Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 221

221 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ , وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ

ابراہیم بن عبداللہ بن ایوب المخرمی سے مروی حدیث : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی نرمی والا ہے اور وہ نرمی ہی کو پسند کرتا ہے اور وہ نرمی پر جو کچھ عطا کرتا ہے وہ سختی پر عطا ء نہیں کرتا ۔ اس حدیث کو قتادہ سے سعید بن ابی عروبہ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجِرْمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمَخْرَمِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 221

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 222

222 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، بِمَكَّةَ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ , وَفِيهَا مَاتَ , حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلِ , عَنِ الْمَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشِ , عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا بَصَقْتَ فِي الصَّلَاةِ فَابْصُقْ عَنْ يَسَارِكِ , أَوْ تَحْتَ قَدَمِكَ الْيُسْرَى» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلِ إِلَّا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ , وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ , حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِمَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ: اتَّقِ اللَّهَ , فَوَضَعَ خَدَّهُ عَلَى الْأَرْضِ

ابراہیم بن صالح الشیرازی سے مروی حدیث: حضرت طارق بن عبداللہ المحاربی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز کے دوران تھوکنے کی حاجت ہو تواپنے بائیں جانب تھو کو یا بائیں پاؤں کے نیچے تھو کو ۔اس حدیث کو مالک بن مغول سے حجاج بن نصیر کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور مالک بن مغول نیک مسلمانوں میں سے ہیں ۔ ہمیں امام احمد بن حنبل نے اپنے والد کے حوالے سے سفیان بن عینیہ کا یہ بیان سنا یا ہے کہ ایک آدمی نے مالک بن مغول سے کہا اللہ سے ڈر مالک بن مغول نے فورا اپنا رخسار زمین پر رکھ دیا۔

طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← الْمَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، بِمَكَّةَ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ وَفِيهَا مَاتَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 222

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 223

223 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَرِيكٍ الْأَسَدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «قَتْلُ الْمَرْءِ دُونَ مَالِهِ شَهَادَةٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُعَيْرٍ إِلَّا شِهَابٌ

ابراہیم بن شریک الاسدی الکوفی سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی کا اپنے مال سے دور قتل ہونا شہادت ہے اس حدیث کو سعیر صرف شہاب نے روایت کیا ہے

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ← سُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ، ← شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَرِيكٍ الْأَسَدِيُّ الْكُوفِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 223

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 224

224 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتْوِيَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ رَحْمَةَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعَانَ ظَالِمًا بِبَاطِلٍ لِيَدْحَضَ بِبَاطِلِهِ حَقًّا فَقَدْ بَرِئَ مِنْ ذِمَّةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , وَمَنْ أَكَلَ دِرْهَمًا مِنْ رِبًا فَهُوَ مِثْلُ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً , وَمَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ وَاسْمُ أَبِي عَبْلَةَ شِمْرٌ , وَقَدْ قِيلَ: طَرْخَانُ , وَالصَّوَابُ شِمْرٌ، إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ رَحْمَةَ

ابراہیم بن متو یہ الاصبہانی سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی ظالم کی معاونت کی اس کی معاونت سے وہ کسی کا ناجائز حق ہتھیا لے اس سے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ختم ہو جاتا ہے اور جس نے ایک درہم سود کھایا یہ 33 بار زنا کرنے کے مترادف ہے اور جس کا گوشت حرام سے پلا ہو وہ جہنم کے زیادہ لائق ہے۔ اس حدیث کو ابراہیم بن ابی عبلہ سے محمد بن حمیر کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ان سے روایت کرنے میں سعید بن رحمہ منفرد ہیں۔ ابو صبلہ کے نام کے بارے میں اختلاگ ہے ، بعض کا کہنا ہے کہ ان کا نام’’ طرخان ‘‘ ہے بعض نے کہا ہے کہ ان کا نام شمر ہے اور یہی درست ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← سَعِيدُ بْنُ رَحْمَةَ الْمِصِّيصِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتَّوَيْهٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 224

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 225

225 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْبَغْدَادِيُّ، صَاحِبُ الطَّعَامِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبِ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " جَاءَتْ أُمُّ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ وَهِيَ أُمُّ سُلَيْمٍ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا رَأَتْ مَا يَرَى الرَّجُلُ , فَضَحِكْتُ , وَقُلْتُ: أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا ذَلِكَ لَمَا كَانَ يُشْبِهُ أُمَّهُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَاح , وَلَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا عَنْ هَذَا الشَّيْخِ

