Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي وُقُوعِ أَفْعَالِ الْعَبْدِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ · حديث 110

حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ قَالَ: أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، قَالَ: ثنا حَفْصُ بْنُ [ص:157] عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالَ، نا شُعْبَةُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ فَلَانٌ "

ابو الحسن علی بن محمد بن علی المقریٔ نے ہم سے بیان کیا کہا ہمیں حسن بن محمد بن اسحاق نے خبر دی کہا یوسف بن یعقوب القاضی نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے حفص بن عمر الحوضی نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ بن منصور نے بیان کیا کہا میں نے عبداللہ بن یسار سے سنا وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم یوں نہ کہو! جو اللہ نے چاہا اور جو فلاں نے چاہا لیکن تم کہو! جو اللہ نے چاہا پھر فلاں نے چاہا‘‘۔

النَّبِيِّ ← حُذَيْفَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← شُعْبَةُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← حَفْصُ بْنُ [ص:157] عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty · Hadith 110

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي وُقُوعِ أَفْعَالِ الْعَبْدِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ · حديث 111

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، قَالَ: أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الْمَشِيئَةُ إِرَادَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ} فَأَعْلَمَ اللَّهُ خَلْقَهُ أَنَّ الْمَشِيئَةَ لَهُ دُونَ خَلْقِهِ وَأَنَّ مَشِيئَتَهُمْ لَا تَكُونُ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ»

ابو سعید بن ابی عمرو نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس الاصم نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ربیع بن سلیمان نے خبر دی کہا امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: مشیت(چاہت) اللہ تعالیٰ عزوجل کا ارادہ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: اورتم کیا چاہو مگر یہ کہ اللہ چاہے(التکویر:29) ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو بتایا کہ مشیت اللہ کی ہے نہ کہ اس کی مخلوق کی اور مخلوق کی مشیت تو صرف وہی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو۔

الشَّافِعِيُّ «الْمَشِيئَةُ إِرَادَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← سعيد بن أبي عمرو

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty · Hadith 111

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي وُقُوعِ أَفْعَالِ الْعَبْدِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ · حديث 112

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ح وأنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، قَالَ، أنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتهًى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ، فَقَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ "

ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی۔ یہاں سے مصنف دوسری سند کی طرف گئے اور فرمایا: ہمیں ابو محمد بن یوسف نے خبر دی کہا ہمیں ابو سعید بن اعرابی نے خبر دی کہا ہمیں سعدان بن نصر نے خبر دی کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا وہ زہری سے راوی آپ نے عروہ کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ حضرت کرز بن علقمہ الخزاعی سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: کیا اسلام کی کوئی انتہاء ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’عرب یا عجم کے جو بھی گھر والے ہیں اللہ تعالیٰ نے جن کی خیر کا ارادہ فرمایا نہیں اسلام میں داخل کرے گا‘‘ اس نے کہا: پھر کیا ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’پھر فتنے واقع ہوں گے گویا کہ وہ سائے ہیں‘‘۔

ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ ← ثُمَّ مَاذَا ← سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتهًى؟ ← كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ← عُرْوَةَ ← الزهري أنه ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty · Hadith 112

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي وُقُوعِ أَفْعَالِ الْعَبْدِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ · حديث 113

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، قَالَ، أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمُحَمَّدَابَاذِيُّ قَالَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، قَالَ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَعْجَبُوا بِأَحَدٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَا يُخْتَمُ لَهُ فَإِنَّ الْعَامِلَ يَعْمَلُ زَمَانًا مِنْ عُمُرِهِ أَوْ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ صَالِحٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلَا سَيِّئًا، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ قَبْلَ [ص:158] مَوْتِهِ زَمَانًا مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ سَيِّءٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ لَدَخَلَ النَّارَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ؟ قَالَ: يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ "

اعمال کا مدار خاتمہ پر ہے: ترجمہ:ابو طاہر الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو طاہر محمد بن حسین محمد آبادی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابراہیم بن عبدالله السعدی نے خبر دی کہا ہمیں یزید بن ہارون نے خبر دی کہا ہمیں حمید الطویل نے خبر دی وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم کسی ایک پر تعجب نہ کرو یہاں تک کہ تم انتظار کرو کہ اس کا خاتمہ کس پر ہوتا ہے کیونکہ عمل کرنے والا اپنی عمر کے ایک زمانے تک یا زمانے کی ایک مدت تک عمل صالح کیساتھ عمل کرتا رہتا ہے اگر اسی پر اس نے وفات پائی تو وہ جنت میں داخل ہو گا(لیکن) پھر وہ(عمل صالح سے) پھر جاتا ہے چنانچہ وہ برے عمل کرتا ہے۔ اور بے شک ایک بندہ اپنی موت سے پہلے زمانے کی ایک مدت تک برے عمل کیساتھ عمل کرتا رہتا ہے اگر اس کی موت اسی پر ہوئی تو یقیناً وہ جہنم میں داخل ہو گا(لیکن) پھر وہ(برے عمل سے) پھر جاتا ہے چنانچہ وہ عمل صالح کرتا ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰٰ کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے اس کی موت سے پہلے عمل کے لیے تیارفرماتا ہے‘‘۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یارسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کی موت سے پہلے اسے عمل کے لیے کیسے تیار فرماتا ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے نیک عمل کی توفیق عطا فرماتا ہے پھر اس کی روح قبض فرماتا ہے‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أبو طاهر محمد بن الحسين المحمداباذي ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty · Hadith 113

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي وُقُوعِ أَفْعَالِ الْعَبْدِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ · حديث 114

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، قَالَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ قَالَ: نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالَ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقُ، قَالَ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: فَمَالِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغُرَّتُهُمْ؟ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْجَنَّةِ: إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكَ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِ: إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا "

جنت و دوزخ کا آپس میں مناظرہ اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ: ابو طاہر الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر محمد بن حسین القطان نے خبر دی کہا ہمیں احمد بن یوسف السلمی نے خبر دی کہا ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی کہا ہمیں معمر نے خبر دی وہ ہمام بن منبہ سے راوی کہا یہ وہ روایت ہے جسے ہم سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ جنت و دوزخ کا آپس میں جھگڑا ہوا تو دوزخ نے کہا: مجھے متکبر وجابر لوگوں سے ترجیح دی گئی اور جنت نے کہا: میرے لیے کیا ہے مجھ میں تو صرف کمزور ، گرائے ہوئے اور وہ لوگ جو اپنی شرافت کی وجہ سے دھوکہ کھا جاتے ہوں گے ، اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا : تو صرف میری رحمت ہے میں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں تیرے ذریعے رحم کروں اور دوزخ سے فرمایا: تو صرف میرا عذاب ہے میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں تیرے ذریعے عذاب دوں تم میں سے ہر ایک کے لیے میں بھروں گا‘‘۔

بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty · Hadith 114

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي وُقُوعِ أَفْعَالِ الْعَبْدِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ · حديث 115

أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرَقِيِّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى [ص:159] الذُّهْلِيُّ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ: لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ لَا يُعْصَى لَمْ يَخْلُقْ إِبْلِيسَ وَقَدْ بَيَّنَ ذَلِكَ فِي آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَفَصَّلَهَا، عَلِمَهَا مَنْ عَلِمَهَا وَجَهِلَهَا مَنْ جَهِلَهَا {مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ} [الصافات: 163] وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ خَبَرٌ مَرْفُوعٌ

سید ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد العلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں عبداللہ بن محمد بن حسن الثرقی نے خبر دی کہا ہم سے محمد بن یحییٰ الذہلی نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا کہا ہم سے عمر بن ذر نے بیان کیا کہا میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ کو فرماتے ہوئے سنا: اگر اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہوتا کہ اس کی نافرمانی نہ کی جائے تو وہ ابلیس کو پیدا نہ فرماتا اس کو اللہ تعالیٰ نے کتاب اللہ عزوجل کی ایک آیت میں واضح فرمایا اور اس کی تفصیل بیان کی جس نے اسے جانا اس نے اسے جانا اور جو اس سے جاہل رہا وہ اس سے جاہل رہا : ترجمہ :تم اس کے خلاف کسی کو بہکانے والے نہیں مگر اسے جو بھڑکتی آگ میں جانے والا ہے (الصافات: 162، 163)۔ اور اس بارے میں خبر مرفوع بھی روایت کی گئی ہے۔

عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى {ص:280} الذُّهْلِيُّ، ← عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty · Hadith 115

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي وُقُوعِ أَفْعَالِ الْعَبْدِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ · حديث 116

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، قَالَ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيُّ، قَالَ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ فَاحْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاستَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجِزْ وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا وَكذَا وَلَكِنْ قُلْ: قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ اللَّوَّ يَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ "

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر احمد بن سلیمان الموصلی نے خبر دی کہا ہم سے علی بن حرب الموصلی نے بیان کیا کہا ہمیں عبداللہ بن ادریس نے خبر دی وہ ربیعہ بن عثمان سے وہ محمد بن یحییٰ بن حیان سے وہ اعرج سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ قوی مؤمن بہتر اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ضعیف مؤمن سے زیادہ محبوب ہے ہر خیر میں پس تو اس چیز پر حرص کر جو تجھے نفع دے اور تو اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز نہ ہواگرچہ تجھے کوئی چیز پہنچےتو تو نہ کہہ! اگر میں ایسا ایسا کرتا لیکن تو کہہ! یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے اس نے جو چاہا کیا کیونکہ باطل شیطان کے عمل کو کھول دیتا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمُوصِلِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَوْصِلِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty · Hadith 116

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي وُقُوعِ أَفْعَالِ الْعَبْدِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ · حديث 117

أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الشَّعْبِيُّ قَالَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، قَالَ، أنا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ، نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ لَا يُعْصَى مَا خَلَقَ إِبْلِيسَ

ابو سعد سعید بن محمد بن احمد الشعبی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو عمر وابن مطر نے خبر دی کہا ہمیں ابو خلیفہ نے خبر دی کہا ہمیں ابو الربیع الزہرانی نے خبر دی کہا ہم سے عبادا بن عباد نے بیان کیا وہ عمر بن ذر سے روایت کرتے ہیں کہا میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اگر اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہوتا کہ اس کی نافرمانی نہ کی جائے تو وہ ابلیس کو پیدا نہ فرماتا‘‘۔

«لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ لَا يُعْصَى مَا خَلَقَ إِبْلِيسَ» ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو سعد سعيد بن محمد بن أحمد الشعبي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty · Hadith 117

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي وُقُوعِ أَفْعَالِ الْعَبْدِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ · حديث 118

قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا أَبَا بَكْرٍ لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ لَا يُعْصَى مَا خَلَقَ إِبْلِيسَ "

اور فرمایا: مجھ سے مقاتل بن حیان نے بیان کیا وہ عمر و بن شعیب سے وہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:”اے ابو بکر! اگر اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہوتا کہ اس کی نافرمانی نہ کی جائے تو وہ ابلیس کو پیدا نہ فرماتا‘‘۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← وحدثني مقاتل بن حيان

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty · Hadith 118

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي وُقُوعِ أَفْعَالِ الْعَبْدِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ · حديث 119

أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا} [المائدة: 41] يَقُولُ: مَنْ يُرِدِ اللَّهُ ضَلَالَتَهُ فَلَنْ تُغْنِيَ عَنْهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَقَوْلُهُ {إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ} [الزمر: 7] يَعْنِي: الْكُفَّارَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ فَيَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: {وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ} [الزمر: 7] وَهُمْ عِبَادُهُ الْمُخْلِصُونَ الَّذِينَ قَالَ: {إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ} [الحجر: 42] فَأَلْزَمَهُمْ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحَبَّبَهَا إِلَيْهِمْ وَفِي قَوْلِهِ {وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا} [الإسراء: 16] يَقُولُ سَلَّطْنَا شِرَارَهَا فَعَصَوْا فِيهَا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَهْلَكْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ وَهُوَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا} [الأنعام: 123] وَفِي قَوْلِهِ {وَلَوْ نَشَاءُ لَطَمَسْنَا عَلَى أَعْيُنِهِمْ} [يس: 66] يَقُولُ أَضْلَلْنَاهُمْ عَنِ الْهُدَى فَكَيْفَ يَهْتَدُونَ؟ وَقَالَ: مَنْ أَعْمَيْنَاهُمْ عَنِ الْهُدَى، وَفِي قَوْلِهِ {فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ} [الكهف: 29] يَقُولُ: مَنْ شَاءَ اللَّهُ لَهُ الْإِيمَانَ آمَنَ وَمَنْ شَاءَ لَهُ الْكُفْرَ كَفَرَ، وَهُوَ قوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} وَفِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا} [الأنعام: 148] قَالَ: {كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ} [الأنعام: 148] ثُمَّ قَالَ: {وَلَوْ [ص:161] شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكُوا} [الأنعام: 107] وَقَالَ: {وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ} [النحل: 9] يَقُولُ اللَّهُ: لَوْ شِئْتُ لَجَمَعْتُهُمْ عَلَى الْهُدَى أَجْمَعِينَ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَوْلُهُ تَعَالَى {جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا} [يس: 8] وَقَوْلُهُ تَعَالَى {مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا} [الكهف: 28] وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا} [يونس: 99] ، وَنحْوُ هَذَا مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرِصُ عَلَى أَنْ يُؤْمِنَ جَمِيعُ النَّاسِ وَيُبَايِعُوهُ عَلَى الْهُدَى، فَأَخْبَرَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يُؤْمِنُ إِلَّا مَنْ سَبَقَ لَهُ مِنَ اللَّهِ السَّعَادَةُ فِي الذِّكْرِ الْأَوَّلِ وَلَا يَضِلُّ إِلَّا مَنْ سَبَقَ لَهُ مِنَ اللَّهِ الشَّقَاوَةُ فِي الذِّكْرِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ إِنْ نَشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ} [الشعراء: 4] قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَفِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَغَيْرِهِمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ «مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ» ، وَهَذَا كَلَامٌ أَخَذَتْهُ الصَّحَابَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:162]، وَأَخَذَهُ التَّابِعُونَ عَنْهُمْ وَلَمْ يَزَلْ يَأْخُذُهُ الْخَلَفُ عَنِ السَّلَفِ مِنْ غَيْرِ نَكِيرٍ وَصَارَ ذَلِكَ إِجْمَاعًا مِنْهُمْ عَلَى ذَلِكَ. وَفِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَنَفَى أَنْ يَمْلِكَ الْعَبْدُ كَسْبًا يَنْفَعُهُ أَوْ يَضُرُّهُ إِلَّا بِمَشِيئَةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ، وَفِي مَعْنَى ذَلِكَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا

ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو الحسن احمد بن محمد الطرائفی نے خبر دی کہا ہم سے عثمان بن سعید الدارمی نے بیان کیا کہا ہمیں عبداللہ بن صالح نے خبر دی وہ معاویہ بن صالح سے وہ علی بن ابی طلحہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ترجمہ: اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے تو ہرگز اس سے کچھ نبانہ سکے گا(المائدہ:41) ۔ کے بارے میں روایت کرتے ہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : جس کی گمراہی کا اللدارادہ فرماتا ہے اسے اللہ سے کوئی چیز بے پرواہ نہیں کر سکتی۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرمایا: ترجمہ:اگر تم ناشکری کرو تو بے شک اللہ بے نیاز ہے(الزمر:7) ۔ یعنی وہ کفار کہ جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پاک کرنے کا ارادہ نہیں کیا کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں پھر فرمایا: ترجمہ:اور اپنے بندوں کی ناشکری اسے پسند نہیں(الزمر:7)۔ اور وہ اس کے مخلص بندے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: بے شک میرے بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں(الحجر ;42)۔ پس اس نے لا الہ الا اللہ کی گواہی کو ان پر لازم کر دیا اور اس کو ان کے لیے محبوب بنا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : ترجمہ: اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کر نا چاہتے ہیں اس کے خوشحالوں پر احکام بھیجتے ہیں(الاسراء:16) ۔ کے بارے میں فرماتے ہیں : اللہ فرماتا ہے : ہم نے ان کے بروں کو ان پر مسلط کیا تو انہوں نے اس معاملے میں نافرمانی کی پس جب انہوں نے یہ کیا تو ہم نے انہیں عذاب کے ذریعے ہلاک کر دیا اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کے سرغنہ گئے کہ اس میں داؤ کھیلیں (انعام:123) ۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : ترجمہ: اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹا دیتے(سیدنا یس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :66)۔ کے بارے میں فرماتے ہیں : وہ فرماتا ہے ہم نے انہیں ہدایت سے گمراہ کیا تو وہ کیسے ہدایت پائیں ؟ اور فرمایا: جنہیں ہم نے ہدایت سے اندھا کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ترجمہ: تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے(الکہف:7) ۔ کے بارے میں فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ جس کے لیے ایمان چاہتا ہے وہ ایمان لاتا ہے اور جس کے لیے کفر چاہتا ہے وہ کفر کرتا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ: اور تم کیا چاہو مگر یہ کہ اللہ چاہے(التکویر :29) ۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : ترجمہ: اب کہیں گے مشرک کہ اللہ چاہتا تو ہم نہ شرک کرتے (الانعام:148) ۔ فرمایا: ترجمہ: ایسے ہی ان کے اگلوں نے جھٹلایا تھا(سيدنا یونس علیہ السلام :39) ۔ پھر فرمایا : ترجمہ: اللہ چاہتا تو وہ شریک نہیں کرتے(الانعام :107) ۔ اور فرمایا: ترجمہ: تو وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت کرتا(الانعام: 149) ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر میں چاہوں تو سب کو ہدایت پر جمع کر دوں۔ اور اسی سند کیساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فرمان : ترجمہ : ہم نے انکی گردنوں میں طوق کر دیئے ہیں(سیدنا یس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :8) ۔ ترجمہ:(اس کا کہا نہ مانو) جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا(الکہف:28) ۔ ترجمہ: اور اگر تمہارارب چاہتا، زمین میں جتنے ہیں سب کے سب ایمان لے آتے(سيدنا يونس علیہ السلام: 9 9) ۔ اور اسی کی مثل قرآن کے دوسرے فرامین کے بارے میں فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات پر حرص فرمایا کرتے تھے کہ تمام لوگ ایمان لے آئیں اور ہدایت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کریں تو اللہ تعالیٰ نے خبر دی ایمان صرف وہی لائے گا جس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوح محفوظ میں سعادت سبقت کر چکی ہے اور گمراہ صرف وہی ہو گا جس کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے لوح محفوظ میں بد بختی سبقت کر چکی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا: ترجمہ: کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشانی اتاریں کہ ان کے اونچے اونچے اس کے حضور جھکے رہ جائیں(الشعراء:3-4) ۔ شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابو درداء وغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی حدیث میں ہم نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو اللہ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا‘‘۔ کے اس کلام کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیا ہے اور صحابہ کرام سے تابعین نے اسے لیا اور مسلسل بعد والے سلف سے بغیر کسی انکار کے اسے لیتے رہے ہیں تو اس پر ان سب کا اجماع ہو گیا۔ اور اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے: ترجمہ: جو چاہے اللہ ہمیں کچھ زور ہیں مگر اللہ کی مدد کا(الكہف:39) ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا: ترجمہ: تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خود مختار نہیں مگر جو اللہ چاہے(اعراف:188) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی نفی کی کہ بندہ کسب کے ذریعے اپنے نفع نقصان کا مالک گنے مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت وقدرت کے ساتھ۔

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty · Hadith 119

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي وُقُوعِ أَفْعَالِ الْعَبْدِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ · حديث 120

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ قَالَ، أنا الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحَافِظُ قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَطَّارُ قَالَ، نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سُئِلَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْقَدَرِ فَأَنْشَأَ يَقُولُ: [البحر المتقارب] مَا شِئْتَ كَانَ وَإِنْ لَمْ أَشَأْ ... وَمَا شِئْتُ إِنْ لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ خَلَقْتَ الْعِبَادَ عَلَى مَا عَلِمْ ... تَ فَفِي الْعِلْمِ يَجْرِي الْفَتَى وَالْمُسِنْ عَلَى ذَا مَنَنْتَ وَهَذَا خَذَلْتَ ... وَهَذَا أَعَنْتَ وَذَا لَمْ تُعِنْ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَمِنْهُمْ سَعِيدٌ ... وَمِنْهُمْ قَبِيحٌ وَمِنْهُمْ حَسَنْ وَعَلَى نَحْوِ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي إِثْبَاتِ الْقَدَرِ لِلَّهِ، وَوُقُوعِ أَعْمَالِ الْعِبَادِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ دَرَجَ أَعْلَامُ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَإِلَى مِثْلِ ذَلِكَ ذَهَبَ فُقَهَاءُ الْأَمْصَارِ: الْأَوْزَاعِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرُهُمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَحَكَيْنَا عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَهُوَ فِيمَا

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے تقدیر کے متعلق اشعار : اسی کے معنی میں امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جس کی ہمیں ابو عبداللہ الحافظ نے خبر دی کہا ہمیں زبیر بن عبدالواحد الحافظ نے خبر دی کہا مجھ سے حمزہ بن علی العطار نے بیان کیا کہا ہمیں ربیع بن سلیمان نے خبر دی کہا امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے یہ اشعار فرمائے :(اے اللہ !) جو تو چاہے وہ ہوتا ہے اگرچہ میں نہ چاہوں ، اور جو میں چاہوں اگر تو نہ نہ چاہے تو نہیں ہوتا، تو نے اپنے علم کے مطابق بندوں کو پیدا فرمایا ، پس علم میں ہی نو جوان اور بوڑھا جاری ہوتا ہے ، اس پر تو نے احسان کیا اور اسے تو نے رسوا کیا ، اور اس کی تو نے مدد فرمائی اور اس کی مدد نہ فرمائی ، ان میں کچھ بد بخت ہیں اور کچھ سعادت مند ، کچھ ان میں سے قبیح ہیں اور کچھ خوبصورت۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تقدیر کے اثبات اور بندوں کے اعمال کا اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق واقع ہونے کے بارے میں امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان کی طرح بڑے بڑے صحابہ و تابعین نے فرمایا ہے اور اسی کی طرف مختلف شہروں کے فقہاء گئے ہیں(جیسے امام اوزاعی، امام مالک بن انس ، امام سفیان ثوری ، امام سفیان ابن عیینہ، امام لیث بن سعد ، امام احمد بن حنبل ، امام اسحاق بن ابراہیم اور ان کے علاوہ دیگر فقہاء کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ 121/182

القدر فأنشأ ← سُئِلَ الشَّافِعِيُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← حَمْزَةُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَطَّارُ ← الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty · Hadith 120

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي وُقُوعِ أَفْعَالِ الْعَبْدِ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ · حديث 121

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ [ص:163] الْمُزَكِّي يَقُولُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْعُودٍ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ، نا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رُسْتُمَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِصْمَةَ يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا حَنِيفَةَ مَنْ أَهْلُ الْجَمَاعَةِ؟ قَالَ: مَنْ فَضَّلَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأَحَبَّ عَلِيًّا، وَعُثْمَانَ وَآمَنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ مِنَ اللَّهِ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلَمْ يُكَفِّرْ مُؤْمِنًا بِذَنْبٍ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِي اللَّهِ بِشَيْءٍ

اہل سنت و جماعت کون؟ امام اعظم کی زبانی: اور ہم نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے اسی کی مثل حکایت کی وہ(حکایت) انہی میں سے ہے جن کے بارے میں ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا میں نے ابو بکر محمد بن جعفر المزکی کو کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں ابو العباس احمد بن سعید بن مسعود المروزی نے خبر دی کہا ہم سے سعد بن معاذ نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن رستم نے بیان کیا کہا میں نے ابو عصمہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیا:(اہل سنت) جماعت والے کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا: جو حضرت ابو بکرو عمر کو فضیلت دے اور حضرت علی وعثمان سے محبت رکھے اور ایمان لائے کہ اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہے اور موزوں پر مسح کرے اور مؤمن کسی گناہ کی وجہ سے کافرنہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی چیز کیساتھ گفتگو نہ کرے۔

سَأَلْتُ أَبَا حَنِيفَةَ مَنْ أَهْلُ الْجَمَاعَةِ؟ ← أبا عصمة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ رُسْتُمٍ، ← سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْعُودٍ الْمَرْوَزِيُّ ← أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ [ص:163] الْمُزَكِّي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty · Hadith 121

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him