Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 354

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدُ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ التَّاجِرُ , ثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَمْرَانِيُّ , عَنِ الْحُسْنِ، عنِ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ أَنْتَ بأَبِي بَكْرٍ، وَوُزِنَ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ، وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ ثُمَّ رُفِعَ الْميزَانُ فَرَأَيْنَا الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَرَاهِيَةَ وَقَالَ: فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ [ص:365] اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي سَاءَهُ ذَلِكَ - فَقَالَ: خِلَافَةُ نُبُوَّةِ ثُمَّ يُؤتي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ

ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہم سے بیان کیا کہا ابو عبدالرحمٰن ابن ابی الوزیر التاجر نے مجھے خبر دی کہا ابو حاتم الرازی نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن عبداللہ انصاری نے ہم سے بیان کیا کہا اشعث بن عبد الملک الحمرانی نے ہم سے بیان کیا وہ حضرت حسین بن ابو بکرہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟‘‘ ایک آدمی نے کہا : میں نے دیکھا ہے کہ گویا کہ آسمان سے میزان اترا تو اس نے آپ کا اور حضرت ابو بکر کا وزن کیا تو آپ حضرت ابو بکر سے وزنی نکلے اور پھر حضرت عمر اور حضرت ابو بکر کا وزن کیا گیا تو حضرت ابو بکر وزنی نکلے پھر حضرت عمر اور حضرت عثمان کا وزن کیا گیا تو حضرت عمر وزنی نکلے پھر میزان اٹھا لیا گیا۔ راوی کہتے ہیں پس ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے میں نا پسندیدگی دیکھی۔ ابو علی الروذباری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہا حماد نے ہم سے بیان کیا وہ علی بن زید سے وہ عبدالرحمٰن بن ابو بکرہ سے وہ اپنے باپ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟‘‘ پھر مذکورہ روایت کے ہم معنی روایت ذکر کی اور اس میں لفظ ” کراہیت‘‘ ذکر نہیں کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے برا جانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ یہ خلافت نبوت ہے پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت عطا کرے گا‘‘۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحُمْرَانِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ التَّاجِرُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 354

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 355

وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمَ , ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبَرْدِيُّ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ , حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَى اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ برَسُولِ اللَّهِ وَنِيطَ عُمَرُ بأَبِي بَكْرٍ وَنِيطَ عُثْمَانُ بعُمَرَ، قَالَ جَابِرٌ: فَلَمَّا قُمنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: الرَّجُلُ الصَّالِحُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا مَا ذُكِرَ مِنْ نَوْطِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا فَهُمْ وُلَاةِ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

الحافظ ابو عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہا ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الصفار نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن مہدی بن رستم نے بیان کیا کہا موسیٰ بن ہارون البردی نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے زبیدی نے بیان کیا وہ زہری سے وہ عمرو بن ابان بن عثمان سے وہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” ایک صالح آدمی نے رات خواب دیکھا کہ حضرت ابو بکر کی مدت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہے اور حضرت عمر کی مدت حضرت ابو بکر کے ساتھ اور حضرت عثمان کی مدت حضرت عمر کیساتھ ہے‘‘حضرت جابر نے فرمایا: جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے اٹھے تو ہم نے کہا: صالح آدمی سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ بہرحال جو ایک دوسرے کی مدت کا ذکر کیا گیا اس سے مراد اس معاملے کا والی بننا ہے جس کیساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنےنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← موسى بن هارون البردي ← أحمد بن مهدي بن رستم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← وحدثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 355

