400 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، صَاحِبُ الْهَرَوِيِّ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي كَعْبٍ، صَاحِبِ الْحَرِيرِ , عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " لَمَّا بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَلَاءَ الْحَضْرَمِيَّ إِلَى الْبَحْرَيْنِ تَبِعْتُهُ , فَرَأَيْتُ مِنْهُ ثَلَاثَ خِصَالٍ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُنَّ أَعْجَبُ , انْتَهَيْنَا إِلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ فَقَالَ: سَمُّوا اللَّهَ , وَاقْتَحِمُوا , فَسَمَّيْنَا , وِاقْتَحَمْنَا , فَعَبَرْنَا , فَمَا بَلَّ الْمَاءُ إِلَّا أَسَافِلَ خُفَافِ إِبِلِنَا , فَلَمَّا قَفَلْنَا , صِرْنَا مَعَهُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ , وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ , فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ , فَقَالَ (فَصَلَّى) : صَلُّوا رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ دَعَا اللَّهَ , فَإِذَا سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ , ثُمَّ أَرْخَتْ عَزَالِيَهَا , فَشَرِبْنَا , وَأَسْقَيْنَا , وَمَاتَ , فَدَفَنَّاهُ فِي الرَّمَلِ , فَلَمَّا سِرْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ قُلْنَا: يَجِيءُ السَّبْعُ فَيَأْكُلُهُ , فَرَجَعْنَا , فَلَمْ نَرَهُ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي كَعْبٍ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ عُبَيْدٍ صَاحِبِ الْحَرِيرِ الْبَصْرِيِّ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ صَاحِبُ الْهَرَوِيُّ , وَلَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ إِلَّا أَبُو كَعْبٍ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علاء الحضرمی کو بحرین کی جانب بھیجا تو میں بھی ان کے ہمراہ ہو لیا ، میں نے ان میں تین عادتیں دیکھیں ، میں نہیں جانتا کہ ان میں کونسی عادت زیادہ تعجب خیز ہے ۔ ٭ ہم دریا کے کنارے پر پہنچے تو انہوں نے کہا : اللہ کا نام لو اور بے خطر دریا میں کود پڑو، ہم نے بسم اللہ الرحمن الرحم پڑھی ، اور دریا میں کود گئے ، ہم پورا دریا عبور کر گئے ، ہمارے اونٹوں کے تلووں کے سوا کوئی چیز گیلی نہیں ہوئی تھی ۔ ٭ جب ہم واپس ہوئے تو ہم ان کے ہمراہ ایک چٹیل میدان میں تھے ہمارے پاس پانی نہیں تھا ، ہم نے پانی نہ ہونے کی ان سے شکایت کی راوی کہتے ہیں : انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی اچانک ڈھال کی مانند بادل کا ٹکڑا آیا ، اس نے موسلا دھار بارش برسائی ، ہم نے خوب پیٹ بھر کر پانی پیا، جانوروں کو بھی پلایا ۔ ٭ وہ وہیں انتقال کر گئے ہم نے ریت میں ان کو دفن کر دیا ، ہم وہاں سے روانہ ہو گئے ، ابھی زیادہ دور نہیں گئے تھے ، ہم نے سوچا ایسا نہ ہو کہ کوئی درندہ ان کو کھا جائے ، یہ سوچ کر ہم واپس پلٹے لیکن ان کا جسم مبارک ہمیں نہیں ملا۔ اس حدیث کو ابو کعب عبدربہ بن عبید صاحب الحریری البصری سے صرف ابراہیم صاحب الہروی نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو جریری سے صرف ابو کعب نے روایت کیا ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← أَبِي كَعْبٍ صَاحِبِ الْحَرِيرِ ← أَبِي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، صَاحِبُ الْهَرَوِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ الْبَصْرِيُّ،