الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 25
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الدُّعَاءِ قَالَ: «يَا حِيُّ يَا قيُّومُ» قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: «أَعُوذُ بعِزَّتِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِي، أَنْتَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ» . وَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فِي حَدِيثِ الْإِفْكِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:83] لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ: لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْتُلُهُ. وَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ. فَحَلَفَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِحَيَاةِ اللَّهِ وَبِبَقَائِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا میں یا حی یا قیوم پڑھتے:سید ابو الحسن محمد بن حسن بن داؤد العلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ہمیں خبر دی کہا ابو الازھر نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا وہ ابراہیم بن فضل سے وہ مقبری سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب دعا میں کوشش فرماتے تو کہتے : یا حی یا قیوم۔اے وہ ذات جو خود زندہ ہے اور دوسروں کو قائم رکھنے والی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک دعا کا تذکرہ : استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے ثابت کی حدیث روایت کی وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے: میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ تو مجھے گمراہ کر دے ، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو خود زندہ ہے دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے جسے موت نہیں آئے گی اور جن و انس مر جائیں گے۔ اللہ کی حیات کی قسم کھانا کیسا؟ اور حضرت سعد بن عبادہ نے حدیث افک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حضرت سعد بن معاذ سے کہا: ’’اللہ کی زندگی کی قسم ہم اسے قتل نہیں کریں گے‘‘ اور حضرت اسید بن حضیر نے کہا : اللہ کی زندگی کی قسم ! ہم اسے ضرور بالضرور قتل کریں گے‘‘ان دونوں میں ہر ایک نے اللہ تعالیٰ کی حیات و بقاء کیساتھ حلف اٹھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سن رہے تھے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں منع نہیں فرمایا)۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ ← يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ. ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الدُّعَاءِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 25