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 356

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالِا: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدوسٍ , ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ , ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , ثنا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي مَقْتَلِهِ قَالَ: فَقَالُوا أَوْصِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اسْتَخْلِفْ، فَقَالَ: مَا أَحَدٌ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ أَوِ الرَّهْطِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ فَسَمَّى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، قَالَ: يُشْهِدُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ - كَالتَّعْزِيَةِ لَهُ - فَإِنْ أَصَابَتِ الْإِمْرَةُ سَعْدًا فَهُوَ ذَاكَ وَإِلَّا فَلْيَسْتَعِنْ بِهِ أَيُّكُمْ مَا أُمِّرَ فَإِنِي لَمْ أَعْزِلْهُ مِنْ عَجْزٍ وَلَا خِيَانَةٍ، وَقَالَ أَوْصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي فَذَكَرَ وَصِيِّتِهِ بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ ثُمَّ بِالْأَنْصَارِ ثُمَّ بأَهْلِ الْأَمْصَارِ ثُمَّ بِالْأَعرَابِ ثُمَّ بأَهْلِ الذِّمَّةِ ثُمَّ ذَكَرَ دَفْنَهُ ثُمَّ قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِهِ وَرَجَعُوَا [ص:366] اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ الرَّهْطُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: اجْعَلُوا أَمْرَكُمْ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْكُمْ، قَالَ الزُّبَيْرُ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عَلِيٍّ. وَقَالَ طَلْحَةُ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عُثْمَانَ. وَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ. فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَيُّكُمْ يَبْرَأُ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ فَنَجْعلُهُ إِلَيْهِ وَاللَّهُ عَلَيْهِ وَالْإِسْلَامُ لَيَنْظُرَنَّ أَفْضَلَهُمْ فِي نَفْسِهِ وَلَيَحْرِصَنَّ عَلَى صَلَاحِ الْأُمَّةِ قَالَ: فَأَسْكَتَ الشَّيْخَانِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَفَتَجْعَلُونَهُ إِلَيَّ وَاللَّهِ عَلَى أَنْ لَا آلُو عَنْ أَفْضَلِكُمْ؟ فَقَالَا: نَعَمْ قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِ أَحَدِهِمَا، فَقَالَ: لَكَ مِنْ قَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقِدَمِ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتُ، وَاللَّهُ عَلَيْكَ لَئِنْ أَنَا أَمَّرْتُكَ لَتَعْدِلَنَّ وَلَئِنْ أَمَّرْتُ عُثْمَانَ لِتَسْمَعَنَّ وَلَتُطِيعَنَّ ثُمَّ خَلَا بِالْآخَرِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا أَخَذَ الْمِيثَاقَ قَالَ: ارْفَعْ يَدَكَ يَا عُثْمَانُ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَ لَهُ عَلِيٌّ وَوَلَجَ أَهْلُ الدَّارِ فَبَايَعُوهُ، وَرَوَاهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ وَقَالَ: فَلَمَّا اجْتمَعُوا تَشَهَّدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ يَا عَلِيُّ إِنِي قَدْ نَظَرْتُ فِي أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَرَهُمْ يَعْدِلونَ بعُثْمَانَ فَلَا تَجْعَلَنَّ عَلَى نَفْسِكَ سَبِيلًا قَالَ: وَأَخَذَ بِيَدِ عُثْمَانَ وَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْخَلِيفتَيْنِ مِنْ بَعْدِهِ فَبَايَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبَايَعَهُ النَّاسُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ وَأُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ وَالْمُسْلِمُونَ وَهَذَا بَعْدَ أَنْ شَاوَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لَا يَخْلُو بِهِ رَجُلٌ ذُو رَأْيٍ فَيَعْدِلُ بعُثْمَانَ

