الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 37
وَبَيْنَ الْإِنْسَانِ الَّذِي هُوَ خَلْقُهُ وَمَصْنُوعُهُ، خَصَّ الْقُرْآنَ بِالتَّعْلِيمِ، وَالْإِنْسَانَ بِالتخْلِيقِ، فَلوْ كَانَ الْقُرْآنُ مَخْلُوقًا كَالْإِنْسَانِ لَقَالَ: خَلَقَ الْقُرْآنَ وَالْإِنْسَانَ. وَقَالَ: {أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ} [الأعراف: 54] ، فَفَرَّقَ بَيْنَ خَلْقِهِ وَأَمْرِهِ بِالْوَاوِ الَّذِي هُوَ حَرْفُ الْفَصْلِ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ الْمُتَغَايِرَيْنِ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ غَيْرُ خَلْقِهِ، وَقَالَ: {لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ} [الروم: 4] ، يَعْنِي مِنْ قَبْلِ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ وَمنْ بَعْدِ ذَلِكَ. وَهَذَا يُوجِبُ أَنَّ الْأَمْرَ غَيْرُ مَخْلُوقٍ، وَقَالَ: {وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ} [الصافات: 171] ، وَقَالَ: {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ} [الأنفال: 68] ، وَالسَّبْقُ عَلَى الْإِطْلَاقِ يَقْتَضِي سَبْقَ كُلِّ شَيْءٍ سِوَاهُ، وَقَالَ: {وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا} [النساء: 164] ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ كَلَامُ الْمُتَكَلِّمِ قَائِمًا بِغَيْرِهِ ثُمَّ يَكُونَ هُوَ بِهِ مُتَكَلِّمًا مُكَلَّمًا دُونَ ذَلِكَ الْغَيْرِ، كَمَا لَا يَجُوزُ ذَلِكَ فِي الْعِلْمِ وَالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ، وَقَالَ: {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِي بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ} [الشورى: 51] ، فَلَوْ كَانَ كَلَامُ اللَّهِ لَا يُوجَدُ إِلَّا مَخْلُوقًا فِي شَيْءٍ مَخْلُوقٍ لَمْ يَكُنْ لِاشْتِرَاطِ هَذِهِ الْوُجُوهِ مَعْنًى لِاسْتِوَاءِ جَمِيعِ الْخَلْقِ فِي سَمَاعِهِ مِنْ غَيْرِ اللَّهِ وَوُجُودِهِمْ ذَلِكَ عِنْدَ الْجَهْمِيَّةِ مَخْلُوقًا فِي غَيْرِ اللَّهِ، وَهَذَا يُوجِبُ إِسقَاطَ مَرْتَبَةِ النَّبِيِّينَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، وَيَجِبُ عَلَيْهِمْ إِذَا زَعَمُوا أَنَّ كَلَامَ اللَّهِ لِمُوسَى خَلَقَهُ فِي شَجَرَةٍ، أَنْ يَكُونَ مَنْ سَمِعَ كَلَامَ اللَّهِ مِنْ مَلَكٍ أَوْ مِنْ نَبِيٍّ أَتَاهُ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ أَفْضَلَ مَرْتَبَةً فِي سَمَاعِ الْكَلَامِ مِنْ مُوسَى؛ لِأَنَّهُمْ سَمِعُوهُ مِنْ نَبِيٍّ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ اللَّهِ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ شَجَرَةٍ، وَأَنْ يَزْعُمُوا أَنَّ الْيَهُودَ إِذْ سَمِعَتْ كَلَامَ اللَّهِ مِنْ مُوسَى نَبِيِّ اللَّهِ أَفْضَلُ مَرْتَبَةً فِي هَذَا الْمَعْنَى مِنْ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى نَبِيِّنَا وَسَلَّمَ؛ لِأَنَّ الْيَهُودَ سَمِعَتْهُ مِنْ نَبِيٍّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَمُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى نَبِيِّنَا وَسَلَّمَ سَمِعَهُ مَخْلُوقًا فِي شَجَرَةٍ وَلَوْ كَانَ مَخْلُوقًا فِي شَجَرَةٍ لَمْ يَكُنِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُكَلِّمًا لِمُوسَى مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ؛ وَلِأَنَّ كَلَامَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَوْ كَانَ مَخْلُوقًا فِي شَجَرَةٍ كَمَا زَعَمُوا لَزِمَهُمْ أَنْ تَكُونَ الشَّجَرَةُ بِذَلِكَ الْكَلَامِ مُتَكَلِّمَةً، وَوَجَبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ مَخْلُوقًا مِنَ الْمَخْلُوقِينَ كَلَّمَ مُوسَى وَقَالَ لَهُ: {إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي} [طه: 14] ، وَهَذَا ظَاهِرُ الْفَسَادِ، وَقَدِ احْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ رَحِمَهُ اللَّهُ بِهَذِهِ الْفُصُولِ وَاحْتَجَّ بِهَا غَيْرُهُ مِنْ سَلَفِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ
قرآن اللہ تعالیٰ عزوجل کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی صفات ذاتیہ میں سے ایک صفت ہے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کی صفات ذاتیہ میں سے کوئی صفت مخلوق ہو اور نہ ہی محدث اور نہ ہی حادث ہونا ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارافرمانا یہی ہوتا ہے کہ ہم کہیں ہو جا وہ فوراً ہو جاتی ہے۔ (النحل:40)پس اگر قرآن مخلوق ہوتا تو اللہ بحانہ وتعالیٰ اسے بھی’’ کن‘‘ کہتا اور قرآن اس کا قول ہے اور یہ بات محال ہے کہ اس کا قول اسکا مقول ہے کیونکہ(اگر یہ بات درست مان لی جائے تو) یہ دوسرے قول کو ثابت کرنے والا ہو جائے گا اور قول دوسرے قول میں ہو جائے گا اور اس کا تیسرے قول کیساتھ تعلق پہلے قول کی طرح ہو جائے گا اور یہ لامتناہی سلسلہ ہو جائے گا اور یہ فاسد ہے جب یہ بات فاسد ہو گئی کہ اس کا قرآن مخلوق ہو اور ثابت ہو گیا کہ اس کا قول امر ازلی ہے جو مکون(کائنات بنانے والا) کیساتھ تعلق ہے اور وہ ہمیشہ رہے گا جیسا کہ اس کا امر صبح کی نماز کے متعلق حالانکہ اس وقت صبح نہیں تھی اور اس کا امر اس شخص کے متعلق جو قیامت تک کے مکلفین میں سے جو پیدا ہو گا مگر اس کا ان کیساتھ معلق کرنا اس شرط پر ہے جو بعد میں موجود ہوں گی ، ایسے ہی اس کا قول تکوین کے بارے میں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کاعلم ازلی ہے جو تمام معلومات کے حدوث کے وقت کیساتھ متعلق ہے اور اس کا سننا بھی ازلی ہے جو مسموعات کے ظہور کے وقت ان کے ادارک کیساتھ متعلق ہے اور اس کا دیکھنا بھی ازلی ہے جو دکھائی دینے والی اشیاء کے وجود کے وقت ان کے ادارک سے متعلق ہے، اس میں بغیر کسی معنی کے پیدا ہونے کے، اللہ تعالیٰ اس سے بلند و بالا ہے کہ وہ حوادث کا محل ہو اور اس سے بھی بلند ہے کہ اس کی صفات ذاتیہ میں سے کوئی صفت حادث ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ترجمہ:رحمٰن نے قرآن سکھایا انسان کو پیدا کیا۔ (الرحمن:3،2،1)پس جب اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں قرآن ۔جو اس کا کلام وصفت ہے اور انسان جو اس کی تخلیق و کاریگری ہے۔کو جمع کیا اور قرآن کو تعلیم کیساتھ اور انسان کو تخلیق کیساتھ خاص کیا پس اگر قرآن انسان کی طرح مخلوق ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا: خلق القرآن والانسان۔ یعنی اس نے قرآن اور انسان کو پیدا کیا۔(جب اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا تو معلوم ہو گیا کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔) اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ :سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دیا۔ (الاعراف:54) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے تخلیق اور امر کے درمیان فرق کیا واؤ کے ذریعے جو دو مختلف چیزوں کے درمیان حرف فاصلہ ہے پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا قول اسکی مخلوق نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: حکم اللہ ہی کا ہے آگے اور پیچھے۔ (الروم:4)یعنی اس کا ام مخلوق پیدا کرنے سے پہلے اور اسکے بعد ہے۔ یہ آیت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ اسکا امر مخلوق نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور بیشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لئے۔ (الصافات:171) اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اگر اللہ پہلے ایک بات لکھ نہ چکا ہوتا تو اے مسلمانو تم نے جو کافروں سے بدلے کا مال لے لیا اس میں تم پر بڑا عذاب آتا۔ (انفال:68) سبق(پہلے) کا مطلق رکھنا یہ تقاضہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر شے سے سبق(پہلے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا۔ (النساء:164) یہ ممکن نہیں کہ متکلم کا کلام اس کے غیر کیساتھ قائم ہو پھر وہی متکلم اسی کلام کیساتھ کلام کرے اس غیر کے علاوہ جیسا کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم، سمع اور بصر میں ممکن نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشافر مایا: ترجمہ: اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں کہ وہ بشر پردہ عظمت کے ادھر ہو یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ کے کلام کا وجود پیدا کی ہوئی چیز میں بطور مخلوق پایا جاتا تو پھر ان وجوہ کی شرط لگانے کا کوئی معنی نہیں ہو گا کیونکہ پھر تو اللہ تعالیٰ کے علاوہ تمام مخلوق اس کے سننے میں برابر ہو گی۔ جہمیہ کا کلام خداوندی کے متعلق عقیدہ: اور جہمیہ کے نزدیک کلام اللہ کا وجود مخلوق کی حیثیت سے غیراللہ میں پایا جانا تمام انبیاء کرام صلوات اللہ علیہم اجمعین کے مرتبے کو ساقط کر دیتا ہے۔ نعوذ باللہ تعالیٰ۔ جب انہوں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے درخت میں پیدا کیا تو ان پر لازم آتا ہے کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام فرشتے سے یا کسی نبی سے۔ جو اللہ کے پاس سے لے کر آیا ہو سنا اسکا مرتبہ کلام الہٰی سننے میں موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہو کیونکہ ان لوگوں نے ایک نبی سے کلام الہی سنا اور(ان کے قول کے مطابق) موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے نہیں سنا بلکہ حضرت موسیٰ نے تو صرف درخت سے سنا۔(تو ان کے اعتقاد کے مطابق یہ لازم آیا کہ یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہوئے معاذ اللہ تعالیٰ۔) اور جہمیہ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہودیوں نے جب کلام اللہ، اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سنا تو اس معنی میں ان کا مرتبہ حضرت موسیٰ بن عمران صلی اللہ علیہ وعلیٰ نبینا وسلم سے افضل ہے کیونکہ یہودیوں نے نبیوں میں سے ایک نبی سے سنا اور موسیٰ صلی اللہ علیہ وعلیٰ نبینا وسلم نے اس کا کلام سنا جو درخت میں پیدا کیا گیا تھا اور اگر کلام اللہ درخت میں پیدا کیا گیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام سے پردے کے پیچھے سے کلام کرنے والا نہ ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ عزوجل کا موسیٰ علیہ السلام است کلام فرمانا اگر درخت میں پیدا کیا ہوا ہوتا جیسا کہ ان جہمیوں نے گمان کیا تو لازم آئے گا کہ وہ درخت ہی اس کلام کیساتھ کلام کرنے والا ہے تو اس سے ان پر یہ لازم آیا کہ مخلوقات میں سے ایک مخلوق نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ترجمہ: بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر۔ اور اس کا فاسد ہونا ظاہر ہے۔ حضرت علی بن اسماعیل(امام ابو الحسن اشعری) رحمہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فصول سے دلیل پکڑی اور ان کے علاوہ دیگر ہمارے اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ نے یہی دلیل پکڑی۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 37
