150 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الوَسَاوِسِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، حَدَّثَنَا زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَهُوَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ , فَقَالَ: هَلُمَّ فَكُلْ , فَقُلْتُ: إِنِّي حَلَفْتُ لَا آكُلُ لَحْمَ الدَّجَاجِ , فَقَالَ أَبُو مُوسَى: كُلْ؛ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ , وَسَأُنَبِّئُكَ عَنْ يَمِينِكَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَصْحَابِي نَسْتَحْمِلُهُ , فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا , وَمَا عِنْدَهُ حُمْلَانُ , فَوَاللَّهِ مَا بَرَحْنَا حَتَّى أَتَتْهُ قَلَائِصُ غُرُّ الذُّرَى , فَأَمَرَ لَنَا بِحُمْلَانَ , فَلَمَّا خَرَجْنَا ذَكَرْنَا يَمِينَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ , فَقَالَ: «مَا رَدَّكُمْ؟» قُلْنَا: ذَكَرْنَا يَمِينَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَخَشِينَا أَنْ تَكُونَ نَسِيتَهَا , فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي وَاللَّهِ مَا نَسِيتُهَا , وَلَكِنْ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ , فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا , فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ , وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَطَرٍ إِلَّا الصَّعْقُ
احمد بن اسماعیل الو ساوسی البصری سے مروی حدیث : زہدم الجرمی فرماتے ہیں : میں حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گیا ،اس وقت وہ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے ،انہوں نے مجھے بھی کھانے میں شرکت کی دعوت دی ،میں نے کہا :میں نے مرغی کا گوشت نہ کھانے کی قسم کھائی ہوئی ہے ۔حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : کھا لو کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے ،اور میں ابھی آپ کو اس کی قسم کا حل بھی بتا دیتا ہوں ۔(آپ کی قسم کے حل کے سلسلے میں عرض ہے کہ )میں اور میرے کچھ ساتھی رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں سواری کے لئے جانور مانگنے کے لئے آئے تھے ، آپ ﷺنے ہمیں سواری کا جانور نہ دینے کی قسم کھالی ،اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے لئے کوئی جانور موجود بھی نہ تھا ،ہم نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے رہیں گے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اعلیٰ قسم کے سفید کوھانوں والے صحت مند اونٹ آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک اونت ہمیں دے دیا ۔جب ہم وہاں سے نکلے تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یاد آئی ، ہم لوٹ کر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آنے کی وجہ پوچھی ، ہم نے بتایا کہ ہمیں آپ کی قسم یاد آئی ہے ۔اور ہمیں یہ خدشہ تھا کہ شاید آپ اس کو بھول گئے ہیں ۔ہم نے فرمایا اللہ کی قسم میں بھولا نہیں تھا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اگر کوئی قسم کھائے ،پھر اس کو توڑنے میں بہتری جانے تو اس کو چاہیے کہ جو بہتر کام ہے اس کو بجا لائے اور اپنی قسم کا کا کفارہ دے دے ۔اس حدیث کو ’’مطر‘‘سے صرف ’’صعق‘‘نے روایت کیا ہے ۔
دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَهُوَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ ← زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ الْقَيْسِيُّ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَسَاوِسِيُّ الْبَصْرِيُّ