الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ · حديث 291
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ , ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ , ثنا أَبُو دَاوُدَ , ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَسِيدِ بْنِ حَارِثَةَ، حَلِيفِ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ رَهْطٍ عَيْنًا , وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ، وَهُوَ جَدُّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ , فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدْأَةِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ , فَنَفَرُوا لَهُمْ بِمِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمُ التَّمْرَ , فَقَالُوا: هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ , فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ , فَقَالُوا: انْزِلُوا وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَلَّا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا , فَقَالَ عَاصِمٌ: أَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ لَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ الْيَوْمَ اللَّهُمْ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّكَ السَّلَامَ , فَقَاتَلُوهُمْ , فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ , وَنَزَلَ ثَلَاثَةٌ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ , فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ وَكَتَّفُوهُمْ , فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنْهُمْ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ قَالَ: هَذَا وَاللَّهِ أَوَّلُ الْغَدْرِ , فَعَالَجُوهُ فَقَتَلُوهُ وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ إِلَى مَكَّةَ , فَبَاعُوهُمَا , وَذَلِكَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ فَاشْتَرَى بَنُو الْحَارِثِ خُبَيْبًا - وَقَدْ كَانَ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمَ بَدْرٍ - قَالَتِ ابْنَةُ الْحَارِثِ: فَكَانَ خُبَيْبٌ أَسِيرًا عِنْدَنَا , فَوَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ [ص:309] أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ مِنْ ثَمَرِهِ , وَإِنْ هُوَ إِلَّا رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ خُبَيْبًا قَالَتْ: وَاسْتَعَارَ مِنِّي مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهِ لِلْقَتْلِ قَالَتْ: فَأَعَرْتُهُ إِيَّاهُ , وَدَرَجَ ابْنٌ لِي وَأَنَا غَافِلَةٌ , فَرَأَيْتُهُ يُجْلِسُهُ عَلَى صَدْرِهِ قَالَتْ: فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ قَالَتْ: فَفَطِنَ لِي فَقَالَ: أَتَحْسَبِينَ أَنِّي قَاتِلُهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَهُ، قَالَتْ: فَلَمَّا أَجْمَعُوا عَلَى قَتْلِهِ قَالَ لَهُمْ: دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ: لَوْلَا أَنْ تَحْسَبُوا أَنَّ بِي جَزَعًا لَزِدْتُ، قَالَتْ: وَكَانَ خُبَيْبٌ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الصَّلَاةَ لِمَنْ قُتِلَ صَبْرًا , ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمْ أَحْصِهِمْ عَدَدًا , وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا , وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا: [البحر الطويل] فَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا ... عَلَى أَيِّ حَالٍ كَانَ فِي اللَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي جَنْبِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ ... يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمُزَّعِ قَالَ: وَبَعَثَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ لِيُؤْتَوْا مِنْ لَحْمِهِ بِشَيْءٍ , وَكَانَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ , فَبَعَثَ اللَّهُ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا أَنْ يَأْخُذُوا مِنْ لَحْمِهِ شَيْئًا وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَيْهَقِيُّ , ثنا جَدِّي ثنا أَبُو ثَابِتٍ , حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ , وَذَكَرَ قَوْلَ الْمَرْأَةِ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ، وَاللَّهِ لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ , وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرَةٍ، وَقَالَ فِي الشِّعْرِ: وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ، وَزَادَ وَاسْتَجَابَ اللَّهُ لِعَاصِمٍ [ص:310] يَوْمَ أُصِيبَ فَأَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ يَوْمَ أُصِيبُوا خَبَرَهُمْ. وَذَكَرَ فِي عَاصِمٍ مَا بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الدَّبْرِ حَتَّى حَمَتْهُ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ فِي الْمَغَازِي، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَزَادَ: فَلَمَّا حَالَتْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ قَالُوا: دَعُوهُ حَتَّى يُمْسِيَ فَتَذْهَبَ عَنْهُ فَنَأْخُذَهُ , فَبَعَثَ اللَّهُ الْوَادِيَ , فَاحْتَمَلَ عَاصِمًا , فَذَهَبَ بِهِ. قَالَ: وَقَدْ كَانَ عَاصِمٌ أَعْطَى اللَّهَ عَهْدًا لَا يَمَسُّ مُشْرِكًا وَلَا يَمَسُّهُ مُشْرِكٌ أَبَدًا فِي حَيَاتِهِ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ: يَحْفَظُ اللَّهُ الْمُؤْمِنَ، فَمَنَعَهُ اللَّهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ كَمَا امْتَنَعَ مِنْهُمْ فِي حَيَاتِهِ. وَرُوِّينَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ سُفْيَانَ اسْتِجَابَةَ اللَّهِ دُعَاءَ خُبَيْبٍ عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوهُ , فَلَمْ يَحُلِ الْحَوْلُ وَمِنْهُمْ أَحَدٌ غَيْرُ رَجُلٍ لَبَدَ بِالْأَرْضِ حِينَ رَآهُ يَدْعُو، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ كَرَامَاتٌ ظَهَرَتْ عَلَى مَنْ سُمِّيَ فِيهِ
دس صحابہ کرام علیہم الرضوان کا قافلہ اور حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت: ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر اصبہانی نے ہمیں خبر دی کہا یونس بن حبیب نے ہم سے بیان کیا ، کہا: ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا وہ زہری سے وہ عمر بن اسید بن حارثہ بنی زہرہ کے حلیف سے روایت کرتے ہیں اور آپ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اصحاب میں سے ہیں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دس آدمیوں کو جاسوس بنا کر بھیجا اور ان پر حضرت عاصم بن ثابت- جو عاصم بن عمر کے دادا ہیں،کوامیر مقرر فرمایا یہ لوگ چلے یہاں تک کہ جب عسفان اور مکہ کے درمیان ہداۃ کے مقام میں پہنچے تو قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ جسے بنولھیان کہا جاتا تھا کو ان کا پتہ چل گیا تو ایک سو تیر انداز آدمی انہوں نے ان کے پیچھے بھیجے وہ ان کے قدموں کے نشانات پر ان کے پیچھے چلے یہاں تک انہوں نے کھجوروں کے کھانے کی جگہ(گٹھلیاں) پائی تو بولے یہ یثرب کی کھجوریں ہیں جب حضرت عاصم اور ان کے ساتھیوں نے انہیں آتا ہوا محسوس کیا تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گئے انہوں نے کہا: تم نیچے اترو! تم سے یہ عہد و پیمان کرتے ہیں کہ تم میں سے کسی کوقتل نہیں کریں گے۔حضرت عاصم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں آج کے دن کافروں کے ذمہ میں نہیں اتروں گا اے اللہ ہماری طرف سے اپنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوسلام پہنچا دے !چنانچہ انہوں نے ان اصحاب سے لڑائی کی اور سات اصحاب کو شہید کر دیا اور ان میں سے تین عہد و پیمان پر اتر آئے پھر جب انہوں نے ان تین صحابہ پر قدرت پائی تو اپنے کمانوں کی رسیاں کھول کر انہیں باندھ دیا تین میں ایک نے جب یہ بات دیکھی تو کہا: اللہ کی قسم ! یہ پہلا دھوکا ہے وہ ان سے لڑ پڑے اور انہیں بھی شہید کر دیا اور وہ حضرت خبیب بن عدی اور حضرت زید بن دثنہ کو لے کر مکہ کی طرف چل پڑے پس انہوں نے ان دونوں کو بیچ دیا یہ واقعہ بدر کے بعد پیش آیا۔ پس بنو حارث نے حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخرید لیا کیونکہ بدر کے دن آپ نے حارث کو قتل کیا تھا۔ حارث کی بیٹی نے کہا: حضرت خبیب ہمارے پاس قیدی تھے اللہ کی قسم میں نے حضرت خبیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا اللہ کی قسم میں نے انہیں انگور کا گچھا کھاتے ہوئے دیکھا اور مکہ میں اس وقت وہ پھل نہیں تھا یہ تو صرف وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا۔ حارث کی بیٹی نے کہا: آپ نے مجھ سے استرا مانگا جس سے قتل کی تیاری کی جاتی ہے وہ کہتی ہیں میں نے وہ استرا نہیں دے دیا اور میرا بیٹا اندر آیا جبکہ مجھے اس کا پتہ نہیں چلا میں نے اپنے بیٹے کو آپ کے سینے پر پایا۔ حارث کی بیٹی نے کہا: میں بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی جسے حضرت حبیب جان گئے کہتی ہیں: آپ نے میری پریشانی محسوس کر لی تو آپ نے فرمایا: تو یہ گمان کرتی ہے میں اسے قتل کرنے والا ہوں؟ میں ایسا کرنے والا نہیں۔ وہ کہتی ہیں: پھر جب سارے ان کے قتل پر جمع ہو گئے تو آپ نے انہیں فرمایا مجھے چھوڑو تاکہ میں دو رکعتیں پڑھلوں(دو رکعتیں پڑھنے کے بعد) فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم گمان کرتے کہ میں ڈر گیا ہوں تو میں اور پھر بھی پڑھتا۔ حضرت حبیب وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے نماز کا طریقہ ایجاد کیا اس شخص کے لیے جسے روک کر قتل کیا جائے پھر فرمایا : اے اللہ ! ان کی گنتی شمار کر لے انہیں سختی سے قتل کرنا اور کسی ایک کو بھی نہ چھوڑنا۔ شعر : مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ جب میں حالت اسلام میں شہید کیا جاؤں کہ میں کس حال میں اللہ تعالیٰ کے لیے گرتا ہوں یہ اللہ تعالیٰٰ ہے اگر چاہے تو میرے جسم کے بقیہ ہر ٹکڑے میں برکت ڈال دے۔ راوی نے کہا:مشرکین نے حضرت عاصم بن ثابت کی طرف بھیجا تاکہ اس کے گوشت سے کچھ لے آئے کیونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے سرداروں میں سے ایک بڑے آدمی کوقتل کیا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کے ایک جھنڈ کو بھیج دیا جس نے حضرت عاصم کے جسم کی ان بھیجے ہوؤں سے حفاظت کی آپ کو گوشت میں سے کچھ بھی لینے کی انہیں قدرت نہ ہوئی۔ حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت: الحافظ ابوعبد اللہ نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد بن الفضل البیہقی نے خبر دی کہا میرے دادا ابو ثابت نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا پھر اسی سند کیساتھ اس کے ہم معنی روایت ذکر کی۔اس میں عورت کا یہ قول ذکر کیا: اللہ کی قسم میں نے کبھی بھی حضرت خبیب سے بہتر قیدی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم میں نے انہیں انگور کا ایک گچھا کھاتے ہوئے دیکھا حالانکہ آپ بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ میں یہ پھل نہیں تھا اور شعر میں کہا : یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔اور یہ اضافہ کیا: اللہ تعالیٰ نے حضرت عاصم کی وہ دعا قبول فرمائی جو شہادت کے دن آپ نے کی تھی اور جس دن وہ شہید ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ان کی خبر دی اور حضرت عاصم کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیاں بھیجی انہوں نے آپ کی حفاظت کی اس کا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تذکرہ کیا۔ حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت : امام محمد بن اسحاق بن یسار نے مغازی میں عاصم بن عمر بن قتادہ کے حوالے سے ذکر کیا اور اس میں یہ اضافہ کیا: جب شہد کی مکھیاں ان کے اور حضرت عاصم کے درمیان حائل ہو گئیں انہوں نے کہا: انہیں شام تک چھوڑ دو جب یہ چلی جائیں گی تو ہم انہیں لے لیں گے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سیلاب بھیجا جو حضرت عاصم کو اٹھا کر لے گیا۔ فرمایا : حضرت عاصم نے اللہ تعالیٰ کوعہد دیا تھا کوئی مشرک انہیں نہ وہ کسی مشرک چھوئیں اور نہ کوئی مشرک آپ کو کبھی بھی آپ کی زندگی میں چھوئے۔ ابن اسحاق نے کہا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے:اللہ مؤمن کی حفاظت کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان کی وفات کے بعد بھی مشرکوں کو روک دیا جیسے ان کی زندگی میں ان سے انہیں روکا تھا۔ ہم نے بریدہ بن سفیان سے روایت کی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خبیب کی اپنے قاتلین کے خلاف دعا کو قبول فرمایا چنانچہ ان میں سے کوئی بھی آدمی وہاں سے نہیں پلٹا سوائے اس آدمی کے جس نے آپ کو دعا کرتے ہوئے دیکھا تو وہ زمین سے چمٹ گیا۔ اس حدیث صحیح میں بہت سی کرامات ظاہر ہوئیں ان پر جن کے بارے میں نام لیا گیا۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of dignities of guardians · Hadith 291
