185 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْهَرَوِيُّ بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ بِالْهَاجِرَةِ , فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ فَخَرَجَ , فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ , فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ , مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَقَالَ: أَخْرَجَنِي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ فِي بَطْنِي مِنْ حَاقِ الْجُوعِ , فَقَالَ: وَأَنَا وَاللَّهِ مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ , فَبَيْنَمَا هُمَا كَذَلِكَ , إِذْ خَرَجَ عَلَيْهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟» فَقَالَا: أَخْرَجَنَا وَاللَّهِ مَا نَجِدُ فِي بُطُونِنَا مِنْ حَاقِ الْجُوعِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «وأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ» , فَقَامُوا , فَانْطَلَقُوا حَتَّى أَتَوْا بَابَ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ , وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا أَوْ لَبَنًا , فَأَبْطَأَ يَوْمَئِذٍ , فَلَمْ يَأْتِ لِحِينِهِ , فَأَطْعَمَهُ أَهْلَهُ , وَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلِهِ يَعْمَلُ فِيهِ , فَلَمَّا أَتَوْا بَابَ أَبِي أَيُّوبَ خَرَجَتِ امْرَأَتُهُ , فَقَالَتْ: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِمَنْ مَعَهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:125]: «فَأَيْنَ أَبُو أَيُّوبَ؟» فَقَالَتْ: يَأْتِيكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ السَّاعَةَ , فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَبَصُرَ بِهِ أَبُو أَيُّوبَ وَهُوَ يَعْمَلُ فِي نَخْلٍ لَهُ فَجَاءَ يَشْتَدُّ حَتَّى أَدْرَكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِنَبِيِّ اللَّهِ وَبِمَنْ مَعَهُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَيْسَ بِالْحِينِ الَّذِي كُنْتَ تَجِيئَنِي فِيهِ , فَرَدَّهُ , فَجَاءَ إِلَى عِذْقِ النَّخْلِ , فَقَطَعَهُ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَحْبَبْتُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ رُطَبِهِ , وَبُسْرِهِ , وَتمْرِهِ , وَتُذْنُوبِهِ , وَلَأَذْبَحَنَّ لَكَ مَعَ هَذَا , فَقَالَ: «إِنْ ذَبَحْتَ , فَلَا تَذْبَحَنَّ ذَاتَ دَرٍّ» , فَأَخَذَ عَنَاقًا لَهُ أَوْ جَدْيًا فَذَبَحَهُ , وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: اخْتَبِزِي , وَأَطْبُخُ أَنَا , فَأَنْتِ أَعْلَمُ بِالْخَبْزِ , فَعَمَدَ إِلَى نِصْفِ الْجَدْيِ فَطَبَخَهُ وَشَوَى نِصْفَهُ , فَلَمَّا أُدْرِكَ بِالطَّعَامِ وَضَعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ , فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَدْيِ , فَوَضَعَهُ عَلَى رَغِيفٍ , ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا أَيُّوبَ , أَبْلِغْ بِهَذَا فَاطِمَةَ؛ فَإِنَّهَا لَمْ تُصِبْ مِثْلَ هَذَا مُنْذُ أَيَّامٍ» , فَلَمَّا أَكَلُوا وَشَبِعُوا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «خُبْزٌ , وَلَحْمٌ , وَبُسْرٌ , وَتَمْرٌ , وَرُطَبٌ , وَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ» , ثُمَّ قَالَ: «هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» , فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصَبْتُمْ مِثْلَ هَذَا , وَضَرَبْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ , فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ , وَبَرَكَةِ اللَّهِ , فَإِذَا شَبِعْتُمْ , فَقُولُوا: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَشْبَعَنَا وَأَرْوَانَا وَأَنْعَمَ وَأَفْضَلَ؛ فَإِنَّ هَذَا كَفَافٌ بِهَذَا " , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْتِي إِلَيْهِ أَحَدٌ مَعْرُوفًا إِلَّا أَحَبَّ أَنْ يُجَازِيَهُ , فَقَالَ لِأَبِي أَيُّوبَ: «ائْتِنَا غَدًا» , فَلَمْ يَسْمَعْ , فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهَ , فَلَمَّا أَتَاهُ «أَعْطَاهُ وَلِيدَةً» فَقَالَ: «يَا أَبَا أَيُّوبَ , اسْتَوْصِي بِهَذِهِ خَيْرًا؛ فَإِنَّا لَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا مَا دَامَتْ عِنْدَنَا» , فَلَمَّا جَاءَ بِهَا أَبُو أَيُّوبَ , فَقَالَ مَا أَجِدُ لِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ أَنْ أَعْتِقَهَا , فَأَعْتَقَهَا لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ إِلَّا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى
