الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ فِي ذِكْرِ صِفَةِ الْفِعْلِ · حديث 35
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ [ص:92] هَذَا الْأَمْرِ كَيْفَ كَانَ؟ قَالَ: «كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ كَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: قوْلُهُ: «كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرَهُ» يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرَهُ، لَا الْمَاءُ وَلَا الْعَرْشُ وَلَا غَيْرُهُمَا، وَكُلُّ ذَلِكَ أَغْيَارٌ، وَقَوْلُهُ: «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» يَعْنِي بِهِ: ثُمَّ خَلَقَ الْمَاءَ وَخَلَقَ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ. وَبَيَانُ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ: «ثُمَّ خَلَقَ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ»
ابو الحسین بن فضل القطان نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نے ہمیں خبر دی کہا، یعقوب بن سفیان نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا ہم سے میرے باپ نے بیان کیا کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا کہا ہم سے جامع بن شداد نے بیان کیا۔امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ یہاں سے دوسری سند کی طرف پلٹے اور فرمایا: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا مجھ سے ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ نے بیان کیا کہا ہمیں بشر بن موسیٰ نے خبر دی کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسحاق الفزاری نے بیان کیا وہ اعمش سے وہ جامع بن شداد سے وہ صفوان بن محرز سے وہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آیا تو آپ کے پاس یمن سے ایک جماعت آئی انہوں نے کہا: یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہم آپ کے پاس دین کی سمجھ حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں اور آپ سے اس امر (کائنات) کے آغاز کے بارے میں سوال کریں کہ یہ کیسے ہوا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عزوجل تھا اور اس کے علاوہ کوئی نہیں تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا پھر لوح محفوظ میں ہر شے لکھوائی پھر آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا‘‘۔ ا استاد امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان: ’’اللہ عزوجل تھا اور اس کے علاوہ کوئی نہیں تھا‘‘یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے علاوہ کوئی بھی چیز بھی نہ پانی اور نہ عرش اور نہ ان کے علاوہ کچھ اور اور یہ سب اس کے علاوہ ہیں۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان:’’اور اس کا عرش پانی پر تھا اس سے مراد یہ ہے(وہ تھا) پھر اس نے پانی کو پیدا فرمایا اور عرش کو پانی پر پیدا فرمایا۔ اس کا بیان حضرت ابو رزین عقیلی کی حدیث میں ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر عرش کو پانی پر پیدا فرمایا۔
أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَجَاءَهُ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالُوا: ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← الْاَعْمَشِ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on stating the form of the verb · Hadith 35
