الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْأَطْفَالِ أَنَّهُمْ يُولَدُونَ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ · حديث 122
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، قَالَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تَنَاتَجُ الْإِبِلُ مِنْ بَهِيمَةٍ جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّ مِنْ جَدْعَاءَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ «آخِرُ هَذَا الْخَبَرِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْأَوَّلِ بَيَانُ حُكْمِهِ فِي الدُّنْيَا كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ [ص:165] عِنْدَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ " هِيَ الْفِطْرَةُ الَّتِي فَطَرَ اللَّهُ عَلَيْهَا الْخَلْقَ فَجَعَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يُفْصِحُوا بِالْقَوْلِ فَيَخْتَارُوا أَحَدَ الْقَوْلَيْنِ، الْإِيمَانَ أَوِ الْكُفْرَ لَا حُكْمَ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا الْحُكْمُ لَهُمْ بِآبَائِهِمْ، فَمَنْ كَانَ آبَاؤُهُمْ يَوْمَ يُولَدُونَ فَهُمْ بِحَالِهِمْ إِمَّا مُؤْمِنٌ فَعَلَى إِيمَانِهِ وَإِمَّا كَافِرٌ فَعَلَى كُفِرِهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: الَّذِي يُؤَكِّدُ هَذَا مَا رَوَى الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ «فَإِنْ كَانَا مُسْلِمَيْنِ فَمُسْلِمٌ» فَأَمَّا حُكْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ فَبَيَانُهُ فِي آخِرِ الْخَبَرِ وَهُوَ قَوْلُهُ «اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ» فَحُكْمُهُمْ فِي الدُّنْيَا فِي النِّكَاحِ وَالْمَوَارِيثِ وَسَائِرِ أَحْكَامِ الدُّنْيَا حُكْمُ آبَائِهِمْ حَتَّى يُعْرِبُوا عَنْ أَنْفُسِهِمْ بِأَحَدِهِمَا، وَحُكْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ مَوْكُولٌ إِلَى عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيهِمْ. وَعَلَى مِثْلِ هَذَا يَدُلُّ حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ
ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے: ہمیں ابو علی حسین بن محمد روذ باری نے خبر دی کہا ہمیں محمد بن بکر نے خبر دی کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے قعنبی نے بیان کیا وہ مالک سے وہ ابو زناد سے وہ اعرج سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر پیدا ہونے والا فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی اور نصرانی بنا دیتے ہیں جیسے عضو کٹے ہوئے چوپاؤں میں سے اونٹی(سالم الاعضاء بچہ) جنتی ہے کیا تم اس میں کوئی عضو کٹا ہوا جانور محسوس کرتے ہو؟‘‘ صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے بارے میں آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کیا خیال ہے جو بچپن میں فوت ہو گیا ؟ فرمایا: ”اللہ زیادہ جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے‘‘۔ اس حدیث کا آخری حصہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے حصے سے مراد بچوں کا دنیاوی حکم بیان کرنا ہے جیسا کہ امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ابو عبدالرحمٰن بغدادی کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان:’’ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے‘‘ کے بعد(یہ اضافہ) ہے : یہ وہ فطرت ہے اللہ نے جس پر مخلوق کو پیدا فرمایا جب تک وہ اچھے طریقے سے گفتگو نہ کرسکیں(یعنی عاقل و بالغ نہ ہو جائیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے یہ مقرر کیا ہے کہ ایمان وکفر دو باتوں میں سے ایک کو ان کے لیے اختیار کیا جائے گا ان کی جانوں میں کوئی حکم نہیں، حکم تو ان کے والدین کی وجہ سے ہے ان کی ولادت کے وقت ان کے والدین جس حالت میں ہوں گے وہی ان کی حالت ہو گی اگر وہ ایمان پر ہوں تو یہ مؤمن ہو گا اگر وہ کفر پر ہوں تو یہ کافر ہو گا۔ امام شیخ بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ بات اس روایت سے بھی مؤکد ہوتی ہے جسے علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے روایت کیا وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اس حدیث میں کہ اگر وہ دونوں مسلمان ہوں تو یہ مسلمان ہے(ان کا دنیاوی حکم بیان ہوا ہے) رہا معاملہ ان کے اخروی حکم کا تو حدیث کے آخر میں اس کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : ”اللہ زیادہ جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے‘‘۔ دنیا میں ان کا حکم نکاح ، وراثت اور تمام دنیاوی احکام میں ان کے والدین کا حکم ہے حتٰی کہ والدین میں سے کسی ایک کیساتھ ان کوترجیح دی جاتی ہے اور ان کا آخرت میں حکم اللہ عزوجل کے علم کے سپرد ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی روایت مسلمان بچوں کے بارے میں اسی کی مثل دلالت کرتی ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam · Hadith 122
