ابو الحسین علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران العدل نے ہمیں خبر دی کہا ابو علی اسماعیل بن محمد الصفار اور ابو جعفر محمد بن عمرو بن البحتری الرزاز نے خبر دی دونوں نے کہا ہم سے محمد بن عبیداللہ بن منادی نے بیان کیا۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف گئے اور فرمایا : ابو عبداللہ الحافظ ، ابو الحسن علی بن محمد بن علی الاسفرائینی نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابو جعفر محمد بن عبیداللہ بن المنادی نے بیان کیا کہا ہم سے یونس بن محمد المؤدب نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا وہ پہ باپ سے وہ یحییٰ بن یعمر سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عرض کیا اے ابو عبدالرحمٰن ! ایک قوم یہ گمان کرتی ہے کہ تقدیر کچھ نہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا ان میں سے یہاں کوئی ہے؟ کہتے ہیں میں نے عرض کی : یہاں ان میں سے کوئی نہیں تو آپ نے فرمایا: جب تم ان سے ملاقات کرو تو میری طرف سے انہیں یہ بات پہنچا دینا کہ ابن عمر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم سے بری ہے اور تم ابن عمر سے بری ہو میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی آیا اس پر آثار سفر تھے نہ تو وہ اہل دیہات سے تھا اور نہ اہل شہر میں سے تھا وہ چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس طرح بیٹھ گیا جیسے ہم سے کوئی ایک نماز کی حالت میں بیٹھتا ہے پھر اس نے اپنے دونوں ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیئے پھر کہا : اے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اسلام کیا ہے؟ فرمایا: ’’اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد پاک اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور بیت اللہ کا حج وعمرہ کرے اور غسل جنابت کرے، مکمل وضو کرے اور رمضان کے روزے رکھے‘‘۔اس نے کہا اگر میں یہ کرلوں تو کیا میں مسلمان ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا اس نے کہا: اے(سیدنا) محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ایمان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ایمان لائے اور اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر اور تو جنت ، دوزخ اور میزان پر ایمان لائے اور تو موت کے بعد جی اٹھنے پر ایمان لائے اور تو اس کی اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے‘‘۔اس نے کہا : جب میں ایسا کرلوں تو کیا میں مومن ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” ہاں‘‘ اس نے کہا آپ نے سچ فرما یا پھر اس نے کہا :اے(سیدنا) محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’تو اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو(یہ خیال ضرور ہونا چاہیے کہ) وہ دیکھ رہا ہے‘‘ اس نے کہا جب میں ایسا کرلوں تو کیا میں محسن ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں‘‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا اس نے کہا: قیامت کب قائم ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ پاک ہے جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ سائل سے زیادہ قیامت کے بارے میں نہیں جانتا اگر تو چاہے میں اس کی علامات کی تجھے خبر دوں ؟‘‘اس نے کہا ہاں علامات بتائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تو دیکھے فقیر ، ننگے پاؤں اور ننگے بدن والوں کو کہ وہ اس پر فخر کرنے لگیں اور وہ بادشاہ ہو جائیں‘‘۔ اس نے کہا :فقیر ، ننگے پاؤں اور ننگے بدن والے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ دیہاتی ہوں گے ‘‘فرمایا:’’ اور جب تو لونڈی کو دیکھے کہ وہ اپنی مالکن اور مالک کو جنے تو یہ قیامت کی علامات میں سے ہے‘‘ اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا پھر وہ آدمی اٹھا اور چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم جانتے ہو یہ کون ہے ؟ یہ جبریل علیہ السلام ہیں وہ تمہارے پاس تمہارے دین کوسکھانے کے لیے آئے تھے تو تم اس سے ان باتوں کو لے لو! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب سے وہ میرے پاس آ رہا ہے اس بار کے علاوہ وہ مجھ پر مشتبہ نہ ہوا اور میں اسے پہچان نہ سکا یہاں تک کہ وہ واپس چلا گیا‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں کلمہ شہادت کو اسلام کا نام دیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں وفد عبد القیس کی حدیث میں کلمہ شہادت کو ایمان کا نام دیا یہ دونوں حدیثیں اس کی دلیل ، کہ ایمان واسلام ایک ہی چیز کے نام ہیں مگر اس حدیث میں ایمان کی تفسیر اس بات سے بیان کی جو اس بارے میں صریح ہے اور وہ تصدیق ہے(یعنی ایمان تصدیق کا نام ہے) اور ایمان کی تفسیر اس بات سے کی جو اس کی نشانی ہے اگرچہ اس کی صریح کا نام اس کی نشانی کا شامل ہے اور اس کی نشانی کا نام اس کے صریح کو شامل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ان دونوں کے مابین اور احسان کے مابین تفصیل بیان کی اگرچہ ایمان و اسلام ،احسان ہی ہیں اور احسان کی تفسیر اخلاص ویقین کیساتھ بیان کی جو ایمان ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیامت کی علامات کے بارے میں یہ فرمان : ’’لونڈی اپنی مالکن اور مالک کا جنے گی‘‘ اس سے مراد اسلام کو وسعت دینا اور کثرت سے لونڈیوں کا ہونا ہے حتٰی کہ لوگ اپنی لونڈیوں سے اولاد حاصل کریں گئے تو لونڈی اپنے مالک کی بیٹی یا بیٹے کو جنے گی تو اس کا بیٹا بھی اس کا سردار ہی ہو گا کیونکہ وہ اپنے مالک کا بیٹا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وسعت اور آپ کی شریعت کا وسیع ہونا یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے اس معنی میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت کے مابین کوئی دوسرا نبی نہیں ہے پھر کوئی نہیں جانتا ہے کہ قیامت کب قائم ہو گی مگر اللہ تعالیٰ(یا جسےاللہ تعالیٰٰ قیامت کا علم عطا فرمائے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قیامت کا علم عطافرمایا ہے یہی محققین کا مذہب ہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے : انباء الحیی از تصنیف امام الشاہ احمد رضا خان محدث بریلی رحمہ اللہ تعالیٰ)
قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن المنادي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي الإسفراييني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← أبو جعفر محمد بن عمرو بن البحتري الرزاز ← أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 179
اور ہم نے مطر الوراق کی حدیث میں روایت کی وہ عبداللہ بن بریدہ سے وہ یحییٰ بن یعمر سے روایت کرتے ہیں اس حدیث میں ایمان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” تو اللہ پر ایمان لائے اور اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ،موت اور موت کے بعد جی اٹھنے ،حساب، جنت و دوزخ اور ساری تقدیر پر ایمان لائے‘‘۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 180
ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو زکریا یحییٰ بن محمد بن عبد اللہ العنبری اور ابو محمد عبداللہ بن احمد بن سعد الحافظ نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا: محمد بن ابراہیم بن سعید البوشنجی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا کہا ہم سے روح بن القاسم نے بیان کیا وہ علاء بن عبدالرحمٰن سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ مجھ پر ایمان لائیں اور جسے میں لے کر آیا ہوں اس پر بھی ایمان لائیں جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال محفوظ کر لیے سوائے اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے‘‘۔ امام شیخ بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو کچھ نازل کیا ہم اس پر اعتقاد رکھتے ہیں اور قرآن مجید آپ کی زندگی میں ختم نہیں ہوا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں محفوظ باقی ہے جس میں نہ کوئی زیادتی ہوئی نہ کمی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں وعدہ کیا: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:9) ترجمہ: بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ وہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَاِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیْزٌ لَّا یَاْتِیْہِ الْیٰطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ (حم السجدة:42،41) ترجمہ: بے شک وہ عزت والی کتاب ہے باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے۔ حضرت امام حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے اسے شیطان سے محفوظ رکھا ہے کہ کسی باطل کا اس میں اضافہ ہو گا نہ کسی حق کی اس میں کمی ہو گی۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← محمد بن إبراهيم بن سعيد البوشنجي ← أبو محمد عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 181
ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد العلوی نے ہم سے بیان کیا کہا ابو حامد احمد بن محمد بن حسین الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے محمد بن یحییٰ الذہلی نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا کہا ہم سے میرے باپ نے بیان کیا وہ صالح بن کیسان سے راوی کہا ہم سے نافع نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” قیامت کے دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اپنے نصف کانوں تک پسینے میں ڈوبا ہوا ہو گا‘‘۔
نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 182
جس کے حساب میں سختی ہوئی وہ ہلاک ہو گیا : محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الصفار نے خبر دی کہا ہم سے احمد بن مہران نے بیان کیا کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عثمان بن اسود نے بیان کیا وہ ابن ابی ملیکہ سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے وہ اپنے باپ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتی ہیں آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’(قیامت کے دن) جس سے حساب میں سختی کی گئی وہ ہلاک ہو گیا‘‘۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے: فَاَمَّا بِیَمِیْنِہٖ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا (الانشقاق: 7، 8) ترجمہ: تو وہ جواپنا نامہ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ یہ صرف پیش کرنا ہے‘‘۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 183
قیامت کے تین مقامات سب سے مشکل ہوں گے: ابو علی الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم اور حمید بن مسعدہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ان سے بیان کیا کہا ہمیں یونس نے خبر دی اور یعقوب نے کہا وہ یونس سے روایت کرتے ہیں یا اپنی حدیث حسن سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دوزخ کی آگ کی یاد آئی تو وہ رونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے رلا یا ہے؟ سیدہ عائشہ نے کہا: مجھ دوزخ کی آگ یاد آئی تو میں رونے لگی تو کیا تم(اے مردو!) قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد رکھو گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تین مقامات میں کوئی کسی کو یاد نہیں رکھے گا، میزان کے پاس یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا میزان ہلکا ہے یا بھاری اور نامہ اعمال کے وقت جب کہا جائے گا : آؤ اپنا نامہ اعمال پڑھو! یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا نامہ اعمال کہاں ہے دائیں ہاتھ میں یا بائیں میں یا پیٹھ کے پیچھے اور پل صراط کے وقت جب وہ جہنم کے کناروں پر رکھا جائے گا‘‘۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 184
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کی فضیلت : ابو عمرو محمد بن عبداللہ الادیب نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر اسماعیلی نے خبر دی کہا حسن بن سفیان نے مجھے خبر دی کہا ابو خیثمہ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن فضل نے بیان کیا کہا ہم سے عمارہ نے بیان کیا وہ ابو زرعہ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ دو کلمے زبان پر ہلکے ہیں ، رحمن کے پسندیدہ ہیں ، میزان میں بھاری ہیں(وہ یہ ہیں)سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم‘‘ ۔امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میزان پر ایمان رکھنا واجب ہے ان دلائل کی وجہ سے جنہیں ہم نے ذکر کیا پھر وزن کی کیفیت کے متعلق کہا گیا ہے کہ نیکیوں کے صحیفے میزان کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور برائیوں کے دوسرے پلڑے میں پھر وزن کیا جائے گا بعض اخبار میں جو وارد ہوا وہ اس پر دلالت کرتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکیوں اور برائیوں کی تعداد کے اندازے سے اجسام پیدا فرمائے اس طرح کہ ایک کی دوسرے سے تمیز ہو جائے پھر ان کا وزن کیا جائے جس طرح جسموں کا وزن کیا جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ جس کے بارے میں خبر صادق وارد ہوئی ہم اس پر ایمان لاتے ہیں(کہ میزان قائم ہو گا) اور اس (کی کیفیت) کو ایسے وجہ پر محمول کرتے ہیں جو صحیح ہو۔ وباللہ التوفیق!
