الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 64
: 23] نَظَرَ التَّفَكُّرِ وَالِاعْتِبَارِ؛ لِأَنَّ الْآخِرَةَ لَيْسَتْ بِدَارِ اسْتِدْلَالٍ وَاعْتِبَارٍ، وَإِنَّمَا هِيَ دَارُ اضْطِرَارٍ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ عَنَى نَظَرَ الِانْتِظَارِ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ انْتِظَارٌ؛ لِأَنَّ الِانْتِظَارَ مَعَهُ تنْغِيصٌ وَتَكْدِيرٌ، وَالْآيَةُ خَرَجَتْ مَخْرَجَ الْبِشَارَةِ، وَأَهْلُ الْجَنَّةِ فِيمَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ مِنَ الْعَيْشِ السَّلِيمِ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، فَهُمْ مُمَكَّنُونَ مِمَّا أَرَادُوا وَقَادِرُونَ عَلَيْهِ، وَإِذَا خَطَرَ بِبَالِهِمْ شَيْءٌ أُتُوا بِهِ مَعَ خُطُورِهِ بِبَالِهِمْ، وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ لَمْ يَجُزْ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] نَظَرَ الِانْتِظَارِ؛ وَلِأَنَّ النَّظَرَ إِذَا ذُكِرَ مَعَ ذِكْرِ الْوُجُوهِ فَمَعْنَاهُ: نَظَرُ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ فِي الْوَجْهِ كَمَا قَالَ تَعَالَى: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ} [البقرة: 144] ، وَأَرَادَ بِذَلِكَ تَقَلُّبَ عَيْنَيْهِ نَحْوَ السَّمَاءِ؛ وَلِأَنَّهُ قَالَ: {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] ، وَنَظَرُ الِانْتِظَارِ لَا يَكُونُ مَقْرُونًا بِـ «إِلَى» لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ عِنْدَ الْعَرَبِ أَنْ يَقُولُوا فِي نَظَرِ الِانْتِظَارِ: «إِلَى» ، أَلَا تَرَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا قَالَ: {مَا يَنْظُرُونَ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً} [يس: 49] لَمْ يَقُلْ: «إِلَى» ؛ إِذْ كَانَ مَعْنَاهُ الِانْتِظَارَ، وَقَالَتْ بِلْقِيسُ فِيمَا أَخْبَرَ اللَّهُ عَنْهَا {فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ} [النمل: 35] ، فَلمَّا أَرَادَتِ الِانْتِظَارَ لَمْ تَقُلْ: «إِلَى» . قُلْنَا: وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَرَادَ نَظَرَ التَّعَطُّفِ وَالرَّحْمَةِ؛ لِأَنَّ الْخَلْقَ لَا يَجُوزُ أَنْ يَتَعَطَّفُوا عَلَى خَالِقِهِمْ، فَإِذَا فَسَدَتْ هَذِهِ الْأَقْسَامُ الثَّلَاثَةُ صَحَّ الْقِسْمُ الرَّابِعُ مِنْ أَقْسَامِ النَّظَرِ، وَهُوَ أَنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ: {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] أَنَّهَا رَائِيَةٌ تَرَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ: إِلَى ثَوَابِ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ؛ لِأَنَّ ثَوَابَ اللَّهِ غَيْرُ اللَّهِ، وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِلَى رَبِّهَا} [القيامة: 23] ، وَلَمْ يَقُلْ: إِلَى غَيْرِ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ، وَالْقُرْآنُ عَلَى ظَاهِرِهِ وَلَيْسَ لَنَا أَنْ نُزِيِلَهُ عَنْ ظَاهِرِهِ إِلَّا بِحُجَّةٍ، أَلَا تَرَى
اللہ تعالیٰ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے۔ (القيامۃ :23،22) اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔ ’’نَّاضِرَۃٌ‘‘ سے مراد روشن ہے۔ آیت کی تفسیر امام بیہقی کی زبانی : اور یہ دیکھنا کئی وجوہ سے خالی نہیں: (1): یاتو اللہ تعالیٰ کی اس سے مراد تفکر کی نظر ہوجیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ: تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا(الغاشية :17) ۔ (2) یا اللہ تعالیٰ کی اس سے مراد نظر انتظار ہے جیسا کہ اسکا فرمان ہے : ترجمہ: راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی(یسں:49) ۔ (3) : یا اس سے نرمی ورحمت کی نظر مراد ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان : ترجمہ:(وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں انکا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے) نہ ان کی طرف نظر فرمائے(قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے)۔ (آل عمران:77) (4): یا اس سے مراد رؤیت(دیکھنا) ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان: ترجمہ:(اور مسلمان کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نہ اتاری گئی پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی اور اس میں جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ) تمہاری طرف اسکا دیکھنا دیکھتے ہیں جس پر موت چھائی ہو (تو ان کے حق میں بہتر یہ تھا کہ فرمانبرداری کرتے)۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :20) اور یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے فرمان: اَلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌسے مراد تفکرو اعتبار کی نظر ہو کیونکہ آخرت استدلال و اعتبار کا گھر نہیں ہے وہ تو دار اضطرار ہے اور یہ بھی ممکن نہیں کہ اس سے نظر انتظار مراد ہواس لیے کہ امر جنت کے کسی شے میں انتظار نہیں ہے کیونکہ جنت میں انتظار نقص وعیب ہے اور اس وقت آیت مقام بشارت سے خارج ہو جائے گی اور اہل جنت تو سلامتی والی زندگی اور ہمیشہ رہنے والی ان نعمتوں میں ہوں گے جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال پیدا ہوا پس جس کا وہ ارادہ کریں گے وہ ان کے اختیار میں دی جائے گی اور وہ اس پر قادر ہوں گے اور جب ان کے دل میں کسی چیز کا خیال پیدا ہو گا ان کے خیال دل کیساتھ ہی اسے حاضر کر دیا جائے گا جب وہاں پر معاملہ یہ ہے تو پھر یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان: اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌسے انتظار کی نظر مراد لی ہو۔ اور کیونکہ جب نظر کی سابقہ وجوہ کو ذکر کیا گیا تو ثابت ہو گیا کہ اس کا یہ معنی ہے ان آنکھوں سے دیکھنا جو چہرے میں ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے : ترجمہ: ہم دیکھ رہے ہیں تمہارا آسمان کی طرف بار بار چہرہ کرنا۔ (البقرة:144 ) اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف پھیرنا ہے ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ اور نظر انتظار’’الٰی‘‘ کیساتھ ملی ہوئی نہیں ہوتی کیونکہ یہ جائز نہیں کہ اہل عرب نظر انتظار کے بارے میں الیٰ کا حرف استعمال کریں کیا تو نہیں دیکھتا اللہ تعالیٰ عزوجل نے جب ارشاد فرمایا: ترجمہ: راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی۔(یس:49) توحرف الیٰ استعمال نہیں فرمایا جب کہ اس کا معنی انتظار ہے اور ملکہ بلقیس نے کہا، اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خبر دی : ترجمہ:(ملکہ بلقیس نے کہا: میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں) پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر پلٹے۔ (النمل:35)جب اس نے اس نظر سے نظر انتظار مراد لیا تو اس نے حرف ’’الیٰ‘‘ استعمال نہیں کیا۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم کہتے ہیں کہ یہ بھی ممکن نہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اس سے مرادنرمی ورحمت کی نظر ہو کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ مخلوق اپنے خالق پر نرمی کرے۔ لہٰذا جب تین قسموں کا فاسد ہونا ثابت ہو گیا تو نظر کی اقسام میں سے چوتھی قسم(دیکھنا) کی صحت ثابت ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کے فرمان: اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ کا معنی ہے وہ اپنے رب کو دیکھنے والی ہیں وہ اللہ عزوجل کو دیکھیں گی۔ اور یہ بھی جائز نہیں کہ اس کا معنی ہو کہ وہ اپنے رب کے ثواب کی طرف دیکھنے والی ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ثواب غیراللہ ہے اور اللہ تعالیٰ عزوجل نے تو فرمایا: الیٰ ربھا یعنی اپنے رب کی طرف دیکھنے والی ہوں گی ، یہ نہیں کہا:الیٰ غیر ربھا ناظرۃ اپنے رب کے غیر کو دیکھنے والی ہوں گی اور قرآن کو اپنے ظاہر پر رکھا جائے گا اور ہمارے لیے جائز نہیں ہم اسے اس کے ظاہر سے بغیر کسی دلیل کے پھیریں کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جب اس نے فرمایا:
مَعَ
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 64
