Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْهِدَايَةِ وَالْإِضْلَالِ · حديث 105

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ قَالَ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ، نا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ: ثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ: " قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي نِسَاءُ قُرَيْشٍ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ} [القصص: 56] " وَرَوَاهُ أَيْضًا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ بْنِ حَزْنٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو عمرو بن السماک نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں عبدالرحمٰن بن محمد بن منصور نے خبر دی کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن کیسان نے بیان کیا کہا مجھ سے ابو حازم نے بیان کیا وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے چچا سے فرمایا: ”تم لا الہ الا اللہ کہو قیامت کے دن اس پر میں تمہارا گواہ ہوں گا‘‘ تو آپ کے چچا ابو طالب نے کہا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قریش کی عورتیں مجھ پر عیب نہ لگاتیں تو اس کلمہ کے ذریعے میں تیری آنکھیں ضرور ٹھنڈی کرتا پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ترجمہ: بے شک یہ نہیں کہ تم جسے چاہوا پنی طرف سے ہدایت کر دو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے۔ (القصص:56) اس کو سعید بن مسیب بن حزن القرشی نے اپنے باپ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے روایت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on saying about guidance and misguidance · Hadith 105

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْهِدَايَةِ وَالْإِضْلَالِ · حديث 106

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ فِي آخَرِينَ قَالَا، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ، نا بِشْرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ إِنْ شَاءَ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ، وَالْمِيزَانُ بِيَدِ الرَّحْمَنِ يَرْفَعُ أَقْوَامًا وَيَخْفِضُ آخَرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَقَوْلُهُ «بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ» أَرَادَ بِهِ كَوْنَ الْقَلْبِ تَحْتَ قُدْرَةِ الرَّحْمَنِ وَقَدْ أَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ربُّنَا عَلَى الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ الَّذِينَ يَقُولُونَ {رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا} [آل عمران: 8] وَفِيهِ وَفِي السُّنَّةِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى إِنْ شَاءَ هَدَاهُمْ وَثَبَّتَهُمْ وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَ قُلُوبَهُمْ وَأَضَلَّهُمْ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ زَيْغِ الْقُلُوبِ

ابو طاہر الفقیہ اور ابو زکریا بن ابو اسحاق نے دوسرے لوگوں میں ہمیں خبر دی دونوں نے کہا ہمیں ابو العباس اصم نے خبر دی کہا ہمیں محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم نے خبر دی کہا ہمیں بشر بن ابی بکر نے خبر دی وہ ابن جابر سے راوی کہا میں نے بسر بن عبیداللہ سے سنا اس نے کہا میں نے ابو ادریس الخولانی کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت نواس بن سمعان الکلابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا آپ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا:’’جو بھی دل ہے وہ رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے اگر وہ چاہے تو اسے سیدھا کر دے اور اگر چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ ! اے دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھ! اور میزان رحمن کے دست قدرت میں ہو گا وہ قیامت کے دن ایک قوم کو بلند کرے گا اور دوسری کو پست کرے گا‘‘۔ شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان : ’’وہ رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ دل رحمن کی قدرت کے نیچے ہے اور ہمارے رب اللہ عزوجل نے علم میں رسوخ رکھنے والوں کی تعریف کی : ترجمہ: اے رب ہمارے دل ٹیڑے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی۔ (آل عمران:8) اس آیت میں اور سنت میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل اگر چاہے تو لوگوں کو ہدایت دے اور انہیں ثابت رکھے اور اگر چاہے تو ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دے اور انہیں گمراہ کر دے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ٹیڑھے دلوں سے۔

النواس بن سمعان الكلابي ← أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ، ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ جَابِرٍ ← بِشْرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ فِي آخَرِينَ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on saying about guidance and misguidance · Hadith 106

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْهِدَايَةِ وَالْإِضْلَالِ · حديث 107

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، قَالَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ [ص:153] الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ، نا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، قَالَ، نا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ الْمَكِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْكَفَأَ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَوُوا حَتَّى أُثْنِيَ عَلَى رَبِّي فَصَارُوا خَلْفَهُ صُفُوفًا فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلَا بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلَا هَادِيَ لِمَا أَضْلَلْتَ، وَلَا مُضِلَّ لِمَا هَدَيْتَ، وَلَا مُعْطِي لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلَا مُبَاعِدَ لِمَا قَارَبْتَ، اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ وَفَضْلِكَ وَرِزْقِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالْأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ، اللَّهُمَّ إِنِّي عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا وَمِنْ شَرِّ مَا مَنَعْتَنَا، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ، اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا مَفْتُونِينَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ إِلَهَ الْحَقِّ "

احد کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا : محمد بن عبدالله الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو عبداللہ الحسین بن الحسن بن ایوب نے خبر دی کہا ہمیں ابو یحییٰ نے خبر دی وہ ابو میسرہ سے کہا ہمیں خلاد بن یحییٰ نے خبر دی کہا ہمیں عبدالواحد بن ایمن المکی نے خبر دی وہ عبید بن رفاعہ بن رافع الزرقی سے وہ اپنے باپ سے راوی کہا : جب جنگ احد کے دن کفار بھاگ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم صفیں سیدھی کر لو تاکہ میں اپنی رب کی ثنا بیان کروں‘‘ تو تمام صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: ’’اے اللہ تمام حمد تیرے لیے ،اے اللہ ! جس کے لیے تو کشادہ کرے اس کے لیے کوئی روکنے والا نہیں اور جس کے لیے تو روکے اس کے لیے کوئی کشادہ کرنے والانہیں، جسے تو گمراہ کرے اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والانہیں اور جسے تو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والانہیں جس کے لیے تو روکے اسے کوئی دینے والانہیں اور جسے تو عطا کرے اس کے لیے کوئی روکنے والانہیں اور جسے تو دور کرے اسے کوئی قریب کرنے والا نہیں اور جسے تو قریب کرے اسے کوئی دور کرنے والا نہیں ، اے اللہ ہم پر اپنی برکات، اپنی رحمت ، اپنا فضل اور اپنا رزق کشادہ فرما، اے اللہ ! میں تجھ سے قیامت کے دن نعمتوں کا سوال کرتا ہوں اور خوف کے دن امن کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو تو نے ہمیں عطا کی اور ہر اس چیز سے جسے تو نے ہم سے روک دیا، اے اللہ! ہمیں ایمان محبوب کر دے! اور اسے ہمارے دلوں میں مزین کر دے اور ہمارے لیے کفر، فسق اور نافرمانی نا پسند کر لے اور ہمیں ہدایت والوں میں سے بنادے!اے اللہ ! ہمیں اسلام کی حالت میں وفات دینا اور حالت اسلام میں زندہ رکھنا اور ہمیں صالحین سے ملانانہ کہ رسواؤں سے اور نہ فتنے میں پڑھے لوگوں سے، اے اللہ ! کافروں کو قتل کر دے کہ وہ تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور وہ تیری راہ سے روکتے ہیں ان پر اپنی پکڑ اور عذاب مقرر فرما! تو ہی معبود کا برحق ہے‘‘۔

أَبِيهِ ← عبيد بن رفاعة بن رافع الزرقي ← عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ الْمَكِّيِّ، ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on saying about guidance and misguidance · Hadith 107

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْهِدَايَةِ وَالْإِضْلَالِ · حديث 108

أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ قَالَ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ} [المائدة: 74] قَالَ: قَدْ دَعَا اللَّهُ إِلَى تَوْبَتِهِ وَلَكِنْ لَا يَقْدِرُ الْعَبْدُ أَنْ يَتُوبَ حَتَّى يَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، قوْلُهُ {ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا} [التوبة: 118] فَبَدْءُ التَّوْبَةِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

ابو زکریا بن ابی اسحاق نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو الحسین احمد بن محمد بن عبدوس نے خبر دی کہا ہمیں عثمان بن سعید الدارمی نے خبر دی کہ ہمیں عبداللہ بن صالح نے خبر دی و علی بن ابی طلحہ سے وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ترجمہ: تو کیوں نہیں رجوع کرتے اللہ کی طرف اور اس سے بخشش مانگتے۔ (المائدة:74) کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی توبہ کے لیے بلایالیکن بندہ توبہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا جب تک کہ اللہ اس پر توبہ(یعنی توجہ) نہ فرمائے۔ اللہ کا فرمان ہے: ترجمہ: پھر ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں۔ (التوبۃ:119) پس توبہ کی ابتداء اللہ تعالیٰ عزوجل کی طرف سے ہوتی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ} [المائدة: ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on saying about guidance and misguidance · Hadith 108

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْهِدَايَةِ وَالْإِضْلَالِ · حديث 109

وَبِإِسْنَادِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ} [الأنفال: 24] يَقُولُ يَحُولُ بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ، يَحُولُ بَيْنَ الْكَافِرِ وَبَيْنَ الْإِيمَانِ، وَقَوْلُهُ {وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ} [الأنعام: 110] قَالَ: لَوْ رُدُّوا إِلَى الدُّنْيَا لَحِيلَ بيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْهُدَى كَمَا حِيلَ بَيْنَهُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ فِي الدُّنْيَا، وَقَوْلُهُ {ربَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ} [يونس: 88] فَاسَتَجَابَ اللَّهُ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَحَالَ بَيْنَ فِرْعَوْنَ وَبَيْنَ الْإِيمَانِ حَتَّى أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ فَلَنْ يَنْفَعَهُ الْإِيمَانُ، وَقَوْلُهُ {رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي} [الحجر: 39] يَقُولُ: أَضْلَلْتَنِي، وَقَوْلُهُ {فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ} [الصافات: 162] يَقُولُ: لَا تَضِلُّونَ أَنْتُمْ وَلَا أُضِلُّ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ قَضَيْتُ لَهُ أَنَّهُ صَالِ الْجَحِيمِ، وَقَوْلُهُ {كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ} [الأنعام: 108] قَالَ: زَيَّنَ لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمُ الَّذِي يَعْمَلُونَ حَتَّى يَمُوتُوا، وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا} [الأعراف: 179] خَلَقْنَا {مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ} [الأعراف: 38] وَقَوْلُهُ {كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ} [الأعراف: 29] وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَدَأَ خَلْقَ ابْنِ آدَمَ مُؤْمِنًا وَكَافِرًا كَمَا قَالَ: {هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ} [التغابن: 2] ثُمَّ يُعِيدُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا بَدَأَ خَلْقَهُمْ مُؤْمِنًا وَكَافِرًا، وَقَالَ فِي قَوْلِهِ {وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَى عَلَى الْهُدَى} [فصلت: 17] يَقُولُ: بَيَّنَّا لَهُمْ، وَقَوْلُهُ {وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا [ص:155] إِيَّاهُ} [الإسراء: 23] يَقُولُ: أَمَرَ، وَقَوْلُهُ {قُلْ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ} [النساء: 78] يَقُولُ: الْحَسَنَةُ وَالسَّيِّئَةُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، أَمَّا الْحَسَنَةُ فَأَنْعَمَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكَ، وَأَمَّا السَّيِّئَةُ فَابْتَلَاكَ اللَّهُ بِهَا. قَوْلُهُ {مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ} [النساء: 79] قَالَ: الْحَسَنَةُ مَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَ بَدْرٍ وَمَا أَصَابَ مِنَ الْغَنِيمَةِ وَالْفَتْحِ، وَالسَّيِّئَةُ مَا أَصَابَ يَوْمَ أُحُدٍ أَنْ شُجَّ فِي وَجْهِهِ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، هَذَا كُلُّهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ} [الذاريات: 56] أَيْ: مَا خَلَقْتُ مَنْ يَعْبُدُنِي إِلَّا لِيَعْبُدَنِي، وَفِي قَوْلِهِ {وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ} [الإسراء: 44] قَالَ: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ يُسَبِّحُ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ، وَقِيلَ: قَوْلُهُ {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ} [الذاريات: 56] أَيْ: إِلَّا لِآمُرَ أَهْلَ التَّكْلِيفِ مِنْهُمْ بِعِبَادَتِي وَقِيلَ: إِلَّا لِتَكُونُوا لِي عِبَادًا، كَقَوْلِهِ {إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا} [مريم: 93]

اسی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ترجمہ:(جان لو کہ اللہ کا حکم) آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہے۔ (الانفال: 2،4) کے بارے میں فرمایا : وہ مؤمن اور کفر کے درمیان حائل ہوتا ہے اور کافر اور ایمان کے درمیان حائل ہوتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : ترجمہ: اور ہم پھیر دیتے ہیں ان کے دلوں اور آنکھوں کو جیسا وہ پہلی بار ایمان نہ لائے تھے۔ (انعام:110) کے بارے میں فرمایا: اگر وہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تو یقیناً وہ ان کے اور ہدایت کے درمیان حائل ہو گا جیسا کہ پہلی مرتبہ وہ دنیا میں ان کے درمیان حائل ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ترجمہ :اے رب ہمارے ان کے مال بربادکر دے اور ان کے دل سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کو قبول فرمایا اور وہ فرعون اور ایمان کے درمیان حائل ہوا حتٰی کہ اسے غرق نے پالیا تو اس وقت ہرگز اسے ایمان نفع نہیں دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کافرمان : ترجمہ:اے رب میرے قسم اس کی کہ تم نے مجھے گمراہ کیا۔ (الحجر:39) کہا: یعنی تو نے مجھے گمراہ کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ترجمہ: تو تم اور جو کچھ تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تم اس کے خلاف کسی کو بہکانے والے نہیں مگر اسے جو بھڑکتی آگ میں جانے والا ہے۔ (الصافات:161،تا ،163) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں وہ فرماتا ہے : نہ تم گمراہ کرتے ہو اور نہ میں گمراہ کرتا ہوں مگر اس کے لیے میں نے بھڑکتی آگ کا وعدہ کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ: یوں ہی ہم نے ہر امت کی نگاہ میں اس کے عمل بھلے کر دیئے۔ (انعام:108) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : اس نے ہر امت کے لیے ان کا عمل مزین کر دیا جو وہ عمل کرتے ہیں مرتے دم تک۔ اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے : ترجمہ: اور بے شک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی۔ (الاعراف:180) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ: جیسے اس نے تمہیں آغاز کیا ویسے ہی پلٹو گے ایک فرقے کو راہ دکھائی اور ایک فرقے کی گمراہی ثابت ہوئی۔ (اعراف: 29- 30) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کو مومن وکافر پیدا کیا جیسا کہ اس نے فرمایا: ترجمہ : وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا تو تم میں کوئی کافر اور کوئی مسلمان (التغابن :2)۔ پھر وہ قیامت کے دن انہیں ایسے ہی لوٹائے گا جیسا کہ اس نے انہیں مومن وکافر پیدا کیا تھا۔ اور اپنے فرمان میں فرمایا: ترجمہ: رہے ثمود تو انہیں ہم نے راہ دکھائی تو انہوں نے ہدایت پر اندھے ہونے کو پسند کیا(حم السجدة:17) ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : اس کا معنی ہے : ہم نے قوم ثمود کے لیے واضح کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سواکسی کو نہ پوجو (الاسراء:23) ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: اس نے حکم دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ :تم فرماؤ سب اللہ کی طرف سے ہے(النساء:78) ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نیکی اور برائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، نیکی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے تجھ پر انعام کیا ہے اور برائی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے تجھے آزمائش میں ڈالا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ: اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے (النساء:79) ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: نیکی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کھولی تھی اور جو انہیں غنیمت اور فتح عطافرمائی تھی اور برائی جو احد کے دن پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک چھلنی ہوا اور آپ کے رباعیہ دانت (کا ایک ٹکڑا) ٹوٹا۔ ان تمام آیات کی تفسیر علی بن ابی طلحہ سے مروی ہے وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ وَرُوِّینَا عَنْ سَعِیدِ بْن الْمُسَیِّبِ اَنَّہٗ قَالَ فِی قَوْلِہِ (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُونِ) الذایات:56) اَیْ: مَا خَلَقْتُ مَنْ یَعْبُدُنِی اِلَّا لِیَعْبُدَنِی، وَفِی قَوْلِہِ (وَاِنْ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِھَمْدِہِ )(الاسراء: 144 )اور ہم نے حضرت سعید بن مسیب سے روایت کی آپ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ترجمہ: اور میں نے جن اور آدمی اس لیے بنائے کہ میری بندگی کریں(الذاریات:56) ۔ کے بارے میں فرمایا : اس کا مطلب ہے میں نے اپنے عبادت گزاروں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان: ترجمہ: کوئی چیز نہیں جو اس کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی نہ بولے(ہاں تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے) کے بارے میں (الاسراء:44) ٍ۔ فرمایا: جو بھی چیز تسبیح بیان کرتی ہے وہ اللہ کی حمد کیساتھ تسبیح بیان کرتی ہے۔ اور بعض نے کہا: اللہ تعالیٰ کا فرمان : یعنی مگر اس لیے تاکہ میں ان میں سے مکلفین کو اپنی عبادت کا حکم دوں (الذاريات:56) اور بعض نے کہا: اس کا معنی ہے مگر اس لیے کہ تم میرے بندے ہو جاؤ جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ترجمہ: آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں گے(مريم:93) ۔

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on saying about guidance and misguidance · Hadith 109

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him