الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَأَزْوَاجِهِ · حديث 307
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ , ثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ عَوْنٍ وَيَعْلَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ: قَامَ فِينَا ذَاتَ يَوْمٍ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يأَتِيَ رَسُولُ ربِّي فَأُجِيبُهُ وَإِنِّي تَارِكٌ فَيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَاسْتَمْسِكوا بِكِتَابِ اللَّهِ وَخُذُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ: وَأَهْلَ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: يَا زَيْدُ، مِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: بَلَى إِنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ مِنْ حَرَّمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ، قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: آلُ عَلِيٍّ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ الْعَبَّاسِ وَآلُ عَقِيلٍ، فَقَالَ: كُلُّ هَؤُلَاءِ يُحَرَّمُ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ بَيَّنَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ أَنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَاسْمُ أَهْلِ الْبَيْتِ لِلنِّسَاءِ تَحْقِيقٌ وَهُوَ مُتَنَاوِلٌ لِلْآلِ، وَاسْمُ الْآلِ لَكلِّ مَنْ يُحَرِّمُ الصَّدَقَةَ مِنْ أَوْلَادِ هَاشِمٍ وَأَولَادِ الْمُطَّلِبِ؛ [ص:326] لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لَآلِ مُحَمَّدٍ، وَإِعْطَائِهِ الْخُمُسَ الَّذِي عَوَّضَهُمْ مِنَ الصَّدَقَةِ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ: إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ وَقَدْ يُسَمَّى أَزْوَاجُهُ آلًا بِمَعْنَى التَّشْبِيهُ بِالنَّسَبِ، فَأَرَادَ زَيْدٌ تَخْصِيصَ الْآلِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ بِالذِّكْرِ، وَلَفْظُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوَصِيَّةِ بِهِمْ عَامٌّ يَتَنَاولُ الْآلَ وَالْأَزْوَاجَ وَقَدْ أَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ عَلَى جَمِيعِهِمْ فَقَالَ مَا
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت قرآن اور اہل بیت کے متعلق اور اہل بیت کون ہیں؟ ابو محمد جناح بن نذیر بن جناح القاضی نے کوفہ میں ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے بیان کیا کہا ابراہیم بن اسحاق زہری نے ہم سے بیان کیا کہا جعفر ابن عون اور یعلی نے ہم سے بیان کیا وہ ابو حیان التمیمی سے وہ یزید ابن حیان سے راوی کہا میں نے حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا آپ نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے پس اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا: ’’حمد وصلوٰۃ کے بعد : اے لوگو! میں ایک انسان ہوں عنقریب اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا(حضرت عزرائیل) میرے پاس آئے گا میں اسے قبول کرلوں گا(خبردار!) میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ان میں پہلی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے لہٰذاتم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور اسے پکڑے رکھو‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتاب اللہ پر لوگوں کو ابھارا اور اس کی طرف رغبت دلائی پھر فرمایا:(دوسری بھاری چیز) میری اہل بیت ہے میں تمہیں اپنی اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یاد لاتا ہوں۔ یہ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت حصین نے کہا: اے زید ! اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں اور لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صدقہ(زکوٰۃ) حرام ہے۔عرض کی وہ کون ہیں؟ فرمایا: آل علی ،آل جعفر ، آل عباس اور آل عقیل(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) عرض کیا : کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ استاذ امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں اور اہل بیت کا نام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے لیے تحقیقی طور پر ثابت ہے اور یہ آل کو بھی شامل ہے اور آل کا نام ہر اس کو شامل ہے جن پر صدقہ لینا حرام ہے وہ اولاد ہاشم اور اولادمطلب سے ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: ’’صدقہ(سیدنا) محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور آل(سیدنا) محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے لیے حلال نہیں‘‘۔اور صدقہ کے عوض بنو ہاشم اور بنو مطلب کو خمس دیا جائے گا اور فرمایا: بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی ہیں اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کو بھی آل کا نام دیا جاتا ہے نسب میں مشابہت کے معنی میں لہٰذا احضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان میں اہل بیت میں سے صرف آل کی تخصیص کا ارادہ فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ اہل بیت پر درود بھیجنے کی فضیلت : اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے متعلق وصیت کا لفظ عام ہے جو آل وازواج دونوں کو شامل ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب پر درود بھیجنے کا ہمیں حکم دیا۔
زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ عَوْنٍ وَيَعْلَى، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives · Hadith 307