احمد بن محمد بن مہدی الہروی سے مروی حدیث: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ دوپہر کے وقت گھر سے باہر نکلے ان کے قدموں کی آہٹ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے بھی باہر آگئے باہر نکلتے بھی ان کی ملاقات حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوگئی، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا اے ابوبکر آپ اس وقت باہر کیوں نکلے ہیں ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم مجھ سے بھوک برداشت نہیں ہو رہی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے بھی کسی دوسری چیز نے باہر نہیں نکالا ۔ابھی یہ دونوں بات چیت کر ہی رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے اس وقت باہر نکلنے کی وجہ پوچھی دونوں نے بتایا کہ ہمیں شدید بھوک لگی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے بھی کسی اور چیز نے باہر نہیں نکالا یہ تینوں لوگ حضرت ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کی جانب چل دیئے حضرت ایوب رضی اللہ تعالی عنہ کی عادت تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا یا دودھ دیا کرتے تھے لیکن اس دن ان کو دیر ہو گئی اور ابھی تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ نہیں لائے تھے وہ اپنے گھر والوں کو کھانا وغیرہ کھلانا کر اپنے باغ میں کام کے لیے جا چکے تھے ، جب یہ تینوں لوگ حضرت ایوب انصاری کے دروازے پر پہنچے تو ان کی ذوجہ محترمہ باہر نکلیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ساتھیوں کو مرحبا کہا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا ابو ایوب کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ ہی دیر میں وہ آپ کے پاس آ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اس وقت وہ اپنے کھجوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے ۔ کام چھوڑ کر دوڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور آپ کے ساتھیوں کو خوش آمدید کہا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ عموما اس وقت تشریف نہیں لایا کرتے ،یہ کہتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو باغ کی جانب لے گئے اور ایک کھجور کے درخت کو کاٹ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا کیا حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری خواہش ہے کہ آپ اس میں رطب ، بسر، تمر اور تذ نوب کھجوریں کھائیں اور اس کے ساتھ ساتھ میں آپ کے لیے ایک بکری بھی ذبح کرنے لگا ہوں آپ نے فرمایا اگر بکری ذبح کرنا چاہتے ہو تو دودھ والی بکری ذبح نہ کرنا پھر حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے بکری کا ایک بچہ جو ایک سال سے چھوٹا تھا پکڑ کر ذبح کیا اور اپنی بیوی سے کہا تم روٹی پکاؤ اور سالن میں خود بتاتا ہوں کیونکہ تم روٹیاں زیادہ اچھی پکا لیتی ہو حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالی عنہ نے آدھے بکرے کا سالن پکایا اور آدھے کو بھون لیا ، جب کھانا تیار ہوگیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے سامنے پیش کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ایک بوٹی لے کر روٹی پر رکھی اور فرمایا اے ابو ایوب کے فاطمہ تک پہنچا آؤ کیونکہ کئی دنوں سے اس نے ایسا کھانا نہیں کھایا یا جب سب لوگوں نے سیر ہو کر کھانا کھا لیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہاں روٹی گوشت بسر تمر اور رطب کھجوریں یہ کہتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے آئے پھر فرمایا یا یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ پر بہت گراں گزری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں ایسا کھانا میسر آئے اور تم کھانے لگو تو کہو بسم اللہ ہی وبرکاتہ اللہ جب سیر ہو جاؤں تو کہاں ہو ۔ یہ تمھارے لیے کافی ہوگا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کوئی نیکی کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو اس کا بدلہ دیا جائے آپ نے فرمایا اے ابو ایوب آپ کل ہمارے پاس آؤ یہ بات ابو ایوب کو نہ سنی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ تم کل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آؤ جب اگلے دن حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی عطا کی اور فرمایا اے ابو ایوب اس کا بہت خیال رکھنا یہ جب سے ہمارے پاس ہے ہم نے اس میں بھلائی ہی بھلائی دیکھی ہے جب حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالی عنہ اس کو لے کر گھر آئے تو کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق مجھے اس سے بہتر کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا کہ میں اس کو آزاد کر دو چنانچہ انہوں نے اس کو آزاد کر دیا اس حدیث کو عبداللہ بن کیسان نے فضل بن موسی کے سوا کسی سے روایت نہیں کیا ۔
يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ ← بِذَلِكَ عُمَرُ، فَخَرَجَ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ، ← خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْهَرَوِيُّ