صغیر وکبیر اور بچوں و پاگلوں پر مختلف بلیات کیساتھ عذاب دینے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔

إِيَاسَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 104

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him