Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 25

أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الدُّعَاءِ قَالَ: «يَا حِيُّ يَا قيُّومُ» قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: «أَعُوذُ بعِزَّتِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِي، أَنْتَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ» . وَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فِي حَدِيثِ الْإِفْكِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:83] لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ: لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْتُلُهُ. وَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ. فَحَلَفَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِحَيَاةِ اللَّهِ وَبِبَقَائِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا میں یا حی یا قیوم پڑھتے:سید ابو الحسن محمد بن حسن بن داؤد العلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ہمیں خبر دی کہا ابو الازھر نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا وہ ابراہیم بن فضل سے وہ مقبری سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب دعا میں کوشش فرماتے تو کہتے : یا حی یا قیوم۔اے وہ ذات جو خود زندہ ہے اور دوسروں کو قائم رکھنے والی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک دعا کا تذکرہ : استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے ثابت کی حدیث روایت کی وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے: میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ تو مجھے گمراہ کر دے ، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو خود زندہ ہے دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے جسے موت نہیں آئے گی اور جن و انس مر جائیں گے۔ اللہ کی حیات کی قسم کھانا کیسا؟ اور حضرت سعد بن عبادہ نے حدیث افک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حضرت سعد بن معاذ سے کہا: ’’اللہ کی زندگی کی قسم ہم اسے قتل نہیں کریں گے‘‘ اور حضرت اسید بن حضیر نے کہا : اللہ کی زندگی کی قسم ! ہم اسے ضرور بالضرور قتل کریں گے‘‘ان دونوں میں ہر ایک نے اللہ تعالیٰ کی حیات و بقاء کیساتھ حلف اٹھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سن رہے تھے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں منع نہیں فرمایا)۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ ← يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ. ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الدُّعَاءِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 25

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 26

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْمَوَّالِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأَمْرِ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ لَنَا: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ؛ فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ وَتُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ الَّذِي تُرِيدُ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَمَعَادِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَمَعَادِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي مِثْلَ الْأَوَّلِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ "، أَوْ قَالَ: «فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ» . قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ إِثْبَاتُ صِفَةِ الْعِلْمِ وَصِفَةِ الْقُدْرَةِ وَاسْتِخَارَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا، وَقَدْ ذَكَرْنَا شَوَاهِدَهُ فِي كِتَابِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استخارہ کی تعلیم میں اہتمام فرمانا اور استخارہ کی دعا: ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن عبید الصفار نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے قعنبی نے بیان کیا وہ عبدالرحمٰن بن ابو الموال سے وہ محمد بن منکد ر سے وہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہر معاملے میں ہمیں استخارے کی اس طرح تعلیم دیا کرتے تھے جیسے قرآن کی سورۃ کی تعلیم دیا کرتے تھے، آپ ہم سے فرماتے : ’’جب تم میں سے کوئی کسی امر کا ارادہ کرے تو وہ دو رکعات پڑھے فرض کے علاوہ پھر وہ کہے : اے اللہ میں تیرے علم سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت سے طاقت مانگتا ہوں اور تجھ سے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں ،تو جانتا ہے میں نہیں جانتا، تو قادر ہے میں قادر نہیں ہوں، تو تمام غیوب کا جاننے والا ہے ،اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ امر۔ یہاں پر اس معاملے کا نام لے جس کا وہ ارادہ رکھتا ہو۔ میرے دین ،معاش ،لوٹنے اور میرے انجام کار میں بہتر ہو تو اسے میرے مقدر فرما دے اور اسے میرے لیے آسان فرمادے اور اس میں مجھے برکت دے اور اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ میرے دین ،معاش ،لوٹنے اور میرے انجام کار میں میرے لیے برا ہے پہلے کی طرح یہاں بھی وہی الفاظ دہرائے۔تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور خیر میرے مقدر میں فرما جہاں بھی ہو پھر مجھے اس پر راضی رکھ !‘‘ راوی کا شک ہے کہ یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا : ’’یا میرے معاملے کی جلدی یا دیری میں‘‘۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس حدیث صحیح میں صفت علم صفت قدرت اور ان دونوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استخارہ کرنے کا اثبات ہے اس کے شواہد ہم نے اپنی کتاب ”الاسماء والصفات‘‘ میں ہم نے ذکر کیئے ہیں۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 26

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 27

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ [ص:84]، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولُ أَحَدُكُمُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، وَارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، وَارْزُقْنِي إِنْ شِئْتَ، لِيَعْزِمْ مَسْأَلَتَهُ؛ إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ، لَا مُكْرِهَ لَهُ " قَالَ الْأُسْتَاذُ: وَفِي هَذَا إِثْبَاتُ الْمَشِيئَةِ لَهُ تَعَالَى عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ وَلَهُ شَوَاهِدُ كَثِيرَةٌ

دعا میں کیا نہیں کہنا چاہیے:ابو طاہر محمد بن حمد الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر القطان نے ہم سے بیان کیا کہا احمد بن یوسف السلمی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا کہا ہم سے معمر نے بیان کیا وہ ہمام بن منبہ سے راوی آپ نے کہا یہ وہ روایت ہے جسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم سے بیان کیا ہے آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی | اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہے : اے اللہ ! اگر تو چاہے مجھے بخش دے ،اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما، اگر تو چاہے تو مجھے عطا فرما، وہ اپنے سوال میں پختہ رہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اسے کوئی مجبور کرنے والا نہیں۔ استاد امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس میں اللہ تعالیٰ کے مشیت کا اثبات ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اس کے بہت سے شواہد ہیں۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أبو طاهر محمد بن محمد الفقيه

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 27

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 28

أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: يَنْتَهِي الْقُرْآنُ كُلُّهُ إِلَى: {إِنَّ ربَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ} [هود: 107] وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ أَوْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، وَفِيهِ إِثْبَاتُ الْإِرَادَةِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنَّ مَا أَوْعَدَ عَلَيْهِ عِبَادَهُ فِيمَا دُونَ الشِّرْكِ إِلَى مَشِيئَتِهِ كَمَا قَالَ: {وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48]

سارے قرآن کا منتہیٰ : ابو القاسم عبدالرحمٰن بن عبداللہ الحرفی نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا ہم سے احمد بن سلیمان النجاد نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبداللہ بن سلیمان نے بیان کیا کہا ہم سے عباس النرسی نے بیان کیا کہا ہم سے جعفر بن سلیمان نے بیان کیا وہ جریری سے وہ ابو نضرہ سے راویت کرتے ہیں : سارا قرآن اس بات کی طرف جاتا ہے۔ بے شک تیرا رب جو چاہے کرنے والا ہے۔ اور سلیمان تیمی نے ابو نضرہ سے روایت کی وہ حضرت جابر ، حضرت ابو سعید یا بعض دیگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے اسی معنی میں روایت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ارادہ اور جو اس نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے شرک کے علاوہ وہ اسکی مشیت پر موقوف ہے اس بات کا اثباب ان احادیث مذکورہ میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔ (النساء:48)

أَبِي نَضْرَةَ ← يَنْتَهِي الْقُرْآنُ كُلُّهُ إِلَى: وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبَّاسُ النَّرْسِيُّ، ← محمد بن عبد الله بن سليمان ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الحرفي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 28

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 29

وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتِ، لَقَدْ جَاءَتِ الْمُجَادِلَةُ تَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ مَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ سَمِعُ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: 1] ، وَفِي هَذَا إِثْبَاتُ السَّمْعِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

ابو محمد عبداللہ بن احمد اصبہانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو سعید الاعرابی نے خبر دی کہا ہم سے سعدان بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا وہ اعمش سے وہ تمیم بن سلمہ سے وہ عروہ سے وہ حضرت اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتی ہیں : تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے جس کی سماعت تمام آوازوں کو وسیع ہے۔ یقینی بات ہے کہ ایک جھگڑا کرنے والی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت لے کر آئی اور میں گھر کے ایک کونے میں تھے (اس نے اتنی آہستہ آواز میں گفتگو کی کہ) میں نے اس کی گفتگو نہیں سنی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ترجمہ: بیشک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے۔(المجادلة:1) اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے صفت سمع کا اثبات ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 29

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 30

وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ الْإِيمَانِ قَالَ، يَعْنِي السَّائِلَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ؛ فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَفِي هَذَا إِثْبَاتُ الرُّؤْيَةِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالرُّؤْيَةُ وَالْبَصَرُ بِمَعْنًى وَاحِدٍ، وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمٌ حَارٌّ أَلْقَى اللَّهُ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَا أَشَدَّ حَرَّ هَذَا الْيَوْمِ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجَهَنَّمَ: إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي اسْتَجَارَ بِي مِنْكِ [ص:86]، وَإِنِّي أُشْهِدُكِ أَنِّي قَدْ أَجَرْتُهُ "، وَقَالَ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ مَعْنَاهُ

احسان کیا ہے؟ ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے محمد بن عبیداللہ بن المنادی نے بیان کیا کہا یونس بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہا معتمر بن سلیمان نے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ یحییٰ بن یعمر سے وہ حضرت ابن عمر سے وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں :حدیث ایمان میں سائل نے کہا: اے محمد!(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) احسان کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کر گویا تو اسے دیکھتا ہے پس اگر تو اسے نہ دیکھے تو بلاشبہ وہ دیکھتا ہے‘‘۔امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے مفت رؤیت کا اثبات ہے۔ رؤیت اور بصیر ایک ہی معنی ہے۔ بندے کا جہنم کی گرمی سے پناہ مانگنا اور اللہ تعالیٰ کا کرم فرمانا : اور ہم نے گرمی وٹھنڈک کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ جب گرم دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی سمع و بصر اہل زمین کی طرف متوجہ فرماتا ہے ، پھر جب بندہ کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں آج کتنی گرمی ہے؟ اے اللہ ! مجھے جہنم کی گرمی سے پناہ دے !تو اللہ عزوجل جہنم سے فرماتا ہے:میرے بندوں میں سے ایک بندے نے میری پناہ طلب کی ہے تجھ سے اور میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے پناہ دے دی ہے‘‘۔ اور ٹھنڈک کے دن بھی اس کی مثل کہتا ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 30

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 31

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَأَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، حَدَّثَاهُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا نَزَلَ أَحَدُكُمْ مَنْزِلًا فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ؛ فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ " وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى: «بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ» . وَفِي هَذَا إِثْبَاتُ صِفَةِ الْكَلَامِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّمَا قَالَ بِكَلِمَاتٍ عَلَى طَرِيقِ التَّعْظِيمِ. وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَكَلَّمَهُ تَكْلِيمًا» [ص:87]. وَفِي حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سيُكَلِّمُهُ ربُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حَاجِبٌ وَلَا تَرْجُمَانٌ» أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرهُ

جب کسی جگہ قیام کرے تو یہ دعا پڑھے: محمد بن عبداللہ الحافظ اور یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا: ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے بحر بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہا مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی وہ یزید بن ابی حبیب سے اور اپنے باپ حارث بن یعقوب سے روایت کرتے ہیں ان دونوں نے یعقوب بن عبداللہ بن الاشج سے بیان کیا وہ بشر بن سعید سے راوی وہ حضرت سعد بن ابو وقاص سے وہ حضرت خولہ بنت حکیم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فر ماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی کسی مقام میں اترے تو کہے: میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو پیدا کی گئی ہے ، پس اسے کوئی شے نقصان نہیں پہنچائے گی جب تک کہ وہ وہاں سے کوچ نہ کر جائے۔ اور یحییٰ کی روایت میں ’’بکلمات اللہ التامات‘‘ کے لفظ ہیں۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے صفت کلام کا اثبات ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ کلمات تعظیم کے لیے بولا۔ ترجمہ:اور ہم نے حدیث شفاعت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کیا جس میں یہ ہے کہ : ”لیکن تم حضرت موسٰی کے پاس جاؤ وہ ایسا بندہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تو رات عطا کی ہے اور ان سے کلام کیا ہے‘‘۔ بندے قیامت میں اللہ تعالیٰ سے کلام کریں گے: اور حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی حدیث میں ہم نے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک کیساتھ اس کا رب کلام فرمائے گا اس کے اور اس کے رب کے درمیان کوئی پردہ ہو گا نہ کوئی ترجمان۔ ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر الرزاز نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے عبداللہ بن محمد بن شاکر نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا وہ خیثمہ بن عبدالرحمٰن سے وہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پھر حضرت عدی نے اس پچھلی بات کو ذکر کیا۔

خَوْلَةَ بِنْتِ حَکِيمٍ ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← أَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ حَدَّثَاهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 31

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him