Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 132

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: نا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ} [البقرة: 143] وَرَوَاهُ أَيْضًا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ أَتَمُّ مِنْهُ [ص:176]، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ سَمَّى صَلَاتَهُمْ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ إِيمَانًا، وَإِذَا ثَبَتَ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ ثَبَتَ ذَلِكَ فِي سَائِرِ الطَّاعَاتِ، وَقَدْ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطُّهُورَ إِيمَانًا فَقَالَ فِي حَدِيثِ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ»

محمد بن عبداللہ الحافظ اور محمد بن موسیٰ نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ابراہیم بن مرزوق نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو عامر نے خبر دی وہ اسرائیل سے وہ سماک سے وہ عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے آپ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا: آپ کا کیا خیال ہے ان لوگوں کے متعلق جو وفات پاگئے اور وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے؟ تو اللہ تعالیٰ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:وَمَا اللہُ لِیُضِیْعَ اِیْمٰنَکُمْ (البقرة:143) ترجمہ: اللہ کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کرے۔ حضرت براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسے اس سے مکمل روایت کیا ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کو ایمان کا نام دیا ہے جب یہ ایمان میں ثابت ہو گیا تو تمام طاعات میں ثابت ہو گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طہارت کو بھی ایمان کا نام دیا ہے چنانچہ حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : طہارت ایمان کا حصہ ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن عبد الله الحافظ ومحمد بن موسى

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 132

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 133

حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ قَالَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، قَالَ، ثنا عَفَّانُ، قَالَ: نا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ» وَسَمَّى فِي حَدِيثِ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ كَلِمَتَيِ الشَّهَادَةِ، وَإِقَامَ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ، وَصومَ رَمَضَانَ، وَحَجَّ الْبَيْتِ، وَإِعَطَاءَ الْخُمُسِ إِيمَانًا

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا کہا ابو بکر احمد بن اسحاق بن ایوب نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن عیسیٰ بن السکن نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے عفان نے بیان کیا کہا ہمیں ابان بن یزید نے خبر دی کہا وہ یحییٰ بن ابی کثیر سے وہ زید بن سلام سے وہ ابو سلام سے وہ حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے:’’طہارت ایمان کا حصہ ہے‘‘۔وفد عبدالقیس کی آمد اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انہیں اسلامی تعلیم دینا: اور وفد عبد القیس کی حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت کے دو کلموں ،اقامت نماز ، زکوٰۃ کی ادائیگی ،رمضان کے روزے، بیت اللہ کے حج اور خمس کے دینے کو ایمان کا نام دیا۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 133

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 134

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ قَالَ: نا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحُرْفِيُّ، قَالَ: نا أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: ثنا أَبُو زَيْدٍ الْهَرَوِيُّ، قَالَ: ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ الضَّبْعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَرْحبًا بِالْوَفْدِ غَيْرَ الْخَزَايَا قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَتَصُومُوا رَمَضَانَ وَتَحُجُّوا الْبَيْتَ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ [ص:177] الْغَنَائِمِ " وَسَمَّى شُعَبَ الدِّينِ كَلَّهَا إِيمَانًا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

ابو عبداللہ محمد بن احمد بن ابو طاہر الدقاق نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہاعلی بن محمد الحرفی نے ہمیں خبر دی کہا ابو قلابہ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو زید الھروی نے بیان کیا کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا وہ ابو جمرہ نصر بن عمران الضبعی سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وفد عبد القیس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اس وفد کو خوش آمدید بغیر کسی رسوائی کے‘‘۔ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کفار ہیں اور ہم آپ تک صرف حرمت والے مہینوں میں ہی پہنچ سکتے ہیں تو آپ ہمیں ایسے عمل کا حکم دیں جس پر ہم عمل کریں اور اپنے پیچھے والوں کو اس کی طرف بلائیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں ایمان کا حکم دیتا ہوں تم جانتے ہو ایمان کیا ہے؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد اللہ کے رسول ہیں(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو!‘‘۔ راوی نے کہا : میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اور تم غنیمت میں سے خمس دو‘‘۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں دین کے تمام شعبوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایمان کا نام دیا ہے۔

قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: مَرْحبًا بِالْوَفْدِ غَيْرَ الْخَزَايَا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ الضَّبْعِيِّ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو زَيْدٍ الْهَرَوِيُّ، ← أَبُو قِلَابَةَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحُرْفِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 134

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 135

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَ: نا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ أَوْ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً أَفْضلُهَا شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ»

ایمان کے شعبے: ابو عبداللہ محمد بن یحییٰ بن عبدالجبارالسکری نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی کہا عباس بن عبداللہ الترقفی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں محمد بن یوسف نے خبر دی وہ سفیان سے وہ سہیل بن ابو صالح سے وہ عبداللہ بن دینار سے وہ ابو صالح سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ایمان کے ساتھ یا ستر سے زیادہ شعبے ہیں ان میں سے افضل لا الہ الا الہ کی گواہی دینا ہے اور کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرتا ہے اور حیاء ایمان کا شعبہ ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد الله بن دينار ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 135

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 136

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، قَالَ: أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: نا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: نا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: نا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: نا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ [ص:178] سُئِلَ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا؟ قَالَ: رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، وَرَجُلٌ يَعْبُدُ اللَّهَ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ قَدْ كُفِيَ النَّاسُ شَرَّهُ "

کامل ایمان والا کون؟ ابو علی روذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو داؤد نے ہمیں خبر دی کہا ابو الولید الطیالسی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں سلیمان بن کثیر نے خبر دی کہا ہمیں زہری نے خبر دی وہ عطاء بن یزید سے وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا مومنوں میں سے زیادہ کامل ایمان والا کون ہے؟ فرمایا: ’’وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتا ہے اور وہ آدمی جو گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرتا ہے لوگوں کو اس سے کوئی برائی نہ پہنچے‘‘۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ [ص:178] سُئِلَ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا؟ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 136

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 137

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ قَالَ: أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ قَالَ: نا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَقَوْلُهُ «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا» أَرَادَ بِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ «مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا» جَمْعًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَائِرِ مَا وَرَدَ فِي هَذَا الْمَعْنَى، وَهَذَا لَفْظٌ سَائِغٌ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ، يَقُولُونَ: أَكْمَلُ وَأَفْضَلُ، وَمُرَادُهُمْ بِهِ: مِنْ أَكْمَلِ وَمِنْ أَفْضَلِ

ابو الحسن محمد بن احمد بن حسن بن اسحاق البزار نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا ابو محمد عبداللہ بن محمد بن اسحاق فاکہی نے مکہ میں ہمیں خبر دی کہا ابو یحییٰ بن ابو میسرہ نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن یزید مقریٔ نے ہمیں خبر دی کہا سعید بن ابو ایوب نے ہمیں خبر دی کہ محمد بن عجلان نے ہمیں خبر دی وہ قعقاع بن حکیم سے وہ ابو صالح سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مومنوں میں سے اکمل ایمان والا وہ ہے جوان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’مومنوں میں اکمل ایمان والا‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس سے مراد اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے یہ ہے کہ وہ مومنین جو اپنے ایمان میں اکمل ہیں ان میں سے(یہ جوان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہو) یہ وضاحت اس لیے ہے تاکہ اس روایت اور اس معنی میں تمام واردشدہ روایات میں تطبیق ہو جائے اور یہ لفظ کلام عرب میں عام جاری ہے وہ اکمل وافضل کہتے ہیں اور اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اکمل وافضل لوگوں میں سے یہ بھی ہے۔

"أَكْمَلُ المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا" ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن الحسن بن إسحاق البزار ببغداد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 137

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 138

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، قَالَ: أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: نا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: نا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ [ص:179] الْإِيمَانَ» وَرَوَاهُ سَهْلُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ وَزَادَ «وَأَنْكَحَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ إِيمَانَهُ»

کس کا ایمان مکمل ہوا؟ہمیں ابو علی الروذباری نے خبر دی کہا ہمیں ابو بکر بن داسہ نے خبر دی کہا ہمیں ابو داؤد نے خبر دی کہا ہمیں مؤمل بن الفضل نے خبر دی کہا ہمیں محمد بن شعیب بن شابور نے خبر دی کہا وہ یحییٰ بن حارث سے وہ قاسم سے وہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے بغض رکھا اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے روکا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا‘‘۔اسے سہل بن معاذ بن انس الجہنی نے اسے روایت کیا وہ اپنے باپ سے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اس روایت کو ذکر کیا اور یہ اضافہ کیا:’’اور اللہ کے لیے نکاح کیا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا‘‘۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← يحيى بن الحارث ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 138

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 139

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: نا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضعفُ الْإِيمَانِ "

برائی دیکھ کر کیا معاملہ کرنا چاہئے؟ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہ محمد بن صالح بن ہانی نے ہم سے بیان کیا کہا ہمیں سری بن خزیمہ نے خبر دی کہا عبداللہ بن محمد بن یعقوب الشیبانی نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن عبداللہ السعد ی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا وہ اسماعیل بن رجاء سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’ تم میں سے جو برائی دیکھے اگر وہ ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ کرے اگر یہ طاقت نہیں رکھتا تو اپنی زبان سے اسے بدلے اگر یہ طاقت نہیں رکھتا تو پھر اپنے دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کاکمزور ترین حصہ ہے‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 139

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 140

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمِّشَاذٍ الْعَدْلُ قَالَ: نا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْمُجَوِّزُ قَالَ: نا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: نا قَتَادَةُ قَالَ: نا أَنَسٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ مِنَ الْإِيمَانِ مَا يَزِنُ بُرَّةً "

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا علی بن حماد العدل نے ہمیں خبر دی کہا حسن بن سہل مجوز نے ہمیں خبر دی کہا ابو سلمہ موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں خبر دی کہا ابان بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہا ہمیں قتادہ نے خبر دی کہا ہمیں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی فر مایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اس شخص کو جہنم کی آگ سے نکالا جائے گا جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور جس کے دل میں گندم کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو گا‘‘۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْمُجَوِّزُ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 140

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 141

وَرَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ

اسے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر ایمان ہو گا‘‘(اسے بھی جہنم کی آگ سے نکالا جائے گا)۔

«مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ ← النَّبِيِّ ← وَرَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 141

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 142

مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنَ الْإِيمَانِ» وَالْأَحَادِيثُ فِي تَسْمِيَةِ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ إِيمَانًا وَأَنَّ الْإِيمَانَ وَالْإِسْلَامَ عِبَارَتَانِ عَنْ دِينٍ وَاحِدٍ إِذَا كَانَ الْإِسْلَامُ حَقِيقَةً وَلَمْ يَكُنْ بِمَعْنَى الِاسْتِسْلَامِ، وَأَنَّ الْإِيمَانَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ سِوَى مَا ذَكَرْنَا كَثِيرَةٌ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا هَاهُنَا كِفَايَةٌ، وَقَدْ رُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيٍّ، ثُمَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، وَعُمَيْرِ بْنِ حَبِيبٍ، وَجُنْدُبٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَمِنَ التَّابِعِينَ وَأَتْبَاعِهِمْ، عَنْ جَمَاعَةٍ يَكْثُرُ تَعْدَادُهُمْ وَهُوَ قَوْلُ فُقَهَاءِ الْأَمْصَارِ رَحِمَهُمُ اللَّهُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَسُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيِّ، وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَحَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيِّ، وَغَيْرِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ. وَرُوِّينَاهُ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي يُوسُفَ الْقَاضِي، وَكُلُّ ذَلِكَ مَذْكُورٌ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ

اور اسلام کے احکامات کو ایمان کا نام رکھنے کے بارے میں ، ایمان و اسلام یہ دونوں ایک ہی دین کی دو عبارتیں ہیں جب کہ اسلام حقیقتاً ہے اور استسلام کے معنی میں نہیں ہے کے بارے میں، اور ایمان کے اضافہ وکمی کے بارے میں ہماری ذکر کردہ احادیث کے ماسوا بہت سی احادیث ہیں اس بارے میں جو ہم نے یہاں ذکر کیں یہی کافی ہیں۔ اور ہم نے اس بارے میں خلفاء راشدین حضرت ابو بکر، حضرت عمر ، حضرت عثمان ،حضرت علی پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ ، حضرت معاذ بن جبل ، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عمار بن یاسر ، حضرت ابو درداء، حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت ابو ہریرہ ، حضرت عثمان بن حنیف ،حضرت عمیر بن جندب ، حضرت جندب اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے احادیث روایت کی ہیں اور تابعین اور تبع تابعین کی ایک جماعت سے بھی جن کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ مختلف شہروں کے فقہاء ہیں رحمہم اللہ تعالیٰ یعنی مالک بن انس ، اوزاعی ،سفیان بن سعید ثوری ،سفیان بن عیینہ، حماد بن زید ، حماد بن سلمہ، محمد بن ادریس شافعی ،احمد بن حنبل ، اسحاق بن ابراہیم الحنظلی اور ان کے علاوہ محدثین۔ اور ہم نے اسے قتیبہ بن سعید سے روایت کیا انہوں نے قاضی ابو یوسف سے روایت کیا ہے۔ یہ تمام آثار کتاب الایمان میں مذکور ہیں۔

مِثْ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 142

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 143

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، قَالَ: نا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَوَيْهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سِنَانٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: نا أَبُو سِنَانٍ الرَّازِيًّ قَالَ: نا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، وَغَيْرُهُ، قَالَا، نا أَبُو الصَّلْتِ الْهَرَوِيُّ، قَالَ: نا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى الرِّضَا، عَنْ أَبِيهِ مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِيمَانُ قَوْلٌ بِاللِّسَانِ، عَمَلٌ بِالْأَرْكَانِ، مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ» تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ الطُّوسِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضَا [ص:181] رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

ہمیں ابو علی حسین بن محمد بن محمد بن علی روذ باری نے خبر دی کہا ہمیں ابو بکر بن محمد بن مہرویہ بن عباس بن سنان الرازی نے خبر دی کہا ہمیں ابو حاتم رازی وغیرہ نے خبر دی کہا ہمیں ابو الصلت الہروی نے خبر دی کہا ہمیں علی بن موسیٰ رضا نے خبر دی وہ اپنے والد موسیٰ سے وہ اپنے باپ جعفر سے وہ اپنے باپ محمد سے وہ اپنے باپ علی سے وہ اپنے باپ امام حسین سے وہ اپنی باپ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ایمان زبان کے قول ، ارکان کے عمل اور دل کی معرفت کا نام ہے‘‘۔ محمد بن اسلم الطوسی وغیرہ نے اس(ابو الصلت الہروی) کی متابعت کی سیدناعلی بن موسیٰ الرضارضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔

أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أبيه الحسين ← أبيه عليٍّ ← أبيه محمد ← أَبِيهِ جَعْفَرٍ، ← أبيه موسى ← علي بن موسى الرضا ← أَبُو الصَّلْتِ الْهَرَوِيُّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، وَغَيْرُهُ، ← أَبُو سِنَانٍ الرَّازِيًّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَوَيْهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سِنَانٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ محمد بن عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 143

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him