Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَأَزْوَاجِهِ · حديث 307

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ , ثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ عَوْنٍ وَيَعْلَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ: قَامَ فِينَا ذَاتَ يَوْمٍ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يأَتِيَ رَسُولُ ربِّي فَأُجِيبُهُ وَإِنِّي تَارِكٌ فَيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَاسْتَمْسِكوا بِكِتَابِ اللَّهِ وَخُذُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ: وَأَهْلَ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: يَا زَيْدُ، مِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: بَلَى إِنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ مِنْ حَرَّمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ، قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: آلُ عَلِيٍّ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ الْعَبَّاسِ وَآلُ عَقِيلٍ، فَقَالَ: كُلُّ هَؤُلَاءِ يُحَرَّمُ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ بَيَّنَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ أَنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَاسْمُ أَهْلِ الْبَيْتِ لِلنِّسَاءِ تَحْقِيقٌ وَهُوَ مُتَنَاوِلٌ لِلْآلِ، وَاسْمُ الْآلِ لَكلِّ مَنْ يُحَرِّمُ الصَّدَقَةَ مِنْ أَوْلَادِ هَاشِمٍ وَأَولَادِ الْمُطَّلِبِ؛ [ص:326] لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لَآلِ مُحَمَّدٍ، وَإِعْطَائِهِ الْخُمُسَ الَّذِي عَوَّضَهُمْ مِنَ الصَّدَقَةِ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ: إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ وَقَدْ يُسَمَّى أَزْوَاجُهُ آلًا بِمَعْنَى التَّشْبِيهُ بِالنَّسَبِ، فَأَرَادَ زَيْدٌ تَخْصِيصَ الْآلِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ بِالذِّكْرِ، وَلَفْظُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوَصِيَّةِ بِهِمْ عَامٌّ يَتَنَاولُ الْآلَ وَالْأَزْوَاجَ وَقَدْ أَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ عَلَى جَمِيعِهِمْ فَقَالَ مَا

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت قرآن اور اہل بیت کے متعلق اور اہل بیت کون ہیں؟ ابو محمد جناح بن نذیر بن جناح القاضی نے کوفہ میں ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے بیان کیا کہا ابراہیم بن اسحاق زہری نے ہم سے بیان کیا کہا جعفر ابن عون اور یعلی نے ہم سے بیان کیا وہ ابو حیان التمیمی سے وہ یزید ابن حیان سے راوی کہا میں نے حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا آپ نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے پس اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا: ’’حمد وصلوٰۃ کے بعد : اے لوگو! میں ایک انسان ہوں عنقریب اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا(حضرت عزرائیل) میرے پاس آئے گا میں اسے قبول کرلوں گا(خبردار!) میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ان میں پہلی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے لہٰذاتم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور اسے پکڑے رکھو‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتاب اللہ پر لوگوں کو ابھارا اور اس کی طرف رغبت دلائی پھر فرمایا:(دوسری بھاری چیز) میری اہل بیت ہے میں تمہیں اپنی اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یاد لاتا ہوں۔ یہ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت حصین نے کہا: اے زید ! اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں اور لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صدقہ(زکوٰۃ) حرام ہے۔عرض کی وہ کون ہیں؟ فرمایا: آل علی ،آل جعفر ، آل عباس اور آل عقیل(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) عرض کیا : کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ استاذ امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں اور اہل بیت کا نام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے لیے تحقیقی طور پر ثابت ہے اور یہ آل کو بھی شامل ہے اور آل کا نام ہر اس کو شامل ہے جن پر صدقہ لینا حرام ہے وہ اولاد ہاشم اور اولادمطلب سے ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: ’’صدقہ(سیدنا) محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور آل(سیدنا) محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے لیے حلال نہیں‘‘۔اور صدقہ کے عوض بنو ہاشم اور بنو مطلب کو خمس دیا جائے گا اور فرمایا: بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی ہیں اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کو بھی آل کا نام دیا جاتا ہے نسب میں مشابہت کے معنی میں لہٰذا احضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان میں اہل بیت میں سے صرف آل کی تخصیص کا ارادہ فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ اہل بیت پر درود بھیجنے کی فضیلت : اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے متعلق وصیت کا لفظ عام ہے جو آل وازواج دونوں کو شامل ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب پر درود بھیجنے کا ہمیں حکم دیا۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ عَوْنٍ وَيَعْلَى، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives · Hadith 307

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَأَزْوَاجِهِ · حديث 308

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ , أنا أَبُو بَكْرِ بْنِ دَاسَةَ , ثنا أَبُو دَاوُدَ , ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , ثنا حِبَّانُ بْنُ يَسَارٍ الْكِلَابِيُّ , حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ , عَنِ الْمُجْمِرِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مِنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمْ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [ص:327]. قَالَ الشَّيْخُ: وَأَمَرَ فِي حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعَدِيِّ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ وَيَحْتَمِلُ أَنَّهُ أَفْرَدَهُنَّ بِالذِّكْرِ مِنْ جُمْلَةِ أَهْلِ الْبَيْتِ عَلَى وَجْهِ التَّأْكِيدِ كَمَا أَفْرَدَ الذُّرِّيَةَ عَلَى وَجِهِ التَّأْكِيدِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى التَّعْمِيمِ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لِيُدْخِلَ فِيهَا غَيْرَ الْأَزْوَاجِ وَالذُّرِّيَةِ مِنْ آلِهِ الَّذِينَ يَقَعُ عَلَيْهِمُ اسْمُ أَهْلِ الْبَيْتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

ابو علی روذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے حبان بن یسار الکلابی نے بیان کیا کہا مجھ سے ابو مطرف عبداللہ بن طلحہ بیان کیا وہ عبیداللہ بن کریز سے راوی کہا محمد بن علی الہاشمی نے مجھ سے بیان کیا وہ حسن سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جو چاہتا ہے کہ اس کے اعمال مکمل اور ان سے ماپے جائیں(اسے زیادہ سے زیادہ ثواب ملے) جب ہمارے اہل بیت پر درود بھیجے تو یوں کہے : اے اللہ محمد نبی آپ کی ازواج جو مؤمنوں کی مائیں ہیں ، آپ کی اولاداور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت پر درود بھیج جس طرح تو نے حضرت ابراہیم(علیہ السلام) پر درود بھیجا توتعریف کیا گیا بزرگی والا ہے‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج وذریت پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا منجملہ اہل بیت میں سے ازواج مطہرات کا علیحدہ ذکر کر نے میں احتمال یہ ہے کہ یہ تاکیداً کیا جیسے اولاد کا علیحدہ ذکر تاکید کے طور پر کیا پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں تعمیم کی طرف لوٹے تاکہ ازواج و ذریت کے علاوہ آل جن پر اہل بیت کا نام آتا ہے وہ بھی داخل ہو جائیں۔ واللہ اعلم !

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمُجْمِرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ ← أَبُو مُطَرِّفٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ کَرِيزٍ ← حَبَّانُ بْنُ يَسَارٍ الْكِلَابِيُّ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives · Hadith 308

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَأَزْوَاجِهِ · حديث 309

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ قَالِا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ , ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ فِي بَيْتِي أُنْزِلَتْ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ} [الأحزاب: 33] قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فَاطِمَةَ وَعَلِيٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ أَهْلِي، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ؟ قَالَ: بَلَى إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ سَنَدُهُ ثِقَاتٌ رُوَاتُهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا يُؤَكِّدُ مَا ذَكَرْنَا مِنْ دُخُولِ آلِهِ وَأَزْوَاجِهِ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَيْنَا مَحَبَّةُ جَمِيعِهِمْ وَمُوَالَاتُهُمْ فِي الدِّينِ

پنچ تن پاک:الحافظ ابو عبداللہ اور ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین السلمی نے اصل کتاب سے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا الحسن بن مکرم نے ہم سے بیان کیا کہا عثمان بن مکرم نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا وہ شریک بن ابو نمر سے وہ عطاء بن یسار سے وہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راویت کرتے ہیں آپ فرماتی ہیں: میرے گھر میں یہ آیت نازل ہوئی :اِنَّمَا یُرِیْدُ اللہُ لِیُذْھِبُ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَ کُمْ تَطْھِیْرًا (الاحزاب:33) ترجمہ:اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔ سیدہ اُم سلمہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدہ فاطمہ ،حضرت علی ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بلانے کے لیے بھیجا(جب یہ آ گئے) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ میری اہل ہے‘‘ حضرت اُم سلمہ فرماتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ فرمایا ’’کیوں نہیں اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا‘‘۔ ابو عبداللہ نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ حدیث اس بات کو پختہ کرتی ہے جس کو ہم نے پیچھے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہل بیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل اور ازواج داخل ہیں اور ہم پر ان سب کی محبت ومولات دین میں لازم ہے۔

فَقُلْتُ: ← هَؤُلَاءِ أَهْلِي، ← فأرسل رسول الله إلى فاطمة وعلي والحسن والحسين ← في بيتي أنزلت ← أُمِّ سَلَمَةَ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي من أصل كتابه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives · Hadith 309

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَأَزْوَاجِهِ · حديث 310

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ [ص:328] يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِميُّ , ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ , ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذوكُمْ بِهِ مِنْ نِعَمِهِ وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي

اہل بیت کرام علیہم الرضوان سے محبت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے ہے: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو النضر محمد بن محمد بن یوسف الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا عثمان بن سعید الداری نے ہمیں خبر دی کہا علی بن بحر بن بری نے ہم سے بیان کیا کہا ہشام بن یوسف الصغانی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن سلیمان النوفلی نے بیان کیا وہ محمد بن علی بن عباس سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ اپنی نعمتوں میں سے تمہیں غذا دیتا ہے اور تم مجھ سے محبت کرو اللہ کی وجہ سے اور میری اہل بیت سے میری محبت کی وجہ سے محبت کرو “۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← عبد الله بن سليمان النوفلي ← هشام بن يوسف الصنعاني، ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ [ص:328] يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives · Hadith 310

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَأَزْوَاجِهِ · حديث 311

حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ , أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ , ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ مَا بِالُ رِجَالٍ يَقُولونَ: إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْفَعُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَلَى وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِّينَا فِي فَضَائِلِ أَهْلِ الْبَيْتِ وَالصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي كِتَابِ الْفضائِلِ مَا وَرَدَ فِيهِمْا وَفِيمَا رُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ وَفِيمَا رُوِيَ عَنْ حُذَيْفَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَغَيْرِهِمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» زَادَ أَحَدُهُمَا فِي رِوَايَتِهِ: «إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مَرْيَمَ [ص:329] بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِيَةَ بِنْتِ مُزَاحِمٍ» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَمرِيمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ» وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُوسَى وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ» وَقَالَ لَابنتِهِ فَاطِمَةَ: " أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟ قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَأَحِبِّي هَذِهِ - يَعْنِي عَائِشَةَ -. وَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ بِمَشْهَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لِمَنْ نَالَ مِنْ عَائِشَةَ: اسْكُتْ مَقْبوحًا مَنْبُوحًا تُؤْذِي حَبِيبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ عَمَّارٌ: إِنَّهَا زَوجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. وَفِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا [ص:330] شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» وَجَمِيعُ ذَلِكَ مَعَ غَيْرِهِ مِنْ فَضَائِلِهِمْ مَذْكورٌ فِي كِتَابِ الْفضَائِلِ بِأَسَانِيدِهَا، وَمَنْ أَرَادَ الْوُقُوفَ عَلَيْهَا رَجَعَ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

حضورمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رشتہ داری کبھی نہیں ٹوٹے گی: ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے ہم سے بیان کیا ، کہا ابو بکر محمد بن حسین القطان نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن حارث البغدادی نے بیان کیا کہا یحییٰ بن ابو بکیر نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے زہیر بن محمد نے بیان کیا وہ عبداللہ بن محمد بن عقیل سے وہ حمزہ بن ابو سعید خدری سے وہ اپنے باپ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ” ان لوگوں کا کیا حال ہے جو کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رشتہ داری اپنے قوم کو قیامت کے دن کوئی نفع نہیں دے گی؟ کیوں نہیں اللہ کی قسم میری رشتہ داری دنیا و آخرت میں جڑی ہوئی ہے اور اے لوگو! میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے اہل بیت کرام اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے فضائل میں اپنی کتاب ’’الفضائل‘‘میں روایات ذکر کی ہیں جو ان کے فضائل میں مرویات ہیں۔ ان حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت: انہیں میں یہ روایت بھی ہے کہ سیدہ عائشہ،سیدہ فاطمہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےسیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا : ’’اَلَا تَرْضَیْنَ اَنْ تَکُونِی سَیِّدَۃَ نِسَاءِ ھَذِہِ الْاُمَّۃِ اَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِینَ ‘‘ کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو اس امت کی عورتوں کی سردار ہو یا فرمایا مؤمنین کی عورتوں کی سردار ہو۔ انہیں میں سے حضرت حذیفہ ، حضرت ابو سعید اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راویت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ نِسَاءِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ ‘‘ سیدہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے۔ ’’اِلَّا مَاکَانَ مِنْ مَرْیَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِیَۃَ بِنْتِ مُزَاحِمٍ ‘‘ ان میں سے ایک صحابی نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا:’’ سوائے سیدہ مریم بنت عمران اور سیدہ آسیہ بنت مزاحم کے‘‘۔ حضرت سیدہ خدیجہ،سیدہ فاطمہ،سیدہ آسیہ اور سیدہ مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی فضیلت : اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں ہے : ’’جنتی عورتوں میں سے افضل سیدہ خدیجہ بنت خویلد ، سیدہ فاطمہ بنت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیده مریم بنت عمران اور سیدہ آسیہ بنت مزاحم ہیں‘‘۔ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت : حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی آب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثُرید کی فضلیت تمام کھانوں پر‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نصیحت : اور اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا تو اس سے محبت نہیں رکھتی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟‘‘ سیدہ نے کہا: کیوں نہیں فرمایا : ’’میں اس یعنی حضرت عائشہ سے محبت کرتا ہوں‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا و آخرت میں زوجہ: اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں اس شخص سے فرمایا جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں برا کہا: خاموش ہو جا! سب سے برے اور بکواس کرنے والے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوبہ کو تکلیف دیتا ہے۔ حضرت عمار نے فرمایا: یہ دنیاو آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ہیں۔ جناب حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں: حضرت ابو سعید وغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی حدیث میں ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’حضرت حسن ، حضرت حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں‘‘۔ ان کے علاوہ دیگر فضائل کتاب الفضائل میں اپنی اسناد کیساتھ مذکور ہیں۔ جس نے ان فضائل کی واقفیت کی ارادہ کے وہ اس کی طرف لوٹے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔

أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives · Hadith 311

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him