ابراہیم بن محمد الہیثم البغدادی سے مروی حدیث :ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ ابو طلحہ کے بچوں کی والدہ یعنی ام سلیم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئیں اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی حق بیان کرنے سے حیانہیں فرماتا جب عورت اس طرح کی چیز دیکھے جیسے مرد دیکھتے ہیں تو کیا عورت پر غسل فرض ہو جاتا ہے ؟ام المومنین فرماتی ہیں (ان کی یہ بات سن کر )میں ہنس پڑی اور کہا کیا عورتوں کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بات نہ ہو تو بچہ ماں کے مشابہ کیوں ہو ؟ ۔ اس حدیث کو ’’روح بن القاسم ‘‘سے صرف ’’اسماعیل بن علیہ ‘‘نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو روایت کرنے میں ’’محمد بن الصباح ‘‘ منفرد ہیں اور ہم نے اس حدیث کو اسی شیخ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔

جَاءَتْ أُمُّ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ وَهِيَ أُمُّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ: ← أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْبَغْدَادِيُّ، صَاحِبُ الطَّعَامِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 225

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 226

226 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغُلَامٌ لَهُ حَبَشِيٌّ يَغْمِزُ ظَهْرَهُ , فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «إِنَّ النَّاقَةَ اقْتَحَمَتْ بِي» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ إِلَّا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , وَلَا عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ

ابراہیم بن یوسف البزازالبغدادی سے مروی حدیث : حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوا ، ان کا حبشی غلام آپ کی پیٹھ سہلا رہا تھا ، میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہوا ؟ آپ سلم نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اونٹنی نے مجھے گرا دیا ہے ۔ اس سے صرف اس حدیث کو زید بن اسلم سے صرف ہشام بن سعد نے روایت کیا ہے اور ہشام بن سعد سے صرف ابو القاسم بن ابی زناد نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عبدالرحمن بن یونس منفرد ہیں۔

دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ وَغُلَامٌ لَهُ حَبَشِيٌّ يَغْمِزُ ظَهْرَهُ فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكَ ← عُمَرَ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ الرَّقِّيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 226

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 227

227 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بُنْدَارٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ آكُلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيْسًا فِي قَعْبٍ , فَمَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَدَعَاهُ , فَأَكَلَ , فَأَصَابَتْ أُصْبُعُهُ أُصْبَعِي فَقَالَ: «حَسِّ أَوْهِ أَوْهِ , لَوْ أُطَاعُ فِيكُنَّ مَا رَأَتْكُنَّ عَيْنٌ» , فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ

ابراہیم بن بندر الاصبہانی سے مروی حدیث : ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک برتن میں حیس (ایک مخصوص کھانا ) کھا رہی تھی وہاں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی کھانے کی دعوت دی ساتھ کھانے لگ گئے کھانے کے کھانے کے دوران میری انگلی ان کی انگلی کے ساتھ لگ گئی حضرت عمر نے گھبرا کر افسوس کرتے ہوئے فرمایا اگر تمہارے معاملے میں میری بات مانی جائے تو کوئی آنکھ تمہیں نہ دیکھے تب پردے کی آیت نازل ہوگئی اس حدیث کو مسعر سے صرف ’’سفیان بن عیینہ ‘‘نے روایت کیا ہے ۔

مُجَاهِدٍ ← مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← إبراهيم بن بندار الأصبهاني

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 227

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 228

228 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ السَّكَنِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «مَا صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا مَعَهُ ثَلَاثِينَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَمَّادٍ إِلَّا عَبْدُ الْأَعْلَى تَفَرَّدَ بِهِ صَالِحٌ

ابراہیم بن اسباط بن سکن البغدادی سے مروی حدیث ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بعد رمضان میں 29 روزے رکھے اور بعض رمضان میں تیسرے ہیں لیکن 29 روزے والے رمضان کی تعداد تیس روپے والے رمضان سے زیادہ نہیں ہونے دیتے تھے اس حدیث کو حماد سے صرف عبدالا علی نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’صالح ‘‘منفرد ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← عبد الأعلى بن أبي المساور ← صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ السَّكَنِ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 228

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 229

229 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَرْوَانَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَعْرُوفٍ الْخَيَّاطُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَلْيَعِقَّ عَنْهُ مِنَ الْإِبِلِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الْغَنَمِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حُرَيْثٍ إِلَّا مَسْعَدَةُ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَعْرُوفٍ

ابراہیم بن احمد بن مروان الواسطی سے مروی حدیث :حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اس کو چاہئے کہ اس کی جانب سے اونٹ گائے یا بکری کا عقیقہ کرے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← حُرَيْثٌ بْنِ السَّائِبَ ← مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَعْرُوفٍ الْخَيَّاطُ الْوَاسِطِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَرْوَانَ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 229

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 230

230 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّهَا تُسْتَحَاضُ فَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَالَ: «ذَلِكَ عِرْقٌ , فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ , فَدَعِي الصَّلَاةَ , فَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ , ثُمَّ صَلِّي» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا ابْنُ سَمَاعَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي جَمِيلٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ هَذِهِ هِيَ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ , وَاسْمُ أَبِي حُبَيْشٍ: قَيْسٌ، وَلَيْسَتْ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةِ الَّتِي رَوَتْ قِصَّةَ طَلَاقِهَا

ابراہیم بن دحیم الدمشقی سے مروی حدیث:حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئی اور عرض کی مجھے استخاضہ کی شکایت ہے ان کا گمان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جواب یہ ارشاد فرمایا آج کے دن آئے تو نماز چھوڑ دو وہ دن چلے جائیں تو غسل کرو خون دھو لو اور نماز پڑھو ‘‘ ۔ْاس حدیث کو ’’اوزاعیی‘‘ سے صرف ابن سماعہ نے روایت کیا ہے اور اس کو روایت کرنے میں عمران بن ابی جمیل منفرد ہے اور یہ جو فاطمہ بنت قیس ہیں یہ فاطمہ بنت ابی حبیش ہی ہیں۔ابو حبیش کا نام ہی ’’قیس ‘‘ہے ۔یہ ’’فاطمہ بنت قیس فہریہ ‘‘ نہیں ہیں۔ جنہوں نے اپنی طلاق والا قصہ روایت کیا ہے ۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ أَبِي جَمِيلٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 230

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 231

231 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْدَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ السَّدُوسِيِّ إِلَّا أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ وَهْبٍ أَبُو السَّوَّارِ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ مِنْ كُبَراءِ تَابِعِي الْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ: " اخْتَفَى رَجُلٌ عِنْدَ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ زَمَنَ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ , فَقِيلَ لِلْحَجَّاجِ: إِنَّهِ عِنْدَ أَبِي السَّوَّارِ , فَبَعَثَ إِلَيْهِ الْحَجَّاجُ , فَأَحْضَرَهُ فَقَالَ لَهُ: الرَّجُلُ الَّذُي عِنْدِكَ , فَقَالَ: لَيْسَ عِنْدِي , فَقَالَ: وَإِلَّا أُمُّ السَّوَّارِ طَالِقٌ يَعْنِي امْرَأَةَ أَبِي السَّوَّارِ , فَقَالَ: مَا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهَا وَأَنَا أَنْوِي طَلَاقَهَا , فَقَالَ: وَإِلَّا أَنْتَ بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ قَالَ: فَإِلَى أَيْنَ أَذْهَبُ فَخَلَّى سَبِيلَهُ "

ابراہیم بن عبداللہ بن معدان الاصبہانی سے مروی حدیث : حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حیا ء سب کا سب خیر ہی ہے ۔اس حدیث کو ’’قرہ بن خالد السدوسی ‘‘سے اشہل بن حاتم کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ان سے روایت کرنے میں ابن وہب منفرد ہیں ۔ابو السوار خیار المسلمین میں سے ہیں۔اور بصرہ کے کبار تابعین میں سے ہیں ۔ ابو خلیفہ الفضل بن الحباب محمد بن سلام الحجمی کے واسطے سے عبدالقاہر بن السری کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں ایک آدمی ابو السوار العدوی کے باہر آ کر چھپ گیا حجاج کو بتایا گیا کہ وہ آدمی ابوالسوار کے پاس ہے ۔ حجاج نے ابو السوار کی جانب آدمی بھیج کر ان کو اپنے پاس بلوایا اور کہا وہ آدمی آپ کے پاس ہے؟ آپ نے فرمایا میرے پاس نہیں ہے حجاج نے کہا اگر وہ تیرے پاس ہوا تو ا م سوار یعنی ابو کی بیوی کو طلاق ۔ابو السوار کہتے ہیں کہ میں نے وہاں سے نکلنے سے پہلے ہی اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نیت کرلی تھی لیکن اس نے کہا اگر وہ تیرے پاس ہوا تو تو اسلام سے بری ہے ؟ آپ فرماتے ہیں میں نے سوچا اب میں کدھر جاؤں پس میں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا اور وہ آدمی ان کے حوالے کر دیا ۔

عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ: ← أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ ← قُرَّةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْدَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 231

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 232

232 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْغَزَالِيُّ الْبَصْرِيُّ الْمُعَدِّلُ، حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ , وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَاصِمٍ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ تَفَرَّدَ بِهِ النَّضْرُ

ابراہیم بن محمد الغزالی البصری المعدل سے مروی حدیث : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں ایک دن میں سو مرتبہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں استغفار اور توبہ کرتا ہوں ہو اس حدیث کو عا صم سے صرف حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں نضر منفرد ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْمَرْوَزِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْغَزَالِيُّ الْبَصْرِيُّ الْمُعَدِّلُ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 232

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter