Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 320

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللَّهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ , ثنا الْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ , عَنْ زَائِدَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يَسْتطِيعُ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ: فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، قَالَ: فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصلی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر : ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا عباس بن محمد الدوری نے ہم سے بیان کیا کہاحسین الجعفی نے ہم سے بیان کیاوہ زائدہ سے وہ عبدالملک بن عمیر سے وہ ابو بردہ سے وہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’حضرت ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں‘‘حضرت عائشہ نے کہا: حضرت ابو بکر نرم دل آدمی ہیں جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز پڑھانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حضرت ابو بکر کر حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تم حضرت یوسف علیہ السلام کی ساتھی ہو۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا : حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں نماز پڑھائی۔

مرض رسول الله فقال مروا أبا بكر فليصل بالناس فقالت عائشة ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَۃَ، ← الْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 320

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 321

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ , ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أنا [ص:338] مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ، أَخْبرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي قَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا بي إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بأَوَّلِ مِنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثلَاثًا فَقَالَ: «لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ»

ابو طاہر محمد بن محمد بن محمش الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر محمد ابن الحسن القطان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن یوسف السلمی نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہا معمر نے ہمیں خبر دی وہ زہری سے راوی کہا مجھے حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی وہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بیماری کے ایام میں) میرے گھر میں داخل ہوئے توفر مایا: ”حضرت ابو بکر کوکہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں‘‘۔سیدہ عائشہ فرماتی ہیں میں نے عرض کی یارسول اللہ ! حضرت ابو بکر نرم دل آدمی ہیں جب قرآن پڑھتے ہیں تو انہیں آنسو پر قدرت نہیں رہتی(آپ کے بے اختیار آنسو جاری ہو جاتے ہیں) آپ حضرت ابو بکر کے علاوہ کسی اور کو حکم دیں ؟ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : اللہ کی قسم ! میرے پیش نظر صرف یہی بات کہ میں اس بات کو ناپسند سمجھتی تھی کہ لوگ اس شخص کو نا مبارک خیال کریں گے جو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہو گا آپ فرماتی ہیں میں نے دو یا تین مرتبہ یہی بات دہرائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’حضرت ابو بکر لوگوں کو نماز پڑھائیں تم حضرت یوسف علیہ السلام کی ساتھی ہو‘‘ ۔

قُلْتُ ← مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ← لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ بَيْتِي ← عَائِشَةَ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← [ص:55] مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أبو بكر محمد بن الحسن القطان ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 321

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 322

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ , أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ , ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ , ثنا أَبُو الْيَمَانِ , أنا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، - وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ - أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفوفٌ فِي الصَّلَاةِ كَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ يَنْظُرُ إِلَينَا وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقُ مُصْحفٍ ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحكُ قَالَ: فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ وَنَحْنُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرَحٍ برؤيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: فَأَشَارَ إِلَينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْخَى السِّتْرَ فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي رَوَاهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ مِنْ إِرْخَاءِ السِّتْرِ بَعْدَمَا نَظَرَ إِلَيْهِمْ وَأَظْهَروا الْفَرَحَ بِمكَانِهِمْ صُفوفًا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ كَانَ فِي الرَّكْعَةِ الْأَوُلَى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ أَنَّهُ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ فَأَدْرَكَ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ فَصَلَّاهَا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا سَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ أَتُمْ [ص:339] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى وَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ. هَكَذَا ذَكَرَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي مَغَازِيهُ وَكذَلِكَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَبِمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَيَشْهدُ لَهُ مَا

