Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 200

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤْمِنُ إِذَا شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَرَفَ مُحَمَّدًا فِي قَبْرِهِ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27]

ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر احمد بن سلیمان الفقیہ نے ہم سے بیان کیا کہا اسماعیل بن اسحاق القاضی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے حوضی نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ علقمہ بن مرثد سے وہ سعید بن عبیدہ سے وہ حضرت براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مؤمن جب لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہے اور حضرت محمد پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوقبر میں پہچان لیتا ہے پس یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِبِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ۔

النَّبِيِّ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← شُعْبَةُ، ← الْحَوْضِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 200

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 201

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ أنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسيُّ، ثنا شُعْبَةُ فَذَكَرَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ فَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ، فَذَكَرَهُ

ابو علی الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو داؤد الطیالسی نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا پھر آپ نے اسے ذکر کیا علاوہ اسکے کہ آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’مسلمان سے قبر میں جب سوال کیا جاتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں پس یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے‘‘۔ پھر آپ نے یہ آیت ذکر کی۔

شعبة فذكره غير أنه ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 201

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 202

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ [ص:221] عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلُّونَ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَانَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَكَانَ الصِّيَامُ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَتِ الزَّكَاةُ عَنْ يَسَارِهِ، وَكَانَ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَةِ، وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، فَتَقُولُ الصَّلَاةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَمِينِهِ فَيَقُولُ الصِّيَامُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَسَارِهِ فَتَقُولُ الزَّكَاةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، فَيَقُولُ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، فَيُقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَيَجْلِسُ قَدْ مُثِّلَتْ لَهُ الشَّمْسُ قَدْ دَنَتْ لِلْغُرُوبِ ـ فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا الرَّجُلُ مَاذَا تَقُولُ فِيهِ؟ فَيَقُولُ: دَعُونِي حَتَّى أُصَلِّي، فَيَقُولُونَ: إِنَّكَ سَتَفْعَلُ، أَخْبِرْنَا عَمَّا نَسْأَلُكَ عَنْهُ، قَالَ: عَمَّ تَسْأَلُونِي؟ قَالُوا مَاذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي فِيكُمْ، وَبِمَاذَا تَشْهَدُ عَلَيْهِ؟ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُ: عَلَى ذَلِكَ حَيِيتَ وَعَلَى ذَلِكَ مِتَّ وَعَلَى ذَلِكَ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنْهَا وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ فِيهَا، فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا، ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ قَبْرُهُ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَيُنَوَّرُ لَهُ وَيُعَادُ الْجَسَدُ كَمَا بُدِئَ وَيُجْعَلُ نَسَمَةً مِنَ النَّسَمِ الطَّيِّبِ وَهِيَ طَائِرٌ تَعَلَّقَ فِي شَجَرَةِ الْجَنَّةِ ". قَالَ مُحَمَّدٌ: وَسَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ: فَيَنَامُ نَوْمَةَ الْعَرُوسِ لَا يُوقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ، ثُمَّ عَادَ إِلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ} [إبراهيم: 27] وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَلمْ يُوجَدْ شَيْءٌ، ثُمَّ أُتِيَ عَنْ يَمِينِهِ فَلمْ يُوجَدْ شَيْءٌ، ثُمَّ أُتِيَ عَنْ يَسَارِهِ فَلمْ يُوجَدْ شَيْءٌ، ثُمَّ أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَلمْ يُوجَدْ شَيْءٌ، فَيُقَالُ [ص:222] لَهُ: اجْلِسْ فَيَجْلِسُ خَائِفًا مَرْعُوبًا، فَيُقَالُ لَهُ: أَرَأَيْتُكَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ، أَيُّ رَجُلٍ هُوَ؟ وَمَاذَا تَقُولُ فِيهِ؟ وَمَاذَا تَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ؟ فَيَقُولُ: أَيُّ رَجُلٍ؟ فَيُقَالُ: الَّذِي فِيكُمْ، فَلَا يَهْتدِي لَاسْمِهِ حَتَّى يُقَالَ لَهُ: مُحَمَّدٌ، فَيَقُولُ: مَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ قَالُوا قَوْلًا فَقُلْتُ كَمَا قَالَ النَّاسُ، فَيُقَالُ لَهُ: عَلَى ذَلِكَ حَيِيتَ وَعَلَى ذَلِكَ مِتَّ وَعَلَى ذَلِكَ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ فَيُقَالُ لَهُ: ذَلِكَ مَقْعَدُكَ مِنَ النَّارِ وَمَا أَوْعَدَ اللَّهُ لَكَ فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ: ذَلِكَ كَانَ مَقْعَدَكَ مِنَ الْجَنَّةِ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فِيهَا لَوْ أَطَعْتَهُ فَيَزْدَادُ حَسْرَةُ وَثُبُورًا، ثُمَّ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى} [طه: 124]

