Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 298

أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنِ الشَّرْقِيُّ , ثنا أَبُو صَالِحٍ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ , عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى , عَنِ أَبِي بُرْدَةَ يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي مُوسَى [ص:319]، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ فَقُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ. قَالَ: فَفَعَلْنَا , فَخَرَجَ إِلَيْنَا , فَقَالَ: «مَازِلْتُمْ هَاهُنَا» ؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْنَا نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ، قَالَ: «أَصَبْتُمْ وَأَحْسَنْتُمْ» , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ , فَقَالَ: «النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ , فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى أَهْلَ السَّمَاءِ مَا يُوعَدُونَ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي , فَإِذَا ذَهَبْتُ أَنَا أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ» . وَرُوِيَ عَنْهُ فِي حَدِيثٍ مَوْصُولٍ بِإِسْنَادٍ آخَرَ غَيْرِ قَوِيٍّ , وَفِي حَدِيثٍ مُنْقَطِعٍ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ مَثَلَ أَصْحَابِي كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ؛ مَنْ أَخَذَ بِنَجْمٍ مِنْهَا اهْتَدَى» . وَالَّذِي رُوِّينَاهُ هَاهُنَا مِنَ الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ يُؤَدِّي بَعْضَ مَعْنَاهُ، وَقَدْ أَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ وَالْأَصْحَابِ الَّذِينَ يَنْصُرُونَ دِينَهُ وَيأَخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ , فَقَالَ فِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْهُ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أُمَّةٍ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ» . ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِدَ بِكَوْنِهِمْ خَيْرَ أُمَّتِهِ، فَقَالَ فِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْهُ وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ: «خَيْرُ النَّاسِ [ص:320] قَرْنِي» ، وَفِي بَعْضِهَا: «خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِ» . وَقَالَ فِي رِوَايَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «أَكْرِمُوا أَصْحَابِي؛ فَإِنَّهُمْ خِيَارُكُمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: «احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي» وَأَمَرَ فِيمَا رُوِيَ عَنْهُ بِمَحَبَّتِهِمْ وَنَهَى عَنْ سَبِّهِمْ , وَأَخْبَرَ أُمَّتَهُ بِأَنَّ أَحَدًا مِنْهُمْ لَا يُدْرِكُ مَحَلَّهُمْ وَلَا يَبْلُغُ دَرَجَتَهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى غَفَرَ لَهُمْ

صحابہ کرام علیہم الرضوان امت کے لیے امان ہیں: السید ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد العلوی نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو حامد بن شرقی نے بیان کیا کہا ابو صالح احمد بن منصور زاج نے ہم سے بیان کیا کہ حسین بن علی الجعفی نے ہم سے بیان کیا وہ مجمع بن یحییٰ سے وہ سعید بن ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ مغرب کی نماز پڑھی ہم نے کہا: اگر ہم انتظار کریں یہاں تک کہ عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ پڑھیں کہتے ہیں پھر ہم نے ایسا ہی کیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف نکلے اور فرمایا: ” اس وقت سے تم یہاں ہو؟‘‘ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! ہم نے کہا کہ آپ کیساتھ عشاء کی نماز پڑھیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم درستگی کو پہنچے‘‘ یا فرمایا ’’تم نے اچھا کیا‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا:’’ ستارے آسمان کے لیے امان ہیں جب ستارے چلے جائیں گے تو آسمان والوں پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اور میں اپنے اصحاب کے لیے امان ہوں جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اور میرے اصحاب میری امت کے لیے امان ہیں جب میرے اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے‘‘۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان ستاروں کی مانند ہیں : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی ایک حدیث روایت کی گئی ایک دوسری سند سے جوان تک پہنچتی ہے لیکن وہ قوی نہیں اور ایک حدیث منقطع میں روایت کی گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کی مثال آسمانی ستاروں جیسی ہے جس نے اس میں سے کسی ستارے کو پکڑا اس نے ہدایت پائی۔ یہاں پر جو حدیث صحیح ہم نے روایت کی اس کے بعض معنی تک یہ مذکورہ روایت بھی پہنچتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حواری: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حواریوں اور اصحاب کی طرف اشارہ کیا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی مددکرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی پیروی کرتے ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس بھی نبی کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اس کی امت میں اس کے حواری اور اصحاب ہوتے ہیں جو اسکی سنت کو لیتے ہیں اور اس کے حکم کی پیروی کرتے ہیں۔ سب سے بہتر زمانہ: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے خیر امت ہونے کی گواہی دی چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا اور حضرت عائشہ، حضرت عمران بن حصین اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم کی حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خير’’ تمام لوگوں میں سے بہتر زمانہ میرا ہے‘‘۔ بعض روایات میں ہے :’’میری امت میں بہتر زمانہ وہ ہے جس میں ، میں بھیجا گیا ہوں‘‘۔صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تکریم لازم ہے: اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں فرمایا: ’’میرے صحابہ کی تم عزت کرو کیونکہ وہ تم میں سے افضل ہیں‘‘۔ ایک اور روایت میں فرمایا: ’’تم میرے صحابہ کے بارے میں مجھے یاد رکھو‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مختلف مروی روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت کرنے کا حکم دیا اور انہیں برا بھلا کہنے سے منع فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو بتایا کہ ان میں سے کوئی ایک بھی صحابہ کے مرتبے کو نہیں پا سکتا نہ ان کے درجے تک پہنچ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی ہے۔

فَفَعَلْنَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ: «مَازِلْتُمْ هَاهُنَا» فَقُلْنَا: نَعَمْ ← صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ الْمَغْرِبَ فَقُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ. ← أَبِي مُوسَى [ص:355]، ← أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ← مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَی ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أَبُو صَالِحٍ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 298

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 299

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ , ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ , ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ , ثنا شُعْبَةُ , عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ، وَلَا يَبْغُضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ»

کسی بھی صحابی کی توہین و بے ادبی منع ہے: ابو علی حسین بن محمد بن محمد بن علی الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر محمد بن احمد بن مجمویہ العسکری نے ہم سے بیان کیا کہا جعفر بن محمد القلانسی نے ہم سے بیان کیا کہا آدم بن ابو ایاس نے ہم سے بیان کیا کہا شعبہ نے ہم سے بیان کیا وہ اعمش سے راوی کہا میں نے ذکوان کو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو کیونکہ تم میں سے کوئی ایک اگر احد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے وہ صحابہ میں سے کسی ایک کے بھی مُد یا نصف مُد تک نہیں پہنچے گا اور جو آدمی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ انصار سے بعض نہیں رکھے گا‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ذَكْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ محمد بن عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 299

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 300

حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ , أنا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ , حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ , ثنا عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ الْكُوفِيُّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي , فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ , وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ»

صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت و بغض حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و بغض ہے: الفقیہ ابو طاہر نے ہم سے بیان کیا کہا ابو بکر محمد بن حسین القطان نے ہمیں خبر دی کہاعلی بن سعید السنوی نے ہم سے بیان کیا کہا یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا کہا عبیدہ بن ابو رائطہ الکوفی نے ہم سے بیان کیا وہ عبدالرحمٰن بن زیاد سے وہ حضرت عبداللہ بن مفضل المزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میرے اصحاب کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اللہ سے ڈرنا میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنانا، جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میرے بغض کی وجہ سے اس سے بغض رکھا جس نے انہیں تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے پکڑ لے‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← عبيدة بن أبي رائطة الكوفي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 300

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 301

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ , أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ , ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ , ثنا عَفَّانُ , ثنا أَبُو عَوَانَةَ , ثنا الْحُصَيْنُ , عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ , فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ؛ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ " فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ

اہل بدرجنتی ہیں: ابو محمد بن یوسف نے ہمیں خبر دی کہا ابو سعید بن اعرابی نے ہمیں خبر دی کہا حسن بن محمود الزعفرانی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عفان نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا کہا ہم سے حصین نے بیان کیا وہ سعید بن عبید سے وہ ابو عبدالرحمٰن السلمی سے وہ حضرت مولا علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ’’تمہیں کیا پتہ ؟ اللہ تعالیٰ نے بدر والوں پر توجہ فرمائی فرمایا : تم جو چاہو کرو تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے‘‘۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں آنسو سے بھر گئیں اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْحُصَيْنِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 301

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 302

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ , ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ حَفْصَةَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا» ، قَالَتْ: بَلَى , يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَانْتَهَرَهَا، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا} [مريم: 72]

بیعت رضوان والے جنتی ہیں: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن اسحاق الصغانی نے ہم سے بیان کیا کہا جحاج بن محمد نے بیان کیا کہا ابن جریج نے کہا مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ آپ نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے ام مبشر نے خبر دی کہ آپ نے حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اگر اللہ تعالیٰٰ نے چاہا تو وہ اصحاب جنہوں نے درخت کی نیچے بیعت کی وہ جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہوں گے‘‘۔ کہتی ہیں : کیوں نہیں یا رسول اللہ !(ایسا ہی ہو گا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو جھڑکا توحضرت حفصہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان :وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا (سيده مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا: 71) ترجمہ: اور تم میں کوئی ایسانہیں جس کا گز ردوزخ پر نہ ہو۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا: ثُمَّ تُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظٰلِمِیْنَ فِیْھَا جِثِیًّا (سیده مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا:72) ترجمہ: پھر ہم ڈر والوں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گریں گے۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 302

