Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْأَطْفَالِ أَنَّهُمْ يُولَدُونَ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ · حديث 122

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، قَالَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تَنَاتَجُ الْإِبِلُ مِنْ بَهِيمَةٍ جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّ مِنْ جَدْعَاءَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ «آخِرُ هَذَا الْخَبَرِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْأَوَّلِ بَيَانُ حُكْمِهِ فِي الدُّنْيَا كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ [ص:165] عِنْدَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ " هِيَ الْفِطْرَةُ الَّتِي فَطَرَ اللَّهُ عَلَيْهَا الْخَلْقَ فَجَعَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يُفْصِحُوا بِالْقَوْلِ فَيَخْتَارُوا أَحَدَ الْقَوْلَيْنِ، الْإِيمَانَ أَوِ الْكُفْرَ لَا حُكْمَ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا الْحُكْمُ لَهُمْ بِآبَائِهِمْ، فَمَنْ كَانَ آبَاؤُهُمْ يَوْمَ يُولَدُونَ فَهُمْ بِحَالِهِمْ إِمَّا مُؤْمِنٌ فَعَلَى إِيمَانِهِ وَإِمَّا كَافِرٌ فَعَلَى كُفِرِهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: الَّذِي يُؤَكِّدُ هَذَا مَا رَوَى الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ «فَإِنْ كَانَا مُسْلِمَيْنِ فَمُسْلِمٌ» فَأَمَّا حُكْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ فَبَيَانُهُ فِي آخِرِ الْخَبَرِ وَهُوَ قَوْلُهُ «اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ» فَحُكْمُهُمْ فِي الدُّنْيَا فِي النِّكَاحِ وَالْمَوَارِيثِ وَسَائِرِ أَحْكَامِ الدُّنْيَا حُكْمُ آبَائِهِمْ حَتَّى يُعْرِبُوا عَنْ أَنْفُسِهِمْ بِأَحَدِهِمَا، وَحُكْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ مَوْكُولٌ إِلَى عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيهِمْ. وَعَلَى مِثْلِ هَذَا يَدُلُّ حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ

ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے: ہمیں ابو علی حسین بن محمد روذ باری نے خبر دی کہا ہمیں محمد بن بکر نے خبر دی کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے قعنبی نے بیان کیا وہ مالک سے وہ ابو زناد سے وہ اعرج سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر پیدا ہونے والا فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی اور نصرانی بنا دیتے ہیں جیسے عضو کٹے ہوئے چوپاؤں میں سے اونٹی(سالم الاعضاء بچہ) جنتی ہے کیا تم اس میں کوئی عضو کٹا ہوا جانور محسوس کرتے ہو؟‘‘ صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے بارے میں آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کیا خیال ہے جو بچپن میں فوت ہو گیا ؟ فرمایا: ”اللہ زیادہ جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے‘‘۔ اس حدیث کا آخری حصہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے حصے سے مراد بچوں کا دنیاوی حکم بیان کرنا ہے جیسا کہ امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ابو عبدالرحمٰن بغدادی کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان:’’ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے‘‘ کے بعد(یہ اضافہ) ہے : یہ وہ فطرت ہے اللہ نے جس پر مخلوق کو پیدا فرمایا جب تک وہ اچھے طریقے سے گفتگو نہ کرسکیں(یعنی عاقل و بالغ نہ ہو جائیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے یہ مقرر کیا ہے کہ ایمان وکفر دو باتوں میں سے ایک کو ان کے لیے اختیار کیا جائے گا ان کی جانوں میں کوئی حکم نہیں، حکم تو ان کے والدین کی وجہ سے ہے ان کی ولادت کے وقت ان کے والدین جس حالت میں ہوں گے وہی ان کی حالت ہو گی اگر وہ ایمان پر ہوں تو یہ مؤمن ہو گا اگر وہ کفر پر ہوں تو یہ کافر ہو گا۔ امام شیخ بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ بات اس روایت سے بھی مؤکد ہوتی ہے جسے علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے روایت کیا وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اس حدیث میں کہ اگر وہ دونوں مسلمان ہوں تو یہ مسلمان ہے(ان کا دنیاوی حکم بیان ہوا ہے) رہا معاملہ ان کے اخروی حکم کا تو حدیث کے آخر میں اس کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : ”اللہ زیادہ جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے‘‘۔ دنیا میں ان کا حکم نکاح ، وراثت اور تمام دنیاوی احکام میں ان کے والدین کا حکم ہے حتٰی کہ والدین میں سے کسی ایک کیساتھ ان کوترجیح دی جاتی ہے اور ان کا آخرت میں حکم اللہ عزوجل کے علم کے سپرد ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی روایت مسلمان بچوں کے بارے میں اسی کی مثل دلالت کرتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam · Hadith 122

