الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 298
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنِ الشَّرْقِيُّ , ثنا أَبُو صَالِحٍ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ , عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى , عَنِ أَبِي بُرْدَةَ يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي مُوسَى [ص:319]، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ فَقُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ. قَالَ: فَفَعَلْنَا , فَخَرَجَ إِلَيْنَا , فَقَالَ: «مَازِلْتُمْ هَاهُنَا» ؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْنَا نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ، قَالَ: «أَصَبْتُمْ وَأَحْسَنْتُمْ» , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ , فَقَالَ: «النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ , فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى أَهْلَ السَّمَاءِ مَا يُوعَدُونَ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي , فَإِذَا ذَهَبْتُ أَنَا أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ» . وَرُوِيَ عَنْهُ فِي حَدِيثٍ مَوْصُولٍ بِإِسْنَادٍ آخَرَ غَيْرِ قَوِيٍّ , وَفِي حَدِيثٍ مُنْقَطِعٍ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ مَثَلَ أَصْحَابِي كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ؛ مَنْ أَخَذَ بِنَجْمٍ مِنْهَا اهْتَدَى» . وَالَّذِي رُوِّينَاهُ هَاهُنَا مِنَ الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ يُؤَدِّي بَعْضَ مَعْنَاهُ، وَقَدْ أَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ وَالْأَصْحَابِ الَّذِينَ يَنْصُرُونَ دِينَهُ وَيأَخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ , فَقَالَ فِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْهُ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أُمَّةٍ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ» . ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِدَ بِكَوْنِهِمْ خَيْرَ أُمَّتِهِ، فَقَالَ فِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْهُ وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ: «خَيْرُ النَّاسِ [ص:320] قَرْنِي» ، وَفِي بَعْضِهَا: «خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِ» . وَقَالَ فِي رِوَايَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «أَكْرِمُوا أَصْحَابِي؛ فَإِنَّهُمْ خِيَارُكُمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: «احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي» وَأَمَرَ فِيمَا رُوِيَ عَنْهُ بِمَحَبَّتِهِمْ وَنَهَى عَنْ سَبِّهِمْ , وَأَخْبَرَ أُمَّتَهُ بِأَنَّ أَحَدًا مِنْهُمْ لَا يُدْرِكُ مَحَلَّهُمْ وَلَا يَبْلُغُ دَرَجَتَهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى غَفَرَ لَهُمْ
صحابہ کرام علیہم الرضوان امت کے لیے امان ہیں: السید ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد العلوی نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو حامد بن شرقی نے بیان کیا کہا ابو صالح احمد بن منصور زاج نے ہم سے بیان کیا کہ حسین بن علی الجعفی نے ہم سے بیان کیا وہ مجمع بن یحییٰ سے وہ سعید بن ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ مغرب کی نماز پڑھی ہم نے کہا: اگر ہم انتظار کریں یہاں تک کہ عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ پڑھیں کہتے ہیں پھر ہم نے ایسا ہی کیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف نکلے اور فرمایا: ” اس وقت سے تم یہاں ہو؟‘‘ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! ہم نے کہا کہ آپ کیساتھ عشاء کی نماز پڑھیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم درستگی کو پہنچے‘‘ یا فرمایا ’’تم نے اچھا کیا‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا:’’ ستارے آسمان کے لیے امان ہیں جب ستارے چلے جائیں گے تو آسمان والوں پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اور میں اپنے اصحاب کے لیے امان ہوں جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اور میرے اصحاب میری امت کے لیے امان ہیں جب میرے اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے‘‘۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان ستاروں کی مانند ہیں : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی ایک حدیث روایت کی گئی ایک دوسری سند سے جوان تک پہنچتی ہے لیکن وہ قوی نہیں اور ایک حدیث منقطع میں روایت کی گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کی مثال آسمانی ستاروں جیسی ہے جس نے اس میں سے کسی ستارے کو پکڑا اس نے ہدایت پائی۔ یہاں پر جو حدیث صحیح ہم نے روایت کی اس کے بعض معنی تک یہ مذکورہ روایت بھی پہنچتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حواری: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حواریوں اور اصحاب کی طرف اشارہ کیا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی مددکرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی پیروی کرتے ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس بھی نبی کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اس کی امت میں اس کے حواری اور اصحاب ہوتے ہیں جو اسکی سنت کو لیتے ہیں اور اس کے حکم کی پیروی کرتے ہیں۔ سب سے بہتر زمانہ: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے خیر امت ہونے کی گواہی دی چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا اور حضرت عائشہ، حضرت عمران بن حصین اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم کی حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خير’’ تمام لوگوں میں سے بہتر زمانہ میرا ہے‘‘۔ بعض روایات میں ہے :’’میری امت میں بہتر زمانہ وہ ہے جس میں ، میں بھیجا گیا ہوں‘‘۔صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تکریم لازم ہے: اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں فرمایا: ’’میرے صحابہ کی تم عزت کرو کیونکہ وہ تم میں سے افضل ہیں‘‘۔ ایک اور روایت میں فرمایا: ’’تم میرے صحابہ کے بارے میں مجھے یاد رکھو‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مختلف مروی روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت کرنے کا حکم دیا اور انہیں برا بھلا کہنے سے منع فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو بتایا کہ ان میں سے کوئی ایک بھی صحابہ کے مرتبے کو نہیں پا سکتا نہ ان کے درجے تک پہنچ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی ہے۔
فَفَعَلْنَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ: «مَازِلْتُمْ هَاهُنَا» فَقُلْنَا: نَعَمْ ← صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ الْمَغْرِبَ فَقُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ. ← أَبِي مُوسَى [ص:355]، ← أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ← مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَی ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أَبُو صَالِحٍ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 298
