الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ فَصْلٌ: · حديث 290
وَالْأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ بَعْدَمَا قُبِضُوا رُدَّتْ إِلَيْهِمْ أَرْوَاحُهُمْ فَهُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ كَالشُّهَدَاءِ، وَقَدْ رَأَى نَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَاعَةً مِنْهُمْ لَيْلَةَ الْمِعْرَاجِ وَأُمِرَ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَالسَّلَامِ عَلَيْهِ. وَأَخْبَرَ - وَخَبَرُهُ صِدْقٌ - أَنَّ صَلَاتَنَا مَعْرُوضَةٌ عَلَيْهِ وَأَنَّ سَلَامَنَا يَبْلُغُهُ , وَأَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تأَكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، وَقَدْ أَفْرَدْنَا لِإِثْبَاتِ حَيَاتِهِمْ كِتَابًا، فَنَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَكْتُوبًا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ يُخْلَقَ نَبِيًّا [ص:306] وَرَسُولًا , وَهُوَ بَعْدَمَا قَبَضَهُ نَبِيُّ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَصَفِيُّهُ وَخِيرَتُهُ مِنْ خَلْقِهِ وَالَّذِينَ يُبَلِّغُونَ عَنْهُ أَوَامِرَهُ وَنَوَاهِيَهُ خُلفَاؤُهُ، فَرِسَالَتُهُ بَاقِيَةٌ وَشَرِيعَتُهُ ظَاهِرَةٌ حَتَّى يأَتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا
فصل: انبیا علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں: حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی ارواح قبض کیے جانے کے بعد ان کی روحیں واپس لوٹا دی جاتی ہیں لہٰذاوہ اپنے رب کے ہاں شہداء کی طرح زندہ ہیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت انبیاء علیہم السلام کو شب معراج دیکھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کا حکم دیا اور اس بات کی خبر دی اور یہ خبر سچی ہے کہ ہمارا درود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا جاتا ہے اور ہمارا سلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام علیہم السلام کے اجسام کھانا حرام کر دیا اور ہم نے انبیاء کرام کی حیات ثابت کرنے کے لیے الگ کتاب لکھی ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ہاں(حضرت آدم علیہ السلام کی) تخلیق سے پہلے نبی ورسول لکھے(یعنی امر نبوت سے متصف کیے گئے تھے جیسا کہ علامہ ابن حجر مکی علیہ الرحمہ نے اشرف الوسائل الیٰ فہم الشمائل کے آغاز میں کتابت کا معنی بیان کیا۔ واللہ ورسولہ اعلم) گئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے وصال کے بعد بھی نبی ورسول اور رب کی مخلوق میں چنیدہ و پسند یدہ وافضل ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف تبلیغ اور اوامر و نواہی کا کام سرانجام دیتے ہیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت باقی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت ظاہر ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کا امر(قیامت) آجائے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تسلیما۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Season: · Hadith 290