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْأَطْفَالِ أَنَّهُمْ يُولَدُونَ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ · حديث 123

أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرِ قَالَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ الزَّاهِدُ قَالَ، نا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُؤَدِّبُ قَالَ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ قَالَ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا وَلَمْ يَدْرِهِ، فَقَال: أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا خَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا خَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ " فَهَذَا الْحَدِيثُ يَمْنَعُ مَنْ قَطَعَ الْقَوْلَ بِكَوْنِهِمْ فِي الْجَنَّةِ [ص:166] وَحَدِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ أَنَّهُ طُبِعَ كَافِرًا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ كَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ. وَقَدْ رُوِّينَا فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْقَدَرِ أَخْبَارًا فِي أَنَّ أَوْلَادَ الْمُشْرِكِينَ مَعَ آبَائِهِمْ فِي النَّارِ وَأَوْلَادَ الْمُسْلِمِينَ مَعَ آبَائِهِمْ فِي الْجَنَّةِ، وَأَخبَارًا غَيْرَ قَوِيَّةٍ فِي أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ أَنَّهُمْ خُدَّامُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَمَا صَحَّ مِنْ ذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ أَمْرَهُمْ مَوْكُولٌ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى مَا عَلِمَ اللَّهُ مِنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ وَكَتَبَ لَهُ السَّعَادَةَ أَوِ الشَّقَاوَةَ، وَقَدْ قِيلَ فِي أَوْلَادِ الْمُسْلِمِينَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَكْرَمَ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِأَنْ أَلْحَقَ بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ

ابو ذر محمد بن ابو الحسین بن ابو القاسم المذکر نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ صفار زاہد نے خبر دی کہا ہمیں ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم مؤدب نے خبر دی کہا ہمیں حسین بن حفص نے خبر دی وہ سفیان سے وہ طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ بن عبیداللہ سے وہ عائشہ بنت طلحہ سے وہ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتی ہیں آپ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس انصار کا ایک بچہ لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر نماز جنازہ پڑھیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کو مبارک ہو کہ یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑی ہے اس نے نہ کوئی براعمل کیا اور نہ ہی برے عمل کو جانا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! کیا اسکے علاوہ بھی کوئی بات ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور اس کے لیے جنتیوں کو پیدا کیا ، انہیں جنت کے لیے پیدا کیا جبکہ وہ اپنے آباء کی صلیوں میں تھے اور دوزخ کو پیدا کیا اور اس کے لیے دوزخیوں کو پیدا کیا انہیں اس کے لیے اس وقت پیدا کیا جب کہ وہ اپنے آباء کی صلبوں میں تھے‘‘۔ کسی کے متعلق قطعی طور پر جنتی ہونے کی بات کرنے سے یہ حدیث منع کرتی ہے(سوائے ان کے جن کا استثناء حدیث میں آ گیا)۔ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ حدیث جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس لڑکے کے بارے میں روایت کی جسے حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا یہ تھی کہ لڑکا کافر پیدا کیا گیا تھا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے والدین مؤمن تھے۔ مشرکین کی اولادقیامت میں کہاں ہو گی ؟: ہم نے کتاب القدر کے آخر میں بہت سی اخبار روایت کی ہیں اس بارے میں کہ مشرکین کی اولاداپنے آباء کے ساتھ جہنم میں ہوں گی اور مسلمانوں کی اولاداپنے آباء کے ساتھ جنت میں ہوں گی اور مشرکین کی اولاد کے متعلق کئی خبریں اس بارے میں قوی نہیں ہیں کہ وہ اہل جنت کے خادم ہوں گے اس بارے میں جو صحیح بات مروی ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے اور ان کے لیے سعادت مندی یا بد بختی لکھ دی۔ مسلمانوں کی اولاد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ عزت بخشی کہ جنت میں ان کیساتھ ان کی اولادوں کو ملا دیا جائے گا۔

