Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 121

121 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَبُو الصَّقْرِ الضَّرِيرُ التَّمِيمِيُّ الْبَغْدَادِيُّ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ , فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ غَسَلَتْهَا , ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ , فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ غَسَلَتْهَا , ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ غَسَلَتْهَا , ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ غَسَلَتْهَا ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ غَسَلَتْهَا , ثُمَّ تَنَامُونَ , فَلَا يُكْتَبُ عَلَيْكُمْ حَتَّى تَسْتَيْقِظُوا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ مَرْفُوعًا إِلَّا اللَّاحِقِيُّ

احمد بن علی بن الحسین ابو الصقر رحمۃ اللہ علیہ الضریر التمیمی البغدادی المودب سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم (گناہوں کی آگ میں )جلتے رہو گے جلتے رہو گے ،حتی کے تم فجر کی نماز پڑھ لو تو وہ (جلنے کا اثر دھل جاتا ہے ، پھر مسلسل جلتے رہتے ہو اور جب ظہر کی نماز پڑھ لیتے ہو تو (جلے ہوئے کا اثر )دھل جاتا ہے ،پھر مسلسل جلتے رہتے ہو پھر جب عصر کی نماز پڑھتے ہو تو (وہ اثر )دھل جاتا ہے ، پھر مسلسل جلتے رہتے ہو اور جب مغرب کی نماز پڑھتے ہو تو (وہ اثر )دھل جاتا ہےپھر مسلسل جلتے رہتے ہو اور جب عشاء کی نماز پڑھتے ہو تو وہ اثر دھل جاتا ہے اور پھر تم سو جاتے ہو اس کے بعد بیدار ہونے تک تمہارے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا ۔ اس حدیث کو ’’حماد بن سلمہ ‘‘سے مرفوعاً صرف ’’ لا حقی ‘‘ نے روایت کیا ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَبُو الصَّقْرِ الضَّرِيرُ التَّمِيمِيُّ الْبَغْدَادِيُّ الْمُؤَدِّبُ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 121

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 122

122 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى ثَعْلَبٌ النَّحْوِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُمِّ عَطِيَّةَ خَتَّانَةٌ كَانَتْ بِالْمَدِينَةِ: «إِذَا خَفَضْتِ فَأَشِمِّي وَلَا تُنْهِكِي؛ فَإِنَّهُ أَسْرَى لِلْوَجْهِ وَأَحْظَى عِنْدَ الزَّوْجِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا زَائِدَةُ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ

احمد بن یحیی ثعلب النحوی سے مروی حدیث:حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام عطیہ (یہ خاتون مدینہ منورہ میں عورتوں کا ختنہ کیا کرتی تھی ، آپ نے اس )سے فرمایا ختنے کرتے ہوئے بالکل تھوڑا سا گوشت کاٹا کرو زیادہ مت کاٹا کرو اس سے چہرے میں خوبصورتی بھی آتی ہے اور ہمبستری میں لذت بھی زیادہ ملتی ہے ۔ اس حدیث کو ’’ثابت ‘‘سے صرف ’’زاہدہ ‘‘نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’محمد بن سلام ‘‘منفرد ہیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى ثَعْلَبٌ النَّحْوِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 122

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 123

123 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوَارِبِيُّ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الرَّجُلُ يَكُونُ حَامِيَةَ الْقَوْمِ , وَيَدْفَعُ عَنْ أَصْحَابِهِ , أَيَكُونُ نَصِيبُهُ مِثْلَ نَصِيبِ غَيْرِهِ؟ فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ابْنَ أُمِّ سَعْدٍ , وَهَلْ تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ؟» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا عَبْدُ الْحَمِيدِ تَفَرَّدَ بِهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ

احمد بن محمد الجو اربی الواسطی سے مروی حدیث : حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی اپنی قوم کا حامی ہے اور اپنے ساتھیوں کا دفاع کرتا ہے ، کیا دوسروں کا حصہ اس کے برابر ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! اے ام سعد کے بیٹے ! تیری ماں تجھے روئے !تمہیں انہیں کمزوروں کے باعث تو رزق دیا جاتا ہے اور انہی کی بدولت تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ اس حدیث کو زہری سے صرف عبدالحمید نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں معلی بن عبد الرحمن منفردہیں۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَمِّي عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوَارِبِيُّ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 123

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 124

124 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَهْبٍ أَبُو زَيْدٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ حَفْصٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَذْهَبَ اللَّهُ بَصَرَهُ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ وَاجِبًا أَنْ لَا تَرَى عَيْنَاهُ النَّارَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ تَفَرَّدَ بِهِ وَهْبُ بْنُ حَفْصٍ

احمد بن وہب ابو زید الواسطی سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی جس شخص کی بینائی فرما دےاور وہ بندہ اس پر صبر اختیار کرے تو اللہ تعالی پر یہ حق ہے کہ اس بندے کی آنکھ آگ نہ دیکھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطِيَّةَ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← وَهْبُ بْنُ حَفْصٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ وَهْبٍ أَبُو زَيْدٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 124