قبر میں بندے کے نیک اعمال کا ساتھ دینا: ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ابو الحسن علی بن محمد المصری نے ہمیں خبر دی کہا ابو غسان مالک بن یحییٰ نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالوہاب بن عطاء نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن عمرو نے ہمیں خبر دی وہ ابو سلمہ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ میت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور لوگ جب واپس آتے ہیں تو یقیناً وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے پھر اگر وہ مؤمن ہوتا ہے تو نماز اس کے سر کے پاس ہوتی ہے ، روزہ دائیں جانب اور زکوٰۃ اس کی بائیں جانب اور تمام نیک افعال یعنی صدقہ ،صلہ رحمی ، نیکی اور لوگوں کیساتھ بھلائی اس کے پاؤں کے پاس ہوتی ہے پھر جب فرشتے اس کی سر کی جانب آتے ہیں تو نماز کہتی ہے میری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے پھر وہ دائیں جانب سے آتے ہیں تو روزہ کہتا ہے میری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے پھر وہ بائیں جانب سے آتے ہیں تو زکوٰۃ کہتی ہے میری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے پھر وہ پاؤں کی جانب سے آتے ہیں تو تمام نیک افعال یعنی صدقہ ،صلہ رحمی ، نیکی اور لوگوں کیساتھ بھلائی کہتی ہے میری جانب سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے تو اسے کہا جاتا ہے بیٹھ جا! تو وہ بیٹھ جاتا ہے اور اسے سورج کی تمثیل دکھائی جاتی ہے جو غروب کے قریب ہو گیا ہو پھر اسے کہا جاتا ہے یہ شخصیت ہے ان کے بارے میں تو کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے مجھے چھوڑ دو یہاں تک کہ میں نماز پڑھ لوں ، وہ کہتے ہیں: بلاشبہ یہ کام عنقریب تو کر لینا جس کے بارے میں ہم تجھ سے سوال کر رہے ہیں ان کے متعلق ہمیں خبر دے ! وہ کہتا ہے کس کے بارے میں تم مجھ سے سوال کر رہے ہو؟ وہ کہتے ہیں: اس ہستی کے بارے میں کیا کہتا ہے جو تم میں(مبعوث کیئے گئے) ہیں ؟ اور کس چیز کی شہادت ان پر دیتا ہے؟ تو وہ کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حق لے کر آئے ہیں تو اسے کہا جاتا ہے : اسی پر تو زندہ رہا ، اسی پر تیری موت آئی اور ان شاء اللہ اسی پرتو اٹھے گا پھر اس کے لیے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے پھر اسے کہا جاتا ہے اس میں اپنا ٹھکانہ اور جو کچھ اس میں اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے تیار کیا ہے وہ دیکھ لے تو اس کے رشک اور خوشی میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس کی قبر ستر ہاتھ وسیع ہو جاتی ہے اور اس کے لے اس کی قبر منور ہو جاتی ہے اور اس کے جسم کولوٹا دیا جاتا ہے جیسے پہلے کیا گیا تھا اور اس کی روح پاکیزہ روحوں میں سے کر دی جاتی ہے اور وہ پرندہ(کی صورت میں) ہوتا ہے جو جنت کے درختوں میں لٹکا ہوا ہے‘‘۔ محمد نے کہا: میں نے عمر بن حکم بن ثوبان سے سنا، آپ نے کہا: ’’پھر وہ دولہن کی طرح سو جاتا ہے جسے اس کے اہل میں محبوب ہی جگاتا ہے(وہ اسی طرح سو یار ہے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ(قیامت کے دن) اسے اٹھائے گا‘‘۔ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی طرف لوٹے اور کہا: یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوٓا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ، وَیُضِلُّ اللہُ الظّٰلِمِیْنَ (سيدنا ابراہیم علیہ السلام :27) ترجمہ: اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے(اور اللہ جو چاہے کرے) اور اگر مرنے والا کافر ہو تو فرشتے اس کے سر کے پاس آتے ہیں تو وہاں کسی چیز کونہیں پاتے پھر دائیں جانب آتے ہیں وہاں بھی کسی چیز کو نہیں پاتے پھر بائیں جانب آتے ہیں وہاں بھی کوئی چیز نہیں پاتے ہیں پھر پاؤں کی جانب آتے ہیں وہاں بھی کوئی چیز نہیں پاتے پھر اسے کہا جاتا ہے : بیٹھ جا تو وہ خوفزدہ اور مرعوب ہو کر بیٹھ جاتا ہے پھر اسے کہا جاتا ہے : تیرا کیا خیال ہے اس ہستی کے بارے میں جو تم میں(مبعوث کی گئی) تھی ؟ یہ کون سی ہستی ہے ؟ اور تو اس کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ اور کس چیز کے ساتھ ان پر شہادت دیتا ہے؟ وہ کہتا ہے : کون سی ہستی ؟ کہا جاتا ہے : جو تم میں تھی وہ اس ہستی کے نام کی ہدایت نہیں پاتا یہاں تک کہ اسے کہا جاتا ہے : وہ ہستی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں تو وہ کہتا ہے : میں نہیں جانتا میں نے لوگوں کو کہتے ہوئے سنا تو میں نے بھی ایسے ہی کہا جیسا لوگوں نے کہا تو اسے کہا جاتا ہے : اسی عقیدے پر تو زندہ رہا اور اسی پر تو مرا اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ پھر اس کے لیے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے آگ سے اور جو کچھ اس میں اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے تیار کر رکھا ہے تو اسکی حسرت ولعنت میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس کے لیے جنت کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے :اگر تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا تو یہ تیرا جنت سے ٹھکانہ تھا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے اس میں تیار کر رکھا تھا پھر اس کی حسرت ولعنت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر اس پر اسکی قبر تنگ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی ہڈیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جاتی ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّنَحْشُرْۂ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی (سيدنا طہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :124) ترجمہ:(اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا) تو بے شک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ [ص:374] عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← مَالِكُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 202

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 203

وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَزَادَ فِيهِ فِي الْمُؤْمِنِ " ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ قِبَلِ النَّارِ فَيُقَالُ: انْظُرْ إِلَى مَنْزِلِكَ وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ لَوْ عَصَيْتَ فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا "

سعید بن عامر نے اسے محمد بن عمر د سے روایت کیا اور مؤمن کے بیان میں میں اضافہ کیا:’’ پھر اس کے لیے جہنم کی جانب سے ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اسے کہا جاتا ہے اگر تو نافرمانی کرتا تو اپنے ٹھکانے کو اور جو کچھ اس میں اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے تیارکر رکھا تھاد کچھ لے(لیکن تو نے اطاعت کی تو تیرا ٹھکانہ جنت سے ہوا) تو اس کے رشک وخوشی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے‘‘۔

وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 203

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 204

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا [ص:223] مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهُوَيْهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدِ عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُمَرُ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كُنْتَ فِي أَرْبَعٍ مِنَ الْأَرْضِ فِي ذِرَاعَيْنِ فَرَأَيْتَ مُنْكَرًا وَنَكِيرًا؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ؟ قَالَ: فَتَّانَا الْقَبْرِ أَبْصَارُهُمَا كَالْبَرْقِ الْخَاطِفِ وَأَصْوَاتُهُمَا كَالرَّعْدِ الْقَاصِفِ مَعَهُمَا مِرْزَبَّةٌ لَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهَا أَهْلُ مِنًى مَا اسْتَطَاعُوا رَفْعَهَا هِيَ أَهْوَنُ عَلَيْهِمَا مِنْ عَصَايَ هَذِهِ، فَامْتَحَنَاكَ فَإِنْ تَعَايَيْتَ أَوْ تَلَوَّيْتَ ضَرَبَاكَ بِهَا ضَرْبَةً تَصِيرُ بِهَا رَمَادًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنِّي عَلَى حَالَتِي هَذِهِ، قَالَ: نَعَمْ، أَرْجُو أَكْفِيكَهُمَا " غَرِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ مُفُضَّلٌ

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافی ہیں: الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا سلیمان بن محمد بن ناجیہ نے مجھے خبر دی کہ محمد بن اسحاق بن راہویہ نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہا مفضل بن صالح نے ہم سے بیان کیا وہ اسماعیل سے ابو خالد بن ابو سہل سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے عمر ! تیرا کیا حال ہو گا جب تو زمین کے چار میں سے ہو گا دو بازوؤں میں تو تو منکر نکیر کو دیکھے گا؟‘‘ حضرت عمر نے عرض کی : یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) منکر نکیر کیا ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’یہ دونوں قبر کی آزمائش ہیں ان کی آنکھیں اچک لینے والی بجلی کی طرح ہیں اور ان کی آواز سخت گرج کی طرح ان دونوں کے پاس ہتھوڑا ہوتا ہے اگر اہل منی اس پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں اور وہ ان دونوں پر میرے اس عصا سے زیادہ ہلکا ہے پھر وہ تجھ سے امتحان لیں گے پس اگر تو کامیاب نہ ہو سکا یا تو نے ٹال مٹول کی تو وہ دونوں تجھے ایسے ضرب ماریں گے جس سے تو مٹی ہو جائے گا‘‘۔ حضرت عمر نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں(ان کی ضرب سے) اس حالت پر ہو جاؤں وہ گا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:‘‘ ہاں‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میں امید کرتا ہوں کہ میں ان دونوں سے تجھے کافی ہوں گا‘‘۔ اس سند کیساتھ یہ روایت غریب ہے اور مفضل اس میں اکیلے راوی ہیں۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي سَهْلٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← [ص:223] مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهُوَيْهِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 204

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 205

هَذَا وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ صَحِيحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ [ص:224] النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا فِي قِصَّةِ عُمَرَ، وَقَالَ: «ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ وَشِبْرٍ فِي عَرْضِ ذِرَاعٍ وَشِبْرٍ» وَلَمْ يَذْكُرِ الْمِرْزَبَّةَ

اور اس کو ہم نے ایک دوسرے طریق سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا اور ایک دوسرے صحیح طریق سے عطاء بن یسار سے روایت کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرسلا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قصہ روایت کرتے ہیں اور اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تین ہاتھ(لمبائی میں اور) چوڑائی میں ایک ہاتھ اور ایک بالشت‘‘ اس میں ہتھوڑے کا ذکر نہیں ہے۔

[ص:224] النَّبِيِّ مُرْسَلًا فِي قِصَّةِ عُمَرَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ صَحِيحٍ، ← هَذَا وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 205

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 206

وَرُوِّينَا فِي، حَدِيثِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ عَذَابِ الْقبْرِ قَالَ: فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِعَادَةُ الرُّوحِ فِي جُزْءٍ وَاحِدٍ، وَسُؤَالُ جُزْءٍ وَاحِدٍ وَتعْذِيبُ جُزْءٍ وَاحِدٍ مِمَّا يَجُوزُ فِي الْعَقْلِ وَلَيْسَ فِي تَفَرُّقِ الْأَجْزَاءِ اسْتِحَالَةُ مَا وَرَدَتْ بِهِ الْأَخْبَارُ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ، وَهُوَ كَمَا شَاءَ اللَّهُ وَلِمَنْ شَاءَ اللَّهُ، وَإِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ وَالْأَخْبَارُ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ كَثِيرَةٌ، وَقَدْ أَفْرَدْنَا لَهَا كِتَابًا مُشْتَمِلًا عَلَى مَا وَرَدَ فِيهَا مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَالْآثَارِ، وَقَدِ اسْتَعَاذَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ أُمَّتَهُ بِالِاسْتِعَاذَةِ مِنْهُ

اور ہم نے عذاب قبر کے قصے کے متعلق حضرت براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث روایت کی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے تو اسکے پاس فرشتے آتے ہیں ‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک جز ء میں روح کا لوٹانا اور ایک جز ء میں سوال ہونا اور ایک جزء میں عذاب دینا یہ ان چیزوں میں سے ہے جو عقلاً ممکن ہے اور مختلف اشیاء کے پہچاننے میں کوئی استحالہ نہیں ہے جس کے ساتھ عذاب قبر کے بارے میں اخبار آئی ہیں اور وہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے چاہا اور جس کے لیے چاہا اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں اس کے عذاب سے۔ عذاب قبر کے متعلق بہت زیادہ اخبار ہیں اور ہم نے اس کے لیے ایک الگ کتاب تیار کی جو عذاب قبر سے متعلق کتاب وسنت اور آثار میں وارد ہونے والے دلائل پر مشتمل ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عذاب قبر سے پناہ مانگی اور اپنی امت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پناہ مانگنے کا حکم دیا۔

فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ ← النَّبِيِّ فِي قِصَّةِ عَذَابِ الْقبْرِ ← وَرُوِّينَا فِي، حَدِيثِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 206

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 207

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّ يَهُودِيَّةً، دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَذَكَرَتْ لَهَا عَذَابَ الْقَبْرِ فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ» ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَا سَمِعْتُهُ يُصلِّي صَلَاةً بَعْدُ إِلَّا تَعَوَّذَ فِيهَا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ

عذاب قبرحق ہے: ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن اسحاق الصغانی نے ہم سے بیان کیا کہا ہاشم بن القاسم نے ہم سے بیان کیا کہا ہمیں شعبہ نے خبر دی وہ اشعث بن سلیم سے وہ اپنے باپ سے وہ مسروق سے وہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودیہ حضرت عائشہ کے پاس آئی تو اس نے آپ کے لیے عذاب قبر کا ذکر کیا اور کہا میں آپ کو اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں عذاب قبر سے حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عذاب قبر کے متعلق دریافت کیا تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” عذاب قبرحق ہے‘‘۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں اس کے بعد میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا مگر اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔

عَائِشَةُ فَمَا ← النَّبِيُّ «عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ» ← عَذَابُ الْقَبْرِ. ← عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ← أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ← عَائِشَةَ، أَنَّ يَهُودِيَّةً، دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَذَكَرَتْ لَهَا عَذَابَ الْقَبْرِ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ ← الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 207

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 208

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ جَمِيعًا، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيَدْعُ بِأَرْبَعٍ، ثُمَّ لِيَدْعُ بِمَا شَاءَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا، وَالْمَمَاتِ وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

نماز کے بعد کی چار دعائیں: ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ابو علی اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی کہا ابراہیم بن ہانی نیشا پوری نے ہم سے بیان کیا کہا ابو المغیر ہ اور محمد بن کثیر دونوں نے ہم سے بیان کیا وہ اوزاعی سے وہ حسان بن عطیہ سے وہ محمد بن ابو عائشہ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز سے فارغ ہو تو اسے چار دعائیں مانگنی چاہیے پھر اس کے بعد جو چاہے دعا کرے(وہ یہ چار دعائیں مانگے) اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں عذاب جہنم سے اور عذاب قبر سے اور زندگی وموت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَائِشَةَ، ← حَسَّانَ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أبو المغيره ومحمد بن كثير جميعا ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ النَّيْسَابُورِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 208

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 209

وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ". قَالَ الشَّيْخُ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ الْفَقِيهِ أَبِي مَنْصُورٍ الْحَمْشَاذِيِّ فِيمَا ذَكَرَ سَمَاعَهُ مِنْ أَبِي الْحَسَنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مُوسَى عِمْرَانَ بْنِ مُوسَى الْمُجَاشِعِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّ مَشِيئَةَ الْعِبَادِ هِيَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى، وَلَا يَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ، وَإِنَّ أَعْمَالَ النَّاسِ خَلْقٌ [ص:226] مِنَ اللَّهِ فِعْلٌ لِلْعِبَادِ، وَإِنَّ الْقَدَرَ خَيْرَهُ وَشَرَّهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ وَمُسَاءَلَةَ أَهْلِ الْقُبُورِ حَقٌّ وَالْبَعْثَ وَالْحِسَابَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَغَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا جَاءَتْ بِهِ السُّنَنُ وَظَهَرَتْ عَلَى أَلْسِنَةِ الْعُلَمَاءِ وَأَتْبَاعِهِمْ مِنْ بِلَادِ الْمُسْلِمِينَ حَقٌّ

محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن اسحاق الصغانی نے ہم سے بیان کیا کہا روح نے ہمیں خبر دی کہا مالک نے ہم سے بیان کیا وہ ابو الزبیر سے وہ طاؤس سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے جس طرح قرآن انہیں سکھاتے تھے فرماتے : ’’کہو! اے اللہ ! میں عذاب جہنم سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور زندگی وموت کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: فقیہ ابو منصور حمشادی کی کتاب میں ، میں نے پڑھا ان امور میں جن میں ان کا سماع ابو الحسن محمد بن اسحاق سے مذکور ہے کہ وہ ابو موسیٰ المجاشعی سے راوی ہیں کہا ابو نعیم نے کہا کہ ہم سے ربیع نے بیان کیا کہا امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بندوں کی چاہت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے وہ کچھ نہیں چاہتے مگر اللہ رب العالمین جو چاہے اور بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی تحقیق ہیں اور بندوں کے افعال میں اور اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ عزوجل کی طرف سے ہے اور عذاب قبرحق ہے اور اہل قبور سے سوال حق ہے اور مرنے کے بعد اٹھنا ،حساب ، جنت ، دوزخ اور ان کے علاوہ تمام امورحق ہیں جن کے متعلق سنن آئی ہیں اور بلاد مسلمین کے علماءاور ان کے متبعین کی زبانوں پر ظاہر ہوئی ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مَالِكٍ، ← رَوْحٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 209

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him