الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 330
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحِمَامِيِّ بِبَغْدَادَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ وَأَنَا أَسْمعُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ بِالسُّنْحِ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ مَا كَانَ يَقَعُ فِي نَفْسِي إِلَّا ذَاكَ وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيُقَطِعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ: بأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُذِيقُكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: أَيُّهَا الْحَالِفُ عَلَى رِسْلَكَ فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ جَلَسَ عُمَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ [ص:347] اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ وَقَالَ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتونَ} [الزمر: 30] وَقَالَ: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ} [آل عمران: 144] الْآيَةُ كُلُّهَا، فَنَشَجَ النَّاسُ يبْكونَ، وَاجْتَمَعَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَقَالُوا: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَذَهَبَ إِلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَذَهَبَ عُمَرُ يَتَكَلَّمُ فَأَسْكَتَهُ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِذَلِكَ إِلَّا أَنِّي قَدْ هَيَأْتُ كَلَامًا أَعْجَبَنِي فَخَشِيتُ أَنْ لَا يُبَلِّغَهُ أَبُو بَكْرٍ فَتَكَلَّمَ وَأَبْلَغَ، وَقَالَ فِي كَلَامِهِ: نَحْنُ الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، قَالَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ: لَا وَاللَّهِ لَا نَفْعلُ أَبَدًا مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا وَلَكِنَّا الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ - يَعْنِي الْمُهَاجِرِينَ هُمْ أَوْسطُ الْعَرَبِ دَارًا وَأَعَزُّهُمْ أَحْسَابًا - فَبَايِعُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَوْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلْ نبَايِعُكَ أَنْتَ خَيْرُنَا وَسيِّدُنَا وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ عُمَرُ بِيَدِهِ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ، فَقَالَ قَائِلٌ: قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: قَتَلَهُ اللَّهُ. وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي قِصَّةِ السِّقِيفَةِ بِمَعْنَى مَا رَوَتْهُ عَائِشَةُ وَفيهُ مِنَ الزِّيَادَةِ عَنْ عُمَرَ قَالَ: فَلَمْ أَكْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا، كَانَ وَاللَّهِ أَنْ أُقْدِمَ فَتُضْربَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ إِلَى إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ [ص:348] أُؤَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَزَادَ أَيْضًا قَالَ عُمَرُ: فَكَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ حَتَّى أَشْفَقْتُ الِاخْتِلَافَ فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَبَسَطَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ، وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ بِالتَّمَامِ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی استقامت: ابو الحسن علی بن احمد بن عمر بن حفص المقرئ بن الحمامی نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا احمد بن سلیمان النجاد نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن ہیثم پر پڑھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ ہم سے اسماعیل بن ابو اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا وہ ہشام بن عروہ سے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب وصال فرمایا تو حضرت ابو بکر مقام سخ میں تھے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے فرمایا: اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرے نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: اللہ کی قسم میرے دل میں صرف یہی بات واقع ہوئی کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوضرور بالضرور اٹھائے گا تو وہ ضرور بالضرور لوگوں کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹیں گے اتنے میں حضرت ابو بکر تشریف لائے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور سے کپڑا ہٹا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیا اور کہا: میرا باپ اور میری ماں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہو جائیں آپ کی زندگی وموت پاکیزہ ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ عزوجل آپ کو کبھی بھی دو موتیں نہیں چکھائے گا پھر آپ باہر نکلے اورفرمایا : اے حلف اٹھانے والے اپنی جگہ ٹھہرے رہو! پھر جب حضرت ابو بکر نے کلام(شروع کیا) تو حضرت عمر بیٹھ گئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا ء پڑھی پھر فرمایا : جو شخص حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت کرتا ہے وہ سن لے کہ حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے وہ سن لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے کبھی مرے گانہیں اور آپ نے یہ آیت پڑھی :اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ (الزمر:30) ترجمہ: بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔ اور یہ آیت بھی پڑھی :وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی اَعْقٰبِکُمْ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللہَ شَیْئًا وَسَیَجْزِی اٰللہُ الشّٰکِرِیْنِ (آل عمران:144) ترجمہ: اورمحمدتو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہو چکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جوالٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا۔ پس لوگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور تمام انصار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سقیفہ بنو ساعدہ میں جمع ہو گئے انہوں نے کہا: ایک امیر ہم انصار میں سے ہو گا اور ایک امیر تم مہاجرین میں سے ہو گا۔ پھر حضرت ابو بکر ، حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان کی طرف گئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کلام کرنے لگے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں چپ کرادیا اور حضرت عمر بعد میں کہا کرتے تھے کہ اس کلام کرنے سے میرا ارادہ صرف یہی تھا کہ میں نے ایسا کلام تیار کیا تھا جس نے مجھے تعجب میں ڈالا تو مجھے خوف ہوا کہ حضرت ابو بکر اس تک نہیں پہنچیں گے تو آپ یعنی حضرت ابو بکر نے کلام کیا اور اس تک پہنچ گئے اور آپ نے اپنی گفتگو میں فرمایا: ہم امیر ہوں گے تم وزیر ہو گے تو حضرت حباب بن منذر نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم ہم ایسا نہیں کریں گے ، ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم میں سے تو حضرت ابو بکر نے کہا نہیں ، ہم امراء ہوں گے تم وزراء، مہاجرین اہل عرب میں گھر کے اعتبار سے افضل ہیں اور حسب کے اعتبار سے زیادہ معزز ہیں تو آپ نے حضرت عمر بن خطاب یا حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی بیعت کرنا چاہی تو حضرت عمر نے کہا: بلکہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں آپ ہم سے افضل ، ہمارے سردار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم زیادہ محبوب ہیں پھر حضرت عمر نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑا اور آپ کی بیعت کی اور لوگوں نے بھی آپ کی بیعت کی۔ کہنے والے نے کہا: تم نے حضرت سعد بن عبادہ کوقتل کر دیا تو حضرت عمر نے کہا: اللہ نے انہیں قتل کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی اسے حضرت عمر بن خطاب سے سقیفہ بنو ساعدہ کا قصہ حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت کے ہم معنی روایت کیا۔ اس میں حضرت عمر سے یہ اضافہ ہے کہ آپ نے کہا: مجھے ان باتوں میں سے ناپسند کوئی نہیں لگی جو ان کے علاوہ نے کہی کہ اللہ کی قسم مجھے آگے کیا جائے جس سے میری گردن ماری جائے وہ مجھے کسی گناہ کے قریب نہ کرے یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس قوم میں امیر بنایا جاؤں جس میں حضرت ابو بکر موجود ہوں۔ اور یہ بھی اضافہ کیا:حضرت عمر نے کہا: پھر شورو غل بہت زیادہ ہو گیا اور آوازیں بلند ہو گئیں حتٰی کہ میں نے اختلاف ختم کیا تو میں نے کہا: اے ابو بکر ! اپنا ہاتھ بڑھاؤ حضرت ابو بکر نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے آپ کی بیعت کر لی تو تمام مہاجرین وانصار نے بھی آپ کی بیعت کی۔ ہم نے کتاب الفضائل میں اس مکمل واقعہ کو ذکر کیا ہے۔
عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← أسمع ← قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ← أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر بن حفص المقري بن الحمامي
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate · Hadith 330