ابوعبدالله الحافظ اور ابو عبدالرحمٰن السلمی نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا احمد بن محمد بن عبدوس نے ہمیں خبر دی کہا عثمان بن سعید الدارمی نے ہم سے بیان کیا کہا موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہا ابو عوانہ نے ہم سے بیان کیا وہ حصین سے وہ عمرو بن میمون سے راوی آپ نے کہا میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا۔ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی روایت ذکر کی کہا: لوگوں نے کہا: اے امیرالمؤمنین وصیت فرمائے ،خلیفہ بنائے ! تو آپ نے فرمایا: اس جماعت یا اس گروہ میں سے کوئی ایک بھی زیادہ حق دار نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے راضی تھے پھر آپ نے حضرت علی حضرت عثمان ، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت سعد اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا نام لیا فرمایا :عبداللہ بن عمر تم میں موجود رہیں گے اور اس امر سے ان کے لیے کوئی چیز نہیں ہو گی جیسے ان سے تعزیت کرنا ور نہ اس سے مدد لی جائے تم میں سے کون امیر بنتا ہے کیونکہ میں اسے عزت نہیں دیتا جو عاجز ہو اور نہ ہی خیانت کرتا ہوں اور فرمایا: میرے بعد جو خلیفہ ہو گا میں اسے وصیت کرتا ہوں پھر راوی نے مہاجرین اولین کی وصیت کا تذکرہ کیا پھر انصار کا پھر تمام شہروں والوں کا پھر دیہاتیوں کا پھر ذمیوں کا پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دفن کا ذکر کیا پھر کہا: جب لوگ آپ کے دفن سے فارغ ہو گئے اورلوٹ آئے تو وہ گروہ جمع ہوا تو حضرت عبدالرحمٰن نے کہا: تم اپنا معاملہ تین آدمیوں کے حوالے کر دو ! تو حضرت زبیر نے کہا میں نے اپنا معاملہ حضرت علی کو دیا حضرت طلحہ نے کہا میں نے اپنا معاملہ حضرت عثمان کو دیا اور حضرت سعد نے کہا میں نے اپنا معاملہ حضرت عبدالرحمٰن کو دیا پھر حضرت عبدالرحمٰن نے فرمایا: تم میں سے کون اس امر سے بری ہوتا ہے جس کے حوالے ہم یہ امر کریں اللہ اور اسلام کا ذمہ اس پر ہوضرور بالضرور وہ خود ان سے افضل ہو اور اصلاح امت پر حریص ہو۔ راوی نے کہا: دونوں شیخ خاموش رہے تو حضرت عبدالرحمٰن نے کہا: اس امر کے فیصلے کو میرے حوالے کرتے ہواللہ کا ذمہ مجھ پر میں تمہارے افضل کو پیچھے نہیں کروں گا ؟ دونوں نے کہا: ٹھیک ہے راوی نے کہا: پھر آپ نے ان میں سے ایک کا ہاتھ پکڑا اور کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رشتہ داری اور اسلام میں قدم حاصل ہے جو آپ کو معلوم ہے اللہ کا ذمہ آپ پر اگر میں آپ کو امیر بناؤں تو ضرور بالضرور آپ عدل کریں گے اگر حضرت عثمان کو امیر بناؤں تو ضرور بالضرور آپ سنیں گے اور اطاعت کریں گے پھر آپ نے دوسرے کو علیحدہ کر کے اس سے بھی یہی بات کہی پھر جب آپ نے پختہ وعدہ لے لیا تو آپ نے کہا: اے عثمان اپنا ہاتھ اٹھاؤ پھر آپ نے ان سے بیعت کی اور حضرت علی نے بھی آپ کی بیعت کی گھر والے اندر آئے انہوں نے بھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت کی۔ مسور بن مخرمہ نے اسے روایت کیا اور کہا: جب وہ جمع ہوئے تو حضرت عبدالرحمٰن نے شہادت دی پھر فرمایا: اما بعد ! اے علی ! میں نے لوگوں کے معاملے میں غورو فکر کی تو میں نے انہیں نہیں دیکھا کہ وہ حضرت عثمان کے برابر کسی کو سمجھتے ہوں لہٰذا آپ ہرگز اپنے لیے کوئی راستہ نہ بنائے گا۔ راوی نے کہا: آپ نے حضرت عثمان کا ہاتھ پکڑا اور کہا: میں آپ سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد دو خلیفوں کی سنت پر بیعت کرتا ہوں یہ کہ کر حضرت عبدالرحمٰن نے آپ کی بیعت کی اور تمام لوگوں ، مہاجرین وانصار ، گرد ہوں کے سرداروں اور مسلمانوں نے بھی آپ کی بیعت کی۔حضرت عبدالرحمٰن نے لوگوں سے تین دن کی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا توکوئی بھی رائے والا آدمی نہیں تھا جسے حضرت عثمان کے برابر کیا جاتا۔

عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← حُصَيْنٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 356

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 357

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ , ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ , ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونِ , ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا فِي زمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا بأَبِي بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُكَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں افضلیت خلفائے ثلاثہ کا اعلان : ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہم سے بیان کیا کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن اسحاق الصغانی نے ہم سے بیان کیا کہا ابو سلمہ الخزاعی نے ہم سے بیانا سے بیان کیا کہا ہم سے عبدالعزیز الماجشون نے بیان کیا کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا وہ نافع سے وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی ایک کو بھی حضرت ابو بکر کے برابر نہیں سمجھتے تھے پھر حضرت عمر کے پھر حضرت عثمان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے پھر ہم اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ دیتے ان کے مابین فضیلت نہیں دیتے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ← أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 357

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 358

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ , أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ , ثنا أَبُو دَاوُدَ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , أنا سُفْيَانُ , ثنا جَامعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ , ثنا أَبُو يَعْلَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي - يَعْنِي عَلِيًّا - أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مِنْ؟ قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ، قَالَ: ثُمَّ خَشِيتُ أَنْ أَقُولَ ثُمَّ مَنْ؟ فَيَقُولَ عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ يَا أَبِي؟ قَالَ مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ

افضلیت شیخین بزبان مولا علی(رضی اللہ عنہم): ابو علی حسین بن محمد الروذباری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہا سفیان نے ہمیں خبر دی کہا جامع بن ابو راشد نے ہم سے بیان کیا کہا ابو یعلی نے ہم سے بیان کیا وہ حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راویت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: میں نے اپنے باپ یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا : حضرت ابو بکر محمد بن حنفیہ نے کہا: میں نے عرض کی : پھر کون ؟ فرمایا: پھر حضرت عمر آپ کہتے ہیں پھر مجھے خوف ہوا کہ میں کہوں پھر کون تو آپ فرمائیں حضرت عثمان چنانچہ میں نے کہا: اے ابا جان ! پھر آپ؟ آپ نے فرمایا : میں تو صرف مسلمانوں کا ایک آدمی ہوں۔

إِلَّا رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ← مَا ← عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ يَا أَبِي؟ ← ثُمَّ خَشِيتُ أَنْ أَقُولَ ثُمَّ مَنْ ← ثُمَّ عُمَرُ ← قُلْتُ ثُمَّ مَنْ ← أَبُو بَکْرٍ ← قُلْتُ لِأَبِي يَعْنِي عَلِيًّا أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ ← أَبُو يَعْلَى ← جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 358

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 359

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي , ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي بِحِفْظِ بَابِ الْحَائِطِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ آخَرُ يَسْتَأَذِنُ فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، فَإِذَا عُمَرُ، ثُمَّ اسْتأَذَنَ رَجُلٌ آخَرُ فَسَكَتَ هُنَيْهَةً ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ بَعْدَ بَلْوًى سَتُصِيبُهُ، فَإِذَا عُثْمَانُ. قَالَ حَمَّادٌ: فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ وَعَاصِمٌ الْأَحْولٌ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى نَحْوًا مِنْ هَذَا غَيْرَ أَنَّ عَاصِمًا زَادَ فِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مكَانٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْ كَشَفَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ فَلَمَّا أَقْبَلَ عُثْمَانُ غَطَّاهُمَا

ابو الحسن علی بن محمد بن علی المقری نے ہمیں خبر دی کہا حسن بن محمد ابن اسحاق نے ہمیں خبر دی کہا یوسف بن یعقوب القاضی نے ہم سے بیان کیا کہا سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا وہ ایوب سے وہ ابو عثمان سے وہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے دروازے کی حفاظت کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو ایک آدمی آیا وہ اجازت مانگنے لگا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے اجازت دو اور جنت کی خوشخبری سناؤ!‘‘ دیکھا تو وہ حضرت ابو بکر تھے، پھر ایک اور آدمی آیا اور اجازت مانگنے لگا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے اجازت دو اور جنت کی خوشخبری سناؤ!‘‘ دیکھا تو وہ حضرت عمر تھے پھر ایک اور آدمی نے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا: ’’اسے اجازت دو اور جنت کی خوشخبری سناؤ ایک مصیبت کو پہنچنے کے بعد‘‘ دیکھا تو وہ حضرت عثمان تھے۔ حماد نے کہا مجھ سے علی بن حکم اور عاصم احول نے بیان کیا دونوں نے ابو عثمان سے سنا وہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے اسی کی مثل بیان کرتے ہیں علاوہ ازیں عاصم نے اس میں یہ اضافہ کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسی جگہ تھے جہاں پانی تھا آپ نے اپنے گھٹنے کھولے ہوئے تھے جب حضرت عثمان آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ڈھانپا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي عُثْمَانَ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 359

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 360

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ [ص:368]، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ , ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي سَهْلَةَ، مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ادْعُ لِي أَوْ لَيْتَ عندي رَجُلًا مِنْ أَصْحَابي، قَالَتْ: قُلْتُ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: عُمَرُ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: ابْنُ عَمِّكَ عَلِيٌّ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَعُثْمَانُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَجَاءَ عُثْمَانُ فَقَالَ: قُومِي، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَى عُثْمَانَ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ فَلِمَا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ قُلْنَا: أَلَا تُقَاتِلُ؟ قَالَ: لَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَمْرًا فَأَنَا صَابِرٌ نَفْسِي عَلَيْهِ. وَرُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ وَمُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِتْنَةٍ ذَكَرَهَا وَأَشَارَ إِلَى عُثْمَانَ بِأَنَّهُ يَكُونُ فِيهَا عَلَى الْحَقِّ أَوْ قَالَ عَلَى الْهُدَى، وَفِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ: عَلَيْكُمْ بِالْأَمِيرِ وَأَصْحَابِهِ، وَأَشَارَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَفِي كُلِّ ذَلِكَ مَعَ مَا ذَكَرْنَاهُ فِي الْفَضَائِلِ دَلَالَةٌ عَلَى صِحَّةِ خِلَافَتِهِ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد کی پاسداری: الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو عمرو عثمان بن احمد بن سماک نے ہمیں خبر دی کہا عبدالرحمٰن بن محمد بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن سعید القطان نے ہم سے بیان کیا وہ اسماعیل بن ابو خالد سے وہ ابو حازم سے وہ ابو سہلہ حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے اصحاب میں سے ایک آدمی کو بلاؤ! جسے میں ولی بناؤں‘‘۔سیدہ عائشہ کہتی ہیں میں نے کہا: ابو بکر کو بلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے کہا عمر کو فرمایا نہیں میں نے آپ کے چچا کے بیٹے علی کو فرمایا نہیں میں نے کہا عثمان کو فرمایا ہاں حضرت عائشہ فرماتی ہیں جب حضرت عثمان آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اٹھ جا! پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عثمان سے آہستہ سے باتیں کرنے لگے اور حضرت عثمان کا رنگ متغیر ہوتا رہا پھر جب وہ دن آ یا جب عثمان حضرت گھر میں تھے اور آپ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تو ہم نے کہا: کیا آپ ان سے جنگ نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک امر کا مجھ سے عہد لیا ہے میں اس پر اپنے آپ کو صابر رکھوں گا۔ حضرت ابن عمر، حضرت ابو ہریرہ ، حضرت عبداللہ بن حوالہ اور مرہ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ہم نے روایت کی یہ سب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اس فتنے کے بارے میں جسکا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذکر کیا اور حضرت عثمان کی جانب اشارہ کیا کہ میں اس وقت حق پر ہوں گے یا فرمایا : ہدایت پر ہوں گے اور بعض کی روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم پر امیر اوراس کے ساتھیوں کی پیروی لازم ہے‘‘۔ اس سے حضرت عثمان بن عفان کی طرف اشارہ کیا۔ ان سب روایات اور جو ہم نے کتاب الفضائل میں ذکر کی ان میں حضرت عثمان کی خلافت کی صحت کی دلیل ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِي سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ [ص:368]، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 360

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 361

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ , أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، وَهُوَ يَحْتَجُّ فِي تَثْبِيتِ خَبَرِ الْوَاحِدِ، قَالَ: وَمَا أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ الْخَلِيفَةُ وَاحِدًا فَاسْتَخْلفُوا أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ اسْتَخْلَفَ أَبُو بَكْرٍ عُمَرَ ثُمَّ عُمَرُ أَهْلَ الشُّورَى لِيخْتَاروا وَاحِدًا فَاخْتَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَرُوِّينَا عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: أَفْضَلُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:369] أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ عَلِيٍّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجَوَيْهِ الدِّينَوَرِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِيَادٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ربیع بن سلیمان نے ہمیں خبر دی کہا امام شافعی نے ہمیں خبر دی جبکہ آپ خبر واحد کو ثابت کرنے میں دلیل پکڑتے تھے آپ نے فرمایا: مسلمان جس پر جمع ہو جائے وہی ایک خلیفہ ہوتا ہے پس انہوں نے حضرت ابو بکر کو خلیفہ بنایا پھر حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کو خلیفہ بنایا پھر حضرت عمر نے اہل شوری کو مقرر فرمایا کہ وہ کسی ایک کو اپنے میں سے منتخب کر لیں پس حضرت عبدالرحمٰن نے حضرت عثمان بن عفان کو منتخب کر لیا۔ رضی اللہ عنہم ۔امام شافعی کا عقیدہ افضلیت: اور ہم نے امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت کیا آپ فرمایا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں میں سے افضل حضرت ابو بکر ہیں پھر حضرت عمر پھر حضرت عثمان پھر حضرت علی رضی اللہ عنہم۔ ابو عبداللہ حسین بن محمد بن فتحویہ الدینوری نے ہمیں خبر دی کہا صفوان بن حسین نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن ابراہیم بن زیاد نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ربیع بن سلیمان نے بیان کیا آپ نے کہا میں نے امام شافعی کو فرماتے ہوئے سنا اسی کی مثل۔

الشَّافِعِيُّ، وَهُوَ يَحْتَجُّ فِي تَثْبِيتِ خَبَرِ الْوَاحِدِ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 361

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 362

وَكذَلِكَ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، وَرُوِيَ عَنِ الرَّبِيعِ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى، عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: أَفْضَلُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ

ایسے ہی ابن عبد الحکم سے روایت کی گئی وہ امام شافعی سے راوی اور ربیع سے دوسری روایت میں روایت کی گئی وہ امام شافعی سے راوی آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں میں سے افضل حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم ہیں۔

أَفْضَلُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ ← الشَّافِعِيُّ: أَنَّهُ ← الرَّبِيعِ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى، ← الشَّافِعِيُّ: وَرُوِيَ ← ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، ← وَكَذَلِكَ رُوِيَ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 362

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 363

وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: مَا اخْتَلَفَ أَحَدٌ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ فِي تفْضِيلِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَتَقْدِيمِهِمَا عَلَى جَمِيعِ الصَّحَابَةِ وَإِنَّمَا اخْتَلَفَ مَنِ اخْتَلَفَ مِنْهُمْ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ وَنَحْنُ لَا نُخَطِّئُ وَاحِدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا فَعَلُوا، وَقَدْ ذَكَرْنَا أَسَانِيدَهَا فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ، وَرُوِّينَا عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ وَأَتبَاعِهِمْ نَحْوَ هَذَا وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

افضلیت حضرت ابو بکرو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر صحابہ وتابعین کا اجماع : اور ہم نے ابو ثور سے روایت کی وہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تمام صحابہ سے افضل قرار دینے اور مقدم جانے پر صحابہ وتابعین میں سے کسی ایک نے بھی اختلاف نہیں کیا اور جس نے اختلاف کیا اس نے حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں اختلاف کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے جو بھی کیا ہم اس میں کسی کو بھی خطا کارقرارنہیں دیتے۔

الشَّافِعِيُّ: أَنَّهُ ← أَبي ثَوْرٍ ← وَرُوِّينَا

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 363

All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him