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 125

125 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَنَافُسَ بَيْنَكُمْ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ بِاللَّيْلَ وَالنَّهَارَ , فَيَتَتَبَّعُ مَا فِيهِ فَيَقُولُ الرَّجُلُ لَوْ أَعْطَانِيَ اللَّهُ مِثْلَ مَا أَعْطَى فُلَانًا , فَأَقُومُ بِهِ مِثْلَ مَا يَقُومُ فُلَانٌ، وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا يُنْفِقُ وَيَتَصَدَّقُ , فَيَقُولُ رَجُلٌ مِثْلَ ذَلِكَ " لَا يُرْوَى عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ وَهُوَ أَبُو مَعْنِ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ وَابْنُهُ قَدْ صَحِبَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ الْهَيْثَمُ

احمد بن عبد اللہ بن عبد الرحیم البرقی سے مروی حدیث : یزید بن الا خنس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے ، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو آدمیوں کے درمیان صرف دو چیزوں میں رشک ہونا چاہیے ، وہ آدمی جس کو اللہ تعالی نے قرآن کریم کی دولت سے نوازا ہو اور وہ بندہ دن رات قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول رہے ، اور قرآن کریم کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرے اس کو دیکھنے والا کہے : جو نعمت تجھ کو عطا ہوئی ہے ، کاش یہ مجھے بھی مل جاتی اور جیسے یہ دن رات قرآن کی تلاوت میں مشغول رہتا ہے ، میں بھی اسی طرح تلاوت کرتا۔ ایسا آدمی جس کو اللہ تعالی نے مال عطا کیا اور وہ اس میں سے اپنے لئے بھی خرچ کرتا ہے اور اللہ کی راہ میں بھی صدقہ کا کرتا ہے ، دیکھنے والا کہے کاش کہ مجھے بھی ایسا مال ملا ہوتا تو میں بھی اللہ تعالی کی راہ میں اسی طرح خرچ کرتا ، یہ حدیث ابن الا خنس سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ منقول ہے ، اور ابن الاخنس ’’ابو معن بن یزید ‘‘ہیں۔ان دونوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔

يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 125

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 126

126 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَّارُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الشُّحِّ: مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ , وَقَرَّى الضَّيْفَ , وَأَعْطَى فِي النَّوَائِبِ " لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا بِشْرٌ الدِّمَشْقِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ زَكَرِيَّا

احمد بن ابی یحیٰی الحضری المصری سے مروی حدیث : حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین خصلتیں ایسی ہیں ، کہ یہ جس میں پائی جائیں اس سے بخل ختم ہو جاتا ہے ۔جو خوش دلی کے ساتھ اپنے مال کی زکاۃ ادا کرے ۔ خوش دلی کے ساتھ مہمان نوازی کرے ۔اللہ کی رضا کے لئے مصیبت زدوں کے کام آئے ۔اس حدیث کو اوزاعی سے صرف بشرد مشقی نے روایت کیا ہے ہے اور ان سے روایت کرنے میں زکریا منفرد ہیں۔

جَابِرٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَّارُ ← أحمد بن أبي يحيى الحضرمي المصري

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 126

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 127

127 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَخْشِيٍّ الْفَرْغَانِيُّ بِمِصْرَ، ابْنُ أَخِي مَخْشِيٍّ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا خَالِي الْمُغِيرَةُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ رَاشِدٍ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ , وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ» ، لَا يُرْوَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عُفَيْرٍ

احمد بن ابراہیم بن مخشی الفرغانی سے مروی حدیث : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو وضو کرے وہ اچھی طرح ناک جھاڑے ، اور جو استنجا کرے ڈھیلا استعمال کرے وہ طاق مرتبہ کرے ۔اس حدیث کو ’’عبید اللہ بن عمر ‘‘سے صرف اسی اسناد سے نقل کیا گیا ہے اور اس سے روایت کرنے میں ’’عبید اللہ بن سعید بن عفیر ‘‘منفرد ہیں۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 127

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 128

128 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزْدَادَ الطَّبَرَانِيُّ الْخَطِيبُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ النَّصِيبِيُّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَكَمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «فَنَاءُ أُمَّتِي فِي الطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ» قُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا الطَّعْنَ فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ: «وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ , وَفِي كُلٍّ شَهَادَةٌ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ إِلَّا بِشْرٌ , وَلَا عَنْ بِشْرٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ

احمد بن ابراہیم بن یزید الطبرانی الخطیب سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کی تباہی طعن اور طاعون کی وجہ سے ہوگی ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم طعن کو تو جانتے ہیں یہ طاعون کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے دشمن جنات کا تمہیں بغیر کوئی چیز چبھوئے تمہیں مار دینا ۔ان تمام امور میں (اگر موت واقع ہوجائے تو ) شہادت ہے۔ اس حدیث کو ’’ابراہیم بن ابی حرہ‘‘سے صرف ’’بشر ‘‘نے روایت کیا ہے اور ’’بشر ‘‘ سے صرف ’’عبداللہ بن عصمہ‘‘ نے روایت کیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ، ← بِشْرِ بْنِ حَكَمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ النَّصِيبِيُّ، ← مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزْدَادَ الطَّبَرَانِيُّ الْخَطِيبُ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 128

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 129

129 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ الْكُوفِيُّ بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ الْآدَمَيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ الدَّبَّاغُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ , فَأُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ ظَبْيٍ , فَرَدَّهُ عَلَى الرَّسُولِ , وَقَالَ: " اقْرَأْ عَلَيْهِ السَّلَامَ , وَقُلْ لَهُ: لَوْلَا أَنَّا حُرُمٌ مَا رَدَدْنَاهُ عَلَيْكَ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ الدَّبَّاغِ

احمد بن الحسن بن ہارون بن اسماعیل بن حماد بن ابی سلیمان الفقیہ الکوفی سے مروی حدیث : حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ’’مرالظہران ‘‘میں ٹھہرے ،آپ کی بارگاہ میں کسی شکار کی ران تحفے میں پیش کی گئی ۔صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ران لانے والے کو واپس کر کے فرمایا جس نے یہ تحفہ بھیجا ہے اس کو میرا سلام دینا اور کہنا کے اگر میں حالات احرام میں نہ ہوتا تو یہ ران واپس نہ کرتا ۔اس حدیث کو ’’ابو الزبیر ‘‘سے صرف ’’حماد بن شعیب‘‘ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’ابن وباغ ‘‘منفرد ہیں ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حماد بن شعيب ← دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ الدَّبَّاغُ ← اِبْرَاھِیْمُ بْنُ رَاشِدٍ الْاَدَمِیَّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 129

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 130

130 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ , إِنَّكُمْ تَحْضُرُونَ بَيْعَكُمْ بِأَيْمَانٍ وَلَغْوٍ , فَشُوبُوهَا بِشَيْءٍ مِنْ صَدَقَةٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ

احمد بن یحیی بن الربیع بن سلیمان البغدادی سے مروی حدیث : حضرت قیس بن ابی غرزہ فرماتے ہیں : کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اے تاجرو! تمہارے کاروبار میں لغویات اور قسمیں شامل ہوجاتی ہیں ، اس لئے (ان کے نقصان سے بچنے کے لیے کچھ نہ کچھ صدقہ بھی شامل کر لیا کرو )۔ اس حدیث کو ابی حمزہ سے حماد بن سلمہ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا۔

قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ← أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ← مَيْمُونِ أَبِي حَمْزَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 130

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 131

131 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى أَبِي الْحَرِيشِ الصُّوفِيُّ الْكِلَابِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ فَقَالَ لِي: «اقْضِ بَيْنَهُمَا» فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ , فَقَالَ: «اقْضِ بَيْنَهُمَا» , فَقُلْتُ: عَلَى مَاذَا؟ قَالَ: «اجْتَهِدْ فَإِنْ أَصَبْتَ فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ , وَإِنْ لَمْ تُصِبْ فَلَكَ حَسَنَةٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ شِنْظِيرِ إِلَّا حَفْصٌ , وَلَا يُرْوَى عَنْ عُقْبَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

احمد بن عیسیٰ ابو الحریش الصوفی الکلابی الکوفی سے مروی حدیث : حضرت عقبہ بن عامر عمر الجہنی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی کسی مسئلہ میں جھگڑ رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : انکے درمیان فیصلہ کرو ، میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں آپ اس کا زیادہ حق رکھتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم ان کے درمیان فیصلہ کر دو ۔ میں نے پوچھا کس کے مطابق کرو ں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اجتحاد سے ، اگر تیرا اجتہاد درست ہوا تو تجھے دس نیکیاں ملیں گی اگر خطا ہوگئی ، تو ایک نیکی تو بہرحال مل ہی جائے گی۔ اس حدیث کو ابن شنظیر سے حفص کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور عقبہ سے یہ حدیث صرف اسی ا سناتد کے ہمراہ منقول ہے۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 131

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 132

132 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطْرَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِقَوْمٍ، لَا خَلَاقَ لَهُمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْمُعَلَّى إِلَّا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ هُدْبَةُ

احمد بن عمرو القطرانی البصری سے مروی حدیث : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی اس دین کی تائید ایسے لوگوں سے بھی کروا لیتا ہے جن کا اس دین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔اس حدیث کو معلی سے صرف حماد بن زید نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ہدبہ منفرد ہیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطْرَانِيُّ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 132

chevron_left Previous
1…101112…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter