الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَسْمِيَةِ الْعشَرَةِ الَّذِينَ شَهِدَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رُوِيَ عَنْهُ بِالْجَنَّةِ · حديث 312
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ , ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنِي جَدِّي، رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، كَانَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَكْبَرِ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكوفَةِ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرْوِي عَنْهُ كَذِبًا يَسْأَلُنِي عَنْهُ إِذَا لَقِيتهُ أَنَّهُ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ، وَتَاسِعُ الْمُسْلِمِينَ لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُ لَسَمَّيْتُهُ " قَالَ: فَرَجَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُونَهُ، يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنَ التَّاسِعُ؟ قَالَ نَشَدْتُمُونِي بِاللَّهِ وَاللَّهُ عَظِيمٌ، أنا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَاشِرُ ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ يَمِينًا وَاللَّهِ لَمَشْهَدٌ شَهِدَهُ رَجُلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ وَلَوْ عُمِّرَ عُمْرَ نُوحٍ
ابو الحسین علی بن محمد بن عبد اللہ بن بشران نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر محمد بن عمر الرزاز نے ہمیں خبر دی کہا عبدالرحمٰن بن محمد بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن سعید نے ہم سے بیان کیا وہ صدقہ بن مثنی سے راوی کہا مجھ سے میرے دادار باح ابن الحرث نے بیان کیا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑی مسجد میں تھے اور آپ کے پاس اہل کوفہ بھی تھے تو حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات پر گواہ ہوں جو میں نے اپنے کانوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا اور جسے میرے دل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محفوظ رکھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی جھوٹ روایت نہیں کیا وہ مجھ سے پوچھتے اس کے متعلق پوچھتے جب میں ان سے ملتا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ابو بکر جنت میں ہو گا ، عمر جنت میں ہو گا ، عثمان جنت میں ہو گا، علی جنت میں ہو گا ،طلحہ جنت میں ہو گا ، زبیر جنت میں ہو گا ،عبدالرحمٰن بن عوف جنت میں ہو گا اور سعد بن مالک جنت میں ہو گا‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور مسلمانوں میں سے نویں آدمی کا نام لینا چاہوں تو لے سکتا ہوں۔ راوی نے کہا: اہل مسجد انہیں قسمیں دینے لگے کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی نواں آدمی کون ہے؟ فرمایا : تم نے مجھے اللہ کی قسم دی اور اللہ بڑا ہے مسلمانوں میں سے نواں آدمی میں ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دسویں ہیں پھر وہ دائیں جانب چلے گئے اور فرمایا: وہ ایک غزوہ جس میں کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ شریک ہوا وہ تمہارے عمل سے افضل ہے اگرچہ حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ہائے۔
جَدِّي رِيَاحَ بْنَ الْحَارِثِ ← صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven · Hadith 312
