المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 121
121 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَبُو الصَّقْرِ الضَّرِيرُ التَّمِيمِيُّ الْبَغْدَادِيُّ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ , فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ غَسَلَتْهَا , ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ , فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ غَسَلَتْهَا , ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ غَسَلَتْهَا , ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ غَسَلَتْهَا ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ غَسَلَتْهَا , ثُمَّ تَنَامُونَ , فَلَا يُكْتَبُ عَلَيْكُمْ حَتَّى تَسْتَيْقِظُوا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ مَرْفُوعًا إِلَّا اللَّاحِقِيُّ
احمد بن علی بن الحسین ابو الصقر رحمۃ اللہ علیہ الضریر التمیمی البغدادی المودب سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم (گناہوں کی آگ میں )جلتے رہو گے جلتے رہو گے ،حتی کے تم فجر کی نماز پڑھ لو تو وہ (جلنے کا اثر دھل جاتا ہے ، پھر مسلسل جلتے رہتے ہو اور جب ظہر کی نماز پڑھ لیتے ہو تو (جلے ہوئے کا اثر )دھل جاتا ہے ،پھر مسلسل جلتے رہتے ہو پھر جب عصر کی نماز پڑھتے ہو تو (وہ اثر )دھل جاتا ہے ، پھر مسلسل جلتے رہتے ہو اور جب مغرب کی نماز پڑھتے ہو تو (وہ اثر )دھل جاتا ہےپھر مسلسل جلتے رہتے ہو اور جب عشاء کی نماز پڑھتے ہو تو وہ اثر دھل جاتا ہے اور پھر تم سو جاتے ہو اس کے بعد بیدار ہونے تک تمہارے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا ۔ اس حدیث کو ’’حماد بن سلمہ ‘‘سے مرفوعاً صرف ’’ لا حقی ‘‘ نے روایت کیا ہے ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَبُو الصَّقْرِ الضَّرِيرُ التَّمِيمِيُّ الْبَغْدَادِيُّ الْمُؤَدِّبُ،
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 121