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری دن : ابو الحسین بن فضل القطان نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر نے ہمیں خبر دی کہا یعقوب بن سفیان نے ہم سے بیان کیا کہا ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہا شعیب نے ہمیں خبر دی وہ زہری سے راوی کہا مجھے حضرت انس بن مالک انصاری آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع ، خدمت اور صحبت میں دس سال گزارے۔ نے خبر دی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بیماری کے ایام میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال فرمایا یہاں تک کہ جب پیر کا دن آیا لوگ نماز کی صفوں میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا آپ ساری کھڑے ہماری طرف دیکھنے لگے گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ کھلا ہوا قرآن تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبسم فرما کر ہنسنے لگے۔ حضرت انس فرماتے ہیں : ہم سمجھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے کی خوشی میں فتنے میں پڑھ جائیں گے حالانکہ ہم نماز میں تھے اور حضرت ابو بکر اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہوئے تا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صف کو نماز پڑھائیں اور آپ نے یہ گمان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے نکلے ہیں۔ حضرت انس نے فرمایا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ہماری طرف اشارہ کیا کہ اپنی نماز مکمل کرو پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرہ میں داخل ہو گئے اور پردہ گراد یا پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی دن وصال فرمایا۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو دیکھنے کے بعد پردہ گرا دیا اور صحابہ کرام علیہم الرضوان نے صفوں کے اندر حضرت ابو بکر کے پیچھے اپنی اپنی جگہوں میں خوشی کا اظہار کیا یہ نماز صبح کی پہلی رکعت میں ہوا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ کو کچھ ہلکا محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو دوسری رکعت پالی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حضرت ابو بکر کے پیچھے پڑھا پھر جب حضرت ابو بکر نے سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت کو پورا کیا اور اسی دن آپ سلیم نے وفات پائی ایسے ہی موسیٰ بن عقبہ نے اپنے مغازی میں روایت کیا اور ایسے ہی عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور اسی کے ہم معنی حضرت عبداللہ بن ملیکہ نے ذکر کیا۔ اس کی شہادت وہ روایت دیتی ہے جس کی ہمیں خبر دی۔

كَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ عَشْرَ سِنِينَ ← أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 322

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 323

أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّويلِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ: آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ صَلَّى فِي ثوْبٍ وَاحِدٍ مُوشَّحًا بِهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری نماز ظاہری دنیا میں : ہمیں خبر دی ابو القاسم عبد الخالق بن علی بن عبد الخالق المؤذن نے کہا ابو بکر محمد بن احمد بن خنبب نے ہمی خبر دی کہا محمد بن اسماعیل الترمذی نے ہم سے بیان کیا کہا ایوب ابن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہا ابو بکر بن ابو اویس نے ہم سے بیان کیا وہ سلیمان بن بلال سے وہ حمید الطویل سے وہ ثابت البنانی سے وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: آخری نماز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کیساتھ پڑھی وہ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے پڑھی۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 323

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 324

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ , ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبرَنِي يُونُسُ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعِيدًا، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بَيْنَا، أنا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ فَنَزَعْتُهُ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ اسْتحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ فَلَمْ أَرَ عَبْقرِيًا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ. وَكذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: رُؤْيَا الْأَنبيَاءِ وَحْيٌ، وَقَوْلُهُ «وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ» قِصَرُ مُدَّتِهِ وَعَجَلَةُ مَوْتِهِ وَشُغْلُهُ بِالْحرْبِ لِأَهْلِ الرِّدَّةِ عَنِ الِافْتِتَاحِ وَالتَّزَيُّدِ [ص:340] الَّذِي بَلَغَهُ عُمَرُ فِي طُولِ مُدَّتِهِ أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ , أنا الرَّبِيعُ، قَالَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ، فَذَكَرَهُ

ابو عبداللہ الحافظ اور دوسرے لوگوں نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا بحر بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہا ابن وہب نے ہم سے بیان کیا کہا مجھے یونس نے خبر دی وہ ابن شہاب سے راوی سعید نے انہیں خبر دی کہ سعید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنوئیں پر دیکھا جس پر ایک ڈول تھا تو میں نے اسے کھینچا(یعنی اس سے پانی نکالا) تو جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا میں نے اس سے کھینچا پھر اس کو ابو قحافہ کے بیٹے (حضرت ابو بکر صدیق) نے اسے لے لیا تو آپ نے اس سے ایک یا دو ڈول کھینچے اور آپ کے کھینچے میں کمزوری تھی اللہ تعالیٰ انہیں بخشے پھر وہ ایک بڑا ڈول بن گیا تو خطاب کے بیٹے(حضرت عمر فاروق) نے اسے لے لیا میں نے لوگوں میں سے ایسا محنتی نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب جیسا ڈول کھینچتا ہوں حتٰی کہ تمام لوگ سیراب ہو گئے‘‘۔ ایسے ہی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انبیاء کرام علیہم السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ’’حضرت ابو بکر کے ڈول کھینچے میں کمزوری تھی‘‘ یہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدت خلافت کی کمی اور جلدی موت اور آغاز خلافت سے ہی مرتدین کیساتھ جنگ میں مشغولیت مراد ہے کہ پھر وہ(جنگ) اتنی بڑھتی جائے گی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر مکمل ہو جائے گی اس کی مدت کی طوالت تک۔ الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں اس کی خبر دی کہا ابو العباس نے ہم سے بیان کیا کہا ربیع نے ہمیں خبر دی کہا امام شافعی رحمہ ا للہ تعالیٰ نے فرمایا : پھر یہی کلام ذکر کیا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 324

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 325

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، فِي الْمُخَرَّجِ عَلَى كِتَابِ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، (ح) . وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا أَبُو ثَابِتٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ رَجَعْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ - كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ - قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَائْتِ أَبَا بَكْرٍ. وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ فِي قِصَّةِ الْمِيضَأَةِ عُمومَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَإِنْ يُطِيعُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَرْشُدوا»

میرے بعد حضرت ابو بکر کے پاس آنا: الحافظ ابو عبداللہ نے ’’المخرج کتاب مسلم‘‘ میں ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ربیع بن سلیمان نے ہمیں خبر دی کہا امام شافعی نے ہمیں خبر دی کہا ابراہیم بن سعد نے ہمیں خبر دی۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف منتقل ہوئے اور فرمایا۔ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد بن فضل بن محمد الشعرانی نے مجھے خبر دی کہا میرے دادا نے مجھ سے بیان کیا کہا ابو ثابت نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ محمد بن جبیر بن مطعم سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اس نے کسی امر کے متعلق بات کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دوبارہ آنے کا حکم دیا اس نے کہا: یارسول اللہ ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں واپس آؤں اور آپ کو نہ پاؤں ؟۔ اس کی مراد موت تھی ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اگر تو مجھے نہ ہائے تو حضرت ابو بکر کے پاس آنا‘‘۔ حضرت ابو بکرو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اطاعت کرنے سے ہدایت نصیب ہوتی ہے: اور ہم نے ابو قتادہ کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا وضو کے پانی کے برتن کے قصہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کا عموم فرمایا:’’وَاِنْ یُطِیعُوا اَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ یَرْشُدوا ‘‘ اگر وہ ابو بکرو عمر کی اطاعت کریں گے تو ہدایت پائیں گے۔

أَتَتْ النَّبِيَّ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو ثَابِتٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي الْمَخْرَجِ عَلَى كِتَابِ مُسْلِمٍ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 325

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 326

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكِ بْنُ مَخْلَدٍ وَقَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتَدُوا بِالَّلذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ [ص:341] وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ مَسْعُودٍ. وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ هِلَالٍ مَوْلَى رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ هَرِمٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ وَرِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ وَرُوِيَ عَنِ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ كَلَاهمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

میرے بعد حضرت ابو بکر و حضرت عمر کی پیروی کرنا : ابو الحسین بن الفضل القطان نے ہمیں خبر دی کہ عبداللہ بن جعفر نے ہمیں خبر دی کہا یعقوب بن سفیان نے ہم سے بیان کیا کہا ابو عاصم الضحاک بن مخلد اور قبیصہ نے ہم سے بیان کیا وہ سفیان سے وہ عبدالملک بن عمیر سے وہ ربعی کے آزاد کردہ غلام سے وہ ربعی سے وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے بعد ان دو ابو بکر و عمر کی پیروی کرنا اور عمار کی ہدایت سے ہدایت لینا اور ابن مسعود کے عہد کو مضبوطی سے تھامنا‘‘۔ اس کو ابراہیم بن سعد نے سفیان سے روایت کیا وہ عبدالملک سے وہ ربعی کے آزاد کردہ غلام ہلال سے وہ ربعی سے وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔اور اس کو عمرو بن ہرم نے روایت کیا وہ ابو عبداللہ اور ربعی سے وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ابن الزعراء سے روایت کی گئی وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ اور حضرت حذیفہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيٍّ ← مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكِ بْنُ مَخْلَدٍ وَقَبِيصَةُ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 326

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 327

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي بُدِئَ بِهِ فَقُلْتُ: وَارَأْسَاهُ، قَالَ: لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأُصَلِّيَ عَلَيْكَ وَأَدْفِنَكَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ غَيْرَةً: كَأَنِّي بِكَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ نِسَائِكَ، قَالَ: وَأَنَا وَارَأْسَاهُ ادْعِي لِي أَبَاكَ وَأَخَاكَ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولَ قَائِلٌ وَيأَبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ جُلوسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي ابْتدَاءِ مَرَضِهِ وَقَوْلَهُ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ» [ص:342] وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُعَلَّى: «مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنَ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ» وَفِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَغَيْرِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيكُمْ فَقُلْتُمْ: كَذِبَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقَ، وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُوا لِي صَاحِبِي " فَهَذِهِ الْأَخْبَارُ وَمَا فِي مَعْنَاهَا تَدلُّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَنْ يَكُونَ الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِيقُ فَنَبَّهُ أُمَّتَهُ بِمَا ذَكَرَ مِنْ فَضِيلَتِهِ وَسَابِقتِهِ وَحُسْنِ أَثَرِهِ ثُمَّ بِمَا أَمَرَهُمْ بِهِ مِنَ الصَّلَاةِ خَلْفَهُ، ثُمَّ بِالِاقْتِدَاءِ بِهِ وَبعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى ذَلِكَ، وَإِنَّمَا لَمْ يَنُصَّ عَلَيْهِ نَصًّا لَا يَحْتَمِلُ غَيْرَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ لِأَنَّهُ عَلِمَ بإِعْلَامِ اللَّهِ إِيَاهُ أَنَّ الْمُسْلِمِينَ يَجْتمعِونَ عَلَيْهِ، وَأَنَّ خِلَافَتَهُ تنعَقِدُ بإِجمَاعِهِمْ عَلَى بَيْعتِهِ، وَقَدْ دَلَّ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى إِمَامَةِ أَبِي بَكْرٍ وَمَنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلَهُمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ} [النور: 55] وَقَالَ: {الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ} [الحج: 41] فَلَّمَا وُجِدَتْ هَذِهِ الصِّفَةُ مِنَ الِاسْتِخْلَافِ وَالتَّمْكِينِ فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ دَلَّ عَلَى أَنَّ خِلَافَتَهُمْ حَقٌّ وَدَلَّ أَيْضًا عَلَى إِمَامَةِ الصِّدَّيقِ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي سَورَةِ بَرَاءَةَ لِلقَاعِدِينَ عَنْ نُصْرَةِ [ص:343] نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُتَخَلِّفِينَ عَنِ الْخُرُوجِ مَعَهُ فِي غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ {فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا} [التوبة: 83] وَقَالَ فِي سَورَةٍ أُخْرَى {سَيَقُولُ الْمُخَلَّفونَ إِذَا انْطَلَقْتُمْ إِلَى مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ يُرِيدونَ أَنْ يُبَدِّلوا كَلَامَ اللَّهِ} [الفتح: 15] يَعْنِي قَوْلَهُ {لَنْ تَخْرُجوا مَعِيَ أَبَدًا} [التوبة: 83] ثُمَّ قَالَ: {كَذَلِكُمْ قَالَ اللَّهُ مِنْ قَبْلُ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهونَ إِلَّا قَلِيلًا} [الفتح: 15] وَقَالَ: {قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلونَهُمْ أَوْ يُسْلِمونَ فَإِنْ تُطِيعُوا} [الفتح: 16] الدَّاعِيَ لَكُمْ إِلَى قِتَالِهِمْ {يُؤْتِكُمُ اللَّهُ أَجْرًا حَسَنًا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا} [الفتح: 16] يَعْنِي: تُعْرِضُوا عَنْ إِجَابَةِ الدَّاعِي لَكُمْ إِلَى قِتَالِهِمْ كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِنْ قَبْلُ {يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا} [التوبة: 39] وَهَلِ الدَّاعِي لَهُمْ إِلَى ذَلِكَ غَيْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ لَهُ {فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلوا مَعِيَ عَدُوًّا} [التوبة: 83] وَقَالَ فِي سَورَةِ الْفَتْحِ {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّهِ} [الفتح: 15] فَمَنَعَهُمْ مِنَ الْخُرُوجِ مَعَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَ خُرُوجَهُمْ مَعَهُ تَبْدِيلًا لَكلَامِهِ، فَوَجَبَ بِذَلِكَ أَنَّ الدَّاعِيَ الَّذِي يَدْعُوهُمْ إِلَى الْقِتَالِ دَاعٍ يَدْعُوهُمْ بَعْدَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَدْ قَالَ مُجَاهِدٌ فِي قَوْلِهِ {أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ} [الإسراء: 5] هُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ، وَكذَلِكَ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَقَالَ عَطَاءٌ: هُمْ فَارِسُ وَفِي رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: فَارِسُ، وَفِي رِوَايَةِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: هُمْ بَنُو حَنِيفَةَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ، فَإِنْ كَانُوا أَهْلَ الْيَمَامَةِ فَقَدْ قُتِلُوا فِي أَيَّامِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِيقِ وَهُوَ الدَّاعِي إِلَى قِتَالِ مُسَيْلِمَةَ وَبَنِي [ص:344] حَنِيفَةَ مِنْ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَإِنْ كَانُوا أَهْلَ فَارِسَ فَقَدْ قُوتِلُوا أَيَّامَ عُمَرَ وَهُوَ الدَّاعِي إِلَى قِتَالِ كِسْرَى وَأَهْلِ فَارِسَ، وَإِنْ كَانُوا أَهْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ فَإِنَّهُ أَرَادَ تَنْحِيَةَ أَهْلِ الرُّومِ عَنْ أَرْضِ الشَّامِ وَقَدْ قُوتِلُوا فِي أَيَّامِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ تُمْ قِتَالُهُمْ وَتَنْحِيتُهُمْ عَنِ الشَّامِ فِي أَيَّامِ عُمَرَ مَعَ قِتَالِ فَارِسَ، فَوَجَبَ بِذَلِكَ إِمَامَةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَفِي وُجُوبِ إِمَامَةِ أَحَدِهِمَا وَجُوبُ إِمَامَةِ الْآخَرِ، وَقَدِ احْتَجَّ بِمَا ذَكَرْنَا مِنَ الْآيَاتِ عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَغيرُهُ مِنْ عُلمَائِنَا فِي إِثْبَاتِ إِمَامَةِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَدَلَّ أَيْضًا عَلَى إِمَامَةِ الصِّدِّيقِ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ} [المائدة: 54] فَكَانَ فِي عِلْمِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى مَا يَكُونُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ ارْتِدَادِ قَوْمٍ فَوَعَدَ رَسُولَهُ وَوَعْدُهُ صِدْقٌ أَنَّهُ يَأْتِي اللَّهُ بِقوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونهُ أَذَلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهدِونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ، فَلَمَّا وُجِدَ مَا كَانَ فِي عِلْمِهِ فِي ارْتِدَادِ مِنَ ارْتَدَّ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُجِدَ تَصْدِيقُ وَعْدِهِ بِقِيَامِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بقِتَالَهُمْ فَجَاهَدَ بِمَنْ أَطَاعَهُ مِنَ الصَّحَابَةِ مِنْ عَصَاهُ مِنَ الْأَعْرَابِ وَلَمْ يَخَفْ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ حَتَّى ظَهَرَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ وَصَارَ تَصْدِيقُ وَعْدِهِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةً لِلعَالَمِينَ وَدَلَالَةً عَلَى صِحَّةِ خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

اللہ تعالیٰ اور مؤمن حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی کو قبول نہیں کرتے: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن عبداللہ السعدی نے ہم سے بیان کیا کہا یزید بن ہارون نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن سعد نے ہمیں خبر دی وہ صالح بن کیسان سے وہ زہری سے وہ عروہ سے وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتی ہیں جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کا آغاز ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے کہا: ہائے سر !(کیونکہ آپ کے سر میں تکلیف تھی) آپ نے فرمایا: ’’تو چاہتی ہے ایسا ہو اور میں زندہ ہوں تجھ پر نماز پڑھوں اور تجھے دفن کروں‘‘۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں : میں نے غیرت کی وجہ سے کہا گویا کہ میں آپ کیساتھ آج کے دن آپ کی بعض ازواج کے ساتھ دلہن بنی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور مجھے بھی ہائے میرا سر! تم اپنے باپ اور بھائی کو بلاؤ! تاکہ میں ابو بکر کے لیے کچھ لکھ دوں کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کوئی کہنے والا کچھ کہے(پھر فرمایا:) ’’اللہ اور مؤمن انکار کریں گے سوائے ابو بکر کے‘‘۔امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں روایت کیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں روایت کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیماری کے ابتداء میں منبر پر تشریف فرما ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ اَمَنَّ النَّاسِ عَلَیَّ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ اَبُو بَکْرٍ‘‘ اے لوگو! بے شک لوگوں میں سے اپنی جان و مال سے جس نے مجھ پر احسان کیا وہ ابو بکر ہیں۔ اورا بوالمعلیٰ کی حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’مَا مِنَ النَّاسِ اَحَدٌ اَمَنَّ عَلَیْنَا فِی صُحْبَتِہِ وَذَاتِ یَدِہِ مِنَ ابْنِ اَبِی قُحَافَۃَ ‘‘ لوگوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے جس نے ہم پر اپنی صحبت ومال سے ہم پر احسان کیا ابو قحافہ کے بیٹے کے علاوہ۔ حضرت ابو درداء وغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف بھیجا تو تم نے کہا:(محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) جھوٹ بولا اور حضرت ابو بکر نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ کہا اور ابو بکر نے اپنی جان و مال سے میری مدد کی کیا تم میرے لیے میرے صاحب کوچھوڑتے ہو۔یہ اور اس کے علاوہ اخبار اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوں اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت ،اسلام میں سبقت اور آپ کے حسن اثر کا تذکرہ کر کے متنبہ کیا پھر نماز میں اپنا نائب بنانے کا حکم جاری کر کے بھی متنبہ کیا پھر آپ کی اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اقتداء کرنے کا حکم دے کر تنبیہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی ایسی نص نہیں بیان فرمائی جو اس کے علاوہ کا احتمال نہ رکھتی ہو واللہ اعلم کیونکہ اللہ تعالیٰ کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتانے سے یہ علم حاصل ہوا کہ مسلمان حضرت ابو بکر پر ہی اکٹھے ہوں گے اور آپ کی خلافت منعقد ہو جائے گی آپ کی بیعت پر اجماع کی وجہ سے۔ حضرت ابو بکر صدیق اور مابعد خلفاء کی امامت پر اللہ تعالیٰ عزوجل کی کتاب دلالت کرتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ترجمہ :اللہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی ان سے پہلوں کو دی اور ضرور ان کے لئے جمادے گا ان کا وہ دین جوان کے لئے پسند فرمایا ہے(النور:55) ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قابو دیں تو نماز برپا رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں۔ جب حضرت ابو بکرو عمر عثمان و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے امر خلافت میں خلافت میں خلافت وتمکن کی یہ صفت پائی گئی تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی خلافت حق ہے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت پر اللہ عزوجل کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے جو سورہ براءت میں ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت سے بیٹھ گئے اور غزوہ حدیبیہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ نکلنے سے پیچھے رہ گئے چنانچہ فرمایا: ترجمہ : توتم فرمانا تم کبھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو(التوبۃ:83)۔ اور دوسری سورۃ میں فرمایا : ترجمہ: اب کہیں گے پیچھے بیٹھ رہنے والے جب تم غنیمتیں لینے چلو تو ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے دو وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح:15) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان :’’لَّنْ تَخْرُ جُوْا مَعِیَ اَبَدًا ‘‘ پھر فرمایا: ترجمہ :تم فرماؤ ہرگز تم ہمارے ساتھ نہ آؤ اللہ نے پہلے سے یونہی فرما دیا ہے تو اب کہیں گے بلکہ تم ہم سے جلتے ہو بلکہ وہ بات نہ سمجھتے تھے مگر تھوڑی(الفتح:15)۔ اور فرمایا: ترجمہ: ان پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں سے فرماؤ عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ ان سے لڑو یا وہ مسلمان ہو جائیں پھر اگرتم فرمان مانو گے اللہ تمہیں اچھا ثواب دے گا اور اگر پھر جاؤ گے جیسے پہلے پھر گئے تو تمہیں درد ناک عذاب دے گا۔ امام بیہقی نے اس آیت کی تفسیریوں کی : قولہ اگر تم فرمان مانو : اس کا جو تمہیں کفار سے جہاد کی طرف بلاتا ہے۔ قولہ : اگر تم پھر جاؤ: یعنی تم اس سے منہ موڑو جو تمہیں کفار سے جہاد کی طرف بلاتا ہے کیا انہیں اس کی طرف بلانے والے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیّ اَبَدًا وَّلَنْ تُقٰتِلُوْا مَعِیْ عَدُوًّا میں سورۃ الفتح فرمایا: یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا کَلٰمَ اللہِ پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ نکلنے سے رک گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ ان کے نکلنے کو اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدلنا قرار دیا لہٰذا اس سے ثابت ہو گیا کہ وہ داعی جو انہیں قتال کی طرف بلاتا ہے یہ وہ داعی ہے جو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جہاد کی طرف بلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : ’’اُولِیْ بِاْسٍ شَدِیْدٍ‘‘ (الفتح:16) ترجمہ:(عنقریب تم) ایک سخت لڑائی والی(قوم کی طرف بلائے جاؤ گے)۔ کے بارے میں حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ فارس اور روم میں ایسے ہی حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اور حضرت عطاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاوہ فارس ہیں اور علی بن ابو طلحہ کی روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ علیہ سے ہے آپ نے فرمایا وہ فارس ہیں اور کلبی کی روایت میں ابو صالح سے وہ حضرت ابن عباس سے راوی فرمایا: وہ جنگ یمامہ کے دن بنو حنیفہ ہیں اگر اہل یمامہ مراد ہوں تو ان سے قتال حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایام خلافت میں ہوا لہٰذ احضرت ابو بکر ہی مسیلمہ کذاب اور بنو حنیفہ جو اہل یمامہ میں سے ہیں کے قتال کی طرف بلانے والے ہیں اور اگر اہل فارس مراد ہوں تو ان سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایام خلافت میں قتال کیا گیا لہٰذا کسری اور اہل فارس کے قتال کی طرف بلانے والے حضرت عمر ہیں اور اگر وہ اہل فارس وروم ہوں تو اگر اس سے مراد اہل روم کی سرزمین شام سے علیحدگی ہے تو ان سے حضرت ابو بکر کے ایام خلافت میں قتال کیا گیا پھر ان کا قتال اور شام سے علیحدگی حضرت عمر کے ایام خلافت میں مکمل ہوئی اہل فارس سے قتال کرنے کے ساتھ۔لہٰذا اس سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خلافت ثابت ہو گئی اور ان میں سے ایک کی امامت کے ثبوت میں دوسرے کی امامت کا ثبوت ہے اور حضرت علی بن اسماعیل رحمہ اللہ تعالیٰ اور دیگر ہمارے علماء نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے اثبات میں انہیں مذکورہ آیات سے دلیل پکڑی۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی دلالت کرتا ہے: ترجمہ:اے ایمان والو تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا تو عنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا(المائدہ:54)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد جو لوگ مرتد ہوئے وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وعدہ فرمایا اور اس کا وعدہ سچا ہے : یَاْتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّھُمْ وَیُھِبُّوْنَہَٗ (المائدہ:54) ترجمہ: اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جن کا مرتد ہونا اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا وہ پایا گیا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان مرتدین سے جنگ کیساتھ کھڑے کر کے اللہ تعالیٰ کے وعدے کی تصدیق بھی پائی گئی چنانچہ حضرت ابو بکر کی صحابہ میں سے جس نے اطاعت کی اس نے ان دیہاتیوں سے جہاد کیا جنہوں نے آپ کی نافرمانی کی اور ان صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرے یہاں تک کہ حق ظاہر ہو گیا اور باطل مٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد وعدہ خداوندی کی تصدیق پائی گئی یہ جہان والوں کے لیے نشانی ہے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کی صحت کی دلیل ہے۔

لوددت ← دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي بُدِئَ بِهِ فَقُلْتُ: وَارَأْسَاهْ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 327

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 328

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، قَالَ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , عَنْ عَوْفٍ , عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ {مِنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ} [المائدة: 54] قَالَ: هُمُ الَّذِينَ قَاتَلُوا مَعَ أَبِي بَكْرٍ أَهْلَ الرِّدَّةِ مِنَ الْعَرَبِ [ص:345] حَتَّى رَجَعُوا إِلَى الْإِسْلَامِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكذَلِكَ قَالْهُ عِكْرِمَةُ وَقَتَادَةُ وَالضَّحَّاكُ، وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَهْتُمْ أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَامَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا إِلَى سُنَّتِهِ وَمَضَى عَلَى سَبِيلِهِ فَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ أَوْ مِنَ ارْتَدَّ مِنْهُمْ فَعَرضُوا أَنْ يُقيموا الصَّلَاةَ وَلَا يُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُمْ إِلَّا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَابِلًا فِي حَيَاتِهِ فَانْتَزَعَ السيُوفَ مِنْ أَغْمَادِهَا وَأَوْقَدَ النِّيرَانَ فِي شُعَلِهَا وَرَكِبَ بأَهْلِ حَقِّ اللَّهِ أَكْتَافَ أَهْلِ الْبَاطِلِ حَتَّى قَرَّرَهُمْ بِالَّذِي نَفَرُوا مِنْهُ وَأَدْخَلَهُمْ مِنَ الْبَابِ الَّذِي خَرَجُوا مِنْهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہمیں خبر دی کہا ابراہیم بن مرزوق نے ہمیں خبر دی کہا روح بن عبادہ نے ہمیں خبر دی وہ عوف سے وہ حضرت حسن بصری سے روایت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں : مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّھُمْ وَیُّحِبُّوْنَہَٗ (المائده:54) ترجمہ:(اے ایمان والو) تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا تو عنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیساتھ مل کر عرب کے مرتدین سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ لوگ اسلام کی طرف واپس لوٹ آئے۔ ایسے ہی عکرمہ ،قتادہ اور ضحاک نے کہا۔ اور ہم نے عبداللہ بن اھتم سے روایت کی آپ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: حضرت ابو بکر صدیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کھڑے ہوئے تو آپ نے سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے پر چلے تو اہل عرب مرتد ہو گئے یا ان میں سے کچھ مرتد ہو گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے یہ بات پیش کی کہ وہ نماز قائم کریں گے لیکن زکوٰۃ نہیں دیں گے تو حضرت صدیق اکبر نے ان کی یہ بات قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ صرف وہی بات قبول کی جائے گی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حیات طیبہ میں قبول کرتے تھے توتلواریں اپنی میانوں سے نکل گئیں اور آگ اپنے شعلوں میں بھڑک اٹھی اور اہل حق اہل باطل کے کندھوں پر سوار ہو گئے یہاں تک کہ انہیں اسی جگہ لے آئے جہاں سے وہ بھاگے تھے اور انہیں اس دروازے میں داخل کر دیا جہاں سے وہ نکلے تھے حتٰی کہ اللہ تعالیٰ نے(حضرت جبریل کے ذریعے) حضرت صدیق اکبر کی روح قبض فرمائی۔

الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ: ← عَوْفٌ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 328

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 329

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَيْمونِيُّ , ثنا الْفِرْيَابِيُّ , ثنا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَوْلَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتُخْلِفَ مَا عُبِدَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ ثُمَّ قِيلَ لَهُ: مَهْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَّهَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فِي سَبْعِ مِائَةٍ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا نَزَلَ بِذِي خَشَبٍ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ حَوْلَ الْمَدِينَةِ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا أَبَا بَكْرٍ، رُدَّ هَؤُلَاءِ، تُوَجِّهُ هَؤُلَاءِ إِلَى الرُّومِ وَقَدِ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ حَوْلَ الْمَدِينَةِ ‍‍‍ فَقَالَ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَوْ جَرَتِ الْكلَابَ بأَرْجُلِ أَزوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَدَدْتُ جَيْشًا وَجَّهَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا حَلَلْتُ لِوَاءً عَقَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَّهُ أُسَامَةَ فَجَعَلَ لَا يَمُرُّ بِقَبِيلٍ يُرِيدونَ الِارْتِدَادَ إِلَّا قَالُوا: لَوْلَا أَنَّ لِهَؤُلَاءِ قُوَّةً مَا خَرَجَ مِثْلُ هَؤُلَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ وَلَكِنْ نَدَعُهُمْ حَتَّى يَلْقَوُا الرُّومَ فَلَقَوُا الرُّومَ فَهَزَمُوهُمْ وَقَتَلُوهُمْ وَرَجَعُوا سَالْمِينَ فَثَبَتُوا عَلَى الْإِسْلَامِ

اگر حضرت ابو بکر صدیق خلیفہ نہ بنتے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ ہوتی، حضرت ابو ہریرہ کا فرمان: الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن علی المیمونی نے ہم سے بیان کیا کہا فریابی نے ہم سے بیان کیا کہا عباد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا وہ ابو الزناد سے وہ اعرج سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں اگر حضرت ابو بکر خلیفہ نہ بنائے جاتے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ ہوتی پھر دوسری بار آپ نے فرمایا پھر تیسری بار یہی آپ نے فرمایا پھر آپ سے کہا گیا اے ابو ہریرہ !بس کیجئے ! تو آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سات سو آدمیوں کے لشکر میں شام کی طرف روانہ کیا جب وہ مقام ذی خشب میں پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا اور مدینہ کے گرد ونواح میں اہل عرب مرتد ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ حضرت ابو بکر کے پاس جمع ہوئے اور کہا اے ابو بکر ! ان(لشکر اسامہ) کو واپس لوٹاؤ اور انہیں روم کی طرف روانہ کرو حالانکہ مدینہ کے گرد ونواح میں اہل عرب مرتد ہو چکے تھے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں اگر کتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاؤں تک بھی پہنچ جائیں تو میں اس لشکر کو واپس نہیں کروں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانہ فرمایا ہے اور نہ ہی میں اس جھنڈے کو کھولوں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باندھا ہے چنانچہ حضرت اسامہ روانہ ہو گئے پس یہ لشکر جس بھی ایسے قبیلے کے پاس سے گزرتے جومرتد ہونے کا ارادہ رکھتا تھا اس قبیلے والے کہتے : اگر ان کے پاس قوت نہ ہوتی تو اس وقت ان کے پاس سے یہ لوگ جنگ کیلئے روانہ نہ ہوتے لیکن ہم انہیں چھوڑ دیتے ہیں حتٰی کہ وہ روم سے جنگ کر لیں پھران کا آمنا سامنا اہل روم سے ہوا تو انہوں نے اہل روم کو شکست دی اور انہیں قتل کیا اور صحیح و سالم واپس لوٹے تو وہ قبائل اسلام پر ثابت قدم ہو گئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← عباد بن كثير ← الْفِرْيَابِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَيْمُونِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 329

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him