فَقُلْتُ: ← أتي النبي بصبي من الأنصار ليصلي عليه ← عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أبو عبد الله محمد بن إبراهيم المؤدب ← أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الزاهد ← أبو ذر محمد بن أبي الحسين بن أبي القاسم المذكر

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam · Hadith 123

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْأَطْفَالِ أَنَّهُمْ يُولَدُونَ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ · حديث 124

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّغَانِيُّ، بِمَكَّةَ قَالَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: (أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ) قَالَ: اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَرْفَعُ ذُرِّيَّةَ الْمُؤْمِنِ مَعَهُ فِي دَرَجَتِهِ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانُوا دُونَهُ فِي الْعَمَلِ ثُمَّ قَرَأَ: (وَالَّذِينَ آمَنُوا وَأَتْبَعْنَاهُمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ وَمَا أَلَتْنَاهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ) يَقُولُ: وَمَا نَقَصْنَاهُمْ. وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سُمَاعَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن علی صغانی نے مکہ میں ہمیں خبر دی کہا اسحاق بن ابراہیم بن عباد نے ہمیں خبر دی کہا عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی وہ عمرو بن مرہ سے وہ سعید بن جبیر سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : اَلْحَقْنَا بِھِمْ ذُرِّیَتَھُمْ(طور:21)(ہم نے ان کی اولادان سے ملا دی) کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مؤمنین کی اولادوں کو ان کیساتھ جنت میں ان کے درجے میں بلند فرمائے گا اگرچہ وہ ان سے عمل میں کم درجے والے ہوں پھر آیت پڑھی : وَاتَّبَعَتْھُمْ ذُرّیَّتُھّمْ بِایْمٰنٍ اَلْحَقْنَا بِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَمَا اَلَتْنٰھُمْ مِّنْ عَمَلِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ(الطور :21) ترجمہ: اور جو ایمان لائے ان کی اولاد نے ایمان کیساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملا دی اور ان کے عمل میں انہیں کچھ کی نہ دی۔ وَمَا اَلَتْنٰھُمْ کے بارے میں فرماتے ہیں: یعنی اور ہم ان کے عمل میں کمی نہیں کریں گے۔ اسے محمد بن بشر نے ثوری سے وہ عمرو بن مرہ سے روایت کرتے ہیں ایسے ہی اسے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے روایت کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: (أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ) ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ← محمد بن علي الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam · Hadith 124

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْأَطْفَالِ أَنَّهُمْ يُولَدُونَ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ · حديث 125

أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ قَالَ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى [ص:167] فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى بَعْدَ هَذَا: (أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ) يَعْنِي: بِإِيمَانٍ فَأَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَبْنَاءَ بِصَلَاحِ الْآبَاءِ الْجَنَّةَ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ خَبَرُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي وَلَدِ الْأَنْصَارِيِّ قَبْلَ نُزُولِ الْآيَةِ، فَجَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَصْلِ الْمَعْلُومِ فِي جَرَيَانِ الْقَلَمِ بِسَعَادَةِ كُلِّ نَسَمَةٍ أَوْ شَقَاوَتِهَا فَمَنَعَ مِنَ الْقَطْعِ بِكَوْنِهِ فِي الْجَنَّةِ، ثُمَّ أَكْرَمَ اللَّهُ تَعَالَى أُمَّتَهُ بِإِلْحَاقِ ذُرِّيَّةِ الْمُؤْمِنِ بِهِ وَإِنْ لَمْ يَعْمَلُوا عَمَلَهُ، فَجَاءَتْ أَخْبَارٌ بِدُخُولِهِمُ الْجَنَّةَ فَعَلِمْنَا بِهَا جَرَيَانَ الْقَلَمِ بِسَعَادَتِهِمْ، فَمِنْهَا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ» أو قال: «دَعَامِيصُ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَوْلَادُ الْمُسْلِمِينَ فِي جَبَلٍ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيمُ وَسَارَةُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دُفِعُوا إِلَى آبَائِهِمْ» وَفِي حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ الرَّجُلِ الَّذِي هَلَكَ ابْنٌ لَهُ قَالَ: فَعَزَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا فُلَانُ أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ: أَنْ تُمَتَّعَ بِهِ عُمْرَكَ، أَوْ لَا تَأْتِي غَدًا بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ قَدْ سَبَقَكَ إِلَيْهِ يَفْتَحُهُ لَكَ؟ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا بَلْ يَسْبِقُنِي إِلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَحَبُّ إِلَيَّ، قَالَ فَذَاكَ لَهُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ أَهَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ مَنْ هَلَكَ لَهُ طِفْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانَ ذَاكَ لَهُ؟ قَالَ: مَنْ هَلَكَ لَهُ طِفْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " [ص:168] كَانَ ذَلِكَ لَهُ، وَأَسَانِيدُ هَذَا الْحَدِيثِ مَعَ غَيْرِهَا ذَكَرْنَاهَا فِي بَابِ الصَّبْرِ مِنْ كِتَابِ الْجَامِعِ، وَكُلُّ ذَلِكَ فِيمَنْ وَافَى أَبَوَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُؤْمِنَيْنِ أَوْ أَحَدُهُمَا فَيَلْحَقُ بِالْمُؤْمِنِ ذُرِّيَّتُهُ كَمَا جَاءَ بِهِ الْكِتَابُ، وَيُسْتَفْتَحُ لَهُ كَمَا جَاءَتْ بِهِ السُّنَّةُ، وَيُحْكَمُ لَهَا بِأَنَّهَا كَانَتْ مِمَّنْ جَرَى لَهُ الْقَلَمُ بِالسَّعَادَةِ، وَقَدْ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ مَا دَلَّ عَلَى صِحَّةِ هَذِهِ الطَّرِيقَةِ فِي أَوْلَادِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِفَضْلِ نِعْمَتِهِ أَثَابَ النَّاسَ عَلَى الْأَعْمَالِ أَضْعَافَهَا، وَمَنَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ بِأَنْ أَلْحَقَ بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ وَوَفَّرَ عَلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فَقَالَ: (أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ وَمَا أَلَتْنَاهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ) فَلَمَّا مَنَّ عَلَى الذَّرَارِي بِإِدْخَالِهِمْ جَنَّتَهُ بِلَا عَمَلٍ كَانَ أَنْ مَنَّ عَلَيْهِمْ بِأَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ عَمَلَ الْبِرِّ فِي الْحَجِّ وَإِنْ لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِمْ مِنْ ذَلِكَ الْمَعْنَى قَالَ: وَقَدْ جَاءَتِ الْأَحَادِيثُ فِي أَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ أَنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ. قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَهَذِهِ طَرِيقَةٌ حَسَنَةٌ فِي جُمْلَةِ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يُوَافُونَ الْقِيَامَةَ مُؤْمِنِينَ وَإِلحَاقِ ذُرِّيَّتِهِمْ بِهِمْ كَمَا وَرَدَ بِهِ الْكِتَابُ وَجَاءَتْ بِهِ الْأَحَادِيثُ إِلَّا أَنَّ الْقَطْعَ بِهِ فِي وَاحِدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بِعَيْنِهِ غَيْرُ مُمْكِنٍ لِمَا يُخْشَى مِنْ تَغَيُّرِ حَالِهِ فِي الْعَاقِبَةِ، وَرُجُوعِهِ إِلَى مَا كُتِبَ لَهُ مِنَ الشَّقَاوَةِ فَكَذَلِكَ قَطْعُ الْقَوْلِ بِهِ فِي وَاحِدٍ مِنَ الْمَوْلُودِينَ غَيْرُ مُمْكِنٍ لِعَدَمِ عِلْمِنَا بِمَا يَئُولُ إِلَيْهِ حَالُ مَتْبُوعِهِ وَبِمَا جَرَى لَهُ بِهِ الْقَلَمُ فِي الْأَزَلِ مِنَ السَّعَادَةِ أَوِ الشَّقَاوَةِ، وَكَانَ إِنْكَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَطْعَ بِهِ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ [ص:169] رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَعَنْ أَبِيهَا لِهَذَا الْمَعْنَى، فَنَقُولُ بِمَا وَرَدَ بِهِ الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ فِي جُمْلَةِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَلَا نَقْطَعُ الْقَوْلَ بِهِ فِي آحَادِهِمْ لِمَا ذَكَرْنَا، وَفِي هَذَا جَمْعٌ بَيْنَ جَمِيعِ مَا وَرَدَ فِي هَذَا الْبَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَمَنْ قَالَ بِالطَّرِيقَةِ الْأُولَى فِي التَّوَقُّفِ فِي أَمْرِهِمْ جَعَلَ امْتِحَانَهُمْ وَامْتِحَانَ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ فِي الْآخِرَةِ

ہمیں ابو زکریا بن ابو اسحاق نے خبر دی کہا ابو الحسن الطرائفی نے ہمیں خبر دی کہا عثمان بن سعید نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن صالح نے ہمیں خبر دی وہ معاویہ بن صالح سے وہ علی بن ابی طلحہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے :وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسٰنٍ اِلَّا مَاسَعٰی (النجم :39) ترجمہ: اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔ کے بعد اس آیت کو نازل کیا: اَلْحَقْنَا بِھِمْ ذُرِّیَتَھُمْ (الطور:21) یعنی ایمان کی وجہ سے ان کی اولاد ان سے ملا دیں گے پس اللہ عزوجل آباء کی نیکوکاری کی وجہ سے بیٹوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کی تشریح: شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: احتمال یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت نصاریٰ کے بچے کے بارے میں ہواس آیت کے نازل ہونے سے پہلے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی اصل معلوم کہ ہر جان کی سعادت یا شقاوت کا قلم جاری ہو چکا ہے پر حکم جاری فرمایا لہٰذا اس کے قطعی طور پر جنتی ہونے کے قول کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روک دیا پھر اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو عزت بخشی کہ اس پر ایمان لانے والوں کی اولاد کو ان کیساتھ ملائیں کے اگر چہ انہوں نے عمل نہ کیا ہوا (بچپنے میں انتقال کر نے کی وجہ سے) بہت سی احادیث آئی ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے لہٰذا ہم نے یہاں پر اس بات پر عمل کیا کہ ان کی سعادت مندی کا قلم جاری ہو چکا ہے۔ ان احادیث میں سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے کہ مسلمانوں کے بچے جنت کے کیڑے ہیں۔ مسلمانوں کے چھوٹے فوت شدہ بچے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سیدہ سارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کفالت میں رہتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی دوسری حدیث میں ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمانوں کی اولاد جنت کے ایک پہاڑ پر ہے حضرت ابراہیم اور حضرت سارہ علیہما السلام ان کی کفالت کرتے ہیں جب قیامت کا دن ہو گا تو وہ اپنے آباء کی طرف واپس لوٹا دیئے جائیں گے‘‘۔ معاویہ بن قرہ کی حدیث میں ہے وہ اپنے باپ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اس آدمی کے بارے میں جس کا بیٹا ہلاک ہو گیا کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تعزیت کی اور فرمایا: اے فلاں ! جو بھی تجھے سب سے زیادہ پسند ہے اپنی زندگی میں اسے نفع اٹھائے یا نہ اٹھائے تو جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر کل آئے گا مگر تو اسے وہاں پائے گا وہ تجھ سے پہلے وہاں ہوں گی اور تیرے لیے جنت کا دروازہ کھلوائے گی اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! نہیں بلکہ وہ جنت کے دروازوں کی طرف سبقت کرے یہ مجھے زیادہ پسند ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ تیرے لیے ہے انصار میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی !اللہ مجھے آپ پر فدا کرے کیا یہ اس کے لیے خاص ہے یا ہر اس مسلمان کے لیے جس کا بچہ فوت ہو گیا اس کے لیے بھی ہے؟ فرمایا:مسلمانوں میں سے جس کا بھی بچے فوت ہو گیا اس کے لیے یہ اجر ہے۔ اس اور دیگر پچھلی روایات کی اسناد ہم نے کتاب الجامع کے باب الصبر میں ہم نے ذکر کر دی ہیں۔ان میں سے ہر وہ بچہ جو وفات پا جائے اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک قیامت کے دن مؤمن ہو تو مؤمن کیساتھ اس کی اولاد کو ملادیا ہے جائے گا جیسا کہ یہ بات کتاب اللہ میں آئی ہے اور وہ ان کے لیے جنت کا دروازہ کھلوائے گا جیسا کہ سنت میں آیا ہے اور اس کا حکم یہ لگا یا جائے گا کہ یہ ان لوگوں میں سے جن کی سعادت مندی کا قلم جاری ہو چکا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کتاب المناسک میں وہ بات ذکر کی جو مسلمانوں کی اولاد کے بارے میں اس طریقہ کی صحت پر دلالت کرتی ہے چنانچہ آپ نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل اپنے فضل نعمت سے مسلمانوں کو ان کے اعمال سے کئی گناہ بڑھا کر ثواب عطا فرمائے گا اور مؤمنین پر یہ احسان فرمائے گا کہ ان کی اولاد کو ان کیساتھ ملا دے گا ان پر ان کے اعمال بڑھا دے گا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ:(اور جو ایمان لائے ان کی اولاد نے ایمان کیساتھ ان کی پیروی کی) ہم نے ان کی اولادان سے ملا دی اور ان کے عمل میں انہیں کچھ کمی نہ دی(الطور:21) ۔ پس جب بغیر عمل کے جنت میں داخل فرمانے کیساتھ بچوں پر احسان فرمایا تو یہ بھی ان پر احسان ہو گا کہ ان کے متعلق حج کے متعلق نیک عمل لکھ دے اگرچہ یہ معنی ان پر واجب نہیں ہوا امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:مسلمانوں کے بچوں کے بارے میں احادیث آئی ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تمام مومنین کے بارے میں بہترین طریقہ ہے کہ جنہیں قیامت کے دن عطا کیا جائے گا اور ان کیساتھ ان کی اولادوں کو ملا دیا جائے گا جیسا کہ اس کے بارے میں کتاب میں حکم وارد ہوا ہے اور اس کے بارے میں احادیث آئی ہیں مگر مومنین میں سے کسی ایک کے لیے معین کر کے قطعی طور پر یہ بات کہنا کہ وہ جنتی ہے ممکن نہیں کیونکہ خوف ہے کہ آخر کار کہیں اس کی حالت ہی بدل نہ جائے اور جو بدبختی لکھی جا چکی ہے اس کی طرف لوٹ جائے ایسے ہی بچوں میں سے کسی ایک کے لیے قطعی طور پر جنتی کا قول کرنا ممکن نہیں کیونکہ جس کی طرف اسے سپرد کیا جائے گا اس متبوع کی حالت کا ہمیں علم نہیں اور اس کا بھی علم نہیں کہ ازل میں اس کی سعادت مندی کا قلم جاری ہوا یا شقاوت کا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں اسی قطعیت کا انکار تھا۔ اسی معنی کی وجہ سے ہم کہتے ہیں جس کیساتھ کتاب وسنت وارد ہوئی ہے تمام مؤمنین اور ان کی اولادوں کے بارے میں اور ان کے آحاد کے بارے میں ہم قطعی قول نہیں کرتے وجہ وہی ہے جو ہم نے ذکر کی۔اس طریقے سے اس بات میں جتنی بھی روایات آئی ہیں ان میں جمع تطبیق ہو جائے گی۔ واللہ اعلم۔ اور جس نے پہلے طریقے کیساتھ قول کیا کہ ان کے معاملے میں توقف کیا جائے گا انہوں نے مسلمانوں اور مشرکین کی اولاد کو آخرت میں امتحان قرار دیا (کہ ان سے آخرت میں امتحان لیا جائے گا اور پھر اسی امتحان پر ان کے جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا) انہوں نے ان روایات سے دلیل لی :

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam · Hadith 125

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْأَطْفَالِ أَنَّهُمْ يُولَدُونَ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ · حديث 126

مُحْتَجًّا بِمَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْأَحْنَفِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سُرَيْعٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَعْنِي يَدُلُّونَ عَلَى اللَّهِ بِحُجَّةٍ رَجُلٌ أَصَمُّ لَا يَسْمَعُ، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ، وَرَجُلٌ هَرِمٌ، وَرَجُلٌ مَاتَ فِي فَتْرَةٍ، فَأَمَّا الْأَصَمُ فَيَقُولُ: رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَسْمَعُ شَيْئًا، وَأَمَّا الْأَحْمَقُ فَيَقُولُ: رَبِّ، لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَالصِّبْيَانُ يَحْذِفُونَنِي بِالْبَعْرِ، وَأَمَّا الْهَرِمُ فَيَقُولُ: رَبِّ، لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَعْقِلُ شَيْئًا، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي فَتْرَةٍ فَيَقُولُ: رَبِّ مَا آتَانِي الرَّسُولُ، فَيَأْخُذُ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعُنَّهُ وَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ أَنِ ادْخُلُوا النَّارَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ دَخَلُوهَا مَا كَانَتْ عَلَيْهِمْ إِلَّا بَرْدًا وَسَلَامًا " وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا، وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ

قیامت میں ایک اور امتحان: علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر الرزاز نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے حنبل بن اسحاق نے بیان کیا کہا ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا وہ قتادہ سے وہ احنف سے وہ اسود بن سریع سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” قیامت کے دن چار بندے ہوں گے۔ یعنی اللہ پر حجت کیساتھ دلیل لیں گے ایک بہرا آدمی جوسنتا نہیں دوسرا بے وقوف آدمی تیسرا انتہائی بوڑھا اور چوتھا جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا۔ بہرا کہے گا :اے رب! بے شک اسلام آیا اور میں نے کچھ نہیں سناء بے وقوف کہے گا : اے رب! اسلام آیا بچے مجھ پر مینگنیاں پھینکتے تھے ، بوڑھا کہے گا :اے رب! اسلام آیا اور میں کچھ بھی نہیں سمجھتا تھا اور زمانہ فترت میں مرنے والے کہے گا : اے رب ! میرے پاس رسول نہیں آیا پھر اللہ ان سے پختہ عہد لے گا کہ وہ اب اس کی ضرور بالضرور اطاعت کریں گے اور ان کو پیغام بھیجے گا کہ تم جہنم میں داخل ہوجاؤ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے اگر وہ جہنم کی آگ میں داخل ہوں گے تو وہ ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے گی‘‘۔ اسی اسناد سے کیساتھ قتادہ سے وہ حسن سے وہ ابو رافع سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کرتے ہیں۔ یہ اسناد صحیح ہیں۔

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam · Hadith 126

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْأَطْفَالِ أَنَّهُمْ يُولَدُونَ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ · حديث 127

وَرَوَى لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ، وَالشَّيْخِ الْفَانِي وَالْمَعْتُوهِ [ص:170] وَالصَّغِيرِ الَّذِي لَا يَعْقِلُ فَيَتَكَلَّمُونَ بِحُجَّتِهِمْ وَعُذْرِهِمْ فَيَأْتِي عُنُقٌ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ لَهُمْ رَبُّهُمْ: إِنِّي كُنْتُ أُرْسِلُ إِلَى النَّاسِ رُسُلًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنِّي رَسُولُ نَفْسِي إِلَيْكُمُ ادْخُلُوا هَذِهِ النَّارَ فَأَمَّا مَنْ كَتَبَ عَلَيْهِمُ الشَّقَاوَةَ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا مِنْهَا فَرَرْنَا، وَأَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيَنْطَلِقُونَ حَتَّى يَدْخُلُوهَا فَيَدْخُلُ هَؤُلَاءِ الْجَنَّةَ، وَيَدْخُلُ هَؤُلَاءِ النَّارَ، فَيَقُولُ لِلَّذِينَ كَانُوا لَمْ يُطِيعُوهُ: قَدْ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا النَّارَ فَعَصَيْتُمُونِي وَقَدْ عَايَنْتُمُونِي فَأَنْتُمْ لِرُسُلِي كُنْتُمْ أَشَدَّ تَكْذِيبًا " أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ قَالَ: نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ قَالَ: نا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنا ابْنُ شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْبَانُ، عَنْ لَيْثٍ فَذَكَرَهُ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَهَكَذَا يَنْبَغِي أَنْ يَقُولَ مَنْ قَالَ بِالطَّرِيقَةِ الثَّانِيَةِ فِي أَوْلَادِ الْمُسْلِمِينَ فَمَنْ لَمْ يُوَافِ أَحَدَ أَبَوَيْهِ الْقِيَامَةَ مُؤْمِنًا يُجْعَلُ امْتِحَانُهُ فِي الْآخِرَةِ حَيْثُ لَمْ يَجِدْ مُتَّبِعًا يَلْحَقُ بِهِ فِي الْجَنَّةِ

لیث بن ابی سلیم نے عبدالوارث سے روایت کی وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن زمانہ فترت میں مرنے والے،شیخ فانی، معتوہ(جس کی عقل میں خلل ہو) اور اس بچے کو لایا جائے گا جو سمجھتا نہیں تو وہ اپنی دلیل وعذر سے کلام کریں گے(جب وہ اپنی دلیل وعذر پیش کر کے ختم ہوں گے) تو انہیں جہنم کی آگ کے کنارے لایا جائے گا تو انہیں ان کا رب فرمائے گا : میں نے لوگوں کی طرف انہیں میں سے رسول بھیجے اور میں خود تمہاری طرف رسول ہوں(لہٰذا) اس آگ میں داخل ہو جاؤ! تو جن کے لیے بدبختی لکھی گئی وہ کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں اس سے بھاگنا ہے اور سعادت مند تو وہ اس کی طرف چلنے لگیں گے حتٰی کہ وہ آگ میں داخل ہو جائیں گے پس یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور وہ(انکار کرنے والے) جہنم میں داخل ہوں گے پس اللہ ان سے فرمائے گا جنہوں نے اس کی اطاعت نہیں کی میں نے تمہیں آگ میں داخل ہونے کا حکم دیا تو تم نے میری نافرمانی کی اور تم مجھے دیکھ رہے ہو تو تم میرے رسولوں کو اس سے بھی بڑھ کر جھٹلاتے‘‘۔ ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس اصم نے ہمیں خبر دی کہا عباس بن ولید نے ہمیں خبر دی کہا ابن شعیب نے ہمیں خبر دی کہا مجھ سے شیبان نے بیان کیا وہ لیث سے روایت کرتے ہیں ، پھر یہ روایت ذکر کی۔ شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: طریقہ ثانیہ میں مسلمانوں کی اولاد کے بارے میں ایسے ہی کہنا چاہیے پس قیامت کے دن جو اپنے والدین میں سے کسی ایک کے برابر نہیں ہوا حالت ایمان میں اسے آخرت میں امتحان میں ڈالا جائے گا یہ اس وقت ہو گا جب کوئی متبوع نہ موجود ہو جس کیساتھ اسے جنت میں اس کیساتھ لاحق کیا جائے۔

الْمَعْتُوهِ وَالصَّغِيرِ الَّذِي لَا يَعْقِلُ فَيَتَكَلَّمُونَ بِحُجَّتِهِمْ وَعُذْرِهِمْ فَيَأْتِي عُنُقٌ مِنَ النَّارِ ← يؤتى يوم القيامة بمن مات في الفترة والشيخ الفاني ← أَنَسٍ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← وَرَوَى لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam · Hadith 127

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him