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 185
نیک بندوں کے انعامات: حافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے حسن بن علی بن عفان نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا وہ اعمش سے وہ ابو صالح سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عزوجل فرماتا ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ انعامات تیار کیے ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی بشر کے دل میں اس کا خیال گزرا‘‘۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی :فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قّرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآءً بِمَا کَانُوْا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (السجدة:17) ترجمہ:توکسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 186
جنت و دوزخ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں رہتے ہیں: ابو الحسین بن بشران اور ابو عبداللہ بن برہان اور دوسروں نے ہمیں خبر دی سب نے کہا اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی کہا حسن بن عرفہ نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے قاسم بن مالک المزنی نے بیان کیا وہ مختار بن فلفل سے وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے پھر آپ نے ایک حدیث ذکر کی یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے اگر تم وہ دیکھو جو میں نے دیکھا توتم ہنستے کم اور روتے زیادہ‘‘۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ نے کیا دیکھا ؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے جنت اور دوزخ کو دیکھا‘‘۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 187
ابو محمد عبداللہ بن محمد بن حسن المہرجانی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر محمد بن جعفر المزکی نے خبر دی کہا ابو عبداللہ البوشنجی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے مالک نے بیان کیا وہ نافع سے وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے جو کوئی بھی مرتا ہے اس پر صبح وشام اسکا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو وہ(ٹھکانہ) اہل جنت میں سے ہوتا ہے اور اگر وہ اہل دوزخ میں سے ہو تو وہ(ٹھکانہ)اہل دوزخ سے ہوتا ہے اسے کہا جاتا ہے :یہ تیرا ٹھکانہ ہے حتٰی کہ اللہ تعالیٰٰ قیامت کے دن اسے اٹھائے گا‘‘۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 188
کچھ حوض کوثر کے بارے میں : الحافظ محمد بن عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا عبدالرحمٰن بن حسن القاضی نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابراہیم بن حسین نے بیان کیا کہا ہم سے آدم بن ابو ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا وہ قتادہ سے وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب(شب معراج) مجھے آسمان کی طرف عروج کرایا گیا تو میں ایک نہر پر آیا جس کے کنارے ایسے موتیوں سے بنے تھے جو اندر سے کھوکھلے تھے تو میں نے کہا اے جبریل یہ کیا ہے؟ کہا یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا کی ہے پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا اور اس سے مٹی نکالی جواذ فرکستوری تھی‘‘۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 189
ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤ درحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ابو محمد عبداللہ بن محمد بن الحسن بن الشرقی نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن یحییٰ الذہلی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا وہ قرہ بن خالد سے وہ ابو حمزہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: ابو برزہ ،عبیداللہ بن زیاد کے پاس آئے تو اس نے کہا تمہارے یہ محمد (جو آئے ہیں یہ) چھوٹے قد والے موٹے آدمی ہیں تو آپ نے فرمایا: میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایسے لوگوں میں زندگی گزاروں جو حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کو عار سمجھتے ہوں لوگوں نے کہا : امیر نے آپ کو اس لیے بلایا ہے تاکہ وہ آپ سے حوض کوثر کے بارے میں سوال کرے آپ نے سختی سے فرمایا: کس کی یہ خواہش ہے؟ اس نے کہا : کیا یہ حق ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں لیکن جس نے اسے جھٹلایا اللہ تعالیٰ اسے اس حوض سے نہیں پلائے گا۔
نَعَمْ، فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ ← أَحَقٌّ هُوَ؟ ← أَيِّ بَالِهِ؟ ← الْحَوْضِ». ← إِنَّ الْأَمِيرَ إِنَّمَا دَعَاكَ لِيَسْأَلَكَ ← مَا كُنْتُ أُرَى أَنْ أَعِيشَ فِي قَوْمٍ يَعُدُّونَ صُحْبَةَ مُحَمَّدٍ عَارًا، ← إِنَّ مُحَمَّدَكُمْ هَذَا لَدَحْدَاحٌ، ← دَخَلَ أَبُو بَرْزَةَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ← أَبِي حَمْزَةَ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن الحسن بن الشرقي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 190