Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 223

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ , أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ , ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ

اہل بدعت کے پاس بیٹھنے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا: ابو طاہر الفقیہ نے ہمیں خبر ان البصری نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہا عبداللہ بن یزید المقری نے ہم سے بیان کیا کہا سعید بن ابو ایوب نے ہم سے بیان کیا وہ عطاء بن دینار ہذلی سے وہ حکیم بن شریک سے وہ یحییٰ بن میمون الخضرمی سے وہ ربیعہ الجرثی سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” قدریہ کیساتھ نہ تم بیٹھو اور ندان سے کلام کا آغاز کرو!‘‘۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ ← یَّحْیَی بْنِ مَیْمُوْنِ الْحَضْرَمِیِّ ← حَکِیْمِ بْنِ شَرِیْکٍ ← عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ؛ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 223

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 224

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ , ثنا أَبُو دَاوُدَ , ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ: حَدَّثَنِي بِمِنًى , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ [ص:237] عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ. وَرُوِيَ عَنْ حُذَيْفَةَ وَجَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، وَإِنَّمَا سُمُّوا قَدَرِيَّةً؛ لِأَنَّهُمْ أَثْبَتُوا الْقَدَرَ لِأَنْفُسِهِمْ، وَنَفَوْهُ عَنِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، وَنَفَوْا عَنْهُ خَلْقَ أَفْعَالِهِمْ وَأَثْبَتُوهُ لِأَنْفُسِهِمْ فَصَارُوا بِإِضَافَةِ بَعْضِ الْخَلْقِ إِلَيْهِ دُونَ بَعْضٍ مُضَاهِينَ لِلْمَجُوسِ فِي قَوْلِهِمْ بِالْأَصْلَيْنِ النُّورِ وَالظُّلْمَةِ وَأَنَّ الْخَيْرَ مِنْ فِعْلِ النُّورِ وَالشَّرَّ مِنْ فِعْلِ الظُّلْمَةِ

قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں: ابو علی الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالعزیز بن ابو حازم نے مجھ سے منی میں بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں اگر وہ بیمار ہو جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرنا اگر مر جائیں تو تم ان کے جنازے میں نہ حاضر نہ ہونا‘‘۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک اور طریق سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول روایت کیا گیا اور حضرت حذیفہ ، حضرت جابر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مرفوعاً روایت کی گئی۔ قدریہ کی وجہ تسمیہ اور مجوسیوں کی مشابہت کی وجہ : انہوں نے ان کا نام قدریہ اس لیے رکھا کیونکہ انہوں نے اپنے لیے تقدیر کو ثابت کیا اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے تقدیر کی نفی کی اور اللہ تعالیٰ سے لوگوں کے افعال کی تخلیق کی نفی کی اور انہیں اپنے لیے ثابت کیا تو وہ بعض تخلیق کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے والے ہو گئے نہ کہ بعض تو یہ مجوسیوں کے مشابہ ہو گئے جو دو اصول نور اور ظلمت کا قول کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خیر فعل نور سے ہے اور شرفعل ظلمت سے ہے۔

«الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← بِمِنًى، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 224

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 225

أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّابَرَانِيُّ بِهَا أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا هَارُونُ بْنُ مُوسَى , ثنا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ , (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَيْهَقِيُّ , أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ , ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ , عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الدِّمَشْقِيِّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُصَيْنٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا وَفِي أُمَّتِهِ قَدَرِيَّةٌ وَمُرْجِئَةٌ يُشَوِّشُونَ عَلَيْهِ أَمْرَ أُمَّتِهِ أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ لَعَنَ الْقَدَرِيَّةَ وَالْمُرْجِئَةَ عَلَى لِسَانِ سَبْعِينَ نَبِيًّا [ص:238]. وَرَوَاهُ أَيْضًا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شِهَابِ بْنِ خِرَاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاهُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ , أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ , ثنا سُوَيْدٌ، فَذَكَرَهُ.

ستر نبیوں کی زبانی قدریہ اور مرجئہ پر لعنت کی گئی : ابو نصر محمد بن احمد بن اسماعیل الطابرانی نے طاہران میں ہمیں خبر دی کہا ابو نصر محمد بن محمد بن يوسف الفقیہ نے املاء کرواتے ہوئے ہمیں خبر دی کہا ہارون بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہا حمید بن زنجویہ نے ہم سے بیان کیا۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف منتقل ہوئے اور کہا: ابو عبداللہ حسین بن عبداللہ البیہقی نے ہمیں خبر دی کہا ابوحامد احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے ہمیں خبر دی کہا داؤد بن حسین بیہقی نے ہم سے بیان کیا کہا حمید بن زنجویہ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا کہا ہم سے بقیہ بن ولید نے بیان کیا وہ ابو العلاء دمشقی سے وہ محمد بن جحادہ سے وہ یزید بن حصین سے وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس بھی نبی کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اس کی امت میں قدریہ اور مرجئہ ہو گئے وہ ان پر ان کی امت کے معاملے کو تشویش میں ڈالتے ہیں خبر دار! اللہ تعالیٰ نے ستر نبیوں کی زبانی قدریہ اور مرجئہ پر لعنت کی ہے‘‘۔ اور اس کو سعید بن سوید نے روایت کیا وہ شہاب بن خراش سے وہ محمد بن زیاد سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی معنی کی مثل روایت کرتے ہیں۔ علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن عبیداللہ نے ہمیں خبر دی کہا عمر بن حفص السد وی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے سوید نے بیان کیا پھر یہ روایت ذکر کی۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← يزيد بن حصين ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← أبي العلاء الدمشقي ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أبو حامد أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَيْهَقِيُّ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← هَارُونُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ← أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أحمد بن إِسْمَاعِيلَ الطَّابَرَانِيُّ بِهَا

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 225

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 226

أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ , ثنا أَبُو مُوسَى هَارُونُ بْنُ مُوسَى بْنِ كَثِيرٍ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، وَعَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ نِزَارٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ: الْمُرْجِئَةُ وَالْقَدَرِيَّةُ. قَالَ أَبُو عُمَرَ سَأَلْتُ وَكِيعًا عَنِ الْمُرْجِئَةِ فَقَالَ: الَّذِينَ يَقُولُونَ: الْإِيمَانُ قَوْلٌ. هَذَا يُعَدُّ فِي أَفْرَادِ نِزَارِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ فِي كِتَابِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ

مرجئہ اور قدریہ کا ایمان سے کیا حصہ ہے؟: ابو نصر محمد بن احمد بن اسماعیل الطوسی نے ہمیں خبر دی کہا ابو النضر الفقیہ نے ہم سے بیان کیا کہا ابو موسی ٰبارون بن موسیٰ بن کثیر الزاہد نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابو عمرو الضریر اور علی بن سلمہ نے بیان کیا دونوں نے کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا وہ علی بن نزار سے وہ اپنے باپ سے وہ مکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت کے دو قسموں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے وہ مرجئہ اور قدریہ ہیں‘‘۔ابو عمر نے کہا میں نے وکیع سے مرجئہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: وہ کہتے ہیں : ایمان قول ہے۔ اس کو نزار بن حیان از مکرمہ کے افراد میں شمار کیا جاتا ہے اور ابو عیسیٰ الترمذی نے اپنی کتاب میں محمد بن رافع سے روایت کیا وہ محمد بن بشر سے وہ سلام بن ابو عمرہ سے وہ مکرمہ سے راوی ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ نِزَارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، وَعَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو مُوسَى هَارُونُ بْنُ مُوسَى بْنِ كَثِيرٍ الزَّاهِدُ، ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطُّوسِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 226

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 227

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْأَهْوَاءِ فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَغْمِسُوكُمْ فِي ضَلَالَتِهِمْ أَوْ يَلْبِسُوا عَلَيْكُمْ بَعْضَ مَا تَعْرِفُونَ

اہل بدعت کے پاس نہ بیٹھو: ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو سعید بن اعرابی نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے حسین بن محمد الزعفرانی نے بیان کیا کہا عبدالوہاب بن عبدالمجید نے ہم سے بیان کیا وہ ایوب سے وہ ابو قلابہ سے راوی آپ نے کہا تم اہل بدعت سے مجالست اختیار نہ کرو کیونکہ میں اس بات سے امان میں نہیں ہوں کہ وہ تمہیں اپنی گمراہیوں میں ڈبود یں یا بعض جو چیزیں تم جانتے ہوان میں تمہیں شک میں ڈال دیں۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 227

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 228

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ , أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ , ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , ثنا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: لَا تُجَالِسُوا مَفْتُونًا فَإِنَّهُ لَنْ يُخْطِئَكَ مِنْهُ إِحْدَى خَصْلَتَيْنِ: إِمَّا أَنْ يَفْتِنَكَ فَتُتَابِعَهُ , أَوْ يُؤْذِيَكَ قَبْلَ أَنْ تُفَارِقَهُ

فتنے میں مبتلا شخص کے پاس بیٹھنے کا نقصان : ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن اسحاق الصغانی نے ہم سے بیان کیا کہا یعلی بن عبید نے ہم سے بیان کیا کہا سفیان ابن دینار نے ہم سے بیان کیا کہا میں نے مصعب بن سعد کو کہتے ہوئے سنا: جو فتنے میں مبتلا ہو اس کے پاس نہ بیٹھو کیونکہ اس کی دو خصلتوں میں ایک ہرگز تجھ سے خطا نہیں ہو گی یا تو تجھے فتنے میں ڈالے گا تو تم اس کی پیروی کرنے لگ جاؤ گے یا قبل اس سے کہ تو اس سے جدا ہو وہ مجھے ایذا پہنچائے۔

مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 228

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 229

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّابُونِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: الْمِرَاءُ فِي الْعِلْمِ يُقْسِي الْقَلْبَ , وَيُورِثُ الضَّغَائِنَ

علم میں جھگڑے کا نقصان: ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو زرعہ الرازی نے مجھ سے بیان کیا کہا احمد بن محمد الصابونی نے ہم سے بیان کیا کہا میں نے ربیع بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے امام شافعی کو کہتے ہوئے سنا: علم میں جھگڑا دل سخت کرتا ہے اور کینہ پیدا کرتا ہے۔

الْمِرَاءُ فِي الْعِلْمِ يُقْسِي الْقَلْبَ وَيُورِثُ الضَّغَائِنَ ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أحمد بن محمد الصابوني ← أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 229

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 230

أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْأَصَمَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: لَأَنْ يَلْقَى اللَّهُ الْعَبْدَ بِكُلِّ ذَنْبٍ مَا خَلَا الشِّرْكَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَلْقَاهُ بِشَيْءٍ مِنَ الْهَوَى

بدعت کی مذمت امام شافعی علیہ الرحمہ کی زبانی : ابو عثمان بن سعيد بن محمد بن محمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا میں نے ابو العباس الاصم کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ربیع بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کو کہتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ بندے کو شرک کے علاوہ کسی بھی گناہ میں ڈال دے یہ بہتر ہے اس سے کہ اسے بدعت کی کسی چیز میں ڈالے۔

الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبَا الْعَبَّاسِ الْأَصَمَّ ← أَبُو عُثْمَانَ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 230

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him