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 303

ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ , ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ , ثنا أَبُو دَاوُدَ , ثنا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ النَّاسِ , فَاخْتَارَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَبَعَثَهَ بِرِسَالَتِهِ وَانْتَخَبَهُ بِعِلْمِهِ , ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ النَّاسِ بَعْدَهُ , فَاخْتَارَ لَهُ أَصْحَابَهُ , فَجَعَلَهُمْ أَنْصَارَ دِينِهِ وَوُزَرَاءَ نَبِيِّهِ , فَمَا رَآهُ الْمُؤْمِنُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ، وَمَا رَأَوْهُ قَبِيحًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ قَبِيحٌ

تمام لوگوں میں صحابہ کرام چنیدہ ہیں: ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ہم سے بیان کیا کہا ہمیں عبداللہ بن جعفر نے خبر دی کہا یونس بن حبیب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے مسعودی نے بیان کیا وہ عاصم سے وہ ابو وائل سے وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں کی طرف نظر فرمائی تو تمام لوگوں میں سے افضل دل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا تو اس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومنتخب فرمایا تو آپ کو رسالت کیساتھ مبعوث فرمایا اور اپنے علم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منتخب فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں کے دلوں کی طرف نظر فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو منتخب فرمایا تو انہیں اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وزیر بنایا تو جس کومسلمان اچھا جانیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا ہوتا ہے اور جسے مسلمان قبیچ جانیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی قبیح ہوتا ہے‘‘۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 303

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 304

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ , أنا زِيَادُ بْنُ الْخَلَيْلِ التُّسْتَرِيُّ , ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى أَبُو مَالِكٍ , ثنا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ , [ص:323] عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّهُ، فِي الْقُرْآنِ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ، فَهَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ؟

کیا اللہ تعالیٰ راضی ہونے کے بعد کسی صحابی سے ناراض ہوا؟ حضرت ابن عباس کا فر مان : الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن اسحاق نے ہمیں خبر دی کہاز یاد بن خلیل التستری نے ہمیں خبر دی کہا ابو مالک کثیر بن یحییٰ نے ہم سے بیان کیا کہا ابو عوانہ بن ابو بلج نے ہم سے بیان کیا وہ عمرو بن میمون سے راوی کہا ہم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہمیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ اصحاب شجرہ سے راضی ہو چکا ہے تو وہ جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے تو کیا ہمیں بتاؤ کہ اس کے بعد وہ ان سے ناراض ہوا ہے؟

أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ؟ ← أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ، فَهَلْ ← اللَّهُ، فِي الْقُرْآنِ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ ← كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي بَلْجٍ [ص:323] ← أَبُو عَوَانَةَ، ← كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى أَبُو مَالِكٍ ← زياد بن الخليل التستري ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 304

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 305

وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ , أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , ثنا سُفْيَانُ , عَنْ جُوَيْبِرٍ , عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، قَالَ: أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالِاسْتِغفَارِ لَهُمْ - يَعْنِي لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُمْ سَيُحْدِثُونَ مَا أَحْدَثُوا

للہ تعالیٰ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لیے استغفار کا حکم دیا: الفقیہ ابو طاہر نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر القطان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہا سفیان نے ہم سے بیان کیا وہ جو یبر سے وہ ضحاک بن مزاحم سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا ہے وہ جانتا تھا کہ عنقریب وہ کیا ایجاد کریں گے۔

الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ← جُوَيْبِرٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 305

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 306

حَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهرِ بْنِ مَنِيعٍ , ثنا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ، قَالَ: سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مَقَامَ أَحَدِهِمْ سَاعَةً أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ

صحابی کی زندگی کی ایک گھڑی کا مقام : السید ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد العلوی نے ہم سے بیان کیا کہا ابو بکر محمد بن حسین القطان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن ازہر بن منیع نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا وہ سفیان سے وہ نسیر بن دعلوق سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو گالی نہ دو کیونکہ ان کی ایک گھڑی کا مقام تمہاری زندگی کے عمل سے افضل ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ بْنِ مَنِيعٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